ینگ ڈاکٹرز کا اپنے مطالبات کے حق اور ناقص طرزِ حکمرانی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

(پشاور) خالد خان
خیبرپختونخوا میں ینگ ڈاکٹرز کا کئی ہفتوں سے جاری احتجاج 6 اکتوبر کو فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہونے جا رہا ہے، جب ینگ ڈاکٹرز اپنے مطالبات کے حق میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات پر سنجیدہ پیش رفت نہ ہونے اور لاتعلقی کے باعث احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے سوا ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا۔
ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے 6 اکتوبر کو صبح 11 بجے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔ ڈاکٹرز تنخواہوں میں 30 فیصد اضافے سمیت دیگر مطالبات کی منظوری چاہتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی، کام کے طویل اوقات اور سرکاری ہسپتالوں میں بڑھتے ہوئے مریضوں کے دباؤ کے باوجود انہیں مالی اور پیشہ ورانہ مسائل کے حل کے لیے مؤثر حکومتی تعاون حاصل نہیں ہو رہا۔
احتجاجی ڈاکٹرز کے مطابق ان کے مطالبات پر حکومت کی جانب سے سنجیدہ مذاکرات کے بجائے خاموشی اختیار کی جا رہی ہے، جس نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ ستمبر میں صوبائی حکومت کی جانب سے ہاؤس آفیسرز اور ٹرینی میڈیکل آفیسرز کے وظائف میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی تھی، تاہم ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ ان کے موجودہ مطالبات اور معاشی مشکلات کے مقابلے میں کافی نہیں۔
ینگ ڈاکٹرز پہلے ہی احتجاج کے مختلف مراحل سے گزر چکے ہیں۔ 24 ستمبر کو احتجاج کے دوسرے مرحلے میں صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کیا گیا، جس میں ہزاروں ڈاکٹروں نے شرکت کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی سروسز کو احتجاج سے مستثنیٰ رکھا جائے گا تاکہ مریضوں کی فوری طبی ضروریات متاثر نہ ہوں۔
تاہم احتجاج کے طول پکڑنے کے ساتھ معاملہ صرف تنخواہوں اور مراعات تک محدود نہیں رہا بلکہ ڈاکٹرز اور ہسپتال انتظامیہ کے درمیان کشیدگی بھی بڑھتی گئی۔ یکم اکتوبر کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کی مبینہ کارروائی کے بعد ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور ڈیوٹی کے بائیکاٹ سمیت احتجاج مزید آگے بڑھانے کے اعلانات کیے گئے۔
اب 6 اکتوبر کا خیبر ٹیچنگ ہسپتال کا مظاہرہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹرز نے میڈیا نمائندگان کو احتجاج کی کوریج کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مطالبات، مشکلات اور صوبائی حکومت کے ساتھ جاری تنازع کو عوام کے سامنے لایا جائے۔
ینگ ڈاکٹرز کے احتجاج کے ساتھ ایک اور اہم سوال مریضوں کا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں پہلے ہی ہزاروں مریض روزانہ علاج کے لیے آتے ہیں۔ ڈاکٹروں اور حکومت کے درمیان تنازع اگر طویل ہوتا ہے تو اس کا سب سے فوری اور براہِ راست اثر ان مریضوں اور ان کے لواحقین پر پڑتا ہے جو علاج کے لیے سرکاری ہسپتالوں پر انحصار کرتے ہیں۔ خاص طور پر دور دراز اضلاع سے آنے والے مریضوں کے لیے ایک دن کی بندش یا معمول کی طبی خدمات میں رکاوٹ بھی اضافی مالی اور ذہنی اذیت کا سبب بنتی ہے۔
دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے احتجاج کے ساتھ لانگ مارچ کا اعلان بھی صورتحال کو مزید اہم بنا چکا ہے۔ 28 ستمبر کو گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال کا دورہ کرکے احتجاج کرنے والے ہاؤس آفیسرز اور ٹرینی میڈیکل آفیسرز سے ملاقات کی اور صوبے کی موجودہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر لانگ مارچ سے گریز کی اپیل کی تھی۔
یہ صورتحال حکومت کے لیے بھی ایک بڑا انتظامی سوال بن رہی ہے کہ ایک طرف ڈاکٹرز اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاج کو وسعت دے رہے ہیں اور دوسری طرف سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کا نظام بھی معمول کے مطابق چلانا ضروری ہے۔ سیاسی محاذ پر مسلسل احتجاج، مارچ اور تصادم کی فضا پہلے ہی صوبائی انتظامیہ کے لیے ایک اضافی دباؤ بن چکی ہے، ایسے میں ڈاکٹروں کے احتجاج کو بھی محض ایک انتظامی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ سامنے آ رہا ہے۔
6 اکتوبر کا احتجاج اسی لیے اہم ہے کہ اس سے واضح ہوگا کہ ینگ ڈاکٹرز اپنے مطالبات کے لیے آئندہ احتجاج کو کس سمت لے جاتے ہیں اور صوبائی حکومت اس دباؤ کا کیا جواب دیتی ہے۔ اگر مذاکرات کا راستہ نہ کھلا تو احتجاج کے مزید پھیلنے اور لانگ مارچ کی طرف بڑھنے کا امکان صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، جبکہ اس پورے تنازع میں اصل قیمت بہرحال ان مریضوں کو ادا کرنا پڑے گی جو حکومت اور ڈاکٹرز کے درمیان جاری اختلاف سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔
ینگ ڈاکٹرز نے اعلان کیا ہے کہ وہ 6 اکتوبر کو صبح 11 بجے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں احتجاج کریں گے اور اپنے مطالبات، حکومت کے رویے اور آئندہ کے لائحۂ عمل کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کریں گے۔
واپس کریں