دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
320 تولے سونا، 1608 کنال زمین اور سرکاری فنڈ؛ گنڈاپور سے جواب مانگنے کا دائرہ کتنا وسیع ہے؟
No image (پشاور) تحقیقاتی رپورٹ خالد خان
نیب کے کسی نوٹس کو جرم کا فیصلہ سمجھنا درست نہیں، لیکن جب کسی سابق وزیراعلیٰ سے اس کے اثاثوں، سونے، زمینوں، گھروں، گاڑیوں، گھوڑوں، بینک لین دین اور سرکاری ترقیاتی منصوبوں تک ایک ہی تحقیق میں جواب طلب کیا جائے تو معاملہ محض ایک معمول کی طلبی تک محدود نہیں رہتا۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں سیاسی بیانات سے زیادہ اہمیت دستاویزات، مالی ریکارڈ اور رقم کے ذرائع کی ہوجاتی ہے۔
قومی احتساب بیورو خیبر پختونخوا کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو جاری کیے گئے تازہ طلبی نوٹس میں یہی غیر معمولی وسعت دکھائی دیتی ہے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق یہ اس معاملے میں چوتھا نوٹس ہے اور نیب نے گنڈاپور سے ذاتی اثاثوں کے ساتھ ساتھ سابق دور حکومت میں مبینہ طور پر سرکاری اختیارات اور فنڈز کے استعمال سے متعلق بھی وضاحت طلب کی ہے۔
سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی چیز 320 تولے سونے کی تفصیل ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کسی شخص کے پاس سونا ہونا جرم ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس کی خریداری کے لیے رقم کہاں سے آئی، خریداری کب ہوئی، ادائیگی کس ذریعے سے ہوئی اور کیا یہ سب متعلقہ مالی گوشواروں میں ظاہر کیا گیا تھا۔ یہی اصول زمین، مکان، گاڑی یا کسی دوسری قیمتی ملکیت پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
اسی طرح نوٹس میں ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں 1,608 کنال زمین کا ذکر ہے جو خریداری اور ہبہ کے ذریعے گنڈاپور کے نام منتقل ہونے کا بتایا گیا ہے۔ نیب نے اس زمین کے ذرائع آمدن، ادائیگی کے طریقے اور ہبہ کی وجوہات جاننے کے لیے دستاویزات طلب کی ہیں۔
یہاں ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے: خریدی ہوئی جائیداد کے لیے رقم کا ذریعہ دکھانا ہوتا ہے، جبکہ ہبہ کی صورت میں یہ جاننا ضروری ہوجاتا ہے کہ دینے والا کون تھا، کیوں دیا، ملکیت کیسے منتقل ہوئی اور اس منتقلی کی مالی و قانونی حیثیت کیا تھی۔ اگر تمام چیزیں ریکارڈ کے مطابق ہیں تو جواب بھی دستاویزات ہی سے آنا چاہیے۔
نوٹس میں 2022 میں ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک بڑے مکان کی خریداری کا بھی ذکر ہے جو مبینہ طور پر گنڈاپور کے والد کے نام خریدا گیا۔ نیب نے اس کے لیے رقم کے منبع اور ادائیگی کی تفصیلات مانگی ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان، نیو مری، اسلام آباد کے ایف سکس اور ایف سیون، نتھیا گلی، مکنیال اور ٹنڈو الہ یار سمیت مختلف مقامات پر جائیدادوں اور پلاٹوں کے بارے میں بھی معلومات طلب کی گئی ہیں۔
لیکن معاملہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ نوٹس میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور رہائشی منصوبوں میں سرمایہ کاری یا حصص، تعمیر و تزئین پر اخراجات، گاڑیوں کی خریداری، گھوڑوں کی خریداری اور ان کی دیکھ بھال تک کی تفصیلات شامل ہیں۔ یعنی نیب یہ جاننا چاہتا ہے کہ ملکیت کیا ہے ہی نہیں، بلکہ اس ملکیت تک پہنچنے والا مالی راستہ کیا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ اس معاملے کو صرف ’’320 تولے سونا‘‘ یا ’’1608 کنال زمین‘‘ کی سرخی میں بند کردینا اصل تصویر کو چھوٹا کردے گا۔
تازہ نوٹس کا دوسرا اور زیادہ اہم حصہ سابق صوبائی حکومت کے مالی معاملات سے متعلق ہے۔ نیب نے سیلاب متاثرین کے لیے مختص رقوم، ڈیرہ اسماعیل خان کی خوبصورتی کے منصوبے، مواصلات و تعمیرات، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور بلدیاتی محکموں کے ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز کے بارے میں بھی وضاحت طلب کی ہے۔ اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان کے میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن اور محکمہ تعلیم میں مبینہ غیر قانونی تقرریوں اور رشوت کے الزامات بھی نوٹس میں شامل ہیں۔
