بدلتا افغانستان: بدخشان میں طالبان مخالف جنگ کی زمینی حقیقت

(پشاور) خصوصی رپورٹ خالد خان
افغانستان نے 4 اکتوبر 2026 کو بدخشان کے واخان ضلع میں بروغل سے چین کی سرحد تک 121 کلومیٹر طویل سڑک کا افتتاح کیا تو بظاہر یہ ایک دور افتادہ اور دشوار گزار پہاڑی علاقے میں تعمیر ہونے والی سڑک تھی، لیکن افغانستان کے موجودہ جغرافیائی، معاشی اور سیاسی حالات میں اس منصوبے کی اہمیت محض ایک سڑک تک محدود نہیں۔ افغانستان ایک خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں سے بیرونی تجارت کے لیے اپنے ہمسایہ ممالک کے راستوں کا محتاج رہا ہے۔ پاکستان کے ذریعے کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں تک رسائی اس کے لیے طویل عرصے سے اہم رہی ہے، جبکہ ایران اور وسطی ایشیا کے راستے بھی متبادل فراہم کرتے رہے ہیں۔ اب واخان کے ذریعے چین تک براہ راست زمینی رسائی کی کوشش اس جغرافیائی انحصار کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش ہے۔ 121 کلومیٹر سڑک ابھی ایک مکمل بین الاقوامی تجارتی راہداری نہیں، کیونکہ اس کے لیے مستقل سرحدی انتظام، کسٹمز، سکیورٹی، تجارتی سہولتوں اور چین کی عملی منظوری سمیت کئی مراحل باقی ہیں، لیکن اس کی تعمیر افغانستان کے لیے ایک ایسے ممکنہ راستے کی بنیاد ضرور رکھتی ہے جو مستقبل میں اس کے بیرونی تجارتی اختیارات میں اضافہ کرسکتا ہے۔
اس منصوبے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں مسلسل کشیدگی، سرحدی بندشوں اور تجارتی رکاوٹوں نے کابل کو متبادل راستوں کی تلاش پر زیادہ توجہ دینے پر مجبور کیا ہے۔ کسی بھی خشکی میں گھرے ملک کے لیے بیرونی تجارت کے ایک ہی راستے یا ایک ہی پڑوسی پر زیادہ انحصار معاشی طور پر کمزور پوزیشن پیدا کرتا ہے، اس لیے افغانستان اگر چین، ایران اور وسطی ایشیا کی سمت اپنے زمینی رابطے بڑھانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے پیچھے صرف سیاسی کشمکش نہیں بلکہ ایک واضح معاشی ضرورت بھی موجود ہے۔ واخان کا راستہ فوری طور پر پاکستان کے راستوں کا متبادل نہیں بن سکتا، لیکن کسی ملک کے لیے متبادل راستے کی اہمیت صرف اس وقت پیدا نہیں ہوتی جب وہ موجودہ راستے کا مکمل نعم البدل بن جائے۔ محدود متبادل بھی کسی ملک کے تجارتی اور سیاسی اختیارات میں اضافہ کرتا ہے اور اسی پہلو سے واخان منصوبے کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔
یہاں بدخشان کی اپنی اہمیت بھی سامنے آتی ہے۔ یہ افغانستان کا ایسا خطہ ہے جو ایک طرف تاجکستان اور چین کے قریب ہے، دوسری طرف اس کی جغرافیائی پوزیشن پاکستان کے شمالی علاقوں سے بھی جڑی ہوئی ہے اور تیسری طرف یہ معدنی وسائل سے مالا مال علاقے کے طور پر افغانستان کے معاشی مستقبل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں افغانستان میں کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کی کوششیں ہوئی ہیں اور چینی دلچسپی بھی مختلف شعبوں میں سامنے آتی رہی ہے۔ مئی 2026 میں چینی سفیر نے افغان وزیر برائے دیہی بحالی و ترقی سے ملاقات کے دوران واخان سڑک کی تکمیل پر اطمینان کا اظہار کیا تھا اور افغانستان میں مزید تعاون کے امکانات پر بات ہوئی تھی۔ اس سے یہ بات ضرور واضح ہوتی ہے کہ چین واخان کے معاملے کو مکمل طور پر غیر متعلق نہیں سمجھتا، اگرچہ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا بھی درست نہیں ہوگا کہ چین نے واخان کو کسی بڑے تجارتی منصوبے میں تبدیل کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔
