دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پسپائی سے عروج کا سفر ۔ شاہد حسین بخاری
No image یکم اکتوبر وہ تاریخی دن ہے جب قیام پاکستان کے دوسال 47دن بعد اس کے پڑوس میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ بیجنگ کے تیان آن من اسکوائر میں منعقدہ تقریب میں یہ اعلان چینی کمیونسٹ پارٹی اور مرکزی عوامی حکومت کے چیئرمین ماؤزے تنگ نے کیا۔یوں یکم اکتوبر اس ملک کا قومی دن ٹھہرا جس کے ساتھ قائم پاکستان کی دوستی مثالیہ بن گئی۔ تقریب میں کہا گیا چیئرمین ماؤزے کا ایک خاص جملہ چین کی جدید تاریخ کا اہم عنوان بن گیا۔ ماؤنے کہا تھا: ’’ اب چینی عوام کھڑے ہوگئے ہیں‘‘،اس جملے کی عملی صورت عوامی جمہوریہ چین کے ہر شعبے میں یوں نمایاں ہوئی کہ چینی قوم آج عروج کے اس مقام پر کھڑی نظر آرہی ہے جس کا سب ہی اعتراف کرتے ہیں۔

1949ء کا مذکورہ منظر اچانک سامنے نہیں آیا تھا۔ اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی سیاسی کشمکش، انقلاب، جنگ ،تنظیم سازی اور اس مخصوص سفر کی کٹھنائیاں ہیں جسے دنیا آج ’’لانگ مارچ‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔لانگ مارچ چین کی جدید تاریخ کا وہ باب ہے جس کا آغاز اس دور سے جڑا ہوا ہے جب ماضی کی عظیم تہذیب کا حامل ملک سیاسی ومعاشی کمزوریوں کا شکار ہوکر مغربی طاقتوں کے دباؤ تلے نیم جاں ہورہا تھا۔ افیون کی جنگوں کے بعد چین کو ایسے معاہدے قبول کرناپڑے جنہوں نے اس کی خودمختاری کو متاثر کیا اور غربت وبدنظمی کے مارے عوام کی مایوسی کو بے چینی کی شکل دینا شروع کردی تھی۔1911ء کے انقلاب کے نتیجے میں بادشاہت کے خاتمے کے بعد ڈاکٹر سن یات سین کی قیادت میں قائم قوم پرست پارٹی(کومن تانگ) کی حکومت ملک کو فوری طور پر سیاسی استحکام نہ دے سکی۔ جنگجو سرداروں کی چیرہ دستیاں پرانے جاگیردارانہ وسرمایہ دارانہ نظام کے گہرے اثرات کے ساتھ مل کر ایسا ردعمل دے رہی تھیں۔جس میں1917ء کے روسی انقلاب کی خبریں نوجوانوں، دانش وروں،مزدوروں اور کسانوں کیلئے کشش کا باعث بنیں۔

یوں چین میں کمیونسٹ پارٹی کا قیام اس طرح عمل میں آیا کہ جولائی2021ء میں اس کی پہلی کانگریس نہایت رازداری سے شروع ہوئی۔ پولیس مداخلت کے خطرے کے باعث اجلاس کا آخری حصہ شنگھائی سے باہر جیاشنگ میں نان ہو جھیل پرایک کشتی میں مکمل کیا گیا۔ تقریباً پچاس ابتدائی کارکنوں اور نمائندوں سے سفر شروع کرنے والی اس پارٹی کی تنظیم اور بنیادمیں چن دوشیو اور لی داژاؤ سب سے نمایاں تھے۔ ماؤزے تنگ بھی ابتدائی یا بانی ارکان میں شامل تھے۔ چو این لائی بعد میں تنظیم کا حصہ بنے۔ پارٹی کے اغراض ومقاصد میں مزدوروں کو منظم کرنے ان کے مفادات کا تحفظ کرنے ، سرمایہ دارانہ نجی ملکیت اور طبقاتی امتیاز ختم کرنے کے نکات نمایاں تھے۔ مزدوروں کو سیاسی عمل میں کردار ادا کرنے کے لئے تیار کرنے کا عزم نمایاں تھا۔ اظہار خیال ، پریس اور اجتماع کی آزادی کے نکات بھی قرارداد کا حصہ تھے۔مذہبی آزادی کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے یہ واضح کیا گیا کہ تمام مذاہب قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا حق رکھتے ہیں۔ بعد کے لانگ مارچ سمیت سیاسی سفر میں اور عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد عمومی طور پر کمیونسٹ پارٹی نے اپنے پروگرام کو درپیش حالات اور عملی تقاضوں سےہم آہنگ رکھا۔یوں یہ نظام جامد نہیں رہا ،وقت کے ساتھ زیادہ متحرک وفعال ہوتارہا ۔

