لانگ مارچ اور تیراہ کے بے گھر خاندان: سہیل آفریدی کی ترجیحات اور بے وفائی کی داستان

(پشاور) رپورٹ خالد خان
وادی تیراہ صرف ضلع خیبر کا ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ آفریدی قبائل کا تاریخی مرکز ہے۔ آفریدی قبیلہ آٹھ بڑی اقوام پر مشتمل ایک وسیع قبائلی معاشرہ ہے اور تیراہ اس معاشرے کے تاریخی، سماجی اور جغرافیائی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ اسی لیے تیراہ کا بحران محض چند ہزار بے گھر خاندانوں کی مشکلات کا نام نہیں بلکہ اس سوال سے بھی جڑا ہوا ہے کہ جب صوبے کے وزیراعلیٰ کا تعلق اسی خطے سے ہو، ضلع خیبر کے قومی ،صوبائی اور سینٹ کےتمام منتخب نمائندوں کا تعلق اسی جماعت اور علاقے سے ہو اور متاثرین مہینوں سے اپنے گھروں کو واپس جانے کے لیے حکومت کی طرف دیکھ رہے ہوں تو صوبائی حکومت کی ترجیحات میں ان کی واپسی کہاں کھڑی ہے؟
تیراہ کے موجودہ بحران کی بنیاد 2025 کے آخری مہینوں میں پڑی، جب سیکیورٹی کارروائی کے تناظر میں وادی کے مختلف علاقوں سے لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے۔ 22 دسمبر 2025 کو ضلعی انتظامیہ اور 24 رکنی قبائلی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے بعد یہ طے ہوا کہ وادی کے رہائشی 10 جنوری 2026 سے عارضی طور پر نقل مکانی کریں گے تاکہ سیکیورٹی کارروائی کی جا سکے۔ بعد میں سرکاری رجسٹریشن تقریباً 34 ہزار خاندانوں تک پہنچی، جبکہ مختلف مراحل میں 27 ہزار اور 30 ہزار سے زیادہ خاندانوں کے اعدادوشمار بھی سامنے آتے رہے۔
نقل مکانی کے وقت متاثرین سے معاوضوں، مالی امداد، خوراک، نقل و حمل اور گھروں کے نقصانات کے ازالے کے وعدے کیے گئے۔ تحریری معاہدے کے مطابق مکمل طور پر تباہ گھر کے لیے 30 لاکھ روپے، جزوی طور پر تباہ گھر کے لیے 10 لاکھ روپے اور ہر بے گھر خاندان کے لیے 2 لاکھ 50 ہزار روپے کی امداد کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن نقل مکانی کے بعد اصل امتحان شروع ہوا۔ ایک طرف لوگ اپنے گھروں، دکانوں، کھیتوں اور روزگار سے محروم ہوگئے اور دوسری طرف رجسٹریشن، تصدیق اور امداد کی تقسیم کا عمل توقع کے مطابق تیز نہ ہوسکا۔ اگست میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق 34 ہزار رجسٹرڈ خاندانوں میں سے تقریباً 21 ہزار کی تصدیق ہو سکی تھی۔
یوں تیراہ کا مسئلہ صرف بے گھری کا مسئلہ نہیں رہا۔ باڑہ اور دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے والے خاندانوں کے سامنے رہائش، روزگار، علاج، بچوں کی تعلیم اور روزمرہ اخراجات کے مسائل پیدا ہوئے۔ تاجروں کا کاروبار متاثر ہوا، بعض خاندانوں کی جمع پونجی ختم ہوئی اور وہ لوگ جو وادی میں زمین، دکان یا گھریلو کاروبار کے ذریعے زندگی گزارتے تھے، اچانک بے یقینی میں دھکیل دیے گئے۔ متاثرین کی طرف سے یہ شکایات بھی سامنے آتی رہیں کہ بعض خاندانوں کو ماہانہ 50 ہزار روپے کی امداد، نقل و حمل کے اخراجات اور دوسری وعدہ شدہ رقوم بروقت نہیں ملیں۔
