دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان کے کئی محاذ اور ایک سوال: ریاست کو اندر سے مضبوط کیے بغیر باہر کا خطرہ کیسے روکا جائے؟
No image خصوصی رپورٹ خالد خان پشاور سے
دو اکتوبر کو راولپنڈی میں ہونے والی 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان بیک وقت کئی طرح کے خطرات اور بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک طرف خیبرپختونخوا میں افغانستان سے آنے والی دہشت گردی اور دراندازی کا مسئلہ سنگین شکل اختیار کرچکا ہے، دوسری طرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاملہ سفارتی احتجاج سے آگے بڑھ کر سرحد پار فوجی کارروائیوں تک پہنچ چکا ہے۔ بلوچستان میں بدامنی ایک مستقل چیلنج ہے، بھارت کے ساتھ کشیدگی اپنی جگہ موجود ہے، یکم اکتوبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں بھارت کے ایک حالیہ دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے محمد آصف نامی سابق فوجی کو زندہ میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا، جبکہ اندرون ملک وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان اختلافات، احتجاجی سیاست اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ نے ایک ایسے وقت میں سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے جب ریاست کو داخلی استحکام کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔
اس پورے منظرنامے میں کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ محض فوجی معمولات کا بیان نہیں رہتا بلکہ ریاست کو درپیش سلامتی کے بحران کی ایک جامع تصویر پیش کرتا ہے۔ اس میں افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کو پاکستان کا دفاعی حق قرار دیا گیا، طالبان قیادت کو دہشت گردی کے سنگین نتائج کا ذمہ دار قرار دیا گیا اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر جاری انسداد دہشت گردی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اعلامیے میں یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ دہشت گردی صرف بندوق کے ذریعے ختم نہیں ہوسکتی؛ اس کے لیے بہتر حکمرانی، مضبوط پولیس، عوام سے مؤثر رابطہ اور دہشت گردی و جرائم کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔
یہاں شاید اعلامیے کی سب سے اہم بات پوشیدہ ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے مسئلے کو ایک عرصے سے صرف فوجی کارروائی کے زاویے سے دیکھا جاتا رہا ہے، لیکن اگر خود فوجی قیادت یہ کہہ رہی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے گورننس، پولیس اور عوامی رابطہ ضروری ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست نے مسئلے کی نوعیت کو محض عسکری خطرے تک محدود نہیں رکھا۔ دہشت گرد کو مارنا ضروری ہوسکتا ہے، لیکن دہشت گردی پیدا کرنے والے ماحول، اس کے سہولت کاروں، مالی وسائل، جرائم کے نیٹ ورک اور کمزور انتظامی ڈھانچے کو ختم کیے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔
خیبرپختونخوا اس حقیقت کی سب سے بڑی مثال ہے۔ افغانستان کے ساتھ طویل سرحد، مسلسل دہشت گردی، پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے اور مقامی سطح پر دہشت گرد نیٹ ورک کی موجودگی نے صوبے کو ایک غیر معمولی سلامتی کے بحران سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایسے حالات میں قومی سلامتی کو صرف وفاقی حکومت یا صرف فوج کی ذمہ داری سمجھنا مسئلے کو ادھورا دیکھنا ہے۔ سرحدی دفاع وفاقی ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن دہشت گردی کے اندرونی نیٹ ورک کا مقابلہ پولیس، ضلعی انتظامیہ، مقامی حکومت اور صوبائی ریاستی ڈھانچے کے بغیر ممکن نہیں۔
اسی لیے ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ فوج آئینی طور پر وفاقی حکومت کے تحت کام کرتی ہے اور وفاق و صوبے کے درمیان رابطہ ضروری ہے۔ افغانستان کے بارے میں ان کا مؤقف تھا کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا، جبکہ سیاسی معاملات کے بارے میں انہوں نے واضح کیا کہ فوج کا سیاست سے تعلق نہیں اور سیاسی معاملات سیاسی حکومت اور جماعتوں کو خود دیکھنے چاہییں۔
یہ وضاحت موجودہ سیاسی ماحول میں اہم ہے۔ اس وقت خیبرپختونخوا کی حکومت اور وفاق کے درمیان شدید سیاسی اختلاف موجود ہے۔ احتجاج، لانگ مارچ، سیاسی مطالبات اور وفاقی حکومت کے ساتھ محاذ آرائی جمہوری سیاست کا حصہ ہوسکتے ہیں، لیکن جب ملک کے ایک بڑے حصے میں دہشت گردی کا مسلسل خطرہ موجود ہو تو ریاستی اداروں کے درمیان تصادم یا حکومتی سطح پر مسلسل کشمکش کا ہر اضافی دن ریاستی صلاحیت پر بوجھ ضرور ڈالتا ہے۔ قومی سلامتی کو سیاست کا متبادل نہیں بنایا جاسکتا، لیکن سیاست کو بھی قومی سلامتی کی قیمت پر نہیں چلایا جاسکتا۔
یہاں ’’9 مئی‘‘ کا حوالہ بھی اسی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کور کمانڈرز کانفرنس نے کہا ہے کہ کسی بھی جواز پر پُرتشدد انتشار یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کو فیصلہ کن طاقت اور قانون کے ساتھ بلاامتیاز نمٹا جائے گا۔ اس بیان کو ہر سیاسی احتجاج پر لاگو کرنا درست نہیں ہوگا۔ پرامن احتجاج، اختلاف رائے اور حکومت کے خلاف سیاسی جدوجہد جمہوری عمل کا حصہ ہیں۔ لیکن ریاستی یا فوجی تنصیبات پر حملہ، تشدد، توڑ پھوڑ اور منظم انتشار ایک مختلف معاملہ ہے۔ قانون کی عمل داری اسی فرق کو قائم رکھنے کا نام ہے۔
دوسری طرف سیاسی جماعتوں کے لیے بھی یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ریاستی اداروں کے خلاف عوامی جذبات کو مسلسل بھڑکانا اور ریاستی سلامتی کے حساس معاملات کو سیاسی کشمکش کا حصہ بنانا بالآخر خود سیاسی عمل کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ حکومتوں کو تنقید برداشت کرنی چاہیے، سیاسی جماعتوں کو احتجاج کا حق حاصل ہونا چاہیے، لیکن کسی بھی سیاسی مقصد کے لیے تشدد یا ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کو معمول کی سیاست نہیں کہا جاسکتا۔
افغانستان کا معاملہ اس وقت سب سے زیادہ سنجیدہ ہے۔ یکم اکتوبر کو پاکستان نے افغانستان کے کنڑ اور ہلمند صوبوں میں کارروائیاں کیں۔ پاکستان کے مطابق کارروائیاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئیں اور 22 دہشت گرد مارے گئے۔
اس تنازع میں ایک بنیادی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ اگر پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ اس کی سرزمین پر ہونے والی دہشت گردی کے مراکز سرحد پار موجود ہیں اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے تو ریاست کے پاس اپنی شہری آبادی اور سکیورٹی اہلکاروں کے تحفظ کی ذمہ داری بھی موجود ہے۔ کوئی بھی خودمختار ریاست اپنے شہریوں کو مسلسل حملوں کے لیے بے یار و مددگار نہیں چھوڑ سکتی۔ البتہ سرحد پار کارروائی کے ساتھ سفارتی، قانونی اور انسانی ذمہ داریوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
