دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ڈٹ کر پیار ہے ایران۔حفیظ اللہ نیازی
No image 1979 کے اسلامی انقلاب نے ابھی تک ایران نہیں کہا تھا کہ تہران اور دوسرے فریق کی مزاحمتی احتجاجی مظاہروں سے لبال سال ایک نعرہ 'مرگ بر امریکہ' 46 بیتنے کو، ایرانی فضا کی آخری خبریں تک اسی جوش اور 'مرگ بر' امریکہ کے فلک شگاف نعروں سے گونج رہی ہے۔
282025 سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے جب تک عام عام شہریوں کو خوشی کا اظہار کیا اور امریکہ کے اندر ایران کی طرف سے حمایت کی حمایت، اگرچہ خدشہ، اتنا ہی کہ بوجوہ EPSTEIN فائلوں سے بلیک میل جمہوریہ صدر ایران پر حملہ کر کے ہی نہ دے۔
اسلامی انقلاب شیاطین کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے، 46سال میں کونسا حر، جو ایران کو تباہ کرنے کے لیے آزمایا نہیں گیا، جنوری 12روزہ جنگ میں امریکہ کودا اور B-52 بمبار طیاروں کے ذریعے ایرانی نیوکلیئر سائٹس پر بمباری کی تو صدر نے قضیہ سے بتایا کہ ایران کا پروگرام ہمیشہ ختم کر دیا گیا ہے۔ پیار ہو گیا؟
12 جون 2025 کو جب اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو بقول حکومت نے 'ایران اسرائیل سے اینٹ دی'، 12روزہ جنگ کی جنگ کی وجہ سے ہر صورت امریکی کو ایرانی ممولے لڑانے سے مصر تھا، نتن یا تین ماہ میں درج کیا گیا تھا اور اس کے بعد امریکہ نے حملہ کیا تھا اور اس کے بعد امریکہ کے جنگجوؤں نے کہا تھا کہ اس پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ نجات اور انکو آناً فاناً پھانسی دی جانی۔
صدر جمہوریہ تو جنگ کے بہانے الفاظ میں کہا گیا تھا کہ اگر غداروں کو پھانسی دی گئی تو ہم ایران پر بم گرا دیں گے، ایرانی زیرک اور مالمال، پھانسیاں ملتوی کر دیں گے، آپ کو یورینیم افزودگی کا تنازعہ اُٹھانا چاہیے۔
ایران نے کسی نہ کسی طرح سے امریکہ کو مذاکرات پر آمادہ کر لیا، یورینیم کی افزودگی کی حد اور قدغن ماننے عندیہ نے بھی تو نئی شرط لگا دی کہ میزائل پروگرام بند کرو اور ہتھیار بند کرو، ابھی نئی شرائط پر بات ہو رہی ہے کہ اس دوران بات چیت کر رہے ہیں۔
اس سے قبل ایران اور امریکہ کے درمیان جامع ہتھیار نہ بنانے اور اپنی یورینیم افزودگی پلانٹس کے معائنے کے لیے ایک معاہدہ JCPOA کے صدر اوباما نے جولائی 2015 میں ہوا جبکہ اس معاہدے کے ضامن روس، برطانیہ، فرانس اور چین، صدر جمہوریہ نے بغیر کسی وجہ کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
اسی وقت 1979 کا انقلاب ابتلہ اور ملک کا دور حکومت سے گزر رہا تھا، ملکی ایجنسی فوج، نمایاں طور پر چھوڑ کر چلے گئے تھے، فوج کا نظام درہم برہم اور بیوروکریسی کا ادارہ زمیں بوس تھا، انقلاب نے ابھی تک جمے نہیں دکھائے تھے، چنوں کے نشانوں کے درمیان تقسیم ہو، 1980ء سے 1980ء، اسمبر سے 1983ء تک صدر مقام پر پہنچے۔ چن کر ساحل
8سال کے ممالک میں شامل، عراق کو ایران حملہ آور پر رکھا، سازشوں کا لامتناہی سلسلہ آج ختم نہ ہوا، 1978ء میں ایران سے احتجاج شروع ہوا تو خوابیدہ دامے درمے قدمے سخنے کے ساتھ امریکہ کے ساتھ تعلیم کے لیے تو ان کے احتجاجی مظاہروں کا عملی حصہ بننا، جس کی مدد سے اسلامی انقلاب کا پاکستان میں پاکستان کو دیکھنا تھا۔
