
ابتدائیہ ،یہ میرے والد صاحب شیخ عبدالالہی کے ساتھ پیش آنے والا ایک سچا واقعہ ہے جو 1972 میں شہر گجرات میں رونما ہوا۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک دھوکے کی کہانی ہے بلکہ دانائی، ہوشیاری اور بروقت فیصلے کی اہمیت کا درس بھی ہے۔
پہلا باب: تعارف
جی ٹی ایس چوک کے قریب، ایک بٹ صاحب کا ہوٹل ہوا کرتا تھا۔ میرے والد شیخ عبدالالہی صاحب ان دنوں سرکاری نیلامیوں میں بولی دے کر سکریپ خریدنے اور فروخت کرنے کا کاروبار کرتے تھے۔ وہ ایک سمجھدار اور دانا تاجر تھے۔ شہر میں ان کا نام عزت سے لیا جاتا تھا۔
دوسرا باب: پہلی ملاقات
ایک دن بٹ صاحب میرے والد شیخ صاحب کے پاس آئے ۔ چہرے پر ایک عجیب سی چمک تھی۔
"شیخ صاحب، میرے پاس آپ کے لیے ایک شاندار موقع ہے،" انہوں نے بے تابی سے کہا۔
"کیا بات ہے بٹ صاحب؟"والد صاحب نے چائے کا اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
"تربیلا ڈیم پر کام کرنے والی ایک فرم کا منیجر میرے ہوٹل آتا ہے۔ اس کے پاس سکریپ کی ایک بھاری لاٹ ہے، جو سستے داموں مل سکتی ہے۔ بس میرے پاس اکیلے اتنا سرمایہ نہیں۔ سوچا آپ سے شراکت کی بات کروں۔"والد صاحب نے سوچا۔ سکریپ کا کاروبار ان کے لیے نیا نہیں تھا۔ "ٹھیک ہے، پہلے مال دیکھتے ہیں، پھر فیصلہ کریں گے۔"
تیسرا باب: دینہ کا سفر
دو دن بعد، صبح سویرے، بٹ صاحب میرے والد صاحب کو ساتھ لے کر دینہ کا رخ کیا۔ جہلم کی سرحد پار کرتے ہوئے وہ دینہ کی پرسکون بستی میں داخل ہوئے۔
چلتے ہوئے وہ ایک شاندار کوٹھی کے سامنے پہنچے، جس کے باغ میں رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے۔ ایک خوش پوش آدمی نے دروازہ کھولا۔
"خوش آمدید! میں منیجر ہوں۔ آئیے، اندر تشریف لائیے۔"
ڈرائنگ روم میں قیمتی فرنیچر اور دیواروں پر پرانے زمانے کی پینٹنگز سجی تھیں۔ والد صاحب صوفے پر بیٹھے ہی تھے کہ کئی اقسام کے کھانے میز پر سج گئے۔
منیجر کسی بہانے سے باہر چلا گیا۔
چوتھا باب: پراسرار شخص
کچھ دیر بعد، کمرے میں ایک باریش شخص داخل ہوا۔ سادہ لباس، مگر نگاہوں میں ایک پراسرار گہرائی۔
"السلام علیکم۔ میرا نام رحمت علی ہے۔" اس شخص نے بیٹھتے ہوئے کہا۔
"وعلیکم السلام، تشریف رکھیے۔" اس نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا۔
"دیکھیے، میں تاش کے کھیل میں ایک خاص مہارت رکھتا ہوں، ایسی مہارت جو مجھے کبھی ہارنے نہیں دیتی۔" شخص کی آواز میں اعتماد تھا۔
والد صاحب نے حیرت سے دیکھا۔
"منیجر صاحب سے میری کچھ غلط فہمی ہو گئی ہے۔ اگر آپ مجھے ان سے صلح کروانے میں مدد کریں، تو میں اپنی ڈیل میں آپ کو شریک کروں گا۔"
پانچواں باب: منیجر کی کہانی
اسی وقت منیجر واپس آیا، چہرے پر بظاہر فکر کے آثار۔
"آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔" وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔
منیجر نے اپنی کہانی شروع کر دی:
"گزشتہ سال، بارش کی ایک رات، جی ٹی روڈ پر میں گاڑی چلا رہا تھا۔ اچانک ایک تیز رفتار گاڑی پھسل کر درخت سے جا ٹکرائی۔ میں نے رک کر دیکھا تو ڈرائیور بری طرح زخمی تھا۔ میں نے اسے فوراً ہسپتال پہنچایا۔"
"بہت اچھا کیا آپ نے۔" شیخ صاحب نے
"گاڑی میں ایک بریف کیس تھا، لاکھوں روپے سے بھرا۔ میں نے امانت سمجھ کر محفوظ رکھا۔ جب وہ شخص ہوش میں آیا، تو میں نے سب کچھ واپس کیا اور اسے گھر چھوڑ آیا۔ اس لیے اس کے ساتھ میری دوستی ہو گئی۔"
