منظر الحق
اللہ رب العزت نے چھ دن میں،دنیا آسمان و زمین کی تشکیل فرمائ اور پھر اسے چرند پرند ،جن و حیوانات سے بھر دیا۔فرشتے آسمان پر اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے،دنیا کی مخلوق اپنے طور پر مولا کا شکر بجا لاتی اور اس سارے کارخانے میں رحمان و رحیم کو ایک ایسی ہستی کی ضرورت محسوس ہوئ،جو اطاعت شعار بھی ہو اور سرکش بھی ہو اور دنیا میں اللہ کا خلیفہ بننے کا شرف بھی قبول کرے۔
رب ذوالجلال نے جب فرشتوں کو اپنی حکمت سے آگاہ فرمایا،وہ سراپا احتجاج بن کر بول پڑے،تو ایسی مخلوق پیدا کرے گا جو زمین میں فساد برپا کریں اور خونریزی کرے،جب کہ ہم ہر لحظہ تیری حمد و ثناء کرتے ہیں اور تیرے گن گاتے ہیں۔
البقرہ 2:30
قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّي جَاعِلࣱ فِي ٱلۡأَرۡضِ خَلِيفَةَ ۖ قَالُوٓاْ أَتَجۡعَلُ فِيهَا مَنَا مَنِي وَيَسۡفِكُ ٱلدِّمَآءَ وَنَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَۖ قَالَ إِنِّيٓ أَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُونَ
" اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین پر یکے بعد دیگرے حکومت بناؤں گا ،انہوں نے کہا کیا تو اس پر ایسے شخص کو کھڑا کرے گا جو اس میں فساد برپا کرے اور خون بہائے، جب کہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور تیرا کمال بیان کرتے ہیں؟"
مولا ان کی باتوں کو سن کر گویا ہوا،تم نہیں جانتے میری حکمت و علم کو،دانشمندی اور علم غیب کو،میں دنیا میں انسان کو اپنا خلیفہ نامزد کرتا ہوں۔ وہ سارے کام سرانجام دے گا،جو ملائکہ،جن ،حیوانات و نباتات مل کر کیا کرتے ہیں اور اپنے خالق کی حمد و ثناء میں قلابے ملائے گا۔
الحجر 15:26
وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن صَلۡصَٰلࣲ مِّنۡ حَمَإࣲ مَّسۡنُونࣲ
" اور بلاشبہ ہم نے انسان کو بدلی ہوئی کالی مٹی سے بنایا۔"
انسان کی ہیدائش کے لیئے،اللہ رب العزت نے کالی گلی سڑی مٹی کا انتخاب کیا ،تاکہ انسان اپنی خلاقی پر تکبر نہ کرے۔
الرحمٰن 55:14
خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِن صَلۡصَٰلࣲ كَٱلۡفَخَّارِ
اس نے انسان کو برتن کی مٹی کے طرح بنایا۔
انسان کو عام گارے والی مٹی سے بنایا،جو موم کی طرح بناوٹ کرے اور اس کو خالق انسانی شکل میں سنوار دے۔
آل عمران 3:59
إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ ٱللَّهِ كَمَثَلِ ءَادَمَۖ خَلَقَهُۥ مِن تُرَابَ ثُمَّ قَالَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ
"بے شک اللہ کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کی مثال آدم علیہ السلام کی سی ہے۔ اس کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر اس نے اس سے کہا کہ ہو جا اور وہ ہو گیا۔"
آدم و عیسی کی پیدائش کچھ مختلف نہیں، اس نے مٹی سے آدم کو پیدا کیا،اسے حکم دیا اور وہ انسان بن گیا۔
الاعراف 7:11
وَلَقَدۡ خَلَقۡنَٰكُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنَٰكُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ لَمۡ يَكُن مِّنَ ٱلسَّٰجِدِينَ
"اور ہم نے یقیناً آپ کو پیدا کیا ہے، اے بنی نوع انسان، اور آپ کو انسانی شکل دی ہے۔ پھر ہم نے فرشتوں سے کہا، "آدم کو سجدہ کرو"۔ چنانچہ انہوں نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے۔ وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہیں تھا"
اللہ نے انسان کی صورت تخلیق کی،انسانی شکل دی گئ اور فرشتوں کو سجدے کا حکم ہوا ،پر ابلیس سجدے کا منکر ہو گیا۔
ص 38:72
