
پاکستان میں سرکاری ترقیاتی منصوبوں کو سیاسی شخصیات یا ان کے خاندانوں کے افراد کے ناموں سے منسوب کرنے کی بحث نئی نہیں۔ تاہم ناقدین کے مطابق حالیہ عرصے میں اس رجحان میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ اس دوران عوامی وسائل سے سیاسی تشہیر روکنے کے لیے ایک بار پھر واضح قانون سازی پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
طویل عرصے تک پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور بعد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شامل ہونے والے معروف قانون دان بابر اعوان بھی اس رجحان کے ناقد ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "آرٹ، سائنس، ادب، تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے بہت سے لوگ، جو ملک کے اصل ہیرو ہیں، گمنامی میں دنیا سے چلے جاتے ہیں، جبکہ بااثر سیاسی خاندانوں کے نام بار بار سرکاری منصوبوں سے منسوب کیے جاتے ہیں۔”
بابر اعوان کے مطابق یہ رجحان صرف موجودہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) تک محدود نہیں بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت دوسری جماعتوں میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔ انہوں نے اس رجحان کی حوصلہ شکنی پر زور دیتے ہوئے کہا، "قائد اعظم نے اپنی زندگی میں کبھی کسی ترقیاتی منصوبے کو اپنے نام سے منسوب نہیں کیا۔”
ان کے مطابق عوام کے ٹیکسوں سے جمع کیا گیا قومی خزانہ کسی فرد یا خاندان کی ذاتی ملکیت نہیں، اس لیے سرکاری منصوبوں کو رشتہ داروں کے نام سے منسوب کرکے خاندانی تشہیر کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
سابق وزیر قانون بابر اعوان نے دعویٰ کیا کہ بعض صورتوں میں منصوبوں کے نام رکھنے کے لیے مناسب طریقۂ کار بھی اختیار نہیں کیا جاتا۔
انگریزی اخبار ڈان کے کالم نگار زاہد حسین نے بھی سرکاری وسائل سے سیاسی شخصیات کی تشہیر پراٹھائے جانے والے سوالات کو جائز قرار دیا۔ ان کے بقول، "ریاستی وسائل سے ہونے والی ایسی تشہیر محض شخصیت پرستی تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے واضح سیاسی مقاصد اور فوائد بھی ہو سکتے ہیں۔”
زاہد حسین کے مطابق سرکاری اشتہارات میں حکمرانوں کی تصاویر نمایاں کرنے اور عوامی وسائل سے بننے والے منصوبوں کو برسرِ اقتدار شخصیات کے نام سے منسوب کرنے کا عمل کئی ممالک میں قانونی اور اخلاقی بحث کا موضوع رہا ہے۔
وہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ عدالت نے سرکاری عہدے کو ذاتی، سیاسی یا مالی فائدے کے لیے استعمال کرنے کے خلاف اصول بیان کیے تھے۔ زاہد حسین کے مطابق عدالت نے اس تصور کو بھی مسترد کیا تھا کہ پاکستان کو کسی بادشاہت یا ذاتی جاگیر کی طرح چلایا جا سکتا ہے۔
بابر اعوان کے مطابق نجی وسائل یا عطیات سے قائم اداروں کے نام رکھنے کے عمل کو سرکاری وسائل سے بننے والے منصوبوں سے الگ تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ”لالہ لجپت رائے نے اپنی والدہ گلاب دیوی کی یاد میں لاہور میں ہسپتال قائم کیا تھا، جبکہ سر گنگا رام نے اپنے وسائل سے گنگا رام ہسپتال کی بنیاد رکھی۔”
بابر اعوان کے مطابق بنیادی فرق یہ ہے کہ اس نوعیت کے فلاحی اداروں کے قیام کے ساتھ ذاتی عطیات اور خدمات وابستہ ہوتی ہیں، جبکہ موجودہ بحث عوامی وسائل سے بننے والے منصوبوں کو سیاسی شخصیات یا ان کے خاندان کے نام سے منسوب کرنے سے متعلق ہے۔