"یہ شخص کون تھا؟" والد صاحب نے سوال کیا۔
"ایک بڑا زمیندار اور کاروباری شخص، مگر ساتھ ہی جوئے کا بھی شوقین۔" منیجر نے رحمت علی کی طرف اشارہ کیا۔ "میں نے ان کی اس سے ملاقات کروائی۔ طے یہ ہوا کہ رحمت صاحب اپنے ہنر سے اس زمیندار کو ہرا دیں گے، اور جیتی ہوئی رقم میں سے پچاس فیصد مجھے دیں گے۔"
"پھر کیا ہوا؟" والد صاحب نے دلچسپی سے پوچھا۔
"یہ صاحب اپنے وعدے سے پھر گئے۔ مجھے کم رقم دی، اس لیے میں نے اس زمیندار کو ان کی چالاکی کا بتا دیا اور دوبارہ کھیل سے منع کر دیا۔ اب انہیں نہیں کہہ سکتا۔"
"اب تو کوئی تیسرا شخص ہنر سیکھے، اور اس زمیندار کے ساتھ کھیلے۔ جیتی ہوئی رقم چاروں میں برابر تقسیم ہو جائے۔"
"چاروں؟" والد صاحب نے پوچھا۔
"آپ، بٹ صاحب، رحمت علی اور میں۔" منیجر نے مسکرا کر کہا۔
بٹ صاحب اب تک خاموش بیٹھے تھے، اب بولے۔ "شیخ صاحب، یہ اچھا موقع ہے۔"
والد صاحب کے دل میں شک کی ایک ہلکی سی لہر اٹھی، مگر کچھ سوچ کر کہا: "ٹھیک ہے، آزماتے ہیں۔"
چھٹا باب: کھیل شروع ہوتا ہے
شام ڈھل چکی تھی۔ کوٹھی کے ایک بڑے کمرے میں میز پر سبز رنگ کا کپڑا بچھا، اور تاش کے پتے رکھے گئے۔
رحمت علی نے والد صاحب کو بنیادی داؤ پیچ سکھائے۔ "دیکھیے، یہ پتے یوں پکڑیں، اور جب یہ وقت آئے، یہ چال چلیں۔"
آدھی رات کو زمیندار آیا۔ قد درازی، موٹا سا جسم، چہرے پر غرور۔
"تو آج ہمارا مقابلہ آپ سے ہے؟" اس نے شیخ صاحب کی طرف دیکھا۔
"جی ہاں۔"
کھیل شروع ہوا۔ پتے گھومتے رہے، داؤ بڑھتے رہے۔ رحمت علی کے سکھائے ہوئے داو کام آئے۔ ایک ایک کر کے، والد صاحب جیتتے چلے گئے۔
آخر میں، زمیندار نے ہتھیار ڈال دیے۔ "آپ نے لاکھوں جیت لیے ہیں۔"
مگر رقم فوراً نہ ملی۔
"پہلے آپ اپنی رقم دکھائیں،" زمیندار نے شرط
رکھی۔ "اگر میں جیت جاتا تو آپ کیسے ادا کرتے؟"
ساتواں باب: آخری دام
سب نے اتفاق کیا۔ "ٹھیک ہے، کل ہم سب اپنی اپنی رقم لے کر آئیں گے۔"
رات گئے، والد صاحب واپس گجرات پہنچے۔ گھر میں انہوں نے مجھے سارا قصہ سنایا۔
"ابا جان، یہ سب مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا،" میں نے فکرمندی سے کہا۔
وہ مسکرا کر کہنے لگے: "بیٹا، تم نے ٹھیک کہا ہے۔ میں اس وقت ان میں پھنسا ہوا تھا، اس لیے منع نہیں کر سکتا تھا۔"
آٹھواں باب: حتمی فیصلہ
اگلے دن صبح، بٹ صاحب پھر آیا۔ "چلیں شیخ صاحب، دیر ہو رہی ہے۔"
"نہیں، میں نہیں جاؤں گا۔"
"کیوں؟ آپ نے خود کہا تھا!"
"بٹ صاحب، یہ سب ایک جال ہے۔" والد صاحب نے سختی سے کہا۔ "سوچیں، اتنی آسانی سے لاکھوں کیسے مل سکتے ہیں؟ وہ بزرگ، وہ منیجر، وہ زمیندار، سب ایک ساتھ تھے۔ مجھے اپنی رقم لا کر دکھانے کے لیے کہا جا رہا تھا، تاکہ وہ اسے لوٹ سکیں۔"
بٹ صاحب کا چہرہ اتر گیا۔ کچھ دیر بحث کے بعد، وہ مایوس ہو کر چلا گیا۔
بعد میں پتا چلا کہ بٹ اس گروہ کا رکن تھا۔ وہ جھانسہ دے کر کئی لوگوں کو لوٹ چکے تھے۔
اختتامیہ
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ آسان راستوں سے حاصل ہونے والی دولت اکثر دھوکے کا جال ہوتی ہے۔ میرے والد کی دانائی اور بروقت فیصلے نے انہیں ایک بڑے نقصان سے بچا لیا۔
حلال کمائی اور محنت ہی دائمی کامیابی کی راہ ہے۔
واپس کریں