شاہ ایران احتجاجی تحریک نے ابھی ابتدائی طور پر کہا تھا کہ مغربی میڈیا نے مذہبی خواتین تحریک کا نام دیا، ڈنڈورا پیٹا ایران عالم اسلام سے کٹ جائے، ایماپر تمام اسلامی ممالک نے کہا کہ امریکی صدر کی فرقہ وارانہ حمایت نے حکومت کی سربراہی میں ایران کو آگے بڑھایا۔
اگرچہ ایرانی انقلاب فرقہ واریت کے درمیان کسی حد تک رَنگا تھا، انقلاب کے سَرخیل، مدارالمہام امام خمینیؒ کا قبلہ سو فیصد درست تھا، اقتدار اعلیٰ نے ہی تمام اسلامی دنیا کے اسلامی چیدہ دینی رہنما، مذہبی اسکالر (پاکستان میں مولانا مودودیؒ) کے پاس خصوصی نمائندے، بلاتفریق قائم کیے۔
اقتدار سنبھالتے ہی مکمل اعلان اسرائیل کو سرزمین فلسطین سے تحریک آزادی کی مدد کرنا اور آزادی کی مدد کو فریضہ اقامت دین قرار دیا، ایرانی مسلمانوں کا حصہ بنایا، آزاد فلسطین کی تحریک PLO میں، الفتح نمایاں، ایران ساری تنظیموں کی حمایت میں سینہ سپر ہو گیا، بیت کی آزادی کے لیے 27 رمضان المبارک کو یوم القدس منانے کا اعلان کیا، تب رمضان المبارک کو یوم القدس منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
جب 1987ء میں حماس وجود میں آئی، ایران نے پلکپکائے شروع کرنے کے لیے حماس کو گود لیا تھا جبکہ سُنی حکمران حماس کی حمایت کا سوچ کر ہی سُن ہو گئے تھے، 7 اکتوبر 2023ء کو القسام بریگیڈ کا حملہ ممکن نہیں تھا، اگر ایران کی رسوائی اور سایہ میسر نہ ہو، تو اسرائیل نے اسے قبول کیا تھا۔ ایران دو فارمولے کا نہیں، صرف جگہ ریاست کا داعی اور اسرائیل کو ریاست تصور کرتا ہے۔
28 فروری کو جانیوالے امریکہ اسرائیل کا آج 12 بجے دن ہے، ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو ناکوں چبوا دینے والے ہیں، ایران کے لیے اپنی بقا کا مسئلہ، اپنی آزادی اور سالمیت کی حفاظت کر رہا ہے، اور اسرائیل کے جنگ سے نکلنے کے لیے ہاتھ مار رہے ہیں، لیکن ابھی تک ایران چھ ماہ کی جنگی حکمت عملی پر عمل درآمد نہیں کر سکتا۔
حکمت عملی کا کمال ہے کہ دنیا کی اکانومی آج ایران کے رحم و کرم پر ہے، صرف آبن ہرمز کو چند بند رکھنا ہے، دنیا کی اقتصادی تباہی کے دہانے پر، اسی وجہ سے پوری دنیا کو جنگ بندی کرنے پر اصرار، ایرانی فوج کے ترجمان کاتازہہ بیان کرتے ہیں کہ منگل سے ممالک ہمارے پاس امریکہ کا جنگ بندی پیغام لکھے، لیکن ہمیں کوئی جنگ بندی نہیں کرنی چاہیے۔
ایران کی نئی قیادت جنگ بندی کے لیے تین مطالبات کو آگے بڑھانا۔
(1) امریکہ کو 30 دن کے اندر اپنے مقامی فوجی اڈے مع سازو سامان اور کمیشن سے کوچ کر کے۔
(2) 0 دن کے اندر ایران پر ہر طرح کی ٹیکنالوجی ٹرانسفرکی پابندیاں ختم کرے گی۔
(3) کرایہ داری 45 سال کی پابندی، ٹارگٹ کلنگ، جنگوں اور جنگوں سے ایران کا 800 ارب کا نقصان ہوا، اگر یہ تینوں مطالبات تیار نہ ہوئے تو (1) ایران آبنائے ہرمز کو مکمل بند کر دے
(2) روس اور چین اپنے اڈے ایرانی سرزمین پر بنائیں
(3) ایران نیوکلیئر ہتھیاروں کو اپنے آلات پر انسٹال کر دے گا۔ کر لو جو کرنا ''ڈٹ کر پارٹی ہے ایران۔'
بشکریہ: جنگ نیوز
واپس کریں