منظر الحق
پرانے وقتوں کے بزرگوں کے اطوار شائستہ،گفتگو مہذب اور لباس سادہ و پروقار ہوا کرتا تھا۔ان کا انداز تکلم حلم و بردباری سے لبریز،کبھی کبھار جملے میں چھبتا ہوا طنزیہ لہجہ اور ساتھ ہی زیر لب مسکراہٹ،شرکاء محفل کو محظوظ رکھتا۔ان بزرگوں کی رخصتی کیا ہوئ،ایک نئی اقسام کے عمر رسیدہ لوگوں کو اس گدی پر بیٹھنا پڑ گیا اور یہ بیچارے بزرگی کے اطوار و معنوں سے نابلد نکلے۔
عمر رفتہ گزرنے کے باوجود ،یہ بزرگی کی چادر اوڑھنے سے معذور ہیں اور ان کی حرکات و سکنات میں طفلانہ پن نمایاں دکھائ دیتا ہے۔آداب محفل سے یہ نامانوس نظر آتے ہیں،تخاطب میں شرینی کلام ان کو ورثہ میں نہیں ملا اور چڑچڑا پن اور غصیل پن ان کی ناک کی پھننگ پر سوار رہتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے،کہ یہ جعلی بزرگ کہاں سے وارد ہو گئے اور کیا انھوں نے اپنی پچھلی پیڑیوں سے کوئ سبق نہ سیکھا۔کچھ دوستوں کا خیال ہے،گھریلو چپقلش سے مرد اس حال کو پہنچ جاتا ہے اور اپنی ساری جھونج و غصہ دوسرے مردوں پر اتارتا ہے۔اللہ بخشے ہماری دادی کا اس بارے میں مزیدار تجزیہ تھا،"بیٹا مرد و عورت کے درمیان چپقلش بستر سے پہلے تک ہے،جادوئ تکیئے پر سر رکھا اور ساتھ لوٹے پوٹے،اگلے دن ہشاش بشاش مسکراتے اٹھتے ہیں۔"یہ ہمارے بچپن کی بات تھی،سمجھ بوجھ زیادہ نہ تھی اور بعد میں دادی کی فراست کا عقدہ کھلا۔
ہم اب اسی بات کا الاعلان ذکر کرنے میں کوئ عار محسوس نہیں کرتے،گھریلو مصائب و مشکلات، مردوں کی طبیعت زودرنج بنا دیتے ہیں اور وہ زندگی کے پرلطف لمحات و آس پاس کی رنگین فضاء سے بیزار نظر آتے ہیں۔ہمارے معاشرے کے اکثر پڑھے لکھے معتدل مزاج مرد،بزرگی میں اپنی بیگمات سے مباشرت کی بھیک مانگتے نظر آتے ہیں اور وہ ان بیچاروں کی خواہشات نفسانی کو مختلف ہیلے بہانوں سے ٹالے دیتی ہیں۔شاید اسی وجہ سے ان کی حس لطافت اور مزاح لمبی رخصت پر چلی جاتی ہے، زندگی بے کیف دکھائ دینے لگتی ہے اور تنک مزاجی و تند خوہی سرشت کا حصہ بن جاتی ہیں۔
اس کے برعکس جو اشخاص ،گھریلو آسودگی پاتے ہیں ،وہ ہنستے مسکراتے دکھائ دیتے ہیں اور شاید بیگمات ان کا اوڑھنا بچھونا ہوتی ہیں،یہ قرآنی آیت کا مفہوم ہے۔ہمارے والد بزرگوار کے وکلاء دوست و احباب ،خال خال دعوت پر مدعو کیئے جاتے اور ان میں ایک بزرگ ہر وقت ٹھٹے لگا رہے ہوتے تھے اور باقی سب کی بصورتی شکلیں ہوتیں۔قہقہے لگانے والے دوست کی چار بیویاں تھیں،سب کا متفقہ فیصلہ یہی تھا،یہ سالا روز بیگم بدل لیتا ہے،اسی لیئے ہنستا مسکراتا رہتا ہے اور زندگی پرکیف و پرسکون ہے ۔
مردوں کے چڑچڑے پن میں،ان کی طبیعت غصیل ہونے میں،کیا ان کی بیگمات قصوروار ہیں اور گر واقعی ہیں،تو اس کا مداوا کیوں نہیں کرتیں۔بجائے ہر وقت مصلے پر بیٹھنے کے،بچوں اور اگلی نسل کی ضروریات مقدم سمجھنے کے،بیچارے شوہر نامدار کو بھی کبھی گھاس ڈالیں۔جس شخص نے گھریلو ضروریات و آسائشوں کی خاطر،اپنی ساری زندگی داو پر لگا دی اور اسے نہ دن کو آرام و سکون ملا اور نہ رات کو چین پایا۔ ہر مرد و عورت کی جسمانی و نفسانی خواہشات ہوتی ہیں،کیا عمر رسیدہ افراد کی ان ضروریات کو نظر انداز کرنا عقلمندی ہے اور ایک دوسرے سے سکون و راحت حاصل کرنا ،عین عبادت میں شمار کیا جاتا ہے۔اگلی دفعہ مرد کو دھتکارنے سے پہلے،دائیں بائیں کندھوں پر معمور فرشتوں کا خیال رکھیئے گا،حلال کاموں سے انکار پر، کہیں وہ منفی کھاتے نہ کھول دیں۔
مردوں سے بھی یہی استدعا ہے،اپنی بیگمات کی دلجوئ و داد رسی فرائض کا حصہ ہے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیشہ اپنی بیگمات کے ساتھ نرمی ،محبت و الفت اور یارانہ برتاو فرمایا، لہذا ہمیں بھی ان کی تقلید کرنی چاہیئے۔انھیں ضروریات زندگی کی فراہمی ،گھریلو آرام و آسائشیں مہیا کرنا اور محبت سے سلوک روا رکھنا ،احسن قرار دیا گیا ہے۔ گر وہ بدسلوکی و بدمزاجی کا مظاہرہ کریں،پھر ان کا نان نفقہ روکا جائے اور پابندیاں لگائ جائیں۔مردوں و عورتوں کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے،جو عیبوں و برائیوں کی پردہ پوشی کرے اور ایک دوسرے
کی ضروریات پوری کریں،یہی طریقہ افضل ہے،تاکہ خوشی و سکون کی زندگی گزاری جائے۔
واپس کریں