اصل پیچیدگی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اس جغرافیے کی سلامتی کو دیکھا جائے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران بدخشان میں طالبان مخالف مسلح کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اپریل میں فیض آباد میں طالبان کے سرکاری اور سیکیورٹی مراکز کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے، مئی میں بہارک میں طالبان کی ایک فوجی تنصیب پر حملے کی اطلاعات آئیں، جون میں یاوان اور کشم کے علاقوں میں کارروائیاں ہوئیں، جبکہ جولائی میں صورتحال اس حد تک پہنچی کہ یفتل پائین کے ضلعی مرکز پر طالبان مخالف مسلح گروہ نے عارضی قبضہ حاصل کرلیا۔ اسی عرصے میں ذیبک اور دیگر علاقوں میں طالبان اور مسلح مخالف گروہوں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی۔ اگست میں بھی فیض آباد اور دوسرے اضلاع میں طالبان اہلکاروں اور تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ ستمبر میں بھی مختلف علاقوں سے ایسی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہیں۔
ان واقعات کو صرف نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کی سرگرمیوں تک محدود کرنا بھی مکمل تصویر نہیں ہوگی۔ بدخشان میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے علاوہ افغان فریڈم فرنٹ اور دوسرے مسلح گروہوں نے بھی طالبان کے خلاف کارروائیاں کی ہیں، جبکہ بعض مواقع پر طالبان کے اپنے مقامی کمانڈروں اور مرکز کے درمیان اختلافات نے بھی مسلح صورت اختیار کی۔ جُمعہ خان فتح کے حامیوں اور طالبان کے درمیان ہونے والی لڑائی نے یہ واضح کیا کہ بدخشان میں تنازع صرف طالبان اور ایک منظم مزاحمتی تنظیم کے درمیان نہیں بلکہ مقامی طاقت، وسائل، انتظامی اختیار اور مرکزی حکومت کے تعلقات کا بھی مسئلہ ہے۔ اسی دوران طالبان حکومت نے بدخشان میں اپنی فوجی اور انٹیلی جنس موجودگی بڑھائی، اعلیٰ عہدیداروں کو علاقے کے دوروں پر بھیجا، مقامی انتظامی اور سیکیورٹی عہدیدار تبدیل کیے اور نگرانی کے نظام کو مضبوط کیا۔
تنازعات پر نظر رکھنے والے اداروں کے اعداد و شمار بھی اس تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ افغانستان کے شمال مشرقی علاقوں میں طالبان مخالف مسلح کارروائیوں میں 2026 کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور بدخشان اس سرگرمی کا نمایاں مرکز بن کر سامنے آیا ہے۔ تاہم ان کارروائیوں کے بارے میں ایک بنیادی احتیاط ضروری ہے۔ مزاحمتی گروہوں کی طرف سے جاری کیے جانے والے جانی نقصان اور کامیابی کے دعووں کی ایک بڑی تعداد کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے، اس لیے کسی ایک گروہ کے بیان کو مکمل حقیقت سمجھنا تحقیقی طور پر درست نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود حملوں کا تسلسل، مختلف علاقوں میں ان کا پھیلاؤ اور طالبان کی طرف سے سیکیورٹی انتظامات میں مسلسل اضافہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ بدخشان میں مسلح مزاحمت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
