نصیب جان کیس: ایف آئی آر کے الزام سے عدالت کے بیان تک، اصل حقیقت کہاں ہے؟

(پشاور) رپورٹ خالد خان
صوابی میں پولیس چوکی کھنڈہ کے انچارج نصیب جان کے خلاف دو بہنوں کے مبینہ اغوا، حبسِ بے جا، تشدد، بلیک میلنگ اور نازیبا ویڈیوز بنانے کے الزامات پر درج مقدمے نے ایک ہی دن میں ایسا رخ اختیار کرلیا ہے جس کے بعد اس معاملے کو محض ایک پولیس اہلکار کے خلاف درج ایف آئی آر کی بنیاد پر دیکھنا ممکن نہیں رہا۔ ایک طرف مدعیہ فاطمہ کی جانب سے درج ایف آئی آر میں سنگین الزامات عائد کیے گئے، دوسری طرف اس کی بہن آمنہ، جسے ایف آئی آر میں مبینہ طور پر حبسِ بے جا میں قرار دیا گیا تھا، 5 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہوگئی اور اس نے دفعہ 164 ضابطۂ فوجداری کے تحت اپنے بیان میں اغوا ہونے کی تردید کردی۔
اس نئی پیش رفت نے معاملے کی نوعیت ہی بدل دی ہے۔
تھانہ زیدہ میں درج ایف آئی آر نمبر 531/26 کے مطابق فاطمہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ اپنی بہن آمنہ کے ہمراہ 11 جون کو گھریلو ناچاقی کے باعث کوٹھا سے اسلام آباد جانے کے لیے نکلی تھیں، تاہم کھنڈہ کے مقام پر پولیس اہلکار نصیب جان نے مبینہ طور پر انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھایا اور شاہ منصور لے گیا۔ فاطمہ کے مطابق دونوں بہنوں کو وہاں ایک بنگلے میں تقریباً ایک ماہ رکھا گیا، تشدد کیا گیا، مختلف افراد کو ان کے پاس لایا گیا، ان کی نازیبا ویڈیوز بنائی گئیں اور انہیں دھمکایا اور بلیک میل کیا جاتا رہا۔ اس کے بعد دونوں کو اسلام آباد منتقل کرنے اور وہاں بھی حبسِ بے جا میں رکھنے کا الزام عائد کیا گیا۔
فاطمہ کے مطابق 2 اکتوبر کو اسے موقع ملا تو اس نے والدین سے رابطہ کیا اور وہاں سے فرار ہوکر گھر پہنچ گئی، جبکہ اس کی بہن آمنہ بدستور نصیب جان کے قبضے میں تھی۔ انہی الزامات کی بنیاد پر نصیب جان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
یہاں تک معاملہ ایف آئی آر میں درج الزام کی صورت میں تھا۔ لیکن 5 اکتوبر کو صورت حال اس وقت یکسر تبدیل ہوگئی جب آمنہ عدالت میں پیش ہوگئی۔
عدالتِ ایڈیشنل سیشن جج-II صوابی کے روبرو آمنہ نے دفعہ 164 ضابطۂ فوجداری کے تحت بیان ریکارڈ کراتے ہوئے اپنے اغوا کی تردید کی۔ اس کے مطابق وہ اور اس کی بہن 11 جون کو اپنی مرضی سے گھر سے نکلی تھیں کیونکہ والدین کے مبینہ منشیات کے کاروبار پر ان کے درمیان اختلاف تھا۔ آمنہ نے بتایا کہ دونوں بہنیں شاہ منصور میں کرائے کے مکان میں رہیں اور 11 جولائی کو وہاں سے اسلام آباد منتقل ہوگئیں۔
آمنہ کے مطابق 2 اکتوبر کو اس کا اپنی بہن فاطمہ سے جھگڑا ہوا، جس کے بعد فاطمہ والدین کے گھر واپس چلی گئی جبکہ وہ خود اسلام آباد میں رہتی رہی۔ اس نے پولیس اہلکار نصیب جان کی جانب سے اغوا، ویڈیو بنانے یا کسی مبینہ تعلق کی بھی تردید کی اور عدالت کو بتایا کہ وہ اسلام آباد میں اپنی مرضی سے رہ رہی ہے اور ایک شاپنگ مال میں کمپیوٹر آپریٹر کی حیثیت سے ملازمت کررہی ہے۔ اس نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ وہ آئندہ بھی اپنی مرضی سے اسلام آباد میں رہنا چاہتی ہے۔
اسی روز نصیب جان نے بھی عدالتِ ایڈیشنل سیشن جج-II صوابی سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی۔
اب اس کیس کا اصل سوال یہ نہیں کہ ایف آئی آر میں کیا لکھا گیا یا عدالت میں کیا بیان دیا گیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ دونوں میں سے حقیقت کیا ہے؟
فاطمہ کا بیان اور آمنہ کا بیان بنیادی طور پر ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ ایک بیان کے مطابق دونوں بہنیں زبردستی اٹھائی گئیں، کئی ماہ حبسِ بے جا میں رہیں اور ان کے ساتھ سنگین جرائم کیے گئے، جبکہ دوسرے بیان کے مطابق دونوں اپنی مرضی سے گھر سے نکلیں، اپنی مرضی سے شاہ منصور میں رہیں، پھر اپنی مرضی سے اسلام آباد منتقل ہوئیں اور آمنہ اب بھی اپنی مرضی سے وہاں رہ رہی ہے۔
