
(پشاور) خصوصی رپورٹ۔ خالد خان
پولیس ہمارے بھائی اور بچے ہیں، یہ بات کسی پولیس مخالف نے نہیں بلکہ جمرود کے حالیہ تنازع کے حل کے لیے ہونے والے جرگے میں سابق رکن صوبائی اسمبلی شفیق آفریدی نے کہی ہے۔ یہی اس پوری بحث کا نقطۂ آغاز بھی ہونا چاہیے۔ پولیس عوام سے الگ کوئی مخلوق نہیں، ہمارے ہی گھروں کے بیٹے ہیں، لیکن جس طرح پولیس اہلکاروں کی جان قیمتی ہے اسی طرح پولیس کی تحویل میں موجود ایک ملزم کی جان بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ جرم کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، کسی شخص کو عدالت کے فیصلے کے بغیر موت کے حوالے کرنا قانون، انصاف اور ریاستی اختیار تینوں کے بنیادی تصور سے متصادم ہے۔
پشاور میں ڈاکٹر میاں سعید احمد نے 28 اگست 2025 کو بطور سی سی پی او ذمہ داری سنبھالی۔ ان کے دور میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں اور پولیس مقابلوں کا ایک بڑا سلسلہ سامنے آیا۔ خود پولیس کے اعدادوشمار کے مطابق اپریل 2026 تک گزشتہ سات ماہ میں پشاور میں 193 پولیس مقابلے ہوئے، جن میں 47 ملزمان مارے گئے، 183 زخمی ہوئے اور 251 گرفتار کیے گئے۔ اکتوبر 2023 سے اپریل 2026 تک 554 مقابلوں میں 75 ملزمان ہلاک ہوئے۔
یہ اعداد پولیس کی کارکردگی پر اعتراض نہیں بلکہ اس کارکردگی کے معیار پر سوال اٹھانے کے لیے کافی ہیں۔ پولیس کا کام مجرم کو پکڑنا ہے، اسے عدالت تک پہنچانا ہے اور قانون کے مطابق سزا دلوانا ہے۔ اگر مقابلے میں مسلح شخص پولیس پر فائرنگ کرتا ہے تو پولیس کو اپنی جان کے دفاع کا حق حاصل ہے، لیکن جب کوئی شخص پہلے ہی گرفتار ہوچکا ہو اور پولیس کی تحویل میں ہو تو معاملہ بالکل مختلف ہوجاتا ہے۔ اس وقت اس شخص کی حفاظت خود پولیس کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
یہیں سے حالیہ واقعات ایک پریشان کن سوال اٹھاتے ہیں۔
21 مئی 2026 کو پشاور میں تین زیرِحراست افراد، محمد شعیب، محمد عمر اور محمد عماد، کو پولیس مبینہ طور پر بینک ڈکیتی کے مقدمات میں گرفتار کرنے کے بعد وارداتوں کے مقامات کی نشاندہی اور اسلحہ برآمد کرنے کے لیے لے جا رہی تھی۔ پولیس کے مطابق نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی اور تینوں زیرِحراست افراد مارے گئے۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ دو اہلکاروں کو گولیاں لگیں مگر وہ بلٹ پروف جیکٹ اور ہیلمٹ کی وجہ سے محفوظ رہے۔
11 ستمبر کو رحمان بابا کے علاقے میں اس سے بھی زیادہ سنگین صورت سامنے آئی۔ پولیس کے مطابق اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں ایک روز قبل گرفتار کیے گئے چاروں ملزمان کو شناخت اور برآمدگی کے لیے لے جایا جارہا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد نے پولیس پارٹی پر حملہ کردیا۔ پولیس کے مطابق چاروں زیرِحراست ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے جبکہ پولیس اہلکار محفوظ رہے۔
سوال یہ نہیں کہ ان چاروں پر لگنے والے الزامات کتنے سنگین تھے۔ اگر الزام درست تھا تو قانون کے تحت انہیں سخت ترین سزا بھی ہوسکتی تھی۔ سوال صرف یہ ہے کہ جب وہ پولیس کی تحویل میں تھے تو ان کی جان کی حفاظت کس کی ذمہ داری تھی؟
