کشمیر بھارت کا کبھی اٹوٹ انگ تھا نہ ہوگا ۔ سرفراز احمد

اقوام متحدہ میں پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری سرفراز احمد نے دوٹوک کہا ہے کہ جموں و کشمیر نہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اور نہ ہوگا۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں بھارتی نمائندے کے بیان پر حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر بھارت کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی ضمانت سلامتی کونسل کی قراردادوں میں موجود ہے۔ سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ بھارت قراردادوں پر عمل درآمد سے انکار کرکے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے جبکہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد منظم شکل اختیار کرچکا ہے۔ بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گرد گروہوں کی معاونت اور مالی سرپرستی کر رہا ہے۔ پاکستان مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پُرعزم ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ کشمیری عوام تقریباً آٹھ دہائیوں سے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔بھارت ایک بار پھر اقوام متحدہ کے فورم پر جموں و کشمیر کو اپنا ’’اٹوٹ انگ‘‘ قرار دے کر اس حقیقت سے فرار کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ مسئلہ آج بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ایک بین الاقوامی تنازعہ کے طور پر موجود ہے۔ بھارت کی مشکل یہ ہے کہ وہ ایک طرف خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے اور دوسری طرف کشمیریوں کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینے سے مسلسل انکار کرتا آیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پالیسی کا ایک اہم ہتھیار صرف سکیورٹی فورسز ہی نہیں بلکہ اطلاعات اور بیانیے پر کنٹرول بھی ہے۔ عالمی جریدے ’’دی ڈپلومیٹ‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی گودی میڈیا کشمیر میں احتجاج اور عوامی بے چینی کو اس کے مقامی سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے مظاہرین کو غیر ملکی ایجنڈے کا مہرہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد واضح دکھائی دیتا ہے: اگر کشمیری احتجاج کریں تو ان کے مطالبات پر بات کرنے کے بجائے احتجاج کو پاکستان یا کسی بیرونی قوت سے جوڑ دیا جائے۔ یوں اصل مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور بھارتی ریاست کو سخت اقدامات کے لیے ایک تیار جواز مل جاتا ہے۔ کشمیر میں اختلافِ رائے کو قومی سلامتی کا مسئلہ بنا دینا بھارت کے لیے نیا حربہ نہیں، بلکہ برسوں سے اسی بیانیے کے ذریعے سیاسی مزاحمت کو مشکوک بنانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔نئی دہلی ایک طرف پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگا کر عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دوسری جانب خود پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔افغانستان کی طالبان رجیم، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے بھارت کی پراکسی کے طور پر پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس معاملے کو عالمی فورمز پر اٹھاتا رہا ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے عالمی برادری کے سامنے ایک اہم تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق اور عالمی قانون کے اصول ایک جگہ نافذ اور دوسری جگہ نظرانداز نہیں کیے جاسکتے۔ اگر فلسطینی عوام کا حقِ خودارادیت ناقابلِ تنسیخ ہے تو یہی اصول جموں و کشمیر کے عوام پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ بھارت مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے داخلی معاملہ قرار دے کر عالمی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ اگر کشمیر واقعی بھارت کا ایسا ہی غیر متنازعہ ’’اٹوٹ انگ‘‘ ہے جیسا دہلی دنیا کو باور کراتا ہے تو پھر کشمیریوں کو آزادانہ طور پر اپنی سیاسی رائے کے اظہار سے خوف کیوں؟ احتجاج کو بیرونی سازش قرار دینے، میڈیا کے ذریعے مخالف آوازوں کو دبانے اور پاکستان پر ہر مسئلے کا ملبہ ڈالنے سے تنازعہ ختم نہیں ہوگا۔ کشمیر کا مسئلہ پروپیگنڈے سے پیدا ہوا تھا نہ پروپیگنڈے سے ختم ہوگا؛ اس کا پائیدار حل کشمیری عوام کی خواہشات، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی روشنی میں ہی تلاش کرنا ہوگا۔
واپس کریں