یہاں سے وہ سوال پیدا ہوتا ہے جو واخان کے معاملے کو محض ایک ترقیاتی منصوبے سے کہیں زیادہ اہم بناتا ہے۔ اگر بدخشان افغانستان اور چین کے درمیان مستقبل کی زمینی رابطہ کاری کا ایک ممکنہ دروازہ بن رہا ہے تو اس دروازے کی سلامتی بھی اسی قدر اہم ہوگی۔ کوئی بھی تجارتی راستہ صرف سڑک کی تعمیر سے فعال نہیں ہوتا۔ سرمایہ کار کو محفوظ ماحول، تاجر کو قابل اعتماد راستہ، سرحدی گزرگاہ کو مستقل انتظام، مال بردار گاڑیوں کو سیکیورٹی اور ریاست کو ایسا انتظامی نظام درکار ہوتا ہے جو پورے راستے کو مسلسل محفوظ رکھ سکے۔ اگر ایک ایسے علاقے میں جہاں نئی سڑک تعمیر ہورہی ہو، مسلح کارروائیاں مسلسل بڑھتی رہیں تو خواہ ان کارروائیوں کا براہ راست مقصد اس سڑک کو روکنا نہ بھی ہو، ان کا عملی اثر رابطہ کاری اور سرمایہ کاری کے لیے خطرہ ضرور پیدا کرسکتا ہے۔
یہاں ایک اہم فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ موجودہ شواہد سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، افغان فریڈم فرنٹ یا کسی دوسرے مسلح گروہ نے واخان کی چین سے رابطہ کاری کو اپنے حملوں کا باقاعدہ ہدف قرار دیا ہے۔ ان گروہوں کے اعلان کردہ مقاصد بنیادی طور پر طالبان کے خلاف سیاسی اور عسکری مزاحمت ہیں۔ بدخشان میں مزاحمت کے اسباب میں مقامی سیاسی محرومی، طالبان کی مرکزی قیادت کی پالیسیوں سے اختلاف، نسلی اور علاقائی نمائندگی، معدنی وسائل پر کنٹرول اور مقامی طاقت کے تنازعات شامل ہیں۔ اس لیے ہر حملے کو چین یا واخان کے خلاف کارروائی قرار دینا دستیاب شواہد سے آگے بڑھنا ہوگا۔
لیکن کسی مسلح کارروائی کا اعلان کردہ مقصد اور اس کے وسیع تر جغرافیائی اثرات ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔ اگر کسی گروہ کا ہدف طالبان کا انٹیلی جنس افسر یا فوجی کمانڈر ہو، مگر کارروائی ایسے خطے میں ہو جہاں نئی تجارتی رابطہ کاری قائم کی جارہی ہو، چینی سرمایہ کاری کے امکانات موجود ہوں اور سرحدی تجارت کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جارہا ہو تو اس عدم تحفظ کا اثر اس پورے معاشی منصوبے پر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے بدخشان میں جاری مزاحمت کو صرف اس کے اعلان کردہ سیاسی مقصد سے دیکھنا کافی نہیں، اس کے جغرافیائی اور معاشی اثرات کو بھی الگ سے دیکھنا ہوگا۔
گزشتہ چھ ماہ کے واقعات اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ مسلح کارروائیوں کے ساتھ طالبان کی طرف سے بدخشان پر انتظامی اور فوجی توجہ بھی بڑھتی رہی۔ واخان، پامیر، اشکاشم، شغنان اور کران و منجان جیسے علاقوں کی سرحدی اہمیت کے پیش نظر طالبان کے اعلیٰ فوجی حکام نے ان علاقوں کا دورہ کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کابل خود بھی بدخشان کو محض ایک دور افتادہ صوبہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے سرحدی سلامتی اور علاقائی رابطہ کاری کے تناظر میں اہم سمجھتا ہے۔ چین کے لیے بھی یہی مسئلہ بنیادی ہے، کیونکہ کسی بھی بڑے اقتصادی رابطے سے پہلے سرحدی سلامتی اس کی ترجیحات میں شامل ہوتی ہے۔
چین کی پالیسی کو دیکھتے ہوئے یہ بات خاص طور پر اہم ہے۔ بیجنگ افغانستان کے ساتھ اقتصادی تعاون میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن افغانستان کے اندر سلامتی کی صورتحال کو نظرانداز کرکے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کا امکان محدود ہے۔ بدخشان میں چینی شہریوں، کان کنی اور سرحدی علاقوں سے متعلق سلامتی کے مسائل پہلے ہی سامنے آچکے ہیں۔ اس لیے اگر واخان واقعی مستقبل میں ایک فعال تجارتی راستہ بنتا ہے تو چین کے لیے صرف سڑک کی تعمیر کافی نہیں ہوگی؛ اسے یہ یقین بھی درکار ہوگا کہ یہ راستہ مستقل طور پر محفوظ رہ سکتا ہے۔
