دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بھارتی ذرائع ابلاغ کا پاکستان کا طاقت ور حریف ہونے کااعتراف
No image بھارتی ذرائع ابلاغ میں ایک غیر معمولی اعتراف سامنے آیا ہے کہ پاکستان اب محض ایک علاقائی ریاست نہیں بلکہ ایک طاقتور حریف ہے اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جوہری طاقت کے نگہبان کے طور پر خطے میں تزویراتی توازن کی علامت بن چکے ہیں۔ یہ اعتراف محض عسکری قوت کے تناظر میں نہیں بلکہ سفارتی، اخلاقی اور نظریاتی محاذوں پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا بھی عکاس ہے۔ بھارتی میڈیا کی یہ زبان دراصل اس داخلی بے چینی کی نشاندہی کرتی ہے جو نئی دہلی کی جارحانہ پالیسیوں کے نتیجے میں جنم لے چکی ہے۔ بھارت کی کشمیر پالیسی اس بے چینی کی سب سے واضح مثال ہے۔ تقریباً آٹھ دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری ظلم، انسانی حقوق کی پامالی اور انتقامی سوچ نے مقبوضہ کشمیر کو ایک کھلے قیدخانے میں بدل دیا ہے۔ بھارتی ریاست نے مسئلے کے سیاسی حل کی بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں نہ صرف کشمیری عوام میں مزاحمت بڑھی بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا۔ یہ حقیقت اب خود بھارتی تجزیہ نگاروں کو بھی تسلیم کرنا پڑ رہی ہے کہ کشمیر میں جبر نے امن کی بجائے نفرت اور عدم استحکام کو جنم دیا ہے۔ اسی انتقامی اور تسلط پسندانہ سوچ کا نتیجہ بنگلہ دیش کی تاریخ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ 1971ء کے بعد بھارت نے بنگلہ دیش پر جس انداز میں سیاسی و سفارتی اثرورسوخ قائم رکھنے کی کوشش کی وہ بالآخر ڈھاکا کے لیے ناقابلِ قبول ہوتی چلی گئی۔ آج بنگلہ دیش نہ صرف اپنی خودمختار خارجہ پالیسی پر زور دے رہا ہے بلکہ کھیل کے میدان میں بھی بھارتی دباؤ کو مسترد کرنے کا حوصلہ دکھا رہا ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا اپنی ٹیم کو بھارت نہ بھجوانے پر ڈٹ جانا سیاسی خودداری کی علامت ہے۔ کرکٹ برعظیم میں محض کھیل نہیں بلکہ نرم قوت ( Power Soft ) کا ایک اہم ہتھیار ہے۔ بھارت طویل عرصے سے کرکٹ کو سفارتی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے مگر بنگلہ دیش کے حالیہ فیصلے نے اس تاثر کو شدید دھچکا پہنچایا ہے کہ نئی دہلی ہر میدان میں اپنی مرضی مسلط کر سکتا ہے۔ یہ وہی طرزِ عمل ہے جس کے خلاف ماضی میں پاکستان نے بھی آواز اٹھائی اور جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ تعلقات بارہا تعطل کا شکار ہوئے۔ اگر پاکستان بھی بنگلہ دیش کے اس موقف کی حمایت میں اپنی ٹیم بھارت نہ بھجوانے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ ایک طاقتور اخلاقی اور سفارتی پیغام ہوگا۔ معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص کے تناظر میں دیکھا جائے تو بھارت پہلے ہی عالمی سطح پر سوالات کی زد میں ہے۔ اس وقت اگر خطے کی دو اہم کرکٹ ٹیمیں بھارتی دباوؤ کو مسترد کرتی ہیں تو یہ محض کھیل کا معاملہ نہیں رہے گا بلکہ بھارت کے لیے ایک اور عالمی رسوائی کا سبب بنے گا۔ یہاں یہ امر قابلِ غور ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنے کی بات کی مگر جب کھیل کو سیاسی ہتھیار بنایا جائے تو جواب دینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بھارتی میڈیا میں پاکستان کو ’طاقتور حریف‘ ماننے کا اعتراف دراصل اسی بدلتی ہوئی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت، جوہری توازن اور پیشہ ور عسکری قیادت نے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف دفاعِ وطن کے لیے پرعزم ہیں بلکہ ذمہ دارانہ جوہری حکمتِ عملی کے ذریعے خطے کو کسی بھی بڑے تصادم سے بچانے کے لیے کردار بھی ادا کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی روایتی دھمکی آمیز زبان اب کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ بین الاقوامی برادری بھی اب اس امر کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے کہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ کون ہے۔
واپس کریں