دستیاب سرکاری معلومات، میڈیا رپورٹس اور مختلف صوبوں میں موجود اداروں کے ابتدائی جائزوں میں پنجاب اور سندھ میں سیاسی شخصیات اور خاندانوں کے نام سے منسوب متعدد سرکاری منصوبوں اور اداروں کی مثالیں سامنے آتی ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ایسی مثالیں نسبتاً کم نظر آئیں۔ پنجاب میں سابق وزیر اعظم نواز شریف ان کی اہلیہ کلثوم نواز، صاحبزادی اور موجودہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کے نام سے متعدد سرکاری منصوبے سامنے آئے ہیں۔
ان میں نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ، نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، نواز شریف آئی ٹی سٹی، کلثوم نواز کینسر ہسپتال اور مریم نواز ہیلتھ کلینکس شامل ہیں۔
انگریزی روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں کمی کے باوجود شریف خاندان کے نام سے منسوب کئی بڑے منصوبے رواں سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔ ان میں لاہور کا نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ اور کینسر انسٹی ٹیوٹ، ڈیرہ غازی خان کا کلثوم نواز کینسر ہسپتال اور قصور میں مجوزہ نواز شریف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی شامل ہیں۔
سندھ میں بھی بھٹو خاندان کے افراد، جن میں بے نظیر بھٹو اور ان کے بچے شامل ہیں، کے نام سے منسوب کئی سرکاری منصوبے موجود ہیں۔ خیبر پختونخوا میں عبدالولی خان یونیورسٹی بھی ایک مثال ہے۔
سیاسی شناخت کو دوام دینے کی کوشش؟
ماہرِ نفسیات پروفیسر ڈاکٹر رافعہ رفیق کے مطابق بعض سیاست دانوں کی جانب سے اپنے یا خاندان کے افراد کے نام سرکاری منصوبوں سے منسوب کرنا سیاسی شناخت مضبوط کرنے اور عوامی سطح پر اپنی موجودگی برقرار رکھنے کی خواہش سے جڑا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے، ”جب کسی ہسپتال سڑک، تعلیمی ادارے یا دوسری عوامی سہولت کے ساتھ کسی سیاسی شخصیت کا نام نمایاں ہو تو عوامی وسائل سے بننے والا منصوبہ اس شخصیت کی مسلسل تشہیر کا ذریعہ بن سکتا ہے اور اس کا نام عوامی یادداشت میں برقرار رہتا ہے۔”
سینئر تجزیہ کار سلمان عابد کے مطابق پاکستان کے نظامِ حکمرانی میں کسی حد تک "شاہانہ طرزِ عمل” پایا جاتا ہے، جہاں حکمران اشرافیہ ریاستی وسائل کے استعمال اور سرکاری منصوبوں کے نام رکھنے کو اپنا اختیار سمجھتی ہے۔
ان کے مطابق یہ رجحان مختلف سیاسی جماعتوں میں موجود ہے، تاہم پنجاب میں مسلم لیگ نون کے ادوارِ حکومت میں نواز شریف، کلثوم نواز اور مریم نواز کے نام سے منصوبوں اور سرکاری تشہیر کی مثالیں زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔
ان کے مطابق حکومت کی تبدیلی کے بعد کسی منصوبے یا ادارے کا نام تبدیل کیا جائے تو سائن بورڈز، سرکاری دستاویزات، تشہیری مواد اور انتظامی ریکارڈ میں تبدیلی کرنا پڑ سکتی ہے، جس سے اضافی اخراجات اور انتظامی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
حل کیا ہو سکتا ہے؟
بابر اعوان کے مطابق سرکاری منصوبوں کے نام رکھنے کے لیے واضح اور یکساں پالیسی ہونی چاہیے، جس میں برسرِ اقتدار شخصیات اور ان کے قریبی رشتہ داروں کے بجائے مقامی، تاریخی یا قومی شخصیات کے ناموں کو ترجیح دی جائے۔ ان کے مطابق نام رکھنے کے لیے واضح معیار، عوامی مشاورت اور متعلقہ اداروں کی منظوری کا طریقۂ کار بھی مقرر کیا جانا چاہیے۔
ڈی ڈبلیو نے اس معاملے پر پنجاب حکومت کا مؤقف جاننے کے لیے صوبائی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی، تاہم رپورٹ کی اشاعت تک ان کی جانب سے کوئی مؤقف موصول نہیں ہوا۔
بشکریہ: ڈی ڈبلیو
واپس کریں