لانگ مارچ یا خانہ جنگی اور دہشت گردی کی طرف اٹھتے ہوئے قدم؟

تجزیہ خالد خان ۔ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کو اگر صرف عمران خان سے ملاقات، ان کے علاج یا سیاسی قیدیوں کی رہائی کے مطالبات تک محدود کرکے دیکھا جائے تو اس بحران کی اصل نوعیت شاید سمجھ میں نہ آئے۔ اصل اختلاف اس سے کہیں آگے ہے اور اب یہ اختلاف صاف طور پر دو مختلف ریاستی تصورات کے درمیان کھڑا نظر آرہا ہے۔ ایک طرف وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی پر کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے، ٹی ٹی پی سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں کی واضح مذمت ہونی چاہیے، صوبائی حکومت دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ ہونے دے، وفاقی پالیسی اور قومی ایکشن پلان پر عمل کرے اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ان شرائط پر آخری مرحلے میں پیچھے ہٹ گئی اور مذاکرات کا نتیجہ لانگ مارچ کی صورت میں سامنے آگیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے مذاکرات کے آخری مرحلے میں سکیورٹی سے متعلق اپنی پہلے سے طے شدہ یقین دہانیوں سے دستبرداری اختیار کی، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنا سات نکاتی مسودہ سامنے رکھتے ہوئے سیاسی اور انسانی حقوق کے معاملات کو بنیادی شرط قرار دیا۔
یہ بھی اب ریکارڈ کا حصہ ہے کہ تحریک انصاف کے پیش کردہ مسودے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے قانونی، انسانی اور طبی حقوق، خاندان اور نامزد وکلا سے ملاقات، قانونی درخواستوں پر بروقت کارروائی اور سیاسی مقدمات سے متعلق معاملات شامل تھے۔ اسی مسودے میں وفاق اور صوبے کے درمیان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مسلسل مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کی بات بھی موجود تھی۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کی طرف سے جن سکیورٹی شرائط کا ذکر کیا گیا ان میں ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی غیر مبہم مذمت، دہشت گردوں کو صوبے میں آزادانہ سرگرمی یا محفوظ پناہ گاہیں نہ دینے، انسداد دہشت گردی کے لیے وسائل بڑھانے، قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد، افغان پالیسی میں وفاق کے ساتھ تعاون اور سکیورٹی معاملات کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے جیسے نکات شامل تھے۔
یہاں اصل سوال یہی ہے کہ جب عمران خان تک قانونی اور طبی رسائی، خاندان اور وکلا سے ملاقات اور دیگر سیاسی و انسانی معاملات پر مذاکرات میں پیش رفت کی گنجائش پیدا ہوگئی تھی تو پھر آخری مرحلے میں وہ کون سا نکتہ تھا جس پر بات ٹوٹ گئی۔ دستیاب تفصیلات بتاتی ہیں کہ بنیادی تعطل دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمت عملی پر تھا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی تنازع اپنی معمول کی حد سے نکل کر قومی سلامتی کے مسئلے سے جڑ جاتا ہے۔ کیونکہ عمران خان سے ملاقات یا سیاسی کارکنوں کی رہائی ایک سیاسی و قانونی مسئلہ ہے، لیکن کسی مسلح دہشت گرد تنظیم کے بارے میں ریاستی پالیسی کسی سیاسی جماعت کی مرضی یا مصلحت کے تابع نہیں ہوسکتی۔
