
سیاسی ماحول میں جو ہلچل پیدا ہوئی ہے اس کے پیش نظر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جاتی امرا میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف سے ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا اور حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے متعلق بھی صدر نون لیگ کو تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔ اسی طرح، شہباز شریف کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی رہائش پر ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں ملک کی مجموعی صورتحال سمیت خیبر پختونخوا کی امن و امان اور سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا حکومت سے ہونے والے مذاکرات پر وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت تحریری معاہدے پر دستخط اور 72 گھنٹوں میں عمل درآمد کا منصوبہ دینے پر رضامند ہوئی تھی۔ محسن نقوی کے مطابق، خیبر پختونخوا حکومت نے مذاکرات کے حتمی مرحلے میں طے شدہ نکات سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ پولیس اور سکیورٹی معاملات کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا، صوبے میں دہشت گردوں کو آزادانہ کارروائیوں اور محفوظ پناہ گاہوں سے روکنے پر بھی اتفاق ہوا تھا اور ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے اور دیگر تمام دہشت گرد گروہوں کی غیر مبہم مذمت بھی طے شدہ نکات میں شامل تھی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت پر بھی اتفاق کیا گیا تھا، خیبر پختونخوا میں افغان مہاجر کیمپوں کے خاتمے پر بھی صوبائی حکومت نے آمادگی ظاہر کی تھی اور عبوری افغان حکومت کے ساتھ صوبائی سطح پر رابطہ نہ رکھنے پر بھی اتفاق ہوا تھا۔
علاوہ ازیں، لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی نے خلوص نیت سے مذاکرات کیے، ایک بہت اچھا معاہدہ تیار ہوا مگر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے معاہدہ ناکام بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا معاہدہ صدر مملکت کو دکھانے کے لیے بھی بھیجا گیا تھا اور وزیراعظم کو بھی تمام صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ایک دو چیزوں پر اختلاف تھا لیکن 99 فیصد چیزوں پر اتفاق ہو چکا تھا، جب میں صدر سے ملاقات کے بعد واپس آیا تو ڈرافٹ میں بہت سی تبدیلیاں بتائی گئیں۔ 4 بار ڈرافٹ تیار ہوا اور 4 بار تبدیل ہوا۔ محسن نقوی نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے سہیل آفریدی نے مذاکرات سبوتاژ کیے، ڈرافت تیار ہونے کے بعد سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نہیں مانتے، تمام فیصلے سہیل آفریدی نے کرنے تھے تو خود مذاکرات میں شریک ہوتے۔
یہ ایک نہایت تشویش ناک بات ہے کہ ملک کی سیاسی صورتحال ایک بار پھر ایسی بن گئی ہے کہ ذرا سی بے احتیاطی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ ہمارے سیاسی رہنما یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ محاذ آرائی کی سیاست کا انجام کیا ہوتا ہے اور سیاسی قوتوں کے باہمی تصادم کا فائدہ ہمیشہ کسی تیسرے کو پہنچتا ہے لیکن اس کے باوجود سب اپنی اناؤں اور مفادات کے اسیر بنے ہوئے ہیں اور ملک اور عوام ان کی ترجیحات میں کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ اگر سیاسی رہنما بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی الجھنوں کا حل بھی نہیں نکال سکتے تو پھر ان سے ملکی اور عوامی مسائل کے حل کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ اگر وفاقی وزیرِ داخلہ کا دعویٰ درست ہے تو یہ ایک افسوس ناک امر ہے کہ مذاکرات کی میز پر طے پانے والے معاملات آخری مرحلے میں پہنچ کر پھر بگاڑ کا شکار ہو گئے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ مذاکرات میں اعتماد کی فضا قائم رکھنا اور معاملات کو خوشگوار انداز میں آگے بڑھانا فریقین کی مشترکہ ذمہ داری ہوتی ہے۔ جب ایک فریق دوسرے پر کوئی الزام لگاتا ہے تو اعتماد کی بنیاد کمزور پڑ جاتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دونوں جانب سے تلخ بیانات مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچاتے آئے ہیں۔