افغانستان کے لیے اس منصوبے کا ایک اور پہلو پاکستان سے متعلق ہے۔ پاکستان افغانستان کے لیے صرف ایک پڑوسی ملک نہیں بلکہ اس کے جنوبی تجارتی راستوں اور سمندری بندرگاہوں تک تاریخی رسائی کا سب سے اہم ذریعہ رہا ہے۔ طورخم اور چمن کے راستے افغان تجارت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، لیکن سیاسی اور سیکیورٹی تنازعات کے باعث ان راستوں پر بار بار رکاوٹیں پیدا ہوتی رہی ہیں۔ اگر افغانستان چین کی طرف واخان، ایران کی طرف مغربی راستوں اور وسطی ایشیا کی طرف شمالی راستوں کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس کے پاس تجارت کے زیادہ اختیارات ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت ختم ہوجائے گی، کیونکہ پاکستان کے راستے اب بھی نسبتاً مختصر، بندرگاہوں سے جڑے ہوئے اور بڑے تجارتی نظام سے منسلک ہیں، لیکن افغانستان کا انحصار ضرور کم ہوسکتا ہے۔
یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے بدخشان کی موجودہ صورت حال کے ساتھ ملا کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر افغانستان ایک طرف پاکستان پر اپنے تجارتی انحصار کو کم کرنے کی کوشش کررہا ہے، دوسری طرف چین کے ساتھ براہ راست زمینی رابطے کی بنیاد رکھ رہا ہے، تیسری طرف بدخشان میں معدنی وسائل کے استعمال اور سرمایہ کاری کے امکانات بڑھ رہے ہیں اور اسی وقت اسی صوبے میں طالبان مخالف مسلح سرگرمی مسلسل جاری ہے تو ان تمام عوامل کو ایک ہی جغرافیائی تصویر میں رکھنا ضروری ہوجاتا ہے۔ ان میں سے ہر واقعے کا الگ سبب ہوسکتا ہے، لیکن ان کے مجموعی اثرات ایک دوسرے سے الگ نہیں رہتے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ بدخشان کی مزاحمت کی بنیادی وجہ صرف داخلی ہو اور چین، واخان یا پاکستان سے اس کا کوئی براہ راست تعلق نہ ہو۔ اس امکان کو نظرانداز کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔ بدخشان کی اپنی تاریخ، نسلی ساخت، مقامی سیاسی طاقتیں، معدنی وسائل، طالبان کی مرکزی قیادت کے ساتھ اختلافات اور سابق افغان ریاست سے وابستہ افراد کی موجودگی ایسے عوامل ہیں جو کسی بیرونی محرک کے بغیر بھی مزاحمت کو جنم دے سکتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ علاقائی طاقتیں اس تنازع سے اپنے اپنے مفادات کے مطابق فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں، لیکن کسی مخصوص ریاست یا ادارے کو اس مرحلے پر بدخشان کی مزاحمت کے پیچھے قرار دینے کے لیے قابل اعتماد ثبوت درکار ہوں گے۔
اس لیے اس معاملے میں سب سے محتاط اور قابل دفاع نتیجہ یہ ہے کہ بدخشان میں جاری مسلح کارروائیوں کو واخان کی رابطہ کاری کے خلاف براہ راست منصوبہ قرار دینے کے لیے ابھی کافی شواہد موجود نہیں، لیکن یہ کارروائیاں ایسے وقت اور ایسے جغرافیے میں ہورہی ہیں جب بدخشان کی معاشی اور تزویراتی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ اس لیے ان کا اثر افغانستان کی نئی رابطہ کاری، چینی سرمایہ کاری اور مستقبل کی سرحدی تجارت پر پڑنے کا امکان حقیقی ہے۔ اگر یہ عدم تحفظ برقرار رہتا ہے تو واخان کی سڑک کی تعمیر اپنی جگہ مکمل ہونے کے باوجود اسے ایک قابل اعتماد بین الاقوامی تجارتی راستے میں تبدیل کرنا مشکل ہوگا۔
تازہ ترین واقعہ اس بحث کو مزید اہم بناتا ہے۔ 4 اکتوبر کو چین کی سرحد تک 121 کلومیٹر سڑک کے افتتاح کے ساتھ ہی بدخشان کے دارالحکومت فیض آباد میں طالبان کے ڈپٹی انٹیلی جنس چیف صفی اللہ متوکل کو لے جانے والی گاڑی کو آئی ای ڈی سے نشانہ بنانے کی خبر سامنے آئی۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے صفی اللہ متوکل اور ان کے دو محافظوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا، جبکہ مقامی ذرائع نے ایک محافظ کی ہلاکت اور متوکل کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع دی۔ اس تضاد کے باعث ہلاکتوں کے بارے میں حتمی دعویٰ کرنا مناسب نہیں، لیکن خود یہ واقعہ اس بات کا ایک اور اشارہ ہے کہ بدخشان میں طالبان کے سیکیورٹی ڈھانچے کو مسلسل ہدف بنایا جارہا ہے۔