چین میں کمیونسٹو ںاور قوم پرستوں کے درمیان ابتدا میں تعاون بھی ہوا لیکن یہ مفاہمت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی ۔1927ء کے بعد فریقین کے درمیان مسلح تصادم شروع ہوا۔ یوں1921ء میں سیاسی جماعت کے طور پرکام کا آغاز کرنے والی پارٹی نے اس دور میں اپنی فوجی تنظیم قائم کی جو آگے چل کر سرخ فوج اور پھر موجودہ پیپلز لبریشن آرمی کی بنیاد بنی۔ کمیونسٹوں نے شہروں کی بجائے دیہی علاقوں میں اپنے مراکز قائم کئے ۔جیانگ شی میں کمیونسٹوں کا ایک بڑا مرکز قائم ہوا جس کے خلاف چیانگ کائی شیک کی زیر قیادت قوم پرست حکومت نے 1933ء اور1934میں فوجی کارروائیاں کیں۔ اس نوع کی پانچویں کارروائی کے دوران کیا گیا محاصرہ ایسا بھرپور اور منظم تھا کہ کمیونسٹوں کو شکست سے بچنے کیلئے ان جان اور نامعلوم راستوں سے پسپائی کا وہ سفر کرنا پڑا جو بعد میں’’لانگ مارچ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ نامعلوم راستوں،دشوار گزار پہاڑی علاقوں ، برف زاروں،جنگلوں، کھائیوں سے گزرتے اس سفر میں ، بھوک، بیماری، انسانی طاقت سے زیادہ مشقت اور فوجی حملوں سمیت خطرات ہی خطرات تھے۔ یوں جنوب مشرقی چین کے صوبے جیانگ شی سے اکتوبر1934ء میں اپنی بقا کا سفر شروع کرنے والا قافلہ چھ ہزار میل(تقریباً9ہزار کلومیٹر) کا راستہ368دن میں طے کرکے اکتوبر 1935ء میں چین کے محفوظ صوبے شان شی میں پہنچا تواس میں شامل افراد کی تعداد، جو آغاز سفر میں تقریباً86ہزار تھی ، اختتام سفر پر تقریباً8ہزار رہ گئی تھی۔

دوران سفر ایک بڑا واقعہ جنوری1935میں رونی کے مقام پر کانفرنس کے انعقاد کا تھا جس میں کمیونسٹ قیادت نے سابقہ حکمت عملی کا جائزہ لیا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب قیادت میں تبدیلی اور حکمت عملی میں اصلاح ہوئی۔ راستہ بھی بدلا گیا۔ اکتوبر کے مہینے میں لانگ مارچ کے اختتام تک کمیونسٹ قیادت میں ماؤزے تنگ کا کردار نمایاں طور پر بڑھ چکا تھا۔ اس عرصے میں جاپانی افواج کے چین پر حملے اور پیش قدمی نے سیاست بدل دی۔ چینی قوم پرستوں اور کمیونسٹوں میں عارضی تعاون کی نئی صورت پیدا ہوئی ،مگر دوسری جنگ عظیم کے خاتمے اور جاپانی خطرہ دور ہونے کے بعد مذکورہ اتحاد ٹوٹ گیا۔ خانہ جنگی کے نئے دور میں کمیونسٹ افواج نے قوم پرست حکومت کو شکست دی اور یکم اکتوبر1949ءکو عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کردیاگیا۔

اس برس (یکم اکتوبر2026کو) عوامی جمہوریہ چین کی77ویں سالگرہ منائی گئی تو اس کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میںصدر شی جن پنگ لانگ مارچ میں جان کی بازی لگانے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے جب یہ اعلان کررہے تھے کہ ’’ چینی قوم کی نشاۃ ثانیہ کا سفر مسلسل آگے بڑھ رہا ہے‘‘ تو ایسا محسوس ہورہاتھا کہ وہ چیئرمین ماؤزے تنگ کے تاریخی جملے کی آج کے دور کے حقائق کی روشنی میں تجدید کرہے ہیں۔ ماؤکا یہ اعلان کہ ’’اب چینی عوام کھڑے ہوگئے ہیں‘‘ ابتدائیہ تھا اس نئے عظیم سفر کا، جس پر چل کرچینی قوم نے سیاست،سفارت، معیشت، ٹیکنالوجی سمیت ہر شعبے میں اپنی ترقی کا لوہا منوایا اور آج صدر شی کی قیادت میں خلاؤں سے بھی آگے بڑھ کر سیاروں وستاروں پر کمندیں ڈالتی محسوس ہورہی ہے۔
واپس کریں