ڈینگی کا مچھر ہر سال ہمارے دروازے پر دستک دیتا ہے اور ہم ہر سال ایسے چونکتے ہیں جیسے اسے پہلی مرتبہ دیکھا ہو۔ جس بیماری کے بارے میں ہم چند سال پہلے تک کچھ بھی نہیں جانتے تھے، وہ اب خیبرپختونخوا میں ہر سال آنے والا ایک باقاعدہ عوامی صحت کا مسئلہ بن چکی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مچھر اپنی تاریخ نہیں بھولتا، ہماری انتظامیہ ہر سال اپنی تیاری ازسرنو شروع کرتی دکھائی دیتی ہے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں رواں سال ڈینگی کے 2,219 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 100 کیسز سامنے آئے ہیں، جبکہ پشاور میں 329 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ کوہاٹ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے جہاں ایک ہزار سے زیادہ کیسز سامنے آچکے ہیں۔ ستمبر میں صوبے بھر میں 1,319 کیسز رپورٹ ہوئے جو رواں سال کسی ایک مہینے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
لیکن اصل خبر 2,219 نہیں۔ اصل خبر یہ ہے کہ ہم نے ڈینگی کو ایک مستقل مسئلہ تسلیم کرنے کے باوجود اسے مستقل انتظامی نظام کا حصہ کیوں نہیں بنایا؟
ڈینگی کے خلاف جنگ مریض کے ہسپتال پہنچنے کے بعد شروع نہیں ہوتی۔ اصل جنگ اس وقت شروع ہوتی ہے جب مچھر پیدا بھی نہیں ہوا ہوتا۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ڈینگی کی روک تھام میں بنیادی اہمیت مچھروں کی افزائش گاہوں کے خاتمے، پانی جمع ہونے سے روکنے، ماحول کی نگرانی، لاروا اور بالغ مچھروں کے تدارک اور مسلسل نگرانی کو حاصل ہے۔ صرف بیماری سامنے آنے کے بعد کارروائی کرنا کافی نہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔
گھر کے صحن میں پڑا ہوا پرانا ٹائر، چھت پر جمع پانی، کھلا ڈرم، پھینکی ہوئی بوتل، تعمیراتی مقام پر جمع پانی یا گلی محلے میں ایسا مقام جہاں مچھر افزائش کرسکتا ہے، بظاہر معمولی چیزیں ہیں لیکن یہی معمولی چیزیں کسی بڑے وبائی مسئلے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت واضح طور پر کہتا ہے کہ افزائش گاہوں کا خاتمہ ڈینگی سے بچاؤ کا بنیادی ذریعہ ہے اور گھریلو سطح پر پانی رکھنے والے برتنوں کو ڈھانپنا، خالی کرنا اور صاف کرنا باقاعدگی سے ضروری ہے۔
اس لیے ڈینگی کی ذمہ داری صرف محکمہ صحت پر ڈال کر حکومت بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔ صفائی، نکاسی آب، بلدیاتی انتظام، تعمیراتی مقامات، پانی ذخیرہ کرنے کے طریقے، کچرے کا انتظام اور شہری رویے سب اس مسئلے کا حصہ ہیں۔ ایک مچھر صحت کے محکمے کا مریض پیدا نہیں کرتا؛ پورا شہری ماحول اس کے لیے جگہ بناتا ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ صرف دھواں چھوڑتی ہوئی گاڑیوں کے ساتھ ایک دو دن کی مہم کو ڈینگی کنٹرول نہیں کہا جاسکتا۔ سپرے اپنی جگہ ضروری ہوسکتا ہے، لیکن مستقل کامیابی کے لیے مچھروں کی افزائش گاہیں ختم کرنا، لاروا کی نگرانی، متاثرہ علاقوں کی نقشہ بندی، گھر گھر جائزہ، مسلسل اعداد و شمار اور نتائج کی مانیٹرنگ ضروری ہے۔ عالمی ادارۂ صحت بھی ڈینگی کے لیے اسی مربوط طریقۂ کار پر زور دیتا ہے جس میں ماحولیاتی انتظام، افزائش گاہوں کا خاتمہ، لاروا اور بالغ مچھروں کا کنٹرول اور مسلسل نگرانی شامل ہو۔
یہاں عوام کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ اگر کسی گھر، دکان، پلاٹ، تعمیراتی جگہ یا ادارے کی غفلت سے مچھر کی افزائش ہوتی ہے تو محض اپیل اور نصیحت کافی نہیں ہونی چاہیے۔ پہلے آگاہی، پھر تنبیہ اور اس کے بعد قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ البتہ اس کارروائی کا مقصد جرمانے جمع کرنا نہیں بلکہ افزائش گاہ ختم کرنا اور شہری ذمہ داری پیدا کرنا ہونا چاہیے۔