یہاں بھی کسی سازش کا نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے واقعات کو ان کے تسلسل میں دیکھنا زیادہ مفید ہے۔ ایک طرف چین تک نئی سڑک کھل رہی ہے، دوسری طرف بدخشان میں طالبان مخالف حملوں کا سلسلہ جاری ہے، اسی خطے میں معدنی وسائل کے گرد مفادات موجود ہیں اور طالبان اپنی فوجی و انٹیلی جنس موجودگی بڑھا رہے ہیں۔ اس صورت حال میں سب سے اہم چیز کسی ایک فریق پر الزام عائد کرنا نہیں بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ بدخشان اب افغانستان کے اندرونی تنازعات سے کہیں زیادہ وسیع علاقائی مفادات کے سنگم پر کھڑا ہے۔
واخان کا راستہ افغانستان کے لیے ابھی ایک امکان ہے، مکمل حقیقت نہیں۔ چین کے ساتھ اقتصادی تعاون بھی ابھی اپنے ممکنہ حجم تک نہیں پہنچا، جبکہ بدخشان میں طالبان مخالف مزاحمت بھی ایسی طاقت نہیں بنی جسے افغانستان کی مرکزی حکومت کے لیے فیصلہ کن خطرہ کہا جاسکے۔ لیکن یہ تینوں امکانات ایک ہی وقت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور یہی چیز بدخشان کو اہم بناتی ہے۔ اگر افغانستان اس خطے میں پائیدار امن قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو واخان چین کے ساتھ اس کے تعلقات، تجارت اور علاقائی رابطہ کاری میں ایک نئی کھڑکی کھول سکتا ہے۔ اگر عدم استحکام بڑھتا ہے تو یہی جغرافیہ افغانستان کی نئی رابطہ کاری کا کمزور نقطہ بن سکتا ہے۔
اس لیے بدخشان کے موجودہ حالات کو نہ صرف طالبان اور ان کے مخالفین کی لڑائی کے طور پر دیکھنا کافی ہے اور نہ ہی ہر حملے کو چین یا واخان کے خلاف کسی پوشیدہ منصوبے کا حصہ قرار دینا۔ زیادہ معقول تجزیہ یہ ہے کہ ایک ایسا خطہ جو پہلے ہی سیاسی اور عسکری تنازعات کا شکار ہے اب معاشی اور جغرافیائی اعتبار سے بھی زیادہ اہم ہوتا جارہا ہے، اور اس کے نتیجے میں وہاں ہونے والی ہر بڑی پیش رفت کے اثرات مقامی حدود سے باہر نکل سکتے ہیں۔
افغانستان نے واخان میں چین تک راستہ بنا دیا ہے۔ اب اصل سوال یہ نہیں کہ سڑک پہاڑوں سے گزر کر سرحد تک پہنچ گئی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا بدخشان اتنا پرامن اور مستحکم ہوسکے گا کہ اس راستے پر تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی رابطہ کاری بھی اسی طرح آگے بڑھ سکے۔ آنے والے مہینے اس سوال کا زیادہ معتبر جواب دیں گے، کیونکہ اگر بدخشان میں طالبان مخالف حملوں کا موجودہ رجحان برقرار رہتا ہے اور ساتھ ہی واخان میں چین سے متعلق اقتصادی سرگرمیاں بڑھتی ہیں تو دونوں رجحانات کا باہمی تعلق ایک زیادہ واضح تحقیقی موضوع بن جائے گا۔
فی الحال دستیاب شواہد ہمیں اتنا ضرور بتاتے ہیں کہ بدخشان افغانستان کے مستقبل کے لیے ایک غیر معمولی اہم خطہ بن چکا ہے۔ یہاں طالبان کی حکمرانی، مقامی مزاحمت، معدنی وسائل، چین کی سرحد، نئی سڑک اور افغانستان کی متبادل تجارتی راستوں کی تلاش ایک ہی جغرافیے میں جمع ہوگئی ہیں۔ اس لیے بدخشان میں ہونے والی ہر نئی مسلح کارروائی کو صرف ایک سیکیورٹی واقعہ سمجھنے کے بجائے اس وسیع تر تبدیلی کے تناظر میں دیکھنا ہوگا جو افغانستان کے شمال مشرقی نقشے کو بتدریج تبدیل کررہی ہے۔
واپس کریں