فَإِذَا سَوَّيۡتُهُۥ وَنَفَخۡتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُۥ سَٰجِدِينَ
پس جب میں اس کو درست تناسب دے دوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں ,تو اس کے سامنے سجدے میں گر جانا۔"
مٹی کے پتلے کو مولا نے سجدے کا حکم نہیں فرمایا،بلکہ جب اس کو تناسب دیا اور اس میں اپنی روح پھونکی گئ،پھر سجدے کا حکم ہوا۔
البقرہ 2:31
وَعَلَّمَ ءَادَمَ ٱلۡأَسۡمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمۡ عَلَى ٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ فَقَالَ أَنۢبِئُونِي بِأَسۡمَءِ هَنۢبِئُونِي بِأَسۡمَءِ هَنۢبِئُونِي كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
"اور اس نے آدم کو نام سکھائے - وہ سب۔ پھر ان کو فرشتوں کو دکھایا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ۔"
اللہ نے آدم کو اپنا علم دیا،چیزوں کے نام سکھائے اور پھر فرشتوں سے ان کی بابت دریافت کیا،گر تم سچے یو تو ان چیزوں کے نام بتا دو ۔
البقرہ 2:32
قَالُواْ سُبۡحَٰنَكَ لَا عِلۡمَ لَنَآ إِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَآۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ
"انہوں نے کہا کہ تو پاک ہے، ہمیں اس کے سوا کوئی علم نہیں ,جو تو نے ہمیں سکھایا ہے، بے شک تو ہی جاننے والا، حکمت والا ہے-فرشتوں نے اللہ کی پاکی بیان فرمائی، اپنے ناقص علم کا اقرار کیا اور جو تیری ذات نے ہمیں سکھایا ہے،اس کے علاوہ ہم لاعلم ہیں۔اللہ کی حاکمیت و علمیت،علیم و خبیر ذات کے سامنے اپنے بے بسی کا اقرار کیا۔
البقرہ 2:33
قَالَ يَآآدَمُ أَنۢبِئۡهُم بِأَسۡمَآئِهِمۡۖ فَلَمَّآ أَنۢبَأَهُم بِأَسۡمَآئِهِمۡ قَالَ أَلَمۡ أَقُل لَّكُمَ أَلَمۡ أَقُل لَّكُمُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَأَعۡلَمُ مَا تُبۡدُونَ وَمَا كُنتُمۡ تَكۡتُمُونَ
" فرمایا اے آدم ان کے نام بتاؤ۔ اور جب اس نے انہیں ان کے نام بتا دیے تو فرمایا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کے غیب جانتا ہوں اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو میں جانتا ہوں۔"
اللہ نے آدم کو حکم دیا،ان ساری چیزوں کے نام بتاو اور آدم نے اللہ کے دیئے ہوئے علم کی بدولت ،وہ سارے نام دھرا دیئے۔اب خدائے بزرگ و برتر نے فرشتوں کو دنیا و آسمان میں چھپے سارے راز، اپنے غیبی علم،حکمت و فراست کے ذریعے عیاں کرنے کا عندیہ دیا ،مخفی و کھلے، دل کے رازوں کو اپنی گرفت میں رکھنے کا بتایا،اس سے کوئ راز چھپا نہیں ہے۔
البقرہ 2:34
وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ أَبَىٰ وَٱسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ پس انہوں نے سجدہ کیا ماسوائے ابلیس کے۔ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے ہو گیا۔"
علم کی روشنی تفویض کرنے کے بعد،فرشتوں کو سجدے کا حکم ہوا اور ماسوائے شیطان کے ،وہ سب سجدے میں گر پڑے اور شیطان اپنے تکبر سے کافر ہو گیا۔
الاعراف 7:12
قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسۡجُدَ إِذۡ أَمَرۡتُكَۖ قَالَ أَنَا۠ خَيۡرࣱ مِّنۡهُ خَلَقۡتَنِي مِن نَّارَ وَخَلَقِنِ مِن نَّارَ
"اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب میں نے تمہیں حکم دیا تو تمہیں سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا؟ شیطان نے کہا میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور مٹی سے بنایا۔"
