دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
تباہ کن زلزلہ ،8 اکتوبر2005، اکیس برس مکمل ہو گئے
No image (راولاکوٹ) رپورٹ آصف اشرف
آٹھ اکتوبر2005کو آئے تباہ کن زلزلہ کو21برس مکمل ہو ں گئے، شہداء کی قبروں پر حاضری دی جائےگی قرآن خوانی دعائیہ مجالس ہوں گی۔ آ ٹھ اکتوبر تین رمضان المبارک کی صبع آج ہی کہ دن آٹھ بج کر باون منٹ کے قریب زلزلہ جموں کشمیر کی سرزمین کو قیامت تک کے لیے رلاتے رخصت ہوا ۔عظیم آزاد ی پسند کشمیری فریڈم فائٹر گل نواز بٹ سمیت ہزاروں کشمیری آر پار جام شہادت نوش کر گئے،اربوں روپے کی املاک تباہ ہوئی، بے شمار لوگ زمین بوس ہوئے، ان گنت لوگ اغواء کاروں اور مافیاء کے ہاتھوں یرغمال بنا لیے گئے، قبائلی یلغار کی تقلید کرتے کہیں خواتین کے جسمانی اعضاء ان کی نعشوں سے کاٹ کر زیور چوری کیا گیا۔ تعلیمی اداروں میں کتابیں خون میں نہاء گئیں۔ پاکستان کی انسان دوست عوام نے متاثرہ علاقوں میں ہر ممکن کوشش کر کے تباہ حال کشمیری قوم کو پاؤں پر کھڑا کرنے کی تاریخ رقم کی۔ دوسری طرف عالمی دنیا کی طرف سے تباہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے 55ارب روپیہ کی امداد دی گئی جو آج کے ڈالر ریٹ میں سات سو ارب سے زائد بنتی ہے مگر اس وقت کے وزیراعظم آزاد کشمیر عتیق خان نے وہ رقم اپنے اقتدار کو دوام بخشنے اس وقت کے صدر پاکستان آصف زرداری کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل کرنے کی اجازت دے دی جس باعث آج تک کشمیر کے تباہ حال تعلیمی ادارے اور سڑکیں ادھوری پڑی ہیں۔
آج لوگ اپنے پیاروں کو یاد کرتے جہاں خون کے آنسو رو رہے ہیں لوگ قبرستانوں کا رخ کیے ہیں وہاں عتیق خان کو بھی کوس رہے ہیں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے 38نکاتی چارٹرڈ آف ڈیمانڈ میں زلزلہ زدگان کی امداد کے 55ارب روپیہ کی واپسی موجودہ ڈالر ریٹ میں کرنے کا مطالبہ شامل کر رکھا تھا مگر سابق وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف کی قیادت میں وفد نے اس مطالبہ کو نظر انداز کر دیا شہدائے زلزلہ کے1 2 ویں یوم شہادت پر انہیں یاد فرماتے سول سوسائٹی جموں کشمیر نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان عظیم شہداء کے صدقے ملنے والی اس عالمی امداد کو واپس لیکر تباہ حال انفراسٹرکچر بحال کروائیں گئے اور اگر لیت و لعل سے کام لیا گیا تو عالمی عدالت انصاف سے رجوع کریں گے ۔
واپس کریں