اس کے ساتھ حکومت کو اپنی توجہ علاج کے اگلے مرحلے پر بھی مرکوز کرنا ہوگی۔ ڈینگی کا مریض اس وقت سب سے زیادہ بے بس ہوتا ہے جب اسے بروقت تشخیص، مناسب طبی مشورہ یا قریبی مرکز صحت میں ضروری نگرانی میسر نہ ہو۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ڈینگی کا کوئی مخصوص علاج نہیں، لیکن بروقت تشخیص، خطرے کی علامات کی شناخت اور مناسب طبی نگہداشت شدید بیماری اور اموات کو کم کرسکتی ہے۔
اس لیے ڈینگی کے موسم میں صرف بڑے ہسپتالوں کو تیار کرنا کافی نہیں۔ بنیادی مراکز صحت تک ایسی سہولت، تربیت، تشخیصی صلاحیت اور حوالہ جاتی نظام پہنچنا چاہیے کہ ایک عام شہری کو ابتدائی مرحلے میں ہی مناسب رہنمائی مل سکے۔ غریب آدمی کے لیے پشاور کا بڑا ہسپتال ہمیشہ پہلا دروازہ نہیں ہوسکتا۔ اس کا پہلا دروازہ اس کے علاقے کا بنیادی مرکز صحت ہے۔
اور شاید سب سے اہم چیز منصوبہ بندی ہے۔
اگر گزشتہ برس ڈینگی کہاں پھیلا، کس محلے میں زیادہ کیسز آئے، کہاں لاروا ملا، کہاں سپرے ہوا، کہاں صفائی کا نظام ناکام رہا اور کہاں شہری تعاون نہیں کرسکے، اس سب کا ریکارڈ موجود ہے تو اگلے سال اسی معلومات سے پہلے ہی کارروائی کیوں نہیں شروع کی جاتی؟ بیماری کے اعداد و شمار صرف پریس ریلیز کے لیے نہیں ہوتے؛ وہ اگلے سال کی حکمت عملی بنانے کے لیے ہوتے ہیں۔
ایک ذمہ دار حکومت کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ڈینگی کا موسم آنے سے پہلے کون سے علاقے خطرے میں ہیں، کون سے مقامات پر پانی جمع ہوتا ہے، کون سے محکمے کو کیا کام کرنا ہے، کس افسر کی ذمہ داری کیا ہے اور ہر ہفتے یہ کیسے جانچا جائے گا کہ کام واقعی ہوا بھی ہے یا صرف کاغذ پر مکمل ہوا ہے۔
یہاں گورننس کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔
صوبائی حکومتیں سیاسی سرگرمیوں میں جتنی توانائی صرف کرتی ہیں، اس کا ایک حصہ اگر شہری صحت، صفائی، بنیادی مراکز صحت، نکاسی آب، مچھروں کی نگرانی اور انتظامی مانیٹرنگ پر مسلسل صرف ہو تو شاید ہر سال ڈینگی کی خبر کو اس طرح نہ پڑھنا پڑے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید سو مریض سامنے آگئے۔
احتجاج، جلسہ، سیاسی بیان اور سیاسی کشمکش جمہوری زندگی کا حصہ ہوسکتے ہیں، لیکن حکومت کی روزمرہ ذمہ داری ان سب سے الگ ہے۔ حکومت کا اصل کام یہ بھی ہے کہ شہری صبح گھر سے نکلے تو اسے صاف پانی ملے، گلی میں گندا پانی نہ ہو، بنیادی مرکز صحت موجود ہو، بیماری کی بروقت تشخیص ہو اور انتظامیہ کو اس وقت حرکت میں آنے کی ضرورت نہ پڑے جب مچھر پورے شہر میں اپنی آبادی قائم کرچکا ہو۔
ڈینگی کو قدرتی آفت سمجھ کر ہاتھ کھڑے نہیں کیے جاسکتے۔ مچھر قدرت کا حصہ ہے، مگر اس کے لیے افزائش کا ماحول پیدا کرنا ہمیشہ قدرتی مجبوری نہیں ہوتا۔
اور شاید ہمیں ہر سال ڈینگی کے اعداد و شمار جاری کرنے کے ساتھ ایک اور عدد بھی جاری کرنا چاہیے کہ کتنی ممکنہ افزائش گاہیں ختم کی گئیں، کتنے علاقوں کی نگرانی ہوئی، کتنے مقامات پر قانونی کارروائی ہوئی، کتنے بنیادی مراکز صحت تیار تھے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں کیا بہتر ہوا؟
کیونکہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ حکومت نے ڈینگی کے ہزاروں مریضوں کا علاج کرلیا۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ان ہزاروں لوگوں میں سے کتنے بیمار ہونے سے پہلے بچا لیے گئے۔
ڈینگی ہر سال آتا ہے۔
اب ہماری تیاری بھی ہر سال نئی نہیں ہونی چاہیے۔
واپس کریں