رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ: تیس فیصد مفت علاج کی شرط کہاں گئی؟

(پشاور) خالد خان
رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پشاور کا ایک بڑا نجی طبی ادارہ ہے۔ ادارے کے مطابق اس نے 2002 میں کام شروع کیا۔ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں یہ ادارہ ایک بڑے طبی مرکز کی صورت اختیار کرچکا ہے، جہاں علاج، تشخیص اور دیگر طبی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ لیکن اس ادارے کے ساتھ عوامی زمین، لیز اور غریب مریضوں کے مفت علاج کی ایک ایسی شرط جڑی ہوئی ہے جس کا حساب آج دوبارہ مانگنے کی ضرورت ہے۔
ستمبر 2016 میں خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے سامنے رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اور نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال کو پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے دی گئی زمین کا معاملہ زیر بحث آیا۔ کارروائی میں پی ڈی اے کے نمائندے نے تصدیق کی کہ دونوں اداروں کے ساتھ زمین کی الاٹمنٹ کے معاہدے موجود تھے اور ان معاہدوں میں غریب مریضوں کے مفت علاج کی شرائط شامل تھیں۔ رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے لیے یہ شرح تیس فیصد بتائی گئی۔
یہاں اصل سوال شروع ہوتا ہے۔ اگر کسی نجی ادارے کو سرکاری زمین اس شرط کے ساتھ دی گئی کہ غریب مریضوں کا تیس فیصد علاج مفت ہوگا تو یہ معمولی رعایت یا خیرات نہیں۔ یہ عوامی زمین کے استعمال کے ساتھ وابستہ عوامی حق ہے۔ زمین عوامی ادارے کی تھی، اس لیے اس زمین سے پیدا ہونے والے فائدے میں عوام کا حصہ بھی معاہدے کے ذریعے متعین کیا گیا۔
لیکن 2016 میں اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سامنے یہ سوال اٹھا کہ اس شرط پر عمل درآمد کہاں ہے۔ کارروائی میں بتایا گیا کہ دونوں ہسپتالوں نے مفت علاج کے لیے مطلوبہ مؤثر طریقہ کار قائم نہیں کیا تھا۔ کمیٹی نے غریب مریضوں کے لیے مفت علاج کو یقینی بنانے کے لیے ایک فنڈ اور نگرانی کے طریقہ کار کی تجویز بھی زیر بحث لائی۔
اب 2026 ہے۔
دس سال پہلے سرکاری فورم پر یہ سوال اٹھا تھا کہ معاہدے میں موجود مفت علاج کی شرط پر عمل کیسے ہورہا ہے۔ آج سوال اس سے بھی بڑا ہے کہ گزشتہ دس برس کا حساب کہاں ہے؟
کتنے مریضوں نے رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں علاج کرایا؟ ان میں کتنے غریب اور مستحق مریض تھے؟ معاہدے کے مطابق تیس فیصد کتنے بنتے تھے؟ ان میں کتنے مریضوں کو مکمل طور پر مفت علاج ملا؟ مفت علاج کی مالی مالیت کتنی تھی؟ کیا ہر سال اس کا حساب پی ڈی اے کو دیا گیا؟ کیا محکمہ صحت نے اس کی تصدیق کی؟ کیا کسی آزاد ادارے نے اس کا جائزہ لیا؟
اگر یہ تمام ریکارڈ موجود ہے تو اسے سامنے لانے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔ اور اگر ریکارڈ موجود نہیں تو سوال مزید سنگین ہوجاتا ہے کہ سرکاری زمین کے بدلے طے کی گئی عوامی خدمت کی نگرانی آخر کون کرتا رہا؟
رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے ماضی میں مستحق مریضوں اور دہشت گردی کے متاثرین کو مفت علاج فراہم کرنے کی وضاحتیں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ آج بھی ادارے کے تحت امدادی اور رعایتی طبی سرگرمیاں موجود ہیں۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ ہسپتال کبھی کسی مریض کا مفت علاج کرتا ہے یا نہیں۔ اصل مسئلہ معاہدے میں مقرر تیس فیصد ہے۔
ایک مفت طبی کیمپ اور زمین کی لیز کی معاہداتی شرط دو الگ چیزیں ہیں۔ اگر لیز میں تیس فیصد مفت علاج لازم تھا تو پھر اس کا حساب بھی تیس فیصد کے پیمانے پر ہونا چاہیے۔ چند مریضوں کا مفت علاج اس سوال کا جواب نہیں کہ سالانہ مقررہ تناسب پورا ہوا یا نہیں۔
یہاں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ذمہ داری سب سے اہم ہوجاتی ہے۔ زمین دینے والی اتھارٹی پی ڈی اے ہے۔ اگر اس نے عوامی زمین ایک نجی طبی ادارے کو ایک مخصوص عوامی خدمت کے بدلے دی تو اسے یہ بھی دیکھنا تھا کہ شرط پوری ہورہی ہے یا نہیں۔ اگر شرط پوری نہیں ہورہی تھی تو معاہدے کے تحت کیا کارروائی ہوئی؟ نوٹس دیا گیا؟ جرمانہ ہوا؟ لیز پر نظرثانی ہوئی؟ یا معاملہ فائلوں میں دفن ہوگیا؟
اور اگر لیز کی مدت واقعی ختم ہوچکی ہے، جیسا کہ بعض حلقوں کی طرف سے دعویٰ کیا جارہا ہے، تو پی ڈی اے کو اس کی بھی وضاحت کرنا ہوگی کہ موجودہ قبضہ اور استعمال کس قانونی بنیاد پر جاری ہے۔ لیکن اس دعوے کو حتمی قرار دینے کے لیے اصل لیز ڈیڈ اور تازہ پی ڈی اے ریکارڈ سامنے آنا ضروری ہے۔
اصل معاملہ یہی ہے کہ نجی ہسپتال کا منافع کمانا بذات خود سوال نہیں۔ سوال یہ ہے کہ عوامی زمین کے بدلے عوام کو کیا ملا؟
اگر تیس فیصد مفت علاج کی شرط پوری ہوتی رہی ہے تو رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کو اس کا مکمل حساب سامنے رکھنا چاہیے۔ اگر شرط پوری نہیں ہوئی تو پی ڈی اے کو بتانا چاہیے کہ اس نے عوامی مفاد کے معاہدے کی خلاف ورزی پر کیا کیا۔
کیونکہ غریب کے نام پر رکھی گئی شرط کسی خیراتی اشتہار کا حصہ نہیں تھی۔ اگر وہ لیز کی شرط تھی تو وہ ایک ذمہ داری تھی۔
اور آج سب سے سیدھا سوال یہی ہے کہ کیا غریب کے مفت علاج کی شرط کے ساتھ حاصل کی گئی عوامی زمین نے غریب کو اپنا حق دیا، یا زمین پر نجی علاج کا کاروبار بڑھتا رہا اور تیس فیصد مفت علاج کا وعدہ فائلوں میں ہی رہ گیا؟
واپس کریں