دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستانی معیشت کا المیہ اور جانکنی میں مبتلا اقتصادی نظام کی سانسوں کی بحالی
No image خصوصی تجزیہ خالد خان (پشاور)
کسی بھی ملک کی معیشت اس وقت آگے بڑھتی ہے جب اس کے لوگوں کی بچتیں کاروبار، صنعت، زراعت اور نئی سرمایہ کاری کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ بینک اس راستے کا سب سے اہم پل ہوتے ہیں۔ ایک طرف کروڑوں لوگوں اور اداروں کی جمع پونجی ہوتی ہے، دوسری طرف وہ کاروباری آدمی کھڑا ہوتا ہے جس کے پاس ہنر، تجربہ، زمین، مشین، منصوبہ یا کاروباری صلاحیت تو ہوتی ہے مگر سرمایہ نہیں ہوتا۔ بینکاری نظام کا اصل معاشی کردار یہی ہے کہ وہ بچت کو پیداواری سرمایہ میں تبدیل کرے، کاروبار کو چلنے کے لیے قرض دے، صنعت کو پھیلنے کے لیے سرمایہ فراہم کرے اور نئی سرمایہ کاری کے لیے مالی راستہ کھولے۔
پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے ہاں بینک نہیں ہیں۔ بینک بھی ہیں، شاخیں بھی ہیں، کھاتے بھی ہیں اور عوام کی بچت بھی۔ مسئلہ شاید اس سے زیادہ بنیادی ہے کہ ہمارے مالیاتی نظام میں پیسہ آخر جا کہاں رہا ہے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ جس ملک میں صنعت کو سرمایہ درکار ہو، چھوٹا کاروباری آدمی قرض کے لیے دروازے کھٹکھٹا رہا ہو، کسان اپنی پیداوار بڑھانے کے لیے مالی مدد کا منتظر ہو، نوجوان کاروبار شروع کرنے کے لیے سرمایہ نہ ہونے کی شکایت کر رہا ہو اور دوسری طرف حکومت مسلسل قرض لے رہی ہو، وہاں بینکوں کے پاس ایک نسبتاً محفوظ اور منافع بخش راستہ موجود ہو تو مالیاتی نظام کی ترجیحات پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
اس وقت پاکستان کے بینکاری نظام کے اثاثوں میں حکومتی تمسکات کا حصہ غیر معمولی طور پر بڑا ہے۔ سٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ کے مطابق جون 2025 کے اختتام پر حکومتی تمسکات میں سرمایہ کاری مجموعی مالیاتی اثاثوں کے تقریباً 62.9 فیصد کے برابر تھی، جبکہ حکومت کے شعبے سے بینکوں اور متعلقہ مالیاتی اداروں کی مجموعی وابستگی، یعنی حکومتی تمسکات اور سرکاری شعبے کو دیے گئے قرض کو ملا کر، تقریباً 65 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔ خود سٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ بینکاری شعبے پر حکومت کے انحصار کو کم کرنا ضروری ہے تاکہ نجی شعبے کے لیے قرض کی گنجائش پیدا ہو سکے۔
یہ اعداد و شمار کسی بینک کے خلاف فردِ جرم نہیں، مگر ایک بڑے معاشی سوال کی طرف ضرور اشارہ کرتے ہیں۔
حکومت کو ہر سال اپنے اخراجات پورے کرنے، پرانے قرض اتارنے اور نئے مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے قرض درکار ہوتا ہے۔ دوسری طرف بینکوں کے پاس عوام کی جمع شدہ رقم ہوتی ہے جسے انہیں کہیں نہ کہیں لگانا ہوتا ہے۔ حکومت ایک نسبتاً بڑا، باقاعدہ اور کم خطرے والا قرض گیر ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک صنعت کار، چھوٹا کاروباری شخص یا نیا سرمایہ کار بینک کے لیے زیادہ پیچیدہ معاملہ ہے۔ اس کے کاروبار کا خطرہ ہے، مارکیٹ کا خطرہ ہے، بجلی اور گیس کے نرخ کا مسئلہ ہے، ٹیکس کا مسئلہ ہے، ضمانت کا سوال ہے، قانونی تنازع کا خدشہ ہے اور کبھی کبھی خود کاروبار کی بقا بھی یقینی نہیں ہوتی۔ چنانچہ اگر ایک طرف حکومت موجود ہو جو مسلسل قرض لینے پر مجبور ہے اور دوسری طرف نجی کاروبار ہو جسے قرض دینے کے لیے بینک کو زیادہ محنت اور زیادہ خطرہ مول لینا پڑے تو مالیاتی ادارے کس طرف زیادہ جھکیں گے، اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے ماہر معاشیات ہونا ضروری نہیں۔
