یاسین ملک کو پھانسی سے کس طرح بچایا جائے ۔ تحریر آصف اشرف

یاسین ملک اس وقت بھارت کی قید میں ہیں خطرہ ہے کہ ان کو پھانسی چڑھا دیا جائے آخر کیا طریقہ ہو کہ یاسین ملک پھانسی سے بچ سکے جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کے چئیر مین یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کے تازہ ترین "دعوے"نے مجھے تو ہلا کر رکھ دیا مشعال ملک کا بیان سامنے آیا کہ 28جنوری کو بھارت یاسین ملک کو پھانسی دے دے گا ماں اور بیٹی کے بعد بیوی کا رشتہ یاسین ملک کے لیے بہت اہم ہے یاسین ملک کی 28جنوری تاریخ بحث ہے بھارتی حکومت اپنی ہی عدالت سے استدعا کر رہی ہے کہ یاسین ملک کو عمر قید کی جو سزا دی گئی ہے اس کو بدل کر سزائے موت میں بدلا جائے وہی منصف وہی مدعی بھارت کے لیے یہ سزا تبدیل کروانا محض رسمی کاروائی ہے مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اس روز ہی بھارت کس طرح یاسین ملک کو پھانسی دے سکتا ہے اگر یہ طے ہے اور مشعال ملک کو "مصدقہ زرائع "سے یہ اطلاع مل چکی ہے تو پھر کیوں مشعال ملک بھارت کے سفارت خانے میں جاکر بھارت جانے کا ویزا حاصل نہیں کرتی وہ اپنی بیٹی کو لیکر کیوں یاسین ملک سے آخری ملاقات کی کوشش کرتی کیوں ویزا نہ ملنے بھارت کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج کرتی مجھے یاسین ملک سے قربت کا دعوی ہے میں چند برسوں سے مسلسل چیخ رہا ہوں کہ یاسین ملک کو پھانسی ہونا ہے مگر یہ این آئی اے کے کیس میں نہیں بلکہ یہ سزائے موت بھارتی ائیر فورس کے اہلکاروں کو ہلاک کرنے پر ہوگی ایک اہل کار کی اہلیہ کی درخواست پر عدالت اس سزائے موت کا حکم دے گی یہ سلسلہ آگے بھی بڑھے گا اور تہاڑ جیل میں اسیر جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کے راج باغ گروپ کے سربراہ فاروق ڈار عرف بٹہ کراٹے کو پھانسی دی جائے گی بٹہ کراٹے کو ایک مخبر پنڈت کے قتل کے اعترافی بیان پر سزائے موت دی جائے گی بھارت ائیر فورس کے اہل کار کی اہلیہ کو تسلی دے کر باور کروانے جا رہا ہے کہ بھارت ہر اس فرد سے سخت نمٹے گا جس نے بھارت کے کسی شہری یا فورسز اہل کار سے اس کی جان لی ہو بھارت کو یاسین ملک کی گرفتاری کے بعد یہ غلط فہمی بھی ہے کہ یاسین ملک کو پھانسی دینے کے بعد اب جموں کشمیر میں آزادی کا نعرہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے گا مگر اس کو یہ ادراک نہیں کہ مقبول بٹ کی پھانسی نے آزادی کی جو تحریک شروع کی اصل میں یاسین ملک کو پھانسی اس تحریک کی فتح کا پیغام دے گی مگر مجھے مشعال ملک کے موقف کے بعد کچھ اور کہنا ہے آج مجھے وہ آزاد جموں کشمیر کی سیاست کا وہ انٹرنیشنل نام یاد آ رہا ہے جس نے برسوں پہلے ایک سفر میں دل بھری بات زبان پر لا کر کہا تھا کہ مادھوری ڈکشٹ مجھے دے دو کشمیر تم رکھ لو آج یاسین ملک کو بچانے کا ایک نسخہ ہے آسان بہت ہی آسان طاقت کے مراکز میں براجمان ایک معصوم بیٹی سے اس کا باپ ایک بوڑھی ماں سے اس کا اکلوتا سہارا اور غریب بوڑھی بہنوں سے ان کا اکلوتا