اللہ تعالی نے شیطان سے سوال کیا،تو نے میری حکم عدولی کیونکر کی،وہ اپنے تکبر و گھمنڈ میں بولا،میں آگ سے بنایا گیا ہوں اور یہ خاک کا پتلا ہے،لہذا میں اس سے برتر اور افضل ہونے کے سبب اسے سجدہ کیوں کروں
الاعراف 7:13
قَالَ فَٱهۡبِطۡ مِنۡهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَٱخۡرُجۡ إِنَّكَ مِنَ ٱلصَّٰغِرِينَ
"اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس (یعنی جنت) سے اتر جا، کیونکہ اس میں تکبر کرنا تیرے بس کی بات نہیں، پس نکل جا، بے شک تو ذلیلوں میں سے ہے"۔
اللہ اکبر،مالک دوجہاں نے اپنے مقرب جن کو ،جنت میں تکبر و نافرمانی کی بناء دربدر کر دیا اور اسے ملعون و ذلیل و خوار قرار دے کر جنت سے نکال باہر کیا۔
الاعراف 7:14
قَالَ أَنظِرۡنِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ
(شیطان نے) کہا کہ مجھے اس دن تک مہلت دے جب تک کہ وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔
شیطان نے رب العزت سے التجا کی،مجھے روز قیامت تک مہلت دے،جس دن سب دوبارہ زندہ اٹھائے جائیں گے۔
الاعراف 7:15
قَالَ إِنَّكَ مِنَ ٱلۡمُنظَرِينَ
"اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بے شک تو مہلت پانے والوں میں سے ہے۔"
مولا رحیم و کریم ہے،شیطان تک کو مہلت دے دی اور وہ قیامت تک اپنے شر سے انسانوں کو صراط مستقیم سے بھٹکاتا رہے گا۔
الاعراف 7:16
قَالَ فَبِمَآ أَغۡوَيۡتَنِي لَأَقۡعُدَنَّ لَهُمۡ صِرَٰطَكَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ
"[شیطان] نے کہا چونکہ تو نے مجھے گمراہی میں ڈالا ہے اس لیے میں یقیناً تیرے سیدھے راستے پر ان (یعنی انسانوں) کی تاک میں بیٹھوں گا۔"
اب یہاں شیطان اللہ رب العزت سے شکوہ شکایت کرتا ہے،تو نے مجھے گمراہ کیا،حالانکہ اس کے تکبر نے اسے گمراہ کیا اور وہ انسناوں کو بہکانے کا وعدہ کرتا ہے،جو بھی اللہ کے بتائے سیدھے راستے پر چلے گا،میں اس کی گھات میں لگا رہوں گا اور اسے طاغوتی راستے کی جانب،بہلا پھسلا کر مائل کروں گا۔
الاعراف 7:17
ثُمَّ لَأٓتِيَنَّهُم مِّنۢ بَيۡنِ أَيۡدِيهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ وَعَنۡ أَيۡمَٰنِهِمۡ وَعَن شَمَآئِلِهِمۡ وَعَن شَمَآئِلِهِمۡ تَجۡاَۖ وَلدِي شَٰكِرِينَ
"پھر میں ان کے پاس ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں بائیں سے آؤں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔"
وہ ہر جانب سے انسانوں پر حملہ آور ہو گا،اوپر ،نیچے اور دائیں و بائیں جانب سے اور وہ بیشتر کو اپنے چنگل میں پھنسا لے گا اور اکثر انسان، اللہ کی نعمتوں کے نا شکرے پائے جائیں گے۔
الاعراف 7:18
قَالَ ٱخۡرُجۡ مِنۡهَا مَذۡءُومࣰا مَّدۡحُورࣰاۖ لَّمَن تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ لَأَمۡلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمۡ أَجۡمَعِ
"اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس سے نکل جا، ملامت زدہ اور نکال دیا گیا، ان میں سے جو بھی تیری پیروی کرے گا، میں ضرور تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔"
رب العزت نے اسے جنت سے باہر نکال دیا،ذلیل و خوار قرار دے کر اور رہتی دنیا تک جو جن و انسان اس کی پیروی کرے گا،وہ جہنم کا ایندھن بن جائے گا اور آگ اس کا مقدر بن جائے گی۔شیطان اور اس کے چیلے،انسان کو راہ راست سے بھٹکا کر،غلط راستے پر ڈال دیتے ہیں اور یہی شیطانیت انسان کی تباہی و بربادی کا باعث بنتی ہے،دنیا اور آخرت میں۔شیطان اور اس کے چیلے چپاٹے سمیت ،سارے شرپسند جن و انسان جہنم کی آگ کا ایندھن بنیں گے اور وہ پتھر بھی جو اللہ کی وحدانیت کے خلاف پوجے جائیں گے۔
الاعراف 7:19