بھارت کے ساتھ معاملہ بھی اسی وسیع تر قومی سلامتی کے منظرنامے کا حصہ ہے۔ یکم اکتوبر کی ڈی جی آئی ایس پی آر پریس کانفرنس میں سابق حوالدار محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے بارے میں بھارتی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ایک کارروائی کے دوران مارا گیا۔ پاکستان نے اس دعوے کو من گھڑت اور ایک ’’فالس فلیگ‘‘ کارروائی قرار دیا۔
پاکستان کے لیے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ شاید یہی ہے کہ بیرونی اور اندرونی محاذ ایک دوسرے سے الگ نہیں رہے۔ افغانستان میں دہشت گردی کا مسئلہ خیبرپختونخوا میں آتا ہے، خیبرپختونخوا کی بدامنی قومی معیشت اور داخلی استحکام کو متاثر کرتی ہے، بلوچستان کی شورش قومی سلامتی کو متاثر کرتی ہے، بھارت کے ساتھ کشیدگی دفاعی وسائل اور سفارتی توجہ طلب کرتی ہے اور اسی دوران اندرونی سیاسی محاذ آرائی ریاستی توجہ کو تقسیم کرتی ہے۔
ایسے حالات میں فوجی قیادت کا داخلی استحکام پر زور دینا غیر معمولی نہیں بلکہ ریاستی منطق کے مطابق ہے۔ دنیا کی کوئی بھی ریاست اس وقت اپنی دفاعی صلاحیت پوری طرح استعمال نہیں کرسکتی جب اس کے اندر سیاسی اور انتظامی نظام مسلسل تصادم کا شکار ہو۔ اس کا مطلب سیاسی اختلاف کا خاتمہ نہیں، بلکہ اختلاف کو ایسے آئینی اور قانونی دائرے میں رکھنا ہے جہاں ریاستی مشینری مفلوج نہ ہو۔
اسی لیے کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے میں پولیس کی استعداد، گورننس اور عوامی رابطے کا ذکر زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج آخری دفاعی حصار ہوسکتی ہے، لیکن ہر گلی، بازار، تھانے، ضلع اور تحصیل میں ریاست کی پہلی شناخت پولیس اور انتظامیہ ہوتی ہے۔ اگر عوام کو اپنے تھانے پر اعتماد نہ ہو، اگر پولیس کے پاس جدید تفتیشی صلاحیت نہ ہو، اگر ضلعی انتظامیہ کمزور ہو اور اگر جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گرد نیٹ ورک ایک دوسرے کو سہولت فراہم کریں تو صرف فوجی کارروائیوں سے مستقل امن حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں قومی سلامتی اور اچھی حکمرانی ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہیں۔ مضبوط ریاست کا مطلب صرف مضبوط فوج نہیں؛ مضبوط پولیس، مؤثر انتظامیہ، قابلِ اعتماد عدلیہ، فعال مقامی حکومت اور عوام کا اعتماد بھی مضبوط ریاست ہی کے اجزا ہیں۔ فوجی قیادت نے اپنے اعلامیے میں اسی وسیع تر ریاستی صلاحیت کی طرف اشارہ کیا ہے۔
بلوچستان کا بحران بھی اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ وہاں بدامنی کے پیچھے مختلف نوعیت کے عوامل موجود ہیں، جنہیں صرف بیرونی مداخلت یا صرف مقامی شکایات میں تقسیم کرکے مسئلہ حل نہیں کیا جاسکتا۔ جہاں بیرونی معاونت یا مسلح دہشت گردی موجود ہو وہاں ریاستی کارروائی ضروری ہے، لیکن جہاں حقیقی انتظامی، سیاسی یا معاشی شکایات موجود ہوں وہاں ان کا ازالہ بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ قومی سلامتی طاقت اور حکمرانی دونوں کا تقاضا کرتی ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا اعلامیے میں خیرمقدم بھی اسی وسیع تر علاقائی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ کور کمانڈرز کانفرنس نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی مذمت کی اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان کے لیے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ خارجہ، دفاع اور علاقائی سلامتی کے وسیع تر تعلقات کا حصہ ہیں۔