اب اس کے فوراً بعد خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا اعلان کیا اور 4 اکتوبر کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے قافلہ روانہ ہوگیا۔ بظاہر یہ عمران خان کی رہائی اور تحریک انصاف کے سیاسی مطالبات کے لیے احتجاجی مارچ ہے، لیکن اس مارچ کا راستہ اس کے سیاسی مفہوم کو ایک بڑے سکیورٹی سوال میں تبدیل کردیتا ہے۔ لکی مروت سے شروع ہونے والا یہ قافلہ ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، بنوں اور دوسرے جنوبی اضلاع سے آنے والے افراد کو اپنے ساتھ ملاتا ہوا کرک اور کوہاٹ کی طرف بڑھے گا۔ پھر ہنگو، کرم اور اورکزئی کے کارکن اس میں شامل ہوں گے، اس کے بعد پشاور، بڈھ بیر، خیبر، چارسدہ اور مہمند کے لوگ قافلے کا حصہ بنیں گے اور 8 اکتوبر کو خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے آنے والے افراد خیرآباد میں جمع ہوں گے، جہاں مارچ کے اگلے مرحلے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ راستہ محض ایک سیاسی نقشہ نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کا وہ سکیورٹی جغرافیہ ہے جہاں ریاست گزشتہ کئی برس سے دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی ہے۔ لکی مروت، بنوں، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، وزیرستان، کرک، ہنگو، اورکزئی اور کرم سے لے کر پشاور اور قبائلی اضلاع تک ایسے علاقے موجود ہیں جہاں دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں اور ان کے سہولت کار نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں ہوتی رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک ایسا سیاسی قافلہ جو مختلف اضلاع سے لوگوں کو راستے میں شامل کرتا ہوا کئی دن تک حرکت کرتا رہے، سکیورٹی کے نقطۂ نظر سے معمول کا سیاسی اجتماع نہیں رہتا۔
یہاں ایک بات بالکل واضح رہنی چاہیے۔ میں یہ دعویٰ نہیں کررہا کہ لانگ مارچ میں دہشت گرد شامل ہیں یا تحریک انصاف کے ہر کارکن کا دہشت گردی سے کوئی تعلق ہے۔ ایسا الزام ثبوت کے بغیر نہ صحافت ہے اور نہ تحقیق۔ لیکن میں یہ سوال ضرور اٹھا رہا ہوں کہ جن علاقوں سے یہ قافلہ گزر رہا ہے وہاں دہشت گرد موجود ہیں، ان کے سہولت کار موجود ہیں اور بعض علاقوں میں ان کے نیٹ ورک کے خلاف ریاست مسلسل کارروائی کررہی ہے تو کیا صوبائی حکومت اس بات کی مکمل ضمانت دے سکتی ہے کہ اس بڑے اور مسلسل متحرک سیاسی اجتماع میں کوئی دہشت گرد یا سہولت کار داخل نہیں ہوگا؟ اگر ایسی ضمانت نہیں دی جاسکتی تو اس خطرے کو محض سیاسی احتجاج کہہ کر نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔
خطرہ یہاں کسی ایک شخص کے قافلے میں شامل ہونے کا نہیں بلکہ اس پورے انتظام کا ہے جس میں مختلف حساس علاقوں سے چھوٹے بڑے جلوس ایک مرکزی سیاسی اجتماع کا حصہ بنتے جائیں گے۔ اگر ریاستی ادارے کسی بڑے اجتماع کے ہر فرد کے بارے میں پیشگی یقین دہانی نہیں کراسکتے تو پھر یہ ایک حقیقی سکیورٹی مسئلہ ہے۔ بالخصوص اس وقت جب خود وفاقی حکومت مذاکرات میں خیبرپختونخوا حکومت سے یہ تحریری یقین دہانی مانگ رہی تھی کہ دہشت گردوں کو صوبے میں آزادانہ سرگرمی یا محفوظ پناہ گاہیں نہیں دی جائیں گی اور ٹی ٹی پی سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں کی واضح مذمت کی جائے گی۔
یہاں تحریک انصاف اور ٹی ٹی پی کو ایک ہی تنظیم یا ایک ہی ادارہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ دونوں الگ نوعیت کی قوتیں ہیں اور کسی تنظیمی اتحاد کا دعویٰ ثبوت کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن سیاسی تجزیے کا ایک بنیادی سوال بہرحال موجود ہے کہ اگر ایک طرف ریاست ٹی ٹی پی کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس کے خلاف کارروائی کو اپنی قومی سلامتی کی پالیسی کا مرکزی حصہ سمجھتی ہے اور دوسری طرف صوبائی حکومت اسی واضح مذمت اور وفاقی انسداد دہشت گردی پالیسی کے ساتھ مکمل وابستگی کی یقین دہانی دینے سے گریز کرتی ہے تو اس سیاسی فاصلے کے نتائج کیا ہوں گے؟ یہی وہ سوال ہے جس نے مذاکرات کو محض عمران خان کی ملاقات کے مسئلے سے نکال کر دہشت گردی کے مسئلے تک پہنچا دیا ہے۔