یہیں سے پاکستان کی معیشت کا ایک عجیب تضاد سامنے آتا ہے۔ بینکوں کا کام بظاہر معیشت میں پیسہ گردش میں لانا ہے، مگر اگر اس پیسے کا بڑا حصہ حکومت کے قرض میں جذب ہوتا رہے تو وہی رقم جو کسی نئی فیکٹری کی مشین خرید سکتی تھی، کسی چھوٹے کارخانے میں نئی ملازمت پیدا کر سکتی تھی، کسی کسان کی پیداوار بڑھا سکتی تھی یا کسی نوجوان کو اپنا کاروبار شروع کرنے کا موقع دے سکتی تھی، بالآخر حکومتی قرض کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پاکستانی بینک نجی شعبے کو قرض دیتے ہی نہیں۔ ایسا دعویٰ سرکاری اعداد و شمار سے ثابت نہیں ہوتا۔ سٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2025 میں نجی شعبے کو بینکوں کے قرض میں 14.1 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی بینکاری قرض میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ نجی شعبے کی مالی ضروریات، خصوصاً صنعت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور زرعی شعبے کی ضروریات کے مقابلے میں مالیاتی نظام کی مجموعی ساخت ابھی بھی ایسی ہے جس میں حکومت کا قرض ایک بہت بڑا حصہ لے جاتا ہے۔
یہ فرق معمولی نہیں۔ کیونکہ معیشت میں اصل دولت قرض لینے اور دینے کے عمل سے نہیں، اس قرض کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پیداوار سے بنتی ہے۔
ایک کارخانہ قرض لے کر مشین لگاتا ہے، مشین سے پیداوار ہوتی ہے، پیداوار سے روزگار پیدا ہوتا ہے، خام مال خریدا جاتا ہے، ٹرانسپورٹ چلتی ہے، بجلی استعمال ہوتی ہے، حکومت کو ٹیکس ملتا ہے، تیار مال مقامی مارکیٹ میں آتا ہے یا بیرون ملک جاتا ہے اور برآمدات سے ملک کو زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ یہی قرض اگر کسی ایسے نظام میں چلا جائے جہاں اس کا بڑا حصہ حکومتی اخراجات پورے کرنے میں استعمال ہو، تو اس سے حکومت کا مالیاتی مسئلہ وقتی طور پر حل ہو سکتا ہے، مگر اس سے لازماً نئی معاشی پیداوار پیدا نہیں ہوتی۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کو اپنے بینکاری نظام کو محض بینکوں کے منافع کی نظر سے نہیں بلکہ قومی معیشت کے آئینے میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
سٹیٹ بینک کے مطابق 2025 میں بینکاری شعبے کا بعد از ٹیکس منافع 716 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو ایک سال پہلے 644 ارب روپے تھا۔ بینکوں کی مضبوط مالی کارکردگی بذاتِ خود کوئی بری خبر نہیں۔ مضبوط بینک ضروری ہیں، کیونکہ کمزور بینکاری نظام پوری معیشت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ سوال منافع کمانے کا نہیں، سوال یہ ہے کہ یہ منافع جس مالیاتی ماحول میں پیدا ہو رہا ہے، وہ ماحول پاکستان کی پیداواری معیشت کو کتنا مضبوط کر رہا ہے۔
اگر بینک منافع کما رہے ہوں مگر صنعت سرمایہ کی کمی کا شکار ہو، چھوٹا کاروبار قرض کے حصول میں مشکل محسوس کرے، نئی سرمایہ کاری سست ہو، روزگار کے مواقع محدود ہوں اور حکومت مسلسل اندرونی قرض بڑھاتی رہے تو پھر صرف بینکوں کے منافع کو معاشی کامیابی کا پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
پاکستان کی اصل ضرورت پیسے کی محض گردش نہیں، پیسے کی پیداواری گردش ہے۔
یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ایک رقم آج ایک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل ہو کر بھی معیشت میں گردش کر سکتی ہے، لیکن اس سے قومی دولت میں ضروری نہیں کہ اضافہ ہو۔ قومی دولت اس وقت بڑھتی ہے جب سرمایہ نئی پیداوار، نئی خدمات، نئی ٹیکنالوجی، نئی صنعت، بہتر زراعت، زیادہ برآمدات اور زیادہ روزگار پیدا کرے۔
