
سسٹم کے اندر رہ کر ہی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے،نہ کہ دھرنوں، سڑکوں پر جلسے جلوس یا لانگ مارچ کر کے،ایسا بھاشن آپ نے اکثر سنا ہو گا اور اس وقت بھی سنتے ہوں گے اور سنانے والے اس سسٹم کا حصہ ہوں گے جو بقول ایک بااثر، اہم اور ذمہ دار وفاقی وزیر کے ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے۔
یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ کہ دنیا آگے جا رہی ہے اور ہم پیچھے کی جانب تیزی سے گامزن ہیں۔بٹوارے کے تقریباً76 سالوں بعد ملک عزیز کی آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے،ملک غیر ملکی قرضوں کا محتاج ہے،بلکہ قرضوں کا سود ادا کرنے کے لیئے بھی قرض لیا جاتا ہے، جبکہ قرض اور اس کا سود ادا کرنے کے لیئے عوام پر مختلف ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا حکومتی پالیسی کا باقاعدہ حصہ بن چکا ہے اورآئے روز بدلتی حکومتی پالسیوں اور عدم انصاف کی فراہمی کے باعث حکومت پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر اٹھ چکا ہے۔
عالمی بینکاری میعار کو برقرار رکھنے کے پیش نظر اس وقت قومی خزانے میں دوست ممالک کے ادھار ڈالر پڑے ہیں کہ کہیں ملک ہی بینک کرپٹ نہ ہو جائے،کوئی اس ملک میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں کہ خراب ہوتے امن و امان اور عدم انصاف کے باعث حالت موافق نہیں ہیں اور جو بیچارے یہاں کاروبار کر رہے ہیں کوئی ان سے پوچھے تو وہ اپنے دونوں کانوں کو ہاتھ لگا کر استغفار پڑھتے نظر آئیں گے،پڑھے لکھے تو کیا ان پڑھ نوجوان بھی ملک سے باہر بھاگنے کی جدوجہد کر رہے ہیں اور جس کا ویزہ لگتا ہے وہ شکرانے کے نفل ادا کر کے یہاں سے نکلنے والی بات کرتا ہے گویا پہلے وہ کسی قید خانے میں تھا۔
پسند اور ناپسند کی بنیاد ہر سیاسی اور غیر سیاسی تجربے اس قدر کیئے گئے ہیں کہ ملک کسی لیبارٹری کی تصویر لگتا ہے۔ بجائے اس کے کہ جو سیاسی نظام بانی پاکستان اس ملک کو دے گئے تھے، اسے مضبوط کیا جاتا جیسا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ملک مضبوط ہوتے ہیں لیکن اب خیبر پختون خواہ،بلوچستان اور اب آذاد کشمیر سے علیحدگی کی آوازیں اٹھ رہی ہیں اور یہ تینوں خطے حساس ترین بن چکے ہیں، جو تشویش ناک ہے،لیکن ستم ظریفی کہ ریاست کی جانب سے بات یا مذاکرات کرنے کے بجائے ڈنڈا چلانا ہی مسائل کا حل سمجھا رہا ہے۔
دنیا بھر میں جہاں جہاں بھی عوامی انقلاب کے بعد ممالک مضبوط اور خوشحال ہوئے ہیں وہاں وہاں اس وقت کے سسٹم کے خلاف ہی جدوجہد کی گئی۔یہاں اب اگرناکام ہوئے سسٹم کو بہتر کرنے کی غرض سے کوئی، اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے مذکورہ ملکی صورت حال پر احتجاج کرنے باہر نکلتا ہے یا بات کرتا ہے تو اسے ملک دشمنی اور قومی سلامتی کے منافی تصور کیا جاتا ہے۔جب سسٹم کو ہی ناکام قرار دے دیا ہے تو پھر ناکام سسٹم کے اندر رہ کر بات یا احتجاج کیسے کیا جا سکتا ہے یا کون اسے سن سکتا ہے؟ کوئی یہ والی سائنس ناچیز کو سمجھا دے؟
دل کے الجھے ہوئے رازوں کو سمجھا دے، راتوں کی خاموشی میں جو درد چھپا ہے
اسے اپنے الفاظ سے ہنسا دے یا رلا دے، میں تو تھک چکا ہوں اپنے ہی خیالات سے
کوئی آ کے میری اس گتھیا کو سلجھا دے
احتشام الحق شامی
واپس کریں