اس سارے منظرنامے میں ایک بات واضح ہے کہ پاکستان اس وقت معمول کے حالات میں نہیں ہے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں، سرحد پار دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے، بھارت کے ساتھ اعتماد کا بحران برقرار ہے، بلوچستان میں بدامنی ہے اور خیبرپختونخوا دہشت گردی کا براہ راست میدان بنا ہوا ہے۔ ایسے وقت میں قومی سلامتی کو سیاسی ترجیحات کے تابع کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ لیکن اسی اصول کا دوسرا رخ بھی ہے: قومی سلامتی کے نام پر سیاسی اختلاف، پرامن احتجاج اور آئینی حقوق کو غیر ضروری طور پر محدود کرنا بھی ریاستی اعتماد کو کمزور کرسکتا ہے۔
لہٰذا اصل ضرورت کسی ایک ادارے کو طاقتور ثابت کرنے کی نہیں بلکہ ریاست کو مضبوط بنانے کی ہے۔ فوج کا کام بیرونی جارحیت اور دہشت گردی کے خلاف دفاع کرنا ہے، پولیس کا کام اندرونی امن قائم کرنا ہے، حکومت کا کام حکمرانی اور سیاسی استحکام پیدا کرنا ہے، پارلیمان کا کام قانون سازی اور نگرانی ہے، عدلیہ کا کام قانون کی تشریح اور انصاف فراہم کرنا ہے اور سیاسی جماعتوں کا کام اختلاف کو آئینی راستے میں رکھنا ہے۔ جب ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتا ہے تو ریاست مضبوط ہوتی ہے؛ جب ادارے اپنی حدود سے باہر ایک دوسرے سے لڑنے لگتے ہیں تو دشمن کو کسی اضافی ہتھیار کی ضرورت نہیں رہتی۔
کور کمانڈرز کانفرنس کا موجودہ اعلامیہ اسی لیے محض ایک عسکری بیان نہیں بلکہ ریاست کے لیے ایک سنجیدہ یاد دہانی ہے۔ افغانستان سے دہشت گردی ہو یا بھارت سے متعلق خطرہ، بلوچستان کی بدامنی ہو یا خیبرپختونخوا کا بحران، کسی بھی بیرونی خطرے کا مقابلہ اس وقت زیادہ مؤثر ہوتا ہے جب اندرونی ریاست مضبوط، متحد اور فعال ہو۔ سیاسی اختلاف رہے، حکومتیں تبدیل ہوں، جماعتیں احتجاج کریں، انتخابات ہوں اور اقتدار کے لیے مقابلہ بھی جاری رہے، لیکن ریاست کی سلامتی کو اس سیاسی کشمکش کا ایندھن نہیں بننا چاہیے۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ نہیں کہ اختلاف ختم ہوجائے؛ ضرورت اس بات کی ہے کہ اختلاف ریاست کو کمزور کیے بغیر جاری رہے۔ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ضروری ہے، سرحدوں کا دفاع ضروری ہے، بیرونی مداخلت کا مقابلہ ضروری ہے، لیکن اسی کے ساتھ پولیس، انتظامیہ، گورننس اور عوامی اعتماد کو مضبوط کرنا بھی ضروری ہے۔ یہی وہ جامع قومی سلامتی ہے جس میں بندوق بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے اور حکمرانی بھی۔
اور شاید 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے کا اصل پیغام بھی یہی ہے کہ پاکستان کے خلاف خطرہ صرف سرحد پر نہیں۔ کچھ خطرات سرحد پار سے آتے ہیں، کچھ بندوق اٹھا کر اندر آتے ہیں اور کچھ داخلی کمزوریوں سے جنم لیتے ہیں۔ پہلے دو کا مقابلہ طاقت سے کیا جاسکتا ہے، لیکن تیسرے کا مقابلہ صرف ایک مضبوط، قانون پر قائم اور عوام سے جڑی ہوئی ریاست ہی کرسکتی ہے۔
واپس کریں