صوبائی حکومت کی طرف سے مالی مدد کے اقدامات بھی سامنے آئے۔ جنوری میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے تیراہ سے آنے والے جرگے سے ملاقات میں متاثرین کی ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی، جبکہ 30 جون کو صوبائی کابینہ نے 6,900 مزید تصدیق شدہ متاثرہ خاندانوں کے لیے 5.499 ارب روپے سے زیادہ کی رقم جاری کرنے کی منظوری دی۔ اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی سطح پر وسائل مختص کیے گئے، لیکن اصل سوال ہمیشہ یہی رہا کہ یہ رقم کتنے خاندانوں تک، کتنی رفتار سے اور کس شفاف طریقے سے پہنچی۔
اسی دوران متاثرین کے احتجاج بھی جاری رہے۔ فروری میں باڑہ میں امدادی رقوم میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کے دوران پی ٹی آئی اور اے این پی کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا۔ مارچ میں ایک کثیرالجماعتی کانفرنس نے حکومت سے تیراہ متاثرین کے لیے وعدہ کردہ امداد کی فراہمی اور امدادی رقوم میں مبینہ خرد برد کے الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ یہاں یہ فرق برقرار رکھنا ضروری ہے کہ خرد برد یا کرپشن کے الزامات کو ثابت شدہ کرپشن قرار نہیں دیا جا سکتا، البتہ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ الزامات عوامی اور سیاسی فورمز پر اٹھائے گئے اور تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔
اپریل تک متاثرین کی 24 رکنی کمیٹی امداد، تصدیق اور واپسی کے معاملے پر انتظامیہ سے رابطے میں تھی، جبکہ تحریک متاثرین تیراہ کا احتجاج بھی جاری تھا۔ ضلعی انتظامیہ نے تقریباً 34 ہزار خاندانوں کی رجسٹریشن، 15 ہزار کی تصدیق اور 14,200 خاندانوں کو فی خاندان 2 لاکھ 40 ہزار روپے کی ادائیگی کا دعویٰ کیا، جبکہ متاثرین کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ بہت سے خاندان اب بھی امداد سے محروم ہیں۔ یوں ایک ہی بحران کی دو تصویریں سامنے آتی رہیں۔ حکومت اپنے اقدامات اور ادائیگیوں کے اعدادوشمار پیش کرتی رہی اور متاثرین باقی رہ جانے والے خاندانوں اور عملی مشکلات کی نشاندہی کرتے رہے۔
مئی میں قبائلی جرگے کی گورنر خیبر پختونخوا سے ملاقات کے دوران بھی تقریباً 32 ہزار رجسٹرڈ خاندانوں کی بے دخلی، معاوضوں اور واپسی کے مسائل زیر بحث آئے۔ جون میں صوبائی کابینہ نے مزید 5.499 ارب روپے منظور کیے، لیکن متاثرین کا بنیادی سوال وہی رہا کہ واپسی کب؟
یہ سوال جولائی، اگست اور ستمبر میں مزید شدت اختیار کرتا گیا۔ ستمبر میں متاثرین کی تحریک نے وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا، تاہم حکام کی جانب سے وعدوں کے بعد احتجاج مؤخر کردیا گیا۔ ان وعدوں میں بند سم کارڈز بحال کرنا، ان سے منسلک امدادی رقم فراہم کرنا، چھ ماہ کے لیے ماہانہ 50 ہزار روپے دینا اور نقل مکانی کے دوران سامان اور خاندانوں کی منتقلی پر آنے والے اخراجات ادا کرنا شامل تھے۔
اسی دوران 36 رکنی وفد نے تیراہ کا دورہ کیا۔ متاثرین کے نمائندوں کے مطابق سیکیورٹی حکام نے انہیں بتایا کہ دسمبر 2025 میں خالی کرائے گئے علاقے اب محفوظ ہیں اور آپریشنل کلیئرنس دی جا چکی ہے۔
28 ستمبر کو ڈپٹی کمشنر خیبر نے تیراہ میدان میں جرگے کے دوران اعلان کیا کہ متاثرین کی واپسی 10 اکتوبر سے شروع ہوگی۔ فیصلہ کیا گیا کہ واپسی مرحلہ وار ہوگی اور ابتدا میں روزانہ 50 سے 80 خاندان واپس جائیں گے، جبکہ بعد میں تعداد بڑھائی جائے گی۔ سڑکوں، پلوں، صحت، تعلیم، پانی، بجلی اور مواصلات کی بحالی کو بھی واپسی کے عمل کا حصہ قرار دیا گیا۔