پھر ممتاز عرف ممتازے کا معاملہ سامنے آتا ہے۔ وہ انٹرپول کے ذریعے بحرین سے پاکستان لایا گیا۔ پولیس کے مطابق اسے پشاور منتقل کرنے والی پارٹی پر ناردرن بائی پاس کے قریب فائرنگ اور دستی بموں سے حملہ ہوا، دو پولیس افسر زخمی ہوئے، ممتاز ہلاک ہوا اور پولیس کے مطابق دو حملہ آور بھی مارے گئے۔
لیکن ممتازے کیس میں ایک غیر معمولی بات یہ ہے کہ اس کی والدہ پہلے ہی پشاور ہائی کورٹ پہنچ چکی تھیں اور عدالت نے جون میں پولیس کو اس کی حفاظت یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ عدالت کے حکم میں واضح کیا گیا تھا کہ ملزم کو قانون کے مطابق تحفظ دیا جائے اور سی سی پی او اس کی پولیس تحویل کے دوران اس کی سلامتی یقینی بنائیں۔ بعد میں ممتاز مارا گیا۔
یہیں معاملہ ایک عام پولیس مقابلے سے آگے نکل جاتا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے بعد ازاں ممتازے کی ہلاکت کے معاملے میں ایف آئی اے کو انکوائری کا حکم دیا۔ اہل خانہ کی طرف سے ویڈیوز، آڈیوز اور دیگر شواہد عدالت کے سامنے لانے کی درخواست بھی کی گئی۔
یعنی عدالت کے سامنے سوال موجود ہے، ایف آئی اے انکوائری کا حکم موجود ہے اور پولیس کا اپنا مؤقف بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔ ایسے میں صحافت کا کام کسی ایک فریق کا فیصلہ پہلے سے سنا دینا نہیں بلکہ یہ پوچھنا ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔
اور پھر 28 ستمبر کو جمرود کا واقعہ سامنے آتا ہے۔ پولیس کے مطابق دو گرفتار افراد، اشفاق احمد اور ہدایت خان، کو ملاگوری کے اس مقام پر لے جایا جارہا تھا جہاں پولیس کے مطابق ایس ایچ او ریاض حسین آفریدی پر فائرنگ ہوئی تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ وہاں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی اور دونوں زیرِحراست افراد گولیوں کا نشانہ بن گئے جبکہ پولیس اہلکار محفوظ رہے۔
لیکن اس بار عوام نے پولیس کے اس بیانیے کو قبول نہیں کیا۔ کوکی خیل عمائدین اور لواحقین نے دونوں افراد کو بے گناہ قرار دیا، لاشیں سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا اور مبینہ ماورائے عدالت قتل کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ معاملہ اتنا سنگین ہوا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے خیبر کے ڈی پی او کو عہدے سے ہٹانے اور سات روز میں انکوائری مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ جمرود کا پولیس انتظامی دائرہ پشاور سی سی پی او سے الگ ہے، اس لیے اس واقعے کی تمام انتظامی ذمہ داری ڈاکٹر میاں سعید احمد پر ڈال دینا درست نہیں ہوگا۔ لیکن یہ واقعہ اسی وسیع تر پولیس کلچر کے بارے میں ایک اہم سوال ضرور اٹھاتا ہے کہ زیرِحراست ملزم کو جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے لے جانے کے بعد اگر وہی ملزم ’’نامعلوم حملہ آوروں‘‘ کی گولیوں سے مارا جائے تو کیا صرف پولیس کا بیان کافی ہے؟
اور اگر یہ محض اتفاق ہے تو فرانزک شواہد اسے ثابت کردیں گے۔