اس تناظر میں تحریک انصاف کا لانگ مارچ صرف اسلام آباد جانے والی سیاسی ریلی نہیں رہتا۔ اس کی جغرافیائی ساخت خود ایک سوال بن جاتی ہے۔ 4 اکتوبر سے 8 اکتوبر تک مختلف اضلاع سے قافلوں کا شامل ہونا اور پھر خیرآباد میں صوبے بھر کے لوگوں کا اکٹھا ہونا اس مارچ کو بتدریج بڑا بناتا ہے۔ ریاست کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ اس پورے عمل کے دوران سیاسی کارکنوں کے پرامن احتجاج کے حق کو برقرار رکھتے ہوئے دہشت گردوں اور سہولت کاروں کی ممکنہ دراندازی کو کیسے روکا جائے۔ یہ سوال تحریک انصاف سے بھی ہے اور حکومت سے بھی، لیکن اس کی سب سے بڑی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ یہ سب کچھ اسی صوبے کے اندر ہورہا ہے جس کی انتظامی سربراہی تحریک انصاف کے پاس ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ صورتحال کا سب سے بڑا تضاد سامنے آتا ہے۔ ایک طرف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا خود اس مارچ کی قیادت کررہے ہیں، دوسری طرف صوبے کی انتظامیہ اور پولیس مختلف مقامات پر راستے بند کررہی ہے، کنٹینر لگا رہی ہے، دفعہ 144 نافذ کی جارہی ہے اور قافلوں کو روکنے کے انتظامات کیے جارہے ہیں۔ اگر یہ اقدامات وفاقی دباؤ کے نتیجے میں صوبائی انتظامیہ کررہی ہے تو سوال وزیراعلیٰ کی انتظامی رٹ کا ہے، اور اگر یہ اقدامات صوبائی حکومت کی مرضی سے ہورہے ہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ ایک طرف مارچ کی قیادت اور دوسری طرف اسے روکنے والے انتظامی ڈھانچے کو ایک ہی وقت میں کیسے چلا رہے ہیں۔ یہ محض سیاسی تضاد نہیں بلکہ صوبائی نظم و نسق کے بارے میں ایک بنیادی سوال ہے۔
لیکن اس سے بھی زیادہ اہم سوال وقت کا ہے۔ اگر ریاستی اداروں کو یہ خدشہ ہے کہ موجودہ سیاسی اجتماع سکیورٹی کے لیے خطرہ پیدا کرسکتا ہے تو اس خطرے سے نمٹنے کا وقت 8 اکتوبر کو خیرآباد پہنچنے کے بعد نہیں ہوگا۔ اس وقت تک مختلف اضلاع سے ہزاروں لوگ ایک مرکزی اجتماع کا حصہ بن چکے ہوں گے، سیاسی کشیدگی کئی گنا بڑھ چکی ہوگی اور انتظامیہ کے لیے کسی بھی بڑے فیصلے کی سیاسی اور انسانی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔ اگر حکومت کے نزدیک یہ مارچ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے تو اس خطرے کا تدارک مارچ کے بڑے اجتماع میں تبدیل ہونے سے پہلے ہونا چاہیے؛ اور اگر حکومت اسے پرامن سیاسی احتجاج سمجھتی ہے تو پھر اسے بھی واضح اور قابلِ عمل سکیورٹی انتظامات کے ساتھ احتجاج کا حق دینا ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ معاملے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی بحث بھی اپنے وقت کے حوالے سے اہم ہے۔ اگر کوئی غیر معمولی آئینی یا انتظامی قدم اٹھانا ہے تو اس کا فیصلہ کسی بڑے تصادم کے بعد نہیں بلکہ آئینی تقاضوں، زمینی حالات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر پہلے کیا جاتا ہے۔ 8 اکتوبر کو خیرآباد میں صوبے کے مختلف حصوں سے قافلے جمع ہونے کے بعد کوئی بھی اچانک اقدام حالات کو سنبھالنے کے بجائے مزید پیچیدہ کرسکتا ہے۔ دوسری طرف محض سیاسی خطرے کے نام پر صوبائی حکومت کے خلاف غیر معمولی قدم اٹھانا بھی آئینی اور سیاسی سوالات پیدا کرے گا۔ اس لیے اصل ضرورت واضح ثبوت، واضح ذمہ داری اور بروقت فیصلہ سازی کی ہے۔