لیکن متاثرین نے اس اعلان پر بھی تحفظات ظاہر کیے۔ 30 ستمبر کو ڈان نے رپورٹ کیا کہ بیشتر متاثرین کو 10 اکتوبر کی واپسی پر یقین نہیں تھا کیونکہ ان کے مطابق نہ باقاعدہ سرکاری نوٹیفکیشن سامنے آیا تھا، نہ رجسٹریشن مراکز قائم ہوئے تھے اور نہ ہی نقل و حمل کے عملی انتظامات نظر آرہے تھے۔
اب ذرا اس تاریخ کو سامنے رکھ کر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ترجیحات دیکھیے۔
ایک طرف تیراہ کے ہزاروں خاندان تقریباً دس ماہ سے اپنے گھروں سے دور ہیں، ان کے معاوضوں اور امداد کا معاملہ مکمل طور پر حل نہیں ہوا، واپسی کے انتظامات پر خود متاثرین سوال اٹھا رہے ہیں اور 10 اکتوبر کی تاریخ سر پر کھڑی ہے۔ دوسری طرف صوبے کا وزیراعلیٰ 4 اکتوبر سے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی قیادت کر رہا ہے جس کا بنیادی سیاسی مطالبہ عمران خان کی رہائی ہے۔ لانگ مارچ کا آغاز لکی مروت سے ہوا اور 7 اکتوبر کو سہیل آفریدی کا قافلہ خیبر پہنچا۔
یہاں اصل سوال لانگ مارچ کے حق یا مخالفت کا نہیں۔ احتجاج کرنا سیاسی حق ہے، اپنے سیاسی قائد کی رہائی کا مطالبہ کرنا بھی ایک سیاسی موقف ہے اور وزیراعلیٰ کا اپنی جماعت کے سیاسی معاملات میں کردار بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ سوال صرف ترجیحات کا ہے۔
ایک وزیراعلیٰ بیک وقت پارٹی رہنما بھی ہوسکتا ہے، سیاسی کارکن بھی اور صوبے کا انتظامی سربراہ بھی۔ لیکن جب وہ اپنے صوبے کے ایک ایسے علاقے کی طرف سے آتا ہو جہاں کے ہزاروں شہری بے گھر ہوں، جب انہی متاثرین کی واپسی کی تاریخ اسی دوران مقرر ہو جس دوران وزیراعلیٰ ایک بڑے سیاسی مارچ کی قیادت کر رہا ہو، تو عوام کا یہ پوچھنا بالکل فطری ہے کہ حکومت کی فوری توجہ کس طرف ہے؟
یہ سوال اس وقت اور بھی اہم ہوجاتا ہے جب وزیراعلیٰ خود 7 اکتوبر کو خیبر میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ صوبے میں دوبارہ فوجی آپریشن نہیں ہونے دے گا اور تیراہ کے لوگوں کی مشکلات کا بھی حوالہ دیتا ہے۔
یہاں ایک دلچسپ تضاد پیدا ہوتا ہے۔ اگر تیراہ کے لوگوں کی تکلیف واقعی وزیراعلیٰ کی سیاسی ترجیحات میں نمایاں ہے تو پھر ان کی واپسی، معاوضوں، تعمیر نو اور بنیادی سہولتوں کا مسئلہ بھی اسی سیاسی شدت کے ساتھ سامنے آنا چاہیے جس شدت سے وفاق کے ساتھ سیکیورٹی پالیسی، عمران خان کی رہائی اور لانگ مارچ کے معاملات سامنے آرہے ہیں۔
وفاق کے ساتھ اختلاف اپنی جگہ، فوجی آپریشن کی مخالفت اپنی جگہ، عمران خان کی رہائی کا مطالبہ اپنی جگہ؛ مگر تیراہ کے لوگ بھی اسی صوبے کے شہری ہیں۔ ان کے گھر بھی اسی ریاست میں ہیں، ان کے بچے بھی اسی صوبے کے سکولوں میں پڑھتے ہیں اور ان کے روزگار کا نقصان بھی اسی صوبائی معیشت کا نقصان ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خود لانگ مارچ کے دوران تیراہ کے لوگوں کے بے گھر ہونے اور ان کی مشکلات کا ذکر کیا ہے۔ اگر یہ مسئلہ ان کے نزدیک اتنا اہم ہے تو پھر اس سوال کا جواب بھی ان ہی کی حکومت کو دینا ہوگا کہ 10 اکتوبر کی واپسی کے لیے زمین پر کتنی تیاری مکمل ہے۔