یہاں ذاتی اثاثوں اور حکومتی فیصلوں کے درمیان ایک واضح فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ کسی جائیداد کا ہونا بذاتِ خود بدعنوانی کا ثبوت نہیں اور کسی ترقیاتی منصوبے کا ذکر نیب کے نوٹس میں آ جانا بھی خردبرد ثابت نہیں کرتا۔ اصل سوال تحقیقات کے نتیجے میں پیدا ہوگا کہ آیا متعلقہ رقوم قانونی طریقے سے خرچ ہوئیں، منصوبے حقیقت میں مکمل ہوئے، ادائیگیاں قواعد کے مطابق ہوئیں اور جن لوگوں کو فائدہ پہنچا وہ قانونی و شفاف طریقے سے منتخب ہوئے یا نہیں۔
علی امین گنڈاپور اور ان کے بھائی فیصل امین گنڈاپور کا مؤقف بھی ریکارڈ پر ہے۔ فیصل امین کا کہنا ہے کہ گنڈاپور کے اثاثے وفاقی بورڈ آف ریونیو کے گوشواروں اور الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے ریکارڈ میں موجود ہیں اور اگر نیب کے پاس مزید معلومات یا شواہد ہیں تو انہیں سامنے لایا جائے۔ ان کے مطابق تازہ نوٹس 30 ستمبر کو موصول ہوا، جبکہ اس میں 25 ستمبر کو پیش ہونے کی تاریخ درج تھی۔
یہ اعتراض اپنی جگہ اہم ہے اور اس کا جواب بھی دستاویزی ریکارڈ سے ہی دیا جاسکتا ہے۔ اگر واقعی تمام اثاثے پہلے ہی قانونی گوشواروں میں ظاہر کیے گئے تھے تو اگلا سوال یہ بنتا ہے کہ نیب کو ان میں کون سی معلومات نامکمل، متضاد یا قابلِ وضاحت محسوس ہوئی۔ دوسری طرف اگر کوئی اثاثہ یا مالی لین دین گوشواروں میں ظاہر نہیں ہوا یا ظاہر شدہ آمدن سے اس کا تعلق واضح نہیں بنتا تو پھر اس کی وضاحت بھی ضروری ہوگی۔
گنڈاپور نے اس کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف مقدمات حکومت کی تبدیلی اور 9 مئی کے بعد بنائے گئے اور وہ ان کارروائیوں سے اپنے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ یہ ان کا سیاسی مؤقف ہے، لیکن احتسابی سوال کا جواب سیاسی بیان نہیں بلکہ مالی دستاویزات، بینک ریکارڈ، جائیداد کی منتقلی کے کاغذات، سرکاری فائلیں اور منصوبوں کے مکمل حساب سے ہی نکلے گا۔
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ یہ معاملہ بالکل نیا نہیں۔ نومبر 2024 میں پشاور ہائی کورٹ میں گنڈاپور کی جانب سے نیب کے سابقہ طلبی نوٹسز کے خلاف درخواست کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا۔ اس وقت عدالت کو بتایا گیا تھا کہ نیب کی انکوائری جاری ہے، جبکہ گنڈاپور کے وکیل نے سابقہ نوٹسز اور نیب کے دائرۂ اختیار پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ عدالت نے اس مرحلے پر درخواست نمٹا دی تھی۔
اس لیے موجودہ نوٹس کو ایک الگ واقعہ سمجھنے کے بجائے گزشتہ کارروائی کے تسلسل میں دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ چار طلبیوں کے بعد اب اصل امتحان دونوں طرف کا ہے کہ نیب کے لیے یہ ثابت کرنا کہ اس کے سوالات محض سیاسی دباؤ نہیں بلکہ قابلِ تصدیق شواہد اور قانونی بنیاد رکھتے ہیں، جبکہ علی امین گنڈاپور کے لیے یہ دکھانا کہ جن اثاثوں اور مالی معاملات پر سوال اٹھائے گئے ہیں ان کا ریکارڈ، آمدن اور ملکیت کا پورا سلسلہ قانون کے مطابق ہے۔
احتساب کا حسن بھی یہی ہے کہ فیصلہ بیان سے نہیں، حساب سے ہوتا ہے۔
320 تولے سونا ہو یا 1,608 کنال زمین، والد کے نام مکان ہو یا کسی ہاؤسنگ منصوبے میں سرمایہ کاری، گاڑیاں ہو یا گھوڑے؛ سوال صرف یہ نہیں کہ کیا ہے؟ اصل سوال یہ ہے کہ کہاں سے آیا، کس کے نام آیا، کس رقم سے آیا اور ریکارڈ میں کہاں درج ہے؟
اور سرکاری فنڈز کے معاملے میں سوال اس سے بھی سیدھا ہے کہ رقم کتنی جاری ہوئی، کہاں خرچ ہوئی، کام کتنا ہوا، ادائیگی کس کو ہوئی اور اس کے ثبوت کہاں ہیں؟
اگر نیب کے پاس ان سوالات کے شواہد ہیں تو انہیں قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہیے۔ اگر گنڈاپور کے پاس ان تمام سوالات کے دستاویزی جوابات موجود ہیں تو انہیں بھی سامنے آنا چاہیے۔ کیونکہ عوام کو نہ سیاسی انتقام کی کہانی درکار ہے نہ سیاسی معصومیت کا دعویٰ؛ عوام کو صرف یہ معلوم ہونا چاہیے کہ سرکاری منصب پر رہنے والے شخص کی دولت کہاں سے آئی اور عوام کا پیسہ کہاں گیا۔
یہی وہ حساب ہے جس سے احتساب بھی معتبر ہوتا ہے اور سیاست بھی اپنے دعووں سے آگے بڑھ کر دستاویز کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔
واپس کریں