ایک لانگ مارچ، سو افسانے: آخر سہیل آفریدی کس کا اور کون سا کھیل کھیل رہا ہے؟

(پشاور)خصوصی رپورٹ خالد خان
سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا اعلان کیا، خود اس کی قیادت سنبھالی، کارکنوں اور عوام کو اسلام آباد کی طرف نکلنے کی دعوت دی اور اسے عمران خان کی رہائی اور تحریک انصاف کی سیاسی جدوجہد کا اہم مرحلہ قرار دیا۔ لوگ نکلنے لگے تو راستوں پر دفعہ 144 اور کنٹینرز سامنے آگئے۔ قافلے رک گئے، راستے بند ہوگئے اور جو لوگ مارچ میں شامل ہونے آرہے تھے، وہ مختلف مقامات پر پھنس گئے۔ یہ ایک بہت بڑا سیاسی تضاد ہے۔ سوال بہت سیدھا ہے کہ جب نکلنا ہی نہیں تھا تو لوگوں کو بلایا کس لیے گیا تھا، اور جب لوگ نکلے تو انہیں روکا کس لیے گیا؟
سہیل آفریدی کے اعلان اور زمینی صورتِ حال کے درمیان یہ فاصلہ اب اتنا نمایاں ہوچکا ہے کہ اسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ ایک طرف وزیراعلیٰ خود کنٹینر پر کھڑے ہوکر کارکنوں کو آگے بڑھنے کا پیغام دیتے ہیں، دوسری طرف انہی کے اعلان پر آنے والے قافلے راستوں میں رکاوٹوں سے ٹکرا رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اعلان اور عمل ایک دوسرے سے میل کیوں نہیں کھا رہے؟
اس تضاد کی سب سے دلچسپ مثال علی امین گنڈاپور ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ خود لانگ مارچ میں شرکت کے لیے نکلے، لیکن یارک ٹول پلازہ پر راستہ دفعہ 144 اور کنٹینرز سے بند ملا اور وہ آگے نہ جاسکے۔ گنڈاپور نے کارکنوں کو واپس جانے کا کہا اور خود بھی واپس ہوگئے۔
یہاں معاملہ صرف ایک سابق وزیراعلیٰ کے راستے میں رک جانے کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک طرف موجودہ وزیراعلیٰ اپنے سیاسی ساتھیوں کو اسلام آباد کی طرف آنے کی دعوت دے رہے ہوں اور دوسری طرف ان کا سابق وزیراعلیٰ، جو خود اسی جماعت کا اہم سیاسی کردار ہے، اس مارچ میں شریک ہونے کے لیے نکل کر راستے میں رک جائے تو اس پوری حکمتِ عملی کو کیا نام دیا جائے؟
اگر گنڈاپور کی جانب سے موجودہ وزیراعلیٰ سے رابطے کی کوشش اور اس میں ناکامی کی ویڈیو بھی سامنے موجود ہے تو معاملہ مزید سنگین ہوجاتا ہے۔ کیونکہ پھر سوال صرف راستہ بند ہونے کا نہیں رہتا، سوال یہ بنتا ہے کہ ایک ہی جماعت کے دو بڑے سیاسی کردار ایک ہی مارچ کے معاملے میں ایک دوسرے سے اس حد تک کٹے ہوئے کیوں نظر آئے کہ سابق وزیراعلیٰ راستے میں کھڑا تھا اور موجودہ وزیراعلیٰ اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا تھا؟ یہ سیاسی ہم آہنگی ہے یا ایسی آنکھ مچولی جس میں ہر کردار اپنا الگ کھیل کھیل رہا ہے؟
اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز منظر وہ ہے جب سہیل آفریدی سفید کفن کاندھوں پر ڈال کر کنٹینر پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں اور اپنی جان قربان کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں۔ ایک وزیراعلیٰ اگر واقعی اس سطح کی قربانی کے لیے تیار ہے تو پھر اس کی سیاسی حکمتِ عملی بھی اتنی ہی واضح ہونی چاہیے۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ انہیں کہاں جانا ہے، کس مقصد کے لیے جانا ہے اور پھر راستوں میں پیش آنے والی رکاوٹوں کی وجہ کیا ہے۔ صرف کفن پہن لینا اور یہ اعلان کرنا کہ مجھے جہاں گولی لگے، مجھے ادھر ہی دفن کرنا، کون سی ڈرامہ بازی ہے؟
