
سیاست بھی عجیب چیز ہے، کبھی کبھی آدمی ایک سیاسی فیصلہ کرتا ہے اور حالات اس فیصلے کو ایسا مزاحیہ رنگ دے دیتے ہیں کہ پھر وضاحتیں بھی لطیفے کا حصہ بن جاتی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا اعلان کیا، کارکنوں کو ساتھ چلنے کے لیے تیار کیا اور خود بھی اس سفر کی قیادت سنبھالی، لیکن گنڈی چوک سے متنی تک پہنچتے پہنچتے اس لانگ مارچ کی کہانی نے ایک ایسا موڑ لے لیا جہاں کارکن سڑک پر رہ گئے اور قیادت پشاور کی طرف روانہ ہوگئی۔ یوں جو سفر اسلام آباد کی طرف جانے کے لیے شروع ہوا تھا، وہ متنی پہنچ کر ایک ایسے سیاسی منظر میں تبدیل ہوگیا جس میں سب سے بڑا سوال یہ نہیں رہا کہ اگلی منزل کون سی ہے، بلکہ یہ بن گیا کہ آخر وزیراعلیٰ صاحب ہیں کہاں؟
لانگ مارچ کی سیاست میں اصل کشش یہی ہوتی ہے کہ قائد اور کارکن ایک ہی سڑک پر، ایک ہی موسم میں اور ایک ہی مشکل کے اندر سفر کرتے ہیں۔ قائد آگے چلتا ہے تو کارکن پیچھے آتے ہیں، راستہ کٹھن ہو تو قیادت بھی اسی کٹھنائی کا حصہ بنتی ہے اور اگر رات کھلے آسمان تلے گزارنی پڑے تو کم از کم یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ جس شخص کے کہنے پر ہم یہاں تک آئے ہیں وہ بھی ہمارے ساتھ موجود ہے۔ متنی میں منظر کچھ مختلف دکھائی دیا۔ کارکن گنڈی چوک سے چلتے ہوئے متنی پہنچے تو موسم نے بھی شاید اس سیاسی مہم میں اپنا حصہ ڈالنے کا فیصلہ کرلیا۔ بارش اور ژالہ باری نے ماحول بدل دیا، سردی اور تھکن نے کارکنوں کو گھیر لیا، بھوک اور پیاس نے الگ ستایا، مگر اس مشکل وقت میں قیادت کی موجودگی کے بجائے اس کی غیر موجودگی زیادہ نمایاں ہوگئی۔
یہاں سے ’’مذاق مارچ‘‘ کی اصطلاح خود بخود جنم لیتی ہے، کیونکہ جس مارچ میں کارکن مشکل برداشت کررہے ہوں اور قیادت نسبتاً محفوظ جگہ کی طرف واپس چلی جائے، وہاں سیاسی سنجیدگی کے ساتھ مزاح بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ متنی میں موجود کارکن شاید یہ توقع کررہے تھے کہ وزیراعلیٰ ان کے درمیان ہوں گے، ان کی مشکلات دیکھیں گے، موسم کی شدت کا اندازہ کریں گے اور قیام و طعام کے انتظامات کی نگرانی کریں گے۔ لیکن جب خبر پہنچی کہ سہیل آفریدی پشاور پہنچ چکے ہیں تو کارکنوں کے لیے اصل مشکل بارش اور ژالہ باری سے زیادہ یہ سوال بن گیا کہ جس قیادت کے پیچھے وہ نکلے تھے، وہ اس وقت ان کے ساتھ کیوں نہیں ہے۔
یہ منظر کسی مزاحیہ فلم کا سین ہوتا تو شاید ہدایت کار بھی اس سے زیادہ اچھا منظر نہ بنا پاتا۔ ایک طرف متنی میں بارش سے بھیگتے ہوئے کارکن ہیں، دوسری طرف پشاور میں وزیراعلیٰ ہاؤس ہے، اور درمیان میں وہی طویل سیاسی راستہ ہے جسے ابھی لانگ مارچ کا راستہ کہا جارہا ہے۔ کارکن شاید ایک دوسرے سے پوچھتے رہے ہوں گے کہ سہیل آفریدی کہاں گئے، کسی نے کہا ہوگا آگے ہوں گے، کسی نے خیال کیا ہوگا کہ انتظامات دیکھنے گئے ہیں، لیکن جب معلوم ہوا کہ وہ پشاور روانہ ہوچکے ہیں تو پھر شاید کسی نے وہی پرانا گیت یاد کیا ہو جس میں بچھڑا ہوا محبوب اجنبی شہر میں تلاش کیا جاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں محبوب کوئی عاشق نہیں بلکہ وزیراعلیٰ ہے، اور اسے تلاش کرنے والے بھی عام عاشق نہیں بلکہ وہ کارکن ہیں جو اس کی سیاسی پکار پر بارش میں کھڑے ہیں۔