پولیس کی گاڑی پر کتنی گولیاں لگیں؟ گولیاں کس سمت سے آئیں؟ پولیس اہلکاروں کے جسم، جیکٹ اور ہیلمٹ پر کتنے نشانات ہیں؟ ملزمان کو کتنی گولیاں لگیں؟ وہ گولیاں کس ہتھیار سے چلائی گئیں؟ جائے وقوعہ سے کتنے خول ملے؟ پولیس کے ہتھیاروں سے کتنے فائر ہوئے؟ ملزمان کے ہاتھوں پر گن شاٹ ریزیڈیو کے شواہد کیا ہیں؟ حملہ آور کہاں کھڑے تھے؟ وہ کس راستے سے آئے اور کس راستے سے فرار ہوئے؟ کیا سی سی ٹی وی یا موبائل فون کا ریکارڈ موجود ہے؟ کیا تمام واقعات میں پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ عوام کے سامنے لائی گئی؟
یہ سوال کسی مجرم کی حمایت نہیں۔ بلکہ اصل میں یہ پولیس کی حمایت ہے، کیونکہ اگر پولیس سچ کہہ رہی ہے تو فرانزک سائنس اس سچ کو مضبوط کرے گی اور جھوٹے الزام سے پولیس کو بھی نجات ملے گی۔
لیکن اگر ایک ہی طرز کا واقعہ بار بار سامنے آئے—ملزم گرفتار، پولیس تحویل میں، نشاندہی یا برآمدگی کے لیے روانگی، راستے میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ، زیرِحراست ملزم ہلاک، حملہ آور فرار، اور پولیس اہلکار محفوظ—تو اس طرزِعمل کا آزادانہ آڈٹ ضروری ہوجاتا ہے۔
مئی میں تین، ستمبر میں چار، پھر ممتازے کا معاملہ اور جمرود میں دو زیرِحراست افراد۔ ہر کیس اپنی جگہ مختلف ہوسکتا ہے، لیکن صحافت کا کام یہی ہے کہ مختلف واقعات کو ایک میز پر رکھ کر پوچھے کہ ان میں مماثلت محض اتفاق ہے یا کوئی مستقل طریقۂ کار۔
پولیس کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ نہیں کہ صحافی سوال پوچھ رہے ہیں۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اگر عوام کا اعتماد اٹھ گیا تو پولیس کی ہر حقیقی کارروائی بھی شک کی نظر سے دیکھی جائے گی۔ اسی لیے شفاف تحقیقات پولیس دشمنی نہیں بلکہ پولیس کی عزت اور ادارے کے تحفظ کا راستہ ہیں۔
جمرود کے معاملے میں شفیق آفریدی کا یہ کہنا کہ ’’پولیس والے ہمارے بھائی اور ہمارے بچے ہیں‘‘ دراصل پولیس کے لیے ایک آئینہ ہے۔ اگر پولیس عوام کے بچے ہیں تو عوام کے بچوں کی جان بھی اتنی ہی قیمتی ہونی چاہیے جتنی کسی پولیس اہلکار کی جان ہے۔ جرائم پیشہ شخص کو گرفتار کرنا پولیس کی کامیابی ہے، اسے عدالت تک پہنچانا ریاست کی ذمہ داری ہے، اور اگر وہ پولیس کی تحویل میں مر جائے تو اس موت کا جواب بھی ریاست ہی کو دینا ہوگا۔
اب وقت آگیا ہے کہ پشاور پولیس اور متعلقہ حکام صرف مقابلوں کی تعداد اور گرفتاریاں گنوانے کے بجائے زیرِحراست ہلاکتوں کا مکمل حساب بھی عوام کے سامنے رکھیں۔
کتنے افراد پولیس تحویل میں مارے گئے؟ کتنے مقابلوں میں زیرِحراست ملزم ہلاک ہوا؟ کتنے پولیس اہلکار زخمی ہوئے؟ کتنے حملہ آور گرفتار ہوئے؟ کتنے فرار ہوئے؟ کتنے مقدمات میں عدالتی یا آزادانہ انکوائری ہوئی؟ کتنی انکوائریوں میں پولیس کا مؤقف درست ثابت ہوا اور کتنی میں پولیس اہلکار ذمہ دار قرار پائے؟
یہ سوالات آج نہیں پوچھے گئے تو کل ہر پولیس مقابلہ مشکوک ہوگا۔
قانون کی بالادستی کا مطلب یہ نہیں کہ پولیس کو مجرموں کے سامنے بے بس کردیا جائے؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ پولیس کو مجرم سے لڑنے کا اختیار ہو، مگر قانون سے بالاتر ہونے کا اختیار نہ ہو۔
پولیس ہمارے بھائی اور بچے ضرور ہیں، مگر ریاست کے بچوں کی حفاظت کا مطلب یہ بھی ہے کہ انہیں قانون کا محافظ بنایا جائے، قانون کا مالک نہیں۔
واپس کریں