بھائی چھیننے سے بچانے بڑا فیصلہ کریں بھارت کا جو جاسوس کلبھوشن پاکستان کی قید میں ہے اس پر یاسین ملک کو ترجیح دی جائے یاسین ملک کی پوری زندگی بھارت کو ننگا کرنے رہی بچپن میں سنگ باری اور نعروں سے وہ لڑا پھر جوانی میں گوریلا جنگ لڑی وہ آزادی کی اس تحریک کے بانی گوریلا فائٹرز سے ایک ہے اس نے عالمی دنیا کی آواز میں آواز ملا کر پر امن جہدوجہد بھی کی اس کی جہدوجہد اور قربانیوں کو مدنظر رکھتے اس کو کلبھوشن کے بدلے رہا کروایا جائے پاکستان کا بھارت کو شکست دینے کے بعد اب مقام اور اہمیت بڑھ گئی ہے اب کلبھوشن بھارت جا کر واپس اس پوزیشن میں نہیں رہے گا کہ وہ پاکستان کے خلاف سازشیں کر سکے اس کو ابینندن کی طرح اوقات سھمجہ آ گئی ہے ویسے بھی پاکستان کا سیکورٹی نظام اتنا موثر ترین ہے کہ ابینندن اور کلبھوشن مل کر اس کو نقصان پہنچانے کا خواب ہی دیکھ سکتے ہیں آج وہ مرحلہ آ ن پہنچا ہے کہ یاسین ملک کی زندگی بچائی جائے ماضی میں قیدیوں کے تبادلے ہوئے مستقبل میں بھی ہوں گے ایسے میں اگر یاسین ملک کو بچانے کلبھوشن کے بدلے انہیں رہا کروایا جائے تو کشمیری قوم ایک بڑے "احسان "تلے دب کر رہ جائے گی اب یہ" فیصلہ" اور" اقدام" پاکستان کی حکومت اور مقتدرہ نے کرنا ہے اور فوری کرنا ہے ورنہ "فروری"کو بھارت اپنے انتقام میں کھبی نہ بھولے گا ماضی میں امام حریت مقبول بٹ اور پھر مقبول بٹ کے ادنی کارکن افضل گرو کی طرح یاسین ملک کو بھی "فروری"میں خاموشی سے تختہ دار پر لٹکا کر بزدلوں کی طرح تہاڑ جیل سے احاطہ تہاڑ میں سپرد خاک کر کے "اعلان"کرے گا پھر ہم مگر مچھ کے آنسو رو کر کیا کریں گے ؟اس وقت ماتمی ترانوں کے بجائے آج کیوں "برابری"پر ایک آزادی پسند کو "آزاد "کروا لیتے آج مجھے مرحوم جنرل ضیاء الحق یاد آ تے ہیں جب مقبول بٹ کو پھانسی دی جا رہی تھی ضیاء روسی حکمران اندروپوف کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے روانہ ہو رہے تھے کسی ذندہ ضمیر ہم وطن پاکستانی صحافی نے ان سے مقبول بٹ کو پھانسی دینے کے بھارتی اقدام پر سوال کیا تو ضیاء الحق نے کہا کہ ہم بھارت سے دوستی کے خواہاں ہیں پاک بھارت دوستی پھر بھی نہ ہوسکی مگر مقبول بٹ کشمیری قوم کا ہیرو بن گیا اور جہدوجہد آزادی کا امام حریت بھی یسین ملک اگر پھانسی چڑھ گیا (جس کا مجھے قوی یقین ہے) وہ نصاب آزادی کا سنہرا باب بن جائے گا حرف آخر یاسین ملک کی رہائی پر کسی سے بھیک مانگنے کا تو میں بھکاری نہیں بن سکتا مگر یہ ضرور کہوں گا کہ یاسین ملک کو "چئیر مین"ماننے والے اس کے "زمہ وار"ہوں گے کیوں کہ سات سال گذر گئے وہ کوئی فیصلہ کن اقدام نہیں اٹھا سکے خاص کر وہ سارے "خود ساختہ جلاوطن "جو اپنے بیوی بچوں سمیت یورپ سمیت سارے گوروں کے ملکوں "پناہ "لیے ہیں مگر نہ اہل و عیال لیکر کسی نے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر سے مبصرین کے دفاتر تک کہیں دھرنا دیا ہو کہیں بھوک ہڑتال کی ہو یہ "قوم پرست انقلابی"کسی عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے دفاتر