
پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد کی جانب احتجاجی لانگ مارچ پر یہی ایک سوال اور اسے بار بار اٹھایا جاتا ہے کہ اس جلوس میں افغان دہشت گرد آئیں گے جو اسلام آباد میں پہنچ کر یا راستے میں خود کش دھماکے یا دہشت گردی کریں گے۔وزیر داخلہ سمیت حکومتی عہدیداران چند دنوں سے یہی ایک راگ الاپ رہے ہیں کہ خفیہ اداروں کی اطلاعات یہی ہیں۔
پہلی بات کہ اس ضمن میں اگر پی ٹی آئی کی جانب سے دہشت گرد افغانستان یا کہیں اور سے خیبر پختون خواہ میں بلائے گئے ہیں تو بارڈرز پر کون پہرے دار ہے؟ وفاقی حکومت کے زیر کنٹرول خفیہ ایجنسیاں کہاں ہیں جن کا کام ہی ملک میں آنے اور جانیوالوں پر کڑی نظر رکھنا ہے،چاہے وہ ائرپورٹ ہوں یا زمینی سرحدات! مذکورہ ادارے یا قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے اس ضمن میں کہاں ہیں کہ افغان دہشت گرد پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں شامل ہوں گے اور دہشت گردی کریں گے؟ سرکار کی جانب سے بلیک میلنگ اور ڈراوا دینے کی یہ سب وہ باتیں ہیں جو ہر حکومت اپنے وقت کی اپوزیشن کے احتجاج یا لانگ مارچ کو روکنے کے لیئے کہتی ہے، اس لیئے یہ کوئی نیا تھریٹ یا ڈراوا نہیں ہے اور اگر کوئی تھریٹ حقیقت پر مبنی ہے تو پھر وہی بات کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور طاقت ور ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں؟
امر واقع یہ ہے کہ اسلام آباد اور اس کے گرد ونواح میں پی ٹی آئی لانگ مارچ کو روکنے کے لیئے بھاری حکومتی بندوبست پہلے سے ہی یہ ظاہر کر رہا تھا کہ لانگ مارچ ضرور ہو گا،کل جب حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات کا دوسرا دور بھی ناکام ہوا تو ناچیز نے اپنے دوست سے شرط جیتی اور اس سے بسکٹ اور چائے پی۔ کروڑوں روپے کر کے ایسے وسیع حکومتی بندوبست کے بعد مذاکرات بھلا کہاں کامیاب ہو سکتے تھے اور کامیاب ہونا بھی نہیں تھا،مذاکرات بس ایک رسمی کاروائی تھی یعنی محض فار میلیٹی کہ بعد میں اپوزیشن یا عالمی میڈیا یہ واویلا نہ کرے کہ حکومت نے مذاکرات کرنے میں پہل نہیں کی یا حکومت نے پی ٹی آئی سے بات چیت کا دروازہ بند کر دیا۔
سیاست میں کچھ حرف آخر نہیں اور خاص طور پر ہمارے ہاں لیکن ناچیز پہلے بھی عرض چکا ہے کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ ہو گا، جس کا آج ڈیرہ اسماعیل خان سے آغاز ہو چکا ہے وہ اسلام آباد بھی پہنچے گا لیکن اس کے نتائج غیر معمولی ہوں گے۔خدا خیر کرے لیکن خیال ہے کہ جانی نقصان ہو گا اور اس کا ملبہ پی ٹی آئی پر گرا کر اسے دہشت گرد جماعت اور پھر کالعدم قرار دینے اور پھر صوبہ خیبر پختون خواہ میں ایمر جنسی یا گورنر راج لگانے کے لیئے کوئی ٹھوس جواز تو درکار ہو گا۔ مذکورہ جواز بنانے کے لیئے کیا کچھ کرنا پڑ رہا ہے، ہم سب دیکھ رہے ہیں لیکن اس جواز کا نتیجہ اگلے انتخابات میں آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کے الیکشن سے بھی زیادہ سرپرائز دے گا،لکھ رکھیئے۔
واپس کریں