وَيَآآدَمُ ٱسۡكُنۡ أَنتَ وَزَوۡجُكَ ٱلۡجَنَّةَ فَكُلَا مِنۡ حَيۡثُ شِئۡتُمَا وَلَا تَقۡرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ
"اور اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں سے چاہو کھاؤ لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔"
آدم و حوا کو جنت میں رہنے کی خوشخبری سنائ گئ،کھانے پینے کی مکمل آزادی دی گئ،سوائے ایک درخت کے ،جس کے قریب جانے ( اور شاید اس کا پھل کھانے سے)،تمہارا ظالموں میں شمار ہو جائے گا۔
البقرہ 2:35
وَقُلۡنَا يَآآدَمُ ٱسۡكُنۡ أَنتَ وَزَوۡجُكَ ٱلۡجَنَّةَ وَكُلَا مِنۡهَا رَغَدًا حَيۡثُ شِئۡتُمَا وَلَا تَقۡرَبَہَ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ
"اور ہم نے کہا، اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور اس میں سے جہاں سے چاہو خوب کھاؤ ،لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا ،ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔"
الاعراف 7:20
فَوَسۡوَسَ لَهُمَا ٱلشَّيۡطَٰنُ لِيُبۡدِيَ لَهُمَا مَا وُۥرِيَ عَنۡهُمَا مِن سَوۡءَٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَمَاُمَا وَقَالَ مَا نَهَمَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةِ إِلَّآ أَن تَكُونَا مَلَكَيۡنِ أَوۡ تَكُونَا مِنَ ٱلۡخَٰلِدِينَ
"لیکن شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ ان پر ظاہر کردے جو ان کی شرمگاہوں سے چھپی ہوئی تھی۔ اس نے کہا تمہارے رب نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا مگر یہ کہ تم فرشتے بن جاؤ یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہو جاؤ۔"
شیطان مردود نے ،ان کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کر دیئے،اس درخت کی ممانعت کی وجہ، الٹی سیدھی توجیہات پیش کیں،تم فرشتے نہ بن جاو یا ابدی زندگی نہ مل جائے۔ان کے دل و دماغ میں الجھن پیدا کر دی،طاغوتی راستے کو صراط مستقم بنا کر پیش کر دیا اور لغزش کی راہ ہموار کر دی،جس سے ان کی شرمگاہیں ان پر عیاں ہو گئیں۔
الاعراف 7:21
وَقَاسَمَهُمَآ إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ
"اور اس نے ان سے قسم کھائی کہ میں تمہارے لیے مخلص مشیروں میں سے ہوں۔"
شیطان نے حلفیہ و قسمیہ، انھیں اپنی مخلصی کا یقین دلایا اور وہ اس کے جھانسے میں آ گئے۔وہ ان سے اپنا بدلا لینا چاہتا تھا،چونکہ آدم ع کو سجدے سےانکار پر، وہ ملعون ہوا تھا،لہذا وہ انھیں بھی اللہ کے سامنے شرمسار کرنا چاہتا تھا۔
البقرہ 2:36
فَأَزَلَّهُمَا ٱلشَّيۡطَٰنُ عَنۡهَا فَأَخۡرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِۖ وَقُلۡنَا ٱهۡبِطُواٍ عۡبۡضُكُمۡ لِبَطُواْ بَعۡضُكُمۡ لِبَعُۖ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُسۡتَقَرࣱّ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينَ
"لیکن شیطان نے انہیں وہاں سے نکلوا دیا اور انہیں اس حالت سے نکال دیا، جس میں وہ تھے۔ اور ہم نے کہا کہ تم سب ایک دوسرے کے دشمن ہو کر نیچے اتر جاؤ اور تمہارے لیے زمین پر ایک وقت تک رہنے کی جگہ اور روزی ہوگی۔"
شیطان نے انھیں چکمہ دیا،پھر اس پاکی کی حالت و کیفیت سے وہ نکل آئے اور جنت سے نکال دیئے گئے۔مولا نے آپس کی دشمنی دلوں میں ڈال دی،دنیا میں پھینک دیئے گئے،جہاں ایک مقررہ مدت تک قیام ہو گا اور اس دوران محنت و مشقت سے روزی کمانی ہو گی۔
البقرہ 2:37
فَتَلَقَّىٰٓ ءَادَمُ مِن رَّبِّهِۦ كَلِمَٰتَ فَتَابَ عَلَيۡهِۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ
" پھر آدم نے اپنے رب کی طرف سے کچھ کلمات حاصل کیے، اور اس نے ان کی توبہ قبول کی۔ بے شک وہی توبہ قبول کرنے والا ہے اور رحم کرنے والا ہے۔"
آدم نے ندامت کا اظہار کیا،اللہ کی رحمت کو جوش آیا، اسے مغفرت کے کلمات سکھائے اور پھر ان کی توبہ قبول کر لی۔وہ رحمان و رحیم ہے،وہ ہمارا خالق ہے اور بارہا مغفرت قبول فرماتا ہے،وہ اپنی رحمتوں کی بارش برساتا ہے اور کسی کو مایوس نہیں کرتا۔
الاعراف 7:23
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمۡنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ
انہوں نے کہا اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم یقیناً نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
اللہ نے آدم و حوا کو یہ دعا سکھائ،
جس میں دونوں نے اپنی غلطی و نادانی کا اعتراف کیا ،اپنی جانوں پر ظلم کیا اور رب العزت سے معافی کی درخواست کی۔گر تیری رحمت کا سایہ ہم پر نہ ہوا ،تو ہم یقینا نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہو جائیں گے اور ہم تجھ سے رحم کی بھیک مانگتے ہیں ۔
الاعراف 7:24
قَالَ ٱهۡبِطُواْ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوّۖ وَلَكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُسۡتَقَرࣱّ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينَ
" اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک دوسرے کے دشمن ہو کر اترو اور تمہارے لیے زمین پر ایک وقت تک قیام و طعام کی جگہ ہے۔"
زمین میں بنی نوع آدم ،ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے اور آپس میں نفاق و عداوت کے ساتھ زندگیاں گزاریں گے۔ان کا زمین میں ایک خاص مدت تک قیام رہے گا،انھیں محنت و مشقت کے ساتھ یہ زندگی گزارنی ہو گی اور ان کا کھانا پینا بھی ایک خاص معیاد کے لیئے ہو گا۔
البقرہ 2:38
قُلۡنَا ٱهۡبِطُواْ مِنۡهَا جَمِيعࣰاۖ فَإِمَّا يَأۡتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدࣰى فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ
"ہم نے کہا تم سب اس سے اتر جاؤ اور جب تم کو میری طرف سے ہدایت پہنچے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔"
مولا نے ساری ارواح کو ،جنت سے باہر نکال دیا اور اپنی ہدایت کی ہیشنگوئ فرمائ۔جو اس کی ہیروی کرے گا،اس راہ پر ثابت قدم رہے گا ،اس کے لیئے (بروز قیامت) نہ کوئ خوف ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہو گا۔
الاعراف 7:25
قَالَ فِيهَا تَحۡيَوۡنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنۡهَا تُخۡرَجُونَ
"فرمایا اسی میں تم جیو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی سے تم نکالے جاؤ گے۔"
اسی زمین میں تمہارا جینا مرنا ہو گا،یہیں تم بسیرا کرو گے اور یہیں دفن ہو کر ،پھر دوبارہ اسی مٹی سے زندہ کیئے جاو گے۔
ط ح 20:55
مِنۡهَا خَلَقۡنَٰكُمۡ وَفِيهَا نُعِيدُكُمۡ وَمِنۡهَا نُخۡرِجُكُمۡ تَارَةً أُخۡرَىٰ
اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے ایک بار پھر نکالیں گے۔
جس مٹی سے ہم نے تمہیں انسان بنایا،اسی مٹی میں تمہیں دفن کیا جائے گا اور پھر ہم تمہیں دوبارہ زندہ کر کے،باہر نکالیں گے،تاکہ تمہاری زندگی کا حساب کتاب کیا جائے اور اللہ رب العزت انصاف کے ہلڑے میں تمہارے اعمال تول کر،جزا و سزا کا فیصلہ فرمائے گا،ہر انسان اہنے اعمقک کی بناء جنت و دوزخ کا حقدار بنے گا۔
مولا رحمان و رحیم ہم سب پر اپنا فضل و کرم فرمائے،بروز قیامت اپنا سایہ نصیب فرمائے اور اپنے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے، آمین۔
واپس کریں