کیونکہ 10 اکتوبر اب محض ایک انتظامی تاریخ نہیں رہی۔ یہ حکومت کے ایک وعدے کی آزمائش بن چکی ہے۔
سرکاری اعلان کے مطابق واپسی 10 اکتوبر سے شروع ہونی ہے۔ لیکن متاثرین کے مطابق ستمبر کے آخر تک عملی انتظامات واضح نہیں تھے۔ اگر انتظامات اب مکمل ہوچکے ہیں تو حکومت کو انہیں عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔ کتنے خاندان پہلے مرحلے میں واپس جائیں گے؟ رجسٹریشن کہاں ہوگی؟ گاڑیاں کون فراہم کرے گا؟ تباہ شدہ گھروں کا کیا ہوگا؟ پانی، بجلی، صحت اور تعلیم کا کیا انتظام ہے؟ سیکیورٹی کلیئرنس کس سطح پر مکمل ہے؟ واجب الادا امداد کب ملے گی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مکمل واپسی کا قابلِ عمل شیڈول کیا ہے؟
کیونکہ روزانہ 50 خاندانوں کی واپسی کے حساب سے اگر ہزاروں خاندان واپس جانے کے منتظر ہوں تو یہ عمل بہت طویل ہوسکتا ہے۔ جولائی میں بھی حکام نے 10 اکتوبر سے واپسی شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور ستمبر میں اسے مرحلہ وار طریقے سے دوبارہ واضح کیا گیا۔
اس کے مقابلے میں لانگ مارچ کا انتظام دیکھیے۔ اس کے لیے راستے طے ہوئے، مختلف اضلاع سے کارکنوں کی شرکت کا منصوبہ بنا، قافلے کی قیادت ہوئی، پروگرام تبدیل ہوا تو نئی منزل کا اعلان کیا گیا اور اگلے مرحلے کا شیڈول بھی جاری کردیا گیا۔ 8 اکتوبر کو پی ٹی آئی نے مارچ کے اگلے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے 9 اکتوبر کو چارسدہ، 10 اکتوبر کو مردان اور 11 اکتوبر کو صوابی پہنچنے کا پروگرام دیا ہے۔
یہ تقابل کسی سیاسی جماعت کے خلاف فردِ جرم نہیں بلکہ انتظامی ترجیحات کا سوال ہے۔
ایک طرف 10 اکتوبر کو تیراہ کے لوگوں کی واپسی شروع ہونے والی ہے، دوسری طرف اسی 10 اکتوبر کو وزیراعلیٰ کی قیادت میں سیاسی مارچ چارسدہ سے مردان کی طرف بڑھنے کا پروگرام رکھتا ہے۔
اس صورت حال میں تیراہ کے متاثرین اگر یہ پوچھیں کہ ہماری واپسی اور ہمارے گھروں کی تعمیر نو بھی کیا اتنی ہی اہم سیاسی ترجیح ہے جتنی لانگ مارچ؟ تو اس سوال کو سیاسی مخالفت کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اصل مسئلہ یہ بھی ہے کہ تیراہ کا بحران صرف موجودہ نقل مکانی تک محدود نہیں۔ 6 اکتوبر کو ڈان نے رپورٹ کیا کہ تیراہ میں پہلے مختلف مراحل میں واپس آنے والے 20 ہزار سے زیادہ کوکی خیل خاندان بھی بنیادی سہولتوں کی کمی، تباہ شدہ گھروں کے سروے نہ ہونے اور زراعت و آبپاشی کے نظام کی تباہی کی شکایت کر رہے ہیں۔
یعنی واپسی صرف لوگوں کو گاڑیوں میں بٹھا کر پہاڑوں تک پہنچا دینے کا نام نہیں۔ واپسی کا مطلب گھر کی واپسی، روزگار کی واپسی، سکول کی واپسی، علاج کی سہولت کی واپسی، پانی اور بجلی کی واپسی، بازار اور سڑک کی واپسی اور سب سے بڑھ کر معمول کی زندگی کی واپسی ہے۔
یہاں سہیل آفریدی کی اپنی سیاسی دلیل بھی ان کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ قبائلی علاقوں کے لوگ فوجی کارروائیوں سے متاثر ہوئے، اگر وہ وفاقی پالیسی پر تنقید کرتے ہیں اور اگر وہ تیراہ کے لوگوں کی مشکلات کو سیاسی بحث کا حصہ بناتے ہیں تو پھر ان کی اپنی حکومت کے لیے یہ لازم ہوجاتا ہے کہ تیراہ کی بحالی کو محض بیانات نہیں بلکہ عملی حکومتی ترجیح بنائے۔