لانگ مارچ کوئی سیر و تفریح کا قافلہ نہیں ہوتا۔ اس میں ہزاروں لوگ اپنے گھروں سے نکلتے ہیں، کاروبار چھوڑتے ہیں، سفر کرتے ہیں اور سیاسی قیادت کے اعلان پر اپنا وقت اور توانائی لگاتے ہیں۔ اگر قیادت انہیں ایک طرف نکلنے کے لیے کہے اور دوسری جانب پھر ان کے راستوں کو بند کریں تو اس مذاق کا مطلب کیا ہے؟
اب سردریاب میں کنٹینرز رکھے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں، جبکہ چارسدہ اور دوسرے علاقوں کے لوگوں کو مارچ میں شامل ہونے کی دعوت بھی دی جارہی ہے۔
سہیل آفریدی نے اس مارچ کو ایک بڑی سیاسی مزاحمت کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ جدوجہد طویل ہے اور آنے والے مراحل میں اصل مقابلہ ہوگا۔ لیکن سیاسی جدوجہد صرف نعروں، کنٹینروں اور تقریروں سے نہیں چلتی؛ اس کے لیے سمت، رابطہ اور واضح حکمتِ عملی بھی درکار ہوتی ہے۔ ورنہ کارکنوں کے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں بلایا کس لیے گیا تھا؟
یہاں ایک اور پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر واقعی یہ مارچ عمران خان کی رہائی کے لیے ہے تو پھر اس کی قیادت کو اپنے ہی لوگوں کے درمیان رابطے کا ایسا فقدان کیوں دکھائی دے رہا ہے؟ اگر یہ حکومت پر سیاسی دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی ہے تو پھر اسے صاف لفظوں میں بیان کیا جائے۔ اگر یہ صرف طاقت کا مظاہرہ ہے تو پھر عوام کو راستے میں روکنے کے باوجود کامیابی کا پیمانہ کیا ہوگا؟ اور اگر یہ واقعی اسلام آباد تک جانے کا فیصلہ ہے تو پھر راستے میں رکاوٹوں کا مقصد کیا ہے؟
ایک ہی وقت میں عوام کو نکلنے کے لیے پکارنا اور پھر ان کے سامنے ایسی صورتِ حال پیدا ہوجانا، جس میں وہ نکل ہی نہ سکیں، آخر کس سیاسی منطق کا حصہ ہے؟
سہیل آفریدی خود مارچ نکالتے ہیں، خود لوگوں کو بلاتے ہیں، خود قیادت کرتے ہیں، اور پھر انہی کے اعلان پر آنے والے لوگ راستوں میں رک جاتے ہیں۔ علی امین گنڈاپور جیسا سابق وزیراعلیٰ بھی قافلے سمیت واپس ہوجاتا ہے۔ ایسے میں عوام کو صرف ایک بات جاننے کا حق ہے کہ یہ لانگ مارچ واقعی اسلام آباد جانے کے لیے ہے یا سیاسی منظرنامے میں ایک ایسا کھیل کھیلا جارہا ہے جس کے اصل قواعد ابھی عوام سے چھپائے گئے ہیں؟
سہیل آفریدی کو اب تقریروں سے زیادہ اس تضاد کا جواب دینا ہوگا۔ کیونکہ سیاست میں سب سے خطرناک چیز مخالفت نہیں ہوتی، اعلان اور عمل کے درمیان پیدا ہونے والا وہ خلا ہوتا ہے جس میں کارکن کا اعتماد گم ہوجاتا ہے۔
لانگ مارچ کا راستہ اسلام آباد تک جاتا ہے یا کہیں اور رک جاتا ہے، یہ بعد کی بات ہے۔ اس وقت اصل سوال یہ ہے کہ سہیل آفریدی کس کا اور کون سا کھیل کھیل رہے ہیں؟
واپس کریں