پاکستان میں اسی بنیادی زنجیر کو دوبارہ جوڑنے کی ضرورت ہے۔
صنعت کو سستی اور قابلِ اعتماد توانائی چاہیے۔ کاروبار کو ایسا ٹیکس نظام چاہیے جس میں ٹیکس دینا سزا محسوس نہ ہو۔ سرمایہ کار کو پالیسی کا تسلسل چاہیے۔ کاروباری شخص کو اجازت ناموں اور سرکاری دفتروں کے غیر ضروری چکروں سے نجات چاہیے۔ عدالت اور معاہدے پر اعتماد چاہیے۔ بدعنوانی کے لیے گنجائش کم کرنا ہوگی۔ اور سب سے بڑھ کر سرمایہ کار کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ جو شخص کاروبار کرے گا، وہ قانون کے اندر رہ کر اپنے کاروبار کو بڑھا سکے گا۔
ان سب کے بعد بینک کا کردار شروع نہیں بلکہ مزید اہم ہو جاتا ہے۔
اگر ماحول سازگار ہو مگر سرمایہ دستیاب نہ ہو تو صنعت نہیں پھیلتی۔ اگر صنعت موجود ہو مگر توسیع کے لیے قرض نہ ملے تو وہ وہیں رک جاتی ہے۔ اگر نوجوان کے پاس کاروباری منصوبہ ہو مگر ابتدائی سرمایہ نہ ہو تو اس کا منصوبہ کاغذ سے آگے نہیں بڑھتا۔ اگر کسان کے پاس جدید زرعی طریقہ اختیار کرنے کی صلاحیت ہو مگر مالی سہولت نہ ہو تو پیداوار وہی رہتی ہے۔ یوں معیشت کے ہر پیداواری دروازے کے سامنے آخرکار سرمایہ کھڑا نظر آتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بینکاری اصلاحات کو صرف بینکوں کی تعداد، شاخوں کی تعداد یا ڈیجیٹل بینکاری کے پھیلاؤ سے نہیں ناپنا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ بینکاری نظام ملک کی کتنی بچت کو پیداواری سرمایہ کاری میں تبدیل کر رہا ہے۔
حکومت بھی اس سوال سے الگ نہیں ہو سکتی۔
جب حکومت کا مالیاتی خسارہ بڑا ہوگا تو حکومت قرض لے گی۔ جب حکومت مسلسل قرض لے گی تو بینکوں کے لیے حکومت ایک بڑا قرض گیر بنے گی۔ جب حکومت کا قرض بینکوں کے اثاثوں میں بہت بڑا حصہ لے گا تو نجی شعبے کے لیے مالی گنجائش اور ترغیبات کا سوال پیدا ہوگا۔ یوں ایک ایسا چکر بن سکتا ہے جس میں کمزور کاروباری ماحول کم سرمایہ کاری پیدا کرتا ہے، کم سرمایہ کاری کم پیداوار اور کم روزگار پیدا کرتی ہے، کمزور پیداوار ٹیکس کی بنیاد کو محدود رکھتی ہے، کمزور ٹیکس بنیاد حکومت کو مزید قرض لینے پر مجبور کرتی ہے اور حکومت کا بڑھتا ہوا قرض دوبارہ مالیاتی وسائل کا بڑا حصہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔
یہ صرف بینکاری کا مسئلہ نہیں۔ یہ پورے معاشی نظام کا مسئلہ ہے۔
پاکستان اگر واقعی صنعت کو معیشت کا انجن بنانا چاہتا ہے تو اسے یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا کہ اس انجن کو ایندھن کہاں سے ملے گا۔ صنعت پالیسی سے بنتی ہے، مگر چلتی سرمایہ سے ہے۔ سرمایہ صرف نعرے سے نہیں آتا؛ اسے ایک ایسے مالیاتی نظام کی ضرورت ہوتی ہے جو خطرہ لینے والے پیداواری کاروبار کو مناسب قیمت پر سرمایہ فراہم کرے۔
یہاں ایک اور تلخ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان کی معیشت کو صرف بڑے کارخانوں کی نہیں، لاکھوں چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی ضرورت ہے۔ یہی کاروبار روزگار پیدا کرتے ہیں، مقامی منڈی کو متحرک رکھتے ہیں اور بہت سے بڑے کاروباروں کے لیے سپلائی چین بناتے ہیں۔ مگر چھوٹے کاروبار کے پاس عموماً وہ ضمانتیں نہیں ہوتیں جو روایتی بینکاری قرض کے لیے درکار ہوتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس شخص کو پانچ کروڑ کی مشینری کے بجائے پچاس لاکھ روپے کے قرض سے اپنا کاروبار بڑھانا تھا، وہ بھی اکثر رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہ جاتا ہے۔