سہیل آفریدی کی یہ روانگی اس لیے بھی دلچسپ بن گئی کہ لانگ مارچ ابھی کسی دور دراز منزل تک نہیں پہنچا تھا۔ گنڈی چوک سے متنی تک کا سفر ہی قیادت اور کارکنوں کے درمیان فاصلے کو نمایاں کرنے کے لیے کافی ثابت ہوگیا۔ اگر یہ سفر واقعی اسلام آباد یا کراچی تک جانا ہے تو پھر آدمی سوچتا ہے کہ آگے کیا ہوگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کارکن پشاور سے اسلام آباد کی طرف نکلیں اور وزیراعلیٰ راستے میں کسی دوسرے شہر کا سیاسی دورہ شروع کردیں۔ یوں کارکن منزل تلاش کرتے رہیں اور قیادت اپنی منزل تبدیل کرتی رہے۔
اس سارے معاملے میں سہیل آفریدی کا اسلام آباد کے بجائے کراچی جانے کا تصور بھی دلچسپ ہے۔ ان کی طرف سے یہ بات سامنے آئی کہ اسلام آباد ان لوگوں کا بنایا ہوا دارالخلافہ ہے جبکہ کراچی قائداعظم کا بنایا ہوا دارالخلافہ ہے۔ تاریخ کے طالب علم اس جملے کی اپنی تشریح کرسکتے ہیں، لیکن سیاسی طنز کے لیے اتنا کافی ہے کہ اسلام آباد سے کراچی تک کا فاصلہ بھی اس مارچ کے ساتھ چل پڑا۔ ایک طرف کارکن متنی کی بارش میں کھڑے ہیں، دوسری طرف دارالخلافے کی بحث کراچی تک پہنچ گئی ہے۔ آدمی سوچتا ہے کہ اگر یہی رفتار رہی تو مارچ کا اگلا پڑاؤ شاید کسی جغرافیہ کی کتاب میں نکلے اور سیاسی کارکنوں کو منزل کے بجائے پاکستان کے نقشے کی سیر نصیب ہوجائے۔
پشاور سے خیبر، پھر باجوڑ، دیر، چترال، شانگلہ، بشام، تھاکوٹ، بٹگرام، ہزارہ، پنجاب، سکھر اور کراچی تک کا تصور سامنے آئے تو یہ لانگ مارچ کم اور ملک گیر مطالعاتی دورہ زیادہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ سیاست میں جغرافیہ کبھی کبھی بہت اہم ہوجاتا ہے، مگر یہاں جغرافیہ اتنا پھیل گیا ہے کہ اصل سوال ہی چھوٹا پڑنے لگتا ہے۔ کارکن سوچتے ہوں گے کہ ہم اسلام آباد جارہے ہیں یا پاکستان کا مکمل مطالعاتی نقشہ مکمل کرنے نکلے ہیں۔ اگر راستے میں ہر شہر ایک نئی منزل بن جائے تو پھر لانگ مارچ اور سیاحتی سفر میں فرق کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔
لیکن اس سارے مزاح کے پیچھے ایک سنجیدہ انسانی پہلو بھی موجود ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی کارکن کسی بھی جماعت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ وہ جلسوں میں کرسیاں بھرتے ہیں، سڑکوں پر جلوس بناتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں، گرفتاریوں کا سامنا کرتے ہیں، سفر کرتے ہیں اور کبھی کبھی اپنی روزمرہ زندگی چھوڑ کر سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ ان سے قربانی مانگنا سیاسی قیادت کا حق ہوسکتا ہے، مگر ان کی قربانی کی قدر کرنا قیادت کی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر کارکن بارش میں کھڑا ہے تو قیادت کے لیے کم از کم اتنا ضروری ہے کہ وہ اس بارش کو محسوس کرے۔ اگر کارکن بھوکا ہے تو قیادت کو یہ فکر ہونی چاہیے کہ اسے کھانا کب ملے گا۔ اگر کارکن رات سڑک پر گزار رہا ہے تو قیادت کے لیے یہ سوال اہم ہونا چاہیے کہ اس کے لیے محفوظ جگہ کہاں ہے۔
متنی کا واقعہ اسی لیے محض ایک سیاسی مذاق نہیں۔ یہ سیاسی قیادت اور کارکن کے تعلق کا ایک دلچسپ امتحان بھی ہے۔ جلسے میں تقریر کرتے ہوئے قربانی، مزاحمت اور ثابت قدمی کی بات کرنا آسان ہے، لیکن جب واقعی بارش برس رہی ہو، ژالہ باری ہورہی ہو اور کارکن کھلے آسمان تلے کھڑے ہوں تو قیادت کی موجودگی کا مطلب سمجھ میں آتا ہے۔ سیاسی کارکن شاید یہی دیکھنا چاہتے ہیں کہ جو شخص انہیں مشکل راستے پر لے کر آیا ہے، وہ خود بھی اس مشکل کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔
یہاں ’’بھاگ ارجن بھاگ‘‘ والا مزاح بھی اسی تضاد سے نکلتا ہے۔ ارجن فلمی کردار ہے، مگر سیاست میں کبھی کبھی حالات خود ایسا منظر بنا دیتے ہیں کہ آدمی کو لگتا ہے جیسے کوئی فلم چل رہی ہو۔ فرق صرف یہ ہے کہ فلم میں اداکار جانتا ہے کہ منظر ختم ہونے کے بعد وہ آرام سے میک اپ اتار کر گھر چلا جائے گا، جبکہ سیاسی کارکن کو بارش میں بھیگنے، سردی برداشت کرنے اور رات گزارنے کے بعد بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اگلی صبح قیادت کہاں ہوگی اور مارچ کس طرف جائے گا۔
سہیل آفریدی کے پاس اپنی روانگی کی کوئی سیاسی، انتظامی یا ذاتی وجہ ہوسکتی ہے اور ممکن ہے ان کے نزدیک وہ وجہ بالکل درست ہو، لیکن سیاست میں صرف نیت نہیں دیکھی جاتی، منظر بھی دیکھا جاتا ہے۔ متنی میں جو منظر بنا وہ یہی تھا کہ کارکن مشکل میں تھے اور وزیراعلیٰ پشاور پہنچ گئے۔ اس منظر کی تصویر کسی وضاحت کی محتاج نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا نے اسے اپنے انداز میں پکڑ لیا اور ’’متنی سے فرار‘‘، ’’آرام مارچ‘‘، ’’ڈبل مارچ‘‘، ’’مذاق مارچ‘‘ اور ’’بھاگ ارجن بھاگ‘‘ جیسے فقرے گردش کرنے لگے۔ سیاسی طنز کی خوبی یہ ہے کہ وہ اکثر وہ بات کہہ دیتا ہے جسے لمبی تقریر بھی پوری طرح بیان نہیں کرپاتی۔
یہاں تک کہ اگر کوئی کارکن واقعی متنی میں کھڑے ہوکر اپنے قائد کو تلاش کرتے ہوئے یہ گانے لگے کہ ’’ہم تیرے اجنبی شہر میں ڈھونڈتے پھر رہے ہیں، تمہیں ہم کو آواز دے‘‘ تو اس میں بھی ایک پوری سیاسی تصویر چھپی ہوئی ہے۔ جس قائد کو کارکنوں نے اپنے درمیان ہونا سمجھا تھا، وہی قائد ان کی نظروں سے اوجھل ہے اور کارکن اسے ڈھونڈ رہے ہیں۔ سیاست میں اس سے بڑا طنزیہ منظر شاید ہی کوئی ہو کہ قیادت خود مارچ کی قیادت کرتے کرتے ایسی جگہ پہنچ جائے جہاں اس کے اپنے کارکن اسے ڈھونڈنے لگیں۔