لانگ مارچ چند دن یا چند ہفتوں کی سیاسی سرگرمی ہے۔ تیراہ کے متاثرین کے لیے بے گھری روزانہ کی زندگی ہے۔
لانگ مارچ کے لیے ہزاروں لوگوں کو متحرک کیا جاسکتا ہے، قافلے کے راستے تبدیل کیے جاسکتے ہیں، اگلے مرحلے کا شیڈول ایک دن میں جاری کیا جاسکتا ہے۔ تو پھر تیراہ کے چند ہزار نہیں بلکہ دسیوں ہزار خاندانوں کی واپسی کے لیے واضح اور شفاف انتظامی منصوبہ کیوں نہیں دیا جا سکتا؟
اگر حکومت کے پاس مکمل تیاری ہے تو اسے سامنے لانا چاہیے۔ اگر تیاری نہیں ہے تو 10 اکتوبر کی تاریخ کے بارے میں عوام کو حقیقت بتانی چاہیے۔ تاریخ دینا اور پھر اسے پورا نہ کرنا متاثرین کے اعتماد کو مزید کم کرے گا۔
اور اگر حکومت واقعی یہ سمجھتی ہے کہ تیراہ کے لوگ کسی نئے فوجی آپریشن کے بجائے امن، تحفظ اور ترقی کے مستحق ہیں تو اس کا سب سے مضبوط ثبوت یہی ہوگا کہ ان لوگوں کو ان کے گھروں تک محفوظ، باعزت اور مکمل انتظامات کے ساتھ واپس پہنچایا جائے۔
24 رکنی کمیٹی اپنی جگہ اہم ہے۔ قبائلی جرگہ اپنی جگہ اہم ہے۔ سیکیورٹی اداروں کا کردار اپنی جگہ اہم ہے۔ لیکن ریاستی ذمہ داری کسی کمیٹی، جرگے یا مقامی مشران کو منتقل نہیں کی جا سکتی۔ واپسی، معاوضے، تعمیر نو، بنیادی سہولتوں اور انتظامی نظام کی ذمہ داری حکومت ہی کی ہے۔
اور یہاں سہیل آفریدی سے سوال کسی مخالف جماعت کے رہنما کی حیثیت سے نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے بنتا ہے: آپ کے لیے تیراہ کے بے گھر خاندان اور اسلام آباد کی طرف جانے والا لانگ مارچ، دونوں ایک ہی وقت میں سامنے ہوں تو آپ کی پہلی ترجیح کیا ہے؟
اس سوال کا جواب کسی جلسے میں نعرے سے نہیں بلکہ 10 اکتوبر کے عملی اقدامات سے ملے گا۔
اگر تیراہ کے خاندان واقعی واپس جاتے ہیں، اگر ان کے واجب الادا معاوضے ملتے ہیں، اگر تباہ شدہ گھروں کا سروے اور تعمیر نو شروع ہوتی ہے، اگر سڑک، پانی، بجلی، صحت اور تعلیم کی سہولتیں بحال ہوتی ہیں اور اگر حکومت ایک واضح اور قابلِ تصدیق ٹائم فریم کے ساتھ مکمل بحالی کا منصوبہ نافذ کرتی ہے تو پھر یہ ایک ایسا حکومتی اقدام ہوگا جسے سیاسی اختلاف سے بالاتر ہوکر دیکھا جائے گا۔
لیکن اگر 10 اکتوبر بھی ایک اعلان ثابت ہوا، متاثرین پھر کیمپوں، کرائے کے مکانوں اور باڑہ کی گلیوں میں بیٹھے رہے اور وزیراعلیٰ کی سیاسی ترجیح بدستور لانگ مارچ، اسلام آباد اور جماعتی مطالبات بنے رہے تو سوال صرف تیراہ کا نہیں رہے گا۔ پھر سوال یہ ہوگا کہ ایک صوبائی حکومت اپنے ہی شہریوں کے ایک بڑے انسانی بحران کو اپنی سیاسی ترجیحات میں کہاں رکھتی ہے۔
تیراہ کے لوگ کسی سیاسی جماعت کے جلسے کا ہجوم نہیں۔ وہ اپنے گھروں کے مالک ہیں۔ انہوں نے سیکیورٹی کارروائی کے لیے اپنے گھر چھوڑے، حکومتی وعدوں پر یقین کیا اور مہینوں بے یقینی برداشت کی۔ اب انہیں سیاسی تقریروں سے زیادہ ایک واضح تاریخ، مکمل انتظامات اور قابلِ عمل واپسی چاہیے۔
لانگ مارچ اپنی جگہ چلتا رہے گا، سیاسی مطالبات بھی اپنی جگہ رہیں گے، مگر تیراہ کے لوگ آخر کب اپنے گھروں کی طرف چلیں گے؟
10 اکتوبر اس سوال کا پہلا عملی جواب مانگ رہا ہے۔
واپس کریں