حکومت نے اب چھوٹے اور درمیانے کاروبار اور زرعی مالیات میں اضافے کے اہداف مقرر کیے ہیں۔ اگست 2026 تک ایس ایم ای فنانس تقریباً 1.067 کھرب روپے اور زرعی فنانس تقریباً 1.268 کھرب روپے تک پہنچنے کی اطلاع دی گئی ہے، جبکہ آئندہ برسوں کے لیے ان دونوں شعبوں میں مزید بڑے اہداف رکھے گئے ہیں۔ یہ سمت درست ہے، مگر اصل امتحان اعدادوشمار بڑھانے کا نہیں بلکہ اس رقم کو واقعی نئی پیداوار، روزگار اور کاروباری توسیع میں تبدیل کرنے کا ہے۔
پاکستان کو ایسے بینک نہیں چاہییں جو صرف حکومت کے بہترین قرض دار ہونے پر خوش ہوں، اور نہ ایسے بینک جو کاروبار کو محض خطرہ سمجھیں۔ ہمیں ایسا بینکاری نظام چاہیے جو خطرے کو سمجھے، اس کی قیمت مقرر کرے، اچھے کاروبار اور برے کاروبار میں فرق کرے اور قابلِ عمل منصوبے کو صرف اس لیے سرمایہ سے محروم نہ کرے کہ اس کے پاس روایتی نوعیت کی بھاری ضمانت موجود نہیں۔
لیکن اس کے لیے بینکوں سے زیادہ حکومت کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ جب حکومت خود مالیاتی منڈی سے مسلسل بڑا قرض لے رہی ہو تو بینکوں کو یہ شکایت نہیں کی جا سکتی کہ وہ محفوظ قرض کو ترجیح کیوں دیتے ہیں۔ اگر ریاست کاروبار کے لیے خطرہ بڑھائے گی اور اپنے لیے قرض کو نسبتاً محفوظ رکھے گی تو سرمایہ بھی فطری طور پر اسی طرف جائے گا جہاں خطرہ کم ہو۔
اس لیے پاکستان کی معاشی اصلاح کا ایک اہم سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ بینک کتنا منافع کما رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ بینکوں میں جمع قوم کی بچت ملک کی کتنی نئی دولت پیدا کر رہی ہے۔
ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایک روپے کی بچت جب بینک میں جمع ہوتی ہے تو اس کے بعد اس کا سفر کیا ہے۔ کیا وہ کسی صنعت تک پہنچتی ہے؟ کیا وہ کسی کارخانے میں نئی مشین لگاتی ہے؟ کیا وہ کسی نوجوان کو کاروبار کا موقع دیتی ہے؟ کیا وہ کسی کسان کی پیداوار بڑھاتی ہے؟ کیا وہ کسی برآمد کنندہ کی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے؟ یا وہ دوبارہ حکومت کے قرض میں چلی جاتی ہے؟
اس سوال کا جواب پاکستان کی معاشی سمت کے بارے میں بہت کچھ بتا سکتا ہے۔
ملک کو بینکوں کے خلاف نہیں، معاشی جمود کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔ حکومت کو قرض لینا بند نہیں بلکہ اس انحصار کو کم کرنا ہے جو پیداواری معیشت کی قیمت پر بڑھتا جائے۔ بینکوں کو کاروبار کو قرض دینا بند نہیں بلکہ زیادہ مؤثر، شفاف اور ذمہ دار انداز میں بڑھانا ہے۔ صنعت کو صرف تحفظ نہیں بلکہ مسابقت چاہیے۔ کاروبار کو صرف قرض نہیں بلکہ قابلِ پیش گوئی ماحول چاہیے۔ اور ریاست کو صرف محصول نہیں بلکہ ایسی معیشت چاہیے جو خود اتنی بڑی ہو جائے کہ محصول خود بخود بڑھتا چلا جائے۔
معیشت کا اصل کمال یہ نہیں کہ بینکوں کے کھاتوں میں اربوں روپے کا منافع دکھائی دے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انہی کھاتوں سے نکلنے والا سرمایہ کارخانوں کی چمنیوں سے دھواں، کھیتوں میں زیادہ پیداوار، بازاروں میں کاروبار، نوجوانوں کے ہاتھ میں روزگار اور بیرون ملک پاکستان کے نام سے برآمدی مال کی صورت میں نظر آئے۔
ورنہ ایک ایسی معیشت جس میں پیسہ موجود ہو مگر پیداوار نہ بڑھے، بینک موجود ہوں مگر کاروبار سرمایہ کے لیے ترسے، حکومت قرض لیتی رہے اور صنعت سرمایہ کی منتظر رہے، اسے صرف اس لیے مضبوط معیشت نہیں کہا جا سکتا کہ اس کے بینک منافع میں ہیں۔
قوم کی بچت کا آخری مقصد حکومت کو قرض دینا نہیں، قوم کے لیے دولت پیدا کرنا ہونا چاہیے۔
واپس کریں