دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
8 اکتوبر: جب زمین کانپی، مگر حوصلوں نے عروج پایا!
No image تحریر: نجیب الغفور خان (جموں و کشمیر لبریشن سیل)
ناگہانی آفات اور زمینی حادثات جہاں انسان کی ترقی اور اس کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں، وہاں یہ زندہ قوموں کے دکھ اور ایک دوسرے کی مدد کے جذبے کو بھی پرکھتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں وہی قومیں قائم رہتی ہیں جو شدید ترین تباہی کے بعد بھی بالکل نئے سرے سے زندگی شروع کرنے کا حوصلہ رکھتی ہوں۔ 8 اکتوبر 2005ء کی وہ خوفناک اور سیاہ صبح، جب آزاد وادی اور پاک سرزمین شدید زلزلے سے کانپ اٹھی، تو قدرت کے ایک جھٹکے نے انسانی اندازوں کو لمحوں میں ختم کر دیا۔ 7.6 شدت کے اس ہولناک زلزلے کو اکیس برس بیت چکے ہیں، مگر اس کے دردناک نقوش آج بھی ہمارے دل و ذہن پر نقش ہیں۔ یہ واقعہ صرف ایک قدرتی آفت نہ تھا، بلکہ ایک گہرا انسانی المیہ اور پاک فوج و عوام کے اس بے لوث رشتے کی روشن داستان بن گیا جس نے تباہی کے کھنڈرات سے امید کی نئی کرن تراشی۔
8 اکتوبر 2005ء کی صبح تقریباً 8:50 بجے، جب بندگی کے روزمرہ معمولات جاری و سارِ تھے۔ کام کاج سے وابستہ افراد کام کی جگہوں کی طرف گامزن تھے، کاروبار کھل رہے تھے اور معصوم نونہال درسگاہوں کے کھلے صحن میں دستِ دعا بلند کیے صفوں میں کھڑے تھے۔ کسی کے گمان میں بھی نہ تھا کہ اگلی ساعت ان کے لیے پیغامِ اجل ثابت ہوگی۔ صرف 45 سیکنڈ کے شدید جھٹکوں اور اس کے بعد کے 900 سے زائد خطرناک آفٹر شاکس نے فلک بوس تعمیرات اور مضبوط ترین مکانات کو آناً فاناً ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔
زمین کی 15 کلومیٹر کی اتھاہ گہرائی سے جنم لینے والی اس ہلاک خیز لہر نے دارالحکومت مظفرآباد، ضلع باغ اور خیبر پختونخوا کے وسیع و عریض خطے کو گھیر لیا۔ برقی نظام، طبی سہولیات، رابطہ کاری اور آمد و رفت کا تمام تر ڈھانچہ درہم برہم ہو گیا۔ تباہی کے اس لمحہِ 87 ہزار سے زائد عزیز نفوس ابدی نیند سو گئے، بے شمار معذور ہوئے اور 35 لاکھ سے زائد لوگ نیلے آسمان کے نیچے خیمہ زن ہونے پر مجبور ہوئے۔ اس حادثے کی سب سے الم ناک بات وہ 18 ہزار سے زائد طالب علم تھے جو اپنی ہی درسگاہوں کے گرنے سے منوں مٹی تلے دب کر مرتبۂ شہادت پا گئے۔
اس آفت نے جہاں ان گنت بستیاں ویران کیں، وہاں قدرت کا جلوہ دکھانے والے حیرت انگیز واقعات بھی سامنے آئے۔ امدادی ٹیموں نے مظفرآباد کے ملبے سے 45 سالہ خاتون رشیدہ کو 105 گھنٹے بعد زندہ سلامت باہر نکالا، جبکہ ایک 5 سالہ معصوم بچی بغیر کچھ کھائے پئے چار دن تک ملبے کے اندھیروں میں محفوظ رہی اور پھر خود رینگتی ہوئی باہر آ گئی۔ شدید بارش اور برف باری کے موسم میں 70 سالہ بزرگ 80 گھنٹے تک ملبے کی درزوں سے رسنے والا پانی پی کر زندہ رہے۔ اسی المیے کا ایک روح فرسا واقعہ مظفرآباد کے ایک والد کا ہے جو کئی دن تک اپنی معصوم بیٹی کی اسکول کی کاپی اور پنسل باکس سینے سے لگائے ملبہ ہٹائے جانے کا انتظار کرتا رہا، تاکہ کم از کم اپنی بیٹی کا آخری دیدار کر سکے۔ جب بچی کی لاش باہر نکالی گئی تو اس کے ننھے ہاتھوں میں وہی قلم مضبوطی سے تھما ہوا تھا—یہ مناظر پتھر سے پتھر دل انسان کو بھی خون کے آنسو رلا دینے کے لیے کافی تھے۔
اس رنج و الم کے عالم میں جب چاروں طرف آہ و زاری اور بے بسی تھی، پاکستانی قوم نے اپنے کشمیری بھائیوں کو ہرگز تنہا نہ چھوڑا۔ زلزلہ کی خبر عام ہوتے ہی خیبر سے کراچی تک ہر دل متاثرینِ زلزلہ کے لیے دھڑکنے لگا۔ پاکستانی عوام نے اپنے وسائل سے بڑھ کر مدد بھیجی، نوجوانوں نے رضاکارانہ طور پر امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور صاحبِ ثروت افراد نے اپنے مال و زر کو مصیبت زدگان کے لیے وقف کر دیا۔
پاک فوج کے جوانوں نے دشوار گزار پہاڑی راستوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سخت موسمی حالات کی پروا کیے بغیر ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں تاریخی کردار ادا کیا۔ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے دور افتادہ علاقوں تک خوراک، ادویات اور ضروری سامان پہنچایا گیا، جبکہ پاک فوج کے جوانوں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے اور زخمیوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لیے دن رات ایک کر دیا۔ اس مشکل ترین گھڑی میں برادر اسلامی ملک ترکی اور دیگر عالمی اداروں کا تعاون بھی کشمیری عوام کے لیے ایک ناقابلِ فراموش سہارا ثابت ہوا۔