اور اگر کوئی شرارتی کارکن یہ بھی کہہ دے کہ سہیل آفریدی پشاور میں گھوڑے بیچ کر سو گئے تو شاید اسے بھی کسی لمبی وضاحت کی ضرورت نہ پڑے، کیونکہ متنی کی بارش میں بھیگے ہوئے کارکنوں کے مقابلے میں وزیراعلیٰ ہاؤس کا تصور ہی اس لطیفے کو مکمل کردیتا ہے۔ اسی طرح وزیراعلیٰ ہاؤس سے نسوار لینے روانگی یا راستے بھر ’’خو پېخور، خو پېجور دے کنہ‘‘ گانے کی شرارتیں بھی اسی سیاسی تضاد کا حصہ ہیں۔ یہ سب اس لیے مزاحیہ لگتا ہے کہ اصل منظر پہلے ہی اپنی جگہ غیر معمولی ہے؛ طنز کو اس پر زیادہ رنگ چڑھانے کی ضرورت نہیں۔
اصل مسئلہ یہی ہے کہ سیاسی تحریکوں کی طاقت صرف کارکنوں کی تعداد سے نہیں بنتی، قیادت کے اعتماد سے بھی بنتی ہے۔ کارکن یہ محسوس کرے کہ قیادت اس کے ساتھ ہے تو بارش بھی برداشت ہوجاتی ہے، راستہ بھی لمبا نہیں لگتا اور تھکن بھی سیاسی جوش میں چھپ جاتی ہے۔ لیکن اگر مشکل وقت میں قیادت ہی نظروں سے اوجھل ہوجائے تو پھر سب سے بڑا سوال موسم نہیں رہتا، اعتماد بن جاتا ہے۔
متنی نے اس لانگ مارچ کو شاید کوئی نئی سیاسی منزل نہ دی ہو، مگر اس نے ایک ایسی تصویر ضرور بنا دی ہے جسے بھلانا آسان نہیں ہوگا۔ گنڈی چوک سے چلنے والے کارکن متنی میں بارش اور ژالہ باری کا سامنا کررہے تھے، قیادت پشاور پہنچ چکی تھی، آگے اسلام آباد اور کراچی دونوں کی باتیں ہورہی تھیں اور پورا سیاسی جغرافیہ ایک ہی مارچ کے ساتھ پھیلتا جارہا تھا۔ ایسے میں عام آدمی اگر اسے ’’مذاق مارچ‘‘ کہہ دے تو شاید اسے قصوروار ٹھہرانے سے پہلے اس منظر کو دوبارہ دیکھنا چاہیے۔
کیونکہ سیاسی قیادت کا اصل امتحان ہمیشہ جلسے کے سٹیج پر نہیں ہوتا جہاں روشنی، مائیک اور کیمرے موجود ہوں۔ کبھی کبھی اصل امتحان متنی کی ایسی رات میں ہوتا ہے جہاں بارش اچانک شروع ہوجاتی ہے، کارکنوں کے پاس چھت نہیں ہوتی، جسم تھک چکے ہوتے ہیں اور ہر شخص اپنے قائد کو تلاش کررہا ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں قیادت اگر کارکنوں کے درمیان کھڑی ہو تو شاید بارش بھی یادگار بن جاتی ہے، لیکن اگر قیادت پشاور کی طرف روانہ ہوجائے تو پھر وہی بارش سیاسی طنز بن کر برسنے لگتی ہے۔
سو اس وقت سب سے دلچسپ بات یہ نہیں کہ مارچ اسلام آباد جائے گا یا کراچی، نہ یہ کہ اگلا پڑاؤ کہاں ہوگا اور نہ یہ کہ راستہ کتنے صوبوں اور شہروں سے گزرے گا۔ اصل دلچسپ سوال یہی ہے کہ متنی میں جو کارکن بارش میں اپنے قائد کو ڈھونڈ رہے تھے، انہیں آخر وہ کہاں ملا۔ اگر اس سوال کا جواب ابھی بھی تلاش کرنا پڑ رہا ہے تو پھر ’’بھاگ ارجن بھاگ‘‘ محض ایک مزاحیہ فقرہ نہیں رہتا، بلکہ اس پورے سفر کی ایسی تصویر بن جاتا ہے جس میں مارچ آگے بڑھتا رہا، جغرافیہ بدلتا رہا، منزلیں بدلتی رہیں، مگر کارکنوں کی آنکھیں وہیں رہ گئیں جہاں انہیں اپنی قیادت نظر آنی چاہیے تھی۔
واپس کریں