کے باہر ایک رات تک احتجاج کرتے نہ گذار سکے "ہوائی فلاسفر "کسی ایک عالمی حکومت کے کسی ایک ممبر پارلیمنٹ سے یاسین ملک کے حق میں آواز بلند نہیں کروا سکے کل یہ سب یاسین ملک کے ساتھ بنوائے فوٹو چھپوا کر "نسبت"ظاہر کریں گے ویک اینڈ پر فوٹو سیشن کرنے والے ورکنگ ڈے کی ایک "دیہاڑی"ضائع نہ کر سکے نہ اپنے بچوں کا ایک دن سکولز کالجز یونیورسٹیز سے "ناغہ"کروا سکے سیز فائر لائن کی طرف لانگ مارچ بھی نہ کروایا جا سکا چونکہ "گرفتاری"اور "موت "کا اپنا بھی خطرہ تھا لیکن پھر بھی یاسین ملک "چئیر مین"بھی ہے اور "قائد انقلاب"بھی آخر ہمیں بھی تو شناخت اور تعارف چائیے یاسین ملک سے ہٹ کر ہماری کیا کہانی ہے مگر تاریخ ایک فرق ضرور باور کروائے گی وہ فرق یہ ہے کہ یاسین ملک لڑا بھی مارا بھی اور مرا بھی اور ہم صرف دعوے کرنے والے بڑھکیں مارتے اور نعرے لگانے والے وہ خون دینے والا جنونی اور ہم چندے کھانے والے سیاسی بیروزگار ہاں ہم وہ "آزاد ی پسند "ہیں جو اصل میں معصوم کارکنوں کے پیسوں پر پلنے والے "تنخواہ دار " ہیں ہمیں ایک لحمہ یہ سوچ لینا چاہیے کہ آخر یاسین ملک کو کیوں تختہ دار پر لٹکایا جا رہا ہے اور ہماری جان لینا کیوں "دشمن "کو گوارہ نہیں.............................................راولاکوٹ یاسین ملک کو پھانسی دینے کی صورت اسی روز ہی جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کا سیز فائر لائن توڑنے کا فیصلہ جے کے ایل ایف کے تمام دھڑے اور آزادی پسند جماعتوں کا مشترکہ اقدام کی صف بندی زرائع کا دعوی ہے کہ جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک کو پھانسی دینے کی صورت کشمیر کی تاریخ کے سب سے بڑے اور سخت گیر احتجاج کی صف بندی کی جا رہی ہے ٹکڑوں میں تقسیم شدہ جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ نے اس نقطے پر اتفاق کر لیا ہے کہ اگر یاسین ملک کو پھانسی دی گئی تو اسی پھانسی کے روز تتری نوٹ پونچھ اور چکوٹھی مظفرآباد کے دو اہم مقامات سے لاکھوں کشمیری غیر مسلح اور پُرامن طور سیز فائر لائن عبور کر کے بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں داخل ہوا جائے گا اسی تناظر میں گیارہ فروری یوم شہادت مقبول بٹ پر پہلی مرتبہ برطانیہ میں تمام قوم پرست اور ترقی پسند دھڑے متفقہ طور بھارتی سفارت خانے کے سامنے احتجاج کریں گے تمام قوم پرست تنظیموں نے اپنے کارکنان اور آزادی پسند عام لوگوں کو باور کروایا ہے کہ وہ بھارت کے کسی بھی سنگین اقدام خاص کر یاسین ملک کو پھانسی کی صورت مکمل طور چوکنا رہیں اور فیصلہ کن ردعمل دینے تیار رہیں میرپور اور پونچھ ڈویژن سے ایک لاکھ سے زائد پیر و جوان کی تتری نوٹ آمد کی تیاریاں جاری ہیں دوسری طرف آزاد جموں کشمیر حکومت یہ اطلاع ملنے پر بڑی آزمائش کا شکار ہوگئی ہے اور پاکستان سے رینجرز بلوانے پر مشاورت کی جا رہی ہے دوسری طرف جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے بھی سیز فائر لائن توڑو کال میں مکمل طور شامل ہونے کی اطلاعات ہیں ۔
واپس کریں