نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال: پندرہ فیصد مفت علاج کا حساب کون دے گا؟ خالد خان

نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال پشاور کے معروف نجی طبی اداروں میں شامل ہے۔ اس کی موجودہ طبی سرگرمیاں اپنی جگہ، لیکن اس ادارے کے ساتھ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی زمین اور غریب مریضوں کے مفت علاج کی ایک مخصوص شرط وابستہ رہی ہے، جس کا مکمل حساب آج عوام کے سامنے آنا چاہیے۔
2016 میں خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اور نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال کو دی گئی زمین اور غریب مریضوں کے مفت علاج کی شرائط کا جائزہ لیا۔ سرکاری کارروائی کے مطابق نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال کے لیے غریب مریضوں کے پندرہ فیصد مفت علاج کی شرط موجود تھی۔ پشاور ڈیویلپمئنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر نے معاہدوں کی موجودگی کی تصدیق کی۔
پندرہ فیصد بظاہر ایک عدد ہے، مگر سرکاری زمین کے تناظر میں یہ محض عدد نہیں۔ یہ اس عوامی فائدے کی پیمائش تھی جو نجی ادارے سے زمین کے استعمال کے بدلے متوقع تھی۔
اور یہی وہ جگہ ہے جہاں آج جواب طلبی بنتی ہے۔
2016 کی کارروائی میں مفت علاج کے لیے مؤثر طریقہ کار نہ ہونے کا سوال اٹھایا گیا تھا۔ کمیٹی نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایسا نظام بنانے کی بات کی جس کے ذریعے غریب مریضوں کو مفت علاج کی سہولت یقینی بنائی جاسکے۔
اب ایک دہائی گزر چکی ہے۔
کیا وہ نظام بنا؟
اگر بنا تو اس کے سالانہ اعدادوشمار کہاں ہیں؟
نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال ہر سال کتنے مریضوں کا علاج کرتا ہے؟ ان میں غریب مریضوں کی تعداد کتنی ہے؟ پندرہ فیصد کی شرط کے مطابق کتنے مریض مفت علاج کے مستحق بنتے ہیں؟ کتنے مریضوں کو مکمل مفت علاج ملا؟ اس مفت علاج کی مجموعی مالیت کتنی تھی؟ اور سب سے اہم، اس حساب کی تصدیق کس سرکاری ادارے نے کی؟
نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال آج اپنی ویب سائٹ پر مفت طبی کیمپوں، مفت مشاورت اور رعایتی تشخیصی خدمات کی تفصیلات بھی پیش کرتا ہے۔ یہ سرگرمیاں اپنی جگہ قابل ذکر ہیں۔ مگر یہ سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ کیا یہ خدمات پی ڈی اے کے ساتھ طے شدہ پندرہ فیصد مفت علاج کی معاہداتی شرط کو پورا کرتی ہیں یا یہ اس کے علاوہ فلاحی سرگرمیاں ہیں؟
یہ فرق انتہائی اہم ہے۔
اگر زمین حاصل کرتے وقت کسی ادارے نے ایک مخصوص تناسب سے مفت علاج کی ذمہ داری قبول کی تھی تو بعد میں چند مفت طبی کیمپ اس ذمہ داری کا خودکار متبادل نہیں بن سکتے، جب تک معاہدہ یا متعلقہ اتھارٹی خود ایسا نہ کہے۔
یہاں پی ڈی اے سے بھی جواب طلب ہونا چاہیے۔
زمین دینے کے بعد کیا پی ڈی اے نے کبھی سالانہ بنیاد پر یہ جاننے کی کوشش کی کہ پندرہ فیصد شرط پوری ہورہی ہے یا نہیں؟ کیا ہسپتال سے مریضوں کا ریکارڈ طلب کیا گیا؟ کیا غریب مریضوں کی اہلیت کے لیے کوئی معیار بنایا گیا؟ کیا علاج کے اخراجات کا حساب لیا گیا؟ کیا کسی سرکاری یا آزاد آڈٹ کے ذریعے اس شرط کی تصدیق ہوئی؟
اگر یہ سب کچھ ہوا ہے تو ریکارڈ سامنے آنا چاہیے۔
اگر نہیں ہوا تو پھر اصل سوال ہسپتال سے زیادہ نگرانی کرنے والے ادارے سے ہے۔
کیونکہ نجی ہسپتال کا علاج کے عوض فیس وصول کرنا بذات خود قابل اعتراض نہیں۔ لیکن اگر کسی نجی ادارے کو عوامی زمین اس شرط کے ساتھ دی گئی تھی کہ غریبوں کو پندرہ فیصد مفت علاج ملے گا تو عوامی مفاد کا تقاضا ہے کہ اس شرط پر عمل درآمد بھی اسی سنجیدگی سے دیکھا جائے جس سنجیدگی سے زمین الاٹ کی گئی تھی۔
یہاں “مفت علاج” کو کسی احسان کے طور پر پیش کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔ اگر یہ معاہدے کی شرط تھی تو یہ غریب مریض کا حق تھا۔
اور اگر برسوں تک زمین استعمال ہوتی رہی، نجی طبی خدمات کا دائرہ بڑھتا رہا، فیسیں وصول ہوتی رہیں، لیکن غریب مریضوں کے لیے مقرر پندرہ فیصد کا شفاف حساب کہیں موجود نہیں تو پھر سوال اٹھے گا کہ عوامی زمین کے بدلے عوامی مفاد کی قیمت کس نے وصول کی اور کس نے اس کی نگرانی کی؟
اگر لیز کی مدت ختم ہوچکی ہے تو اس کے بعد زمین کے استعمال کی قانونی حیثیت بھی فوری طور پر واضح ہونی چاہیے۔ لیکن اس بارے میں حتمی بات اصل لیز ڈیڈ، اس کی تجدید یا پی ڈی اے کے تازہ ریکارڈ کے بغیر نہیں کہی جاسکتی۔
نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال سے ہمارا سوال بھی سادہ ہے کہ
اگر پندرہ فیصد مفت علاج کی شرط پوری ہوئی ہے تو دس، پندرہ یا بیس برس کا حساب سامنے لائیں۔ کتنے غریب مریضوں کا علاج ہوا، کتنی رقم خرچ ہوئی اور کس سرکاری ادارے نے اس کی تصدیق کی؟
اور پی ڈی اے سے سوال اس سے بھی بڑا ہے کہ عوامی زمین دیتے وقت شرط لگانا آسان تھا، مگر اس شرط پر عمل کرانا اتنا مشکل کیوں ثابت ہوا؟
اگر عوامی زمین کے بدلے غریبوں کے علاج کا وعدہ کیا گیا تھا تو عوام کو صرف وعدہ نہیں، حساب چاہیے۔
کیونکہ اصل سوال یہ نہیں کہ نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال کتنا کماتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ پندرہ فیصد مفت علاج کے بدلے عوامی زمین سے حاصل ہونے والے نجی فائدے کے مقابلے میں عوام کا حصہ کہاں ہے؟
واپس کریں