زلزلے کی تباہ کاریوں نے جہاں آزاد کشمیر کے کئی علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا، وہیں اس کے بعد تعمیرِ نو کا ایک ایسا سفر بھی شروع ہوا جس نے دنیا کو کشمیری عوام کے عزم و حوصلے سے روشناس کرایا۔ ملبے سے دوبارہ اٹھتے ہوئے شہر، بحال ہونے والے تعلیمی ادارے، تعمیر ہونے والی سڑکیں اور بنیادی سہولیات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ تباہی کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، انسان کا عزم اس سے کہیں زیادہ بلند ہو سکتا ہے۔ مظفرآباد، باغ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں ہونے والی تعمیرِ نو صرف عمارتوں کی تعمیر نہیں تھی بلکہ یہ ایک قوم کے دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کی داستان تھی۔
آج 21 سال بعد جب ہم 8 اکتوبر کے سانحے کو یاد کرتے ہیں تو آنکھیں اشک بار بھی ہوتی ہیں اور دل ان لوگوں کو سلام بھی پیش کرتا ہے جنہوں نے اس مشکل ترین وقت میں انسانیت، اخوت اور ایثار کی مثال قائم کی۔ یہ دن ہمیں ان ہزاروں شہداء کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنے پیچھے خاندان، خواب اور ایک پوری دنیا چھوڑ دی۔ یہ ہمیں ان ماؤں، باپوں، بہنوں، بھائیوں اور بچوں کے دکھ کی یاد دلاتا ہے جن کی زندگیاں ایک لمحے میں بدل گئیں۔ مگر اسی درد کے ساتھ یہ دن ہمیں یہ حوصلہ بھی دیتا ہے کہ پاکستانی قوم اور کشمیری عوام نے مل کر دکھ کی اس گھڑی کو امید، اتحاد اور تعمیرِ نو کے سفر میں تبدیل کیا۔
اس سانحے کی سب سے بڑی یادگار یہ ہونی چاہیے کہ ہم ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے مستقبل کو زیادہ محفوظ بنائیں۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کو قومی سطح پر مستقل ترجیح دینا ہوگی اور خصوصاً نوجوان نسل کو اس حوالے سے باقاعدہ تربیت فراہم کرنا ہوگی۔ تعلیمی اداروں، جامعات، سرکاری و نجی اداروں اور سول سوسائٹی کے تعاون سے Disaster Preparedness and Response Training Programs شروع کیے جائیں، جن میں طلبہ اور نوجوانوں کو ابتدائی طبی امداد، محفوظ انخلاء، آگ سے بچاؤ، سرچ اینڈ ریسکیو، ہنگامی مواصلات اور زلزلے سمیت دیگر قدرتی آفات کے دوران حفاظتی اقدامات کی عملی تربیت دی جائے۔
ہر تعلیمی ادارے میں Disaster Response Volunteer Teams تشکیل دی جائیں اور باقاعدگی سے Mock Drills کا انعقاد کیا جائے تاکہ ہنگامی صورتِ حال میں نوجوان گھبراہٹ کے بجائے نظم و ضبط، حوصلے اور ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اسی طرح مقامی سطح پر تربیت یافتہ کمیونٹی رضاکاروں کا نیٹ ورک قائم کیا جائے تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں سرکاری امدادی اداروں کی آمد سے قبل مقامی افراد ابتدائی ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ آج کے نوجوان کو اگر علم، تربیت اور خدمت کا جذبہ دیا جائے تو وہ کل کسی بھی قدرتی آفت کے مقابلے میں قوم کی پہلی مضبوط دفاعی صف بن سکتا ہے۔
8 اکتوبر کا اصل پیغام یہی ہے کہ قدرتی آفات کے مقابلے میں قوموں کی اصل طاقت ان کا اتحاد، شعور، نظم و ضبط اور بروقت تیاری ہوتی ہے۔ ہمیں ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے زلزلہ مزاحم تعمیرات، مؤثر ڈیزاسٹر مینجمنٹ، جدید ریسکیو نظام، عوامی آگاہی اور بالخصوص نوجوانوں کی عملی تربیت پر توجہ دینا ہوگی۔ شہداء اور متاثرین کو حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ہم ایک ایسا محفوظ، مضبوط اور باہمت معاشرہ تشکیل دیں جو کسی بھی قدرتی آفت کے سامنے گھبرانے کے بجائے منظم انداز میں اس کا مقابلہ کر سکے۔ 8 اکتوبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زلزلہ زمین کو ہلا سکتا ہے، عمارتیں گرا سکتا ہے، مگر متحد اور پُرعزم قوم کے حوصلے نہیں توڑ سکتا۔
واپس کریں