اس پوری صورتحال کو صرف عمران خان کی رہائی یا تحریک انصاف اور وفاقی حکومت کی لڑائی سمجھنا خطرناک حد تک سطحی تجزیہ ہوگا۔ ایک طرف سیاسی مطالبات ہیں، دوسری طرف دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی ہے، درمیان میں خیبرپختونخوا کی ایک منتخب صوبائی حکومت ہے، اور اسی صوبے میں ایسے علاقے موجود ہیں جہاں ریاست اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان جنگ جاری ہے۔ اگر سیاسی جماعت اور ریاستی اداروں کے درمیان دہشت گردی کے معاملے پر بنیادی اختلاف اس حد تک پہنچ جائے کہ ایک فریق دوسرے کی سکیورٹی پالیسی کو قبول کرنے سے انکار کردے تو اس کے نتائج محض پارلیمانی سیاست تک محدود نہیں رہتے۔
اس وقت سب سے خطرناک امکان یہ نہیں کہ ایک سیاسی جماعت کا لانگ مارچ کامیاب ہوگا یا ناکام۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ کہیں سیاسی محاذ آرائی کے نتیجے میں ریاستی توجہ، انتظامی قوت اور سکیورٹی مشینری کا ایک بڑا حصہ آپس کی کشمکش میں الجھ نہ جائے اور اسی دوران دہشت گرد تنظیموں کو اپنی سرگرمیوں کے لیے مزید جگہ مل جائے۔ اگر ایسا ہوا تو مسئلہ صرف ایک لانگ مارچ کا نہیں رہے گا۔ پھر معاملہ خیبرپختونخوا کے اندر سیاسی خلا، دہشت گردی کے پھیلاؤ، پنجاب کی سرحد تک سکیورٹی دباؤ اور بالآخر ریاستی رٹ کے سوال تک پہنچ سکتا ہے۔
اسی لیے اس وقت یہ سوال پوری شدت سے موجود ہے کہ یہ لانگ مارچ صرف ایک سیاسی احتجاج ہے یا ایسے سیاسی اور سکیورٹی بحران کی طرف بڑھتا ہوا قدم جس کے نتائج کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی پر واضح مؤقف، سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری، صوبائی حکومت کی انتظامی رٹ اور شہریوں کے پرامن احتجاج کے حق کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ان چاروں میں سے کسی ایک کو بھی سیاسی مفاد کے تابع کردیا گیا تو نقصان کسی ایک جماعت کا نہیں ہوگا۔
پاکستان میں سیاسی لڑائیاں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں، حکومتیں آتی جاتی رہی ہیں اور احتجاج بھی ہوتے رہے ہیں، لیکن دہشت گردی سے متاثرہ صوبے میں سیاسی کشمکش کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ یہاں ایک غلط سیاسی فیصلہ صرف حکومت گرانے یا بچانے تک محدود نہیں رہتا؛ اس کے نتیجے میں وہ خلا بھی پیدا ہوسکتا ہے جس میں غیر ریاستی مسلح قوتیں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔ اسی لیے آج فیصلہ صرف یہ نہیں کرنا کہ لانگ مارچ کو کیسے روکا جائے یا اسلام آباد تک کیسے پہنچنے دیا جائے۔ فیصلہ یہ کرنا ہے کہ سیاسی اختلاف کو کس طرح اس مقام تک پہنچنے سے روکا جائے جہاں سیاست کی پیدا کردہ کشیدگی کو دہشت گردی اپنے لیے موقع بنا لے۔
اور اگر واقعی ریاست کو یہ خدشہ ہے کہ سیاسی ہجوم کے پردے میں دہشت گرد عناصر یا ان کے سہولت کار اپنے نیٹ ورک کو متحرک کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں تو اس خطرے پر فیصلہ آج ہونا چاہیے، 8 اکتوبر کو خیرآباد پہنچنے کے بعد نہیں۔ کیونکہ اس وقت تک سوال صرف ایک جلوس کا نہیں رہے گا؛ سوال یہ ہوگا کہ کیا ریاست نے بروقت خطرے کو پہچانا تھا، یا اسے اس وقت سمجھا جب سیاسی ہجوم، انتظامی بحران اور سکیورٹی خطرہ ایک دوسرے میں گڈمڈ ہوچکے تھے۔
واپس کریں