سہیل آفریدی کا یہ اعلان کہ لانگ مارچ شروع ہو چکا ہے اور وہ گورنر راج مانتے ہیں نہ ایمرجنسی، حکومت اور حزبِ اختلاف کی باہمی آویزش کو نئی جہت دیتا ہے۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کی باتیں بجائے خود تشویش ناک ہیں کیونکہ ان کا ذکر اس امر کی علامت ہے کہ حالات کو غیر معمولی اقدامات کی طرف دھکیلنے کا خدشہ موجود ہے۔ آئین میں ہنگامی حالات کے لیے گنجائش ضرور رکھی گئی ہے لیکن ان اختیارات کا استعمال آخری حربے کے طور پر اور انتہائی صورت میں ہی ہونا چاہیے۔ ماضی میں ایسے اقدامات نے سیاسی زخموں کو بھرنے کی بجائے گہرا کیا۔ جمہوری نظام میں مسائل کا حل سیاسی بصیرت اور مکالمے سے نکلتا ہے، انتظامی جبر سے نہیں۔ اسی طرح صوبائی حکومت کی قیادت کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ احتجاج کو اس حد تک نہ لے جائے کہ وفاق اور صوبے کے درمیان بد اعتمادی ناقابلِ تلافی حد تک پہنچ جائے۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر مذاکرات بار بار تعطل کا شکار کیوں ہو جاتے ہیں؟ اس کی ایک بڑی وجہ یہ دکھائی دیتی ہے کہ فریقین کی ایک دوسرے سے وابستہ توقعات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف اپوزیشن کے مطالبات ہیں جن میں سیاسی قیدیوں کی رہائی اور مقدمات کے خاتمہ کا معاملہ نمایاں ہے، دوسری جانب حکومت ہے جو عدالتی اور قانونی عمل میں مداخلت کے تاثر سے بچنا چاہتی ہے۔ دونوں کے موقف میں وزن ہو سکتا ہے مگر مذاکرات کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہر فریق اپنے موقف میں کچھ لچک پیدا کرے۔ جو فریق صرف اپنی بات منوانے پر اڑا رہے وہ مذاکرات نہیں، مطالبات کی فہرست پیش کر رہا ہوتا ہے اور اسی وجہ سے معاملات بگڑتے چلے جاتے ہیں کہ فریقین اپنے اپنے مطالبات منوانے پر زور دیتے ہیں۔ سیاست امکانات کا کھیل ہے جس کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ مکمل فتح کی بجائے قابلِ عمل مفاہمت کو ہدف بنایا جائے۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کا حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تیسری نشست کے لیے متحرک ہونا ایک خوش آئند پہلو ہے۔ اگر پارٹی کی قیادت واقعی مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتی ہے تو اسے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہو گا۔ یہ تاثر بہت نقصان دہ ہے کہ ایک طرف قیادت مذاکرات کی بات کر رہی ہے اور دوسری جانب کچھ لوگوں کی طرف سے لانگ مارچ جیسے اقدامات سے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ مذاکرات اور احتجاج بیک وقت چل تو سکتے ہیں مگر ان کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے ورنہ مخالف فریق کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ دوسری جانب سنجیدگی کا فقدان ہے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ تیسری نشست کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بجائے فراخ دلی کا مظاہرہ کرے اور ایسا ماحول فراہم کرے جس میں بات چیت کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔
ملک اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے، وہ سیاسی انتشار کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ معیشت ابھی استحکام کی طرف بڑھنے کی کوشش میں ہے اور عام آدمی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ مغربی سرحد کی طرف کشیدہ صورتحال بھی یہی تقاضا کرتی ہے کہ قومی سطح پر یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں پیچیدگیاں، دہشت گردی کے خطرات اور خطے میں جاری عالمی اور علاقائی کشمکش اس بات کی متقاضی ہیں کہ پاکستان داخلی طور پر مضبوط اور متحد نظر آئے۔ جب سیاسی قوتیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوں تو دشمن عناصر کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔ اس لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں پر یہ قومی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک اور خطے کے حالات کے تناظر میں سیاسی درجۂ حرارت کو بڑھنے نہ دیں۔ سیاسی کشیدگی کا سب سے زیادہ نقصان ہمیشہ عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جب سڑکیں بند ہوتی ہیں، کاروبار ٹھپ ہوتا ہے، انٹرنیٹ اور مواصلات میں رکاوٹیں آتی ہیں اور روزگار متاثر ہوتا ہے تو اس کی قیمت وہی دیہاڑی دار مزدور، چھوٹا دکاندار اور متوسط طبقے کا فرد چکاتا ہے جس کے نام پر یہ سیاست کی جاتی ہے۔ سیاسی رہنماؤں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ عوام نے انھیں اپنے مسائل حل کرنے کے لیے منتخب کیا ہے، نہ کہ انھیں مزید مسائل میں الجھانے کے لیے۔ اگر طاقت کے مظاہرے اور جوابی مظاہرے کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اس کا نتیجہ عوام کی مایوسی اور سیاسی نظام پر ان کے اعتماد میں کمی کی صورت میں نکلے گا جو جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
واپس کریں