ایسی صورت میں کسی ایک فریق کے بیان کو صرف اس بنیاد پر حتمی سچ قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا کہ وہ پہلے سامنے آیا اور دوسرے کو صرف اس لیے جھوٹا قرار دینا بھی درست نہیں کہ اس نے بعد میں عدالت میں بیان دیا۔
دونوں بیانات کی آزادانہ اور شواہد کی بنیاد پر جانچ ضروری ہے۔
مثلاً اگر دونوں بہنیں 11 جون سے 11 جولائی تک شاہ منصور میں کسی مکان میں رہیں تو اس مکان کا کرایہ نامہ، مالک مکان، پڑوسیوں کے بیانات، بجلی یا پانی کے استعمال کا ریکارڈ، موبائل فون کا مقام اور رابطوں کا ریکارڈ بہت کچھ واضح کرسکتا ہے۔ اسی طرح اسلام آباد میں ان کی رہائش، آمدورفت، ملازمت، روزمرہ موجودگی اور رابطوں کا ریکارڈ بھی اس سوال کا جواب دینے میں مدد دے سکتا ہے کہ وہ وہاں اپنی مرضی سے رہ رہی تھیں یا کسی کے دباؤ میں۔
اگر نازیبا ویڈیوز بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے تو پھر ویڈیوز کی موجودگی، ان کے بننے کا وقت، موبائل فون یا دیگر آلات، ڈیجیٹل مواد اور اس سے متعلق تکنیکی شواہد کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔ اگر ایسے شواہد موجود نہیں تو اس الزام کی حقیقت بھی واضح ہونی چاہیے اور اگر موجود ہیں تو ان کی فرانزک جانچ ضروری ہے۔
اسی طرح اگر آمنہ نے عدالت کے روبرو آزادانہ طور پر بیان دیا ہے تو یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ وہ کس حالت میں عدالت پہنچی، اس کی کسی پر کوئی شکایت تو نہیں، اور کیا اس نے اپنا بیان کسی دباؤ، خوف یا اثراندازی کے بغیر دیا۔ عدالت میں ریکارڈ ہونے والا بیان یقیناً اہم شہادت ہے، لیکن کسی بھی ایک بیان کو مکمل تفتیش اور دیگر شواہد کا متبادل نہیں بنایا جاسکتا۔
اس معاملے میں پولیس کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ الزام خود پولیس کے ایک اہلکار پر عائد ہوا ہے۔ اس لیے تفتیش ایسی ہونی چاہیے جس پر کسی فریق کو یہ اعتراض نہ ہو کہ پولیس نے اپنے پیٹی بھائی کو بچانے یا کسی شکایت کنندہ کو غلط ثابت کرنے کے لیے جانبداری اختیار کی۔
نصیب جان بے گناہ ہے یا قصوروار، اس کا فیصلہ تفتیش اور عدالت کرے گی۔ اسی طرح فاطمہ کا الزام درست ہے یا آمنہ کا عدالتی بیان، اس کا فیصلہ بھی شواہد ہی کرسکتے ہیں۔
البتہ ایک بات واضح ہے کہ اس کیس میں کسی ایک بیان کی بنیاد پر فوری نتیجہ اخذ کرنا انصاف نہیں ہوگا۔
اگر فاطمہ کا الزام درست ہے تو اس کے بیان کے مطابق اتنے عرصے تک دو خواتین کی مبینہ قید، منتقلی اور تشدد میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔ اور اگر آمنہ کا عدالتی بیان حقیقت پر مبنی ہے تو پھر ایک پولیس اہلکار پر انتہائی سنگین الزامات عائد کرنے کے پس منظر، محرکات اور ایف آئی آر میں بیان کردہ واقعات کی حقیقت بھی سامنے لانا ضروری ہوگا۔
یہ معاملہ اب صرف نصیب جان کا نہیں رہا۔ یہ اس بات کا امتحان بھی ہے کہ ہماری پولیس، تفتیشی نظام اور عدالت ایک دوسرے سے متصادم بیانات کے درمیان حقیقت تک کیسے پہنچتے ہیں۔
خبر کا کام الزام کو فیصلہ بنانا نہیں، بلکہ الزام کو الزام اور بیان کو بیان ہی رکھنا ہے۔ فیصلہ شواہد اور عدالت کا کام ہے۔
اس وقت دستیاب معلومات کی بنیاد پر اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ نصیب جان کے خلاف سنگین الزامات پر مقدمہ درج ہوا، بعد ازاں نامزد اہلکار نے ضمانت حاصل کی، اور جس آمنہ کو ایف آئی آر میں مبینہ طور پر حبسِ بے جا میں قرار دیا گیا تھا وہ عدالت میں پیش ہوکر اپنے اغوا کی تردید کرچکی ہے۔
اب اصل کہانی ایف آئی آر اور عدالتی بیان کے درمیان کہیں موجود ہے۔
اور اسے تلاش کرنے کا واحد درست راستہ یہی ہے کہ دونوں کو نہ مقدس سمجھا جائے، نہ مشکوک؛ دونوں کو شواہد کے ترازو پر رکھا جائے۔
واپس کریں