دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عوامی زمین، نجی ادارے اور پی ڈی اے کی جواب دہی
No image (پشاور) خصوصی رپورٹ خالد خان
پشاور میں نجی ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دوسرے بڑے اداروں کے لیے زمین کی فراہمی کا معاملہ محض زمین کی الاٹمنٹ تک محدود نہیں۔ جب کسی سرکاری ادارے، بالخصوص پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، کی ملکیت یا اختیار میں موجود زمین کسی نجی ادارے کو مخصوص مقصد کے لیے لیز یا الاٹ کی جاتی ہے تو اس کے ساتھ عوامی مفاد بھی وابستہ ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ نجی ادارہ قائم ہوا یا اس نے کامیابی حاصل کی، اصل سوال یہ ہے کہ عوامی زمین کے بدلے جو شرائط طے کی گئی تھیں، ان پر کس حد تک عمل ہوا، اس عمل کی نگرانی کس نے کی اور اگر شرائط پوری نہیں ہوئیں تو ذمہ دار ادارے نے کیا کارروائی کی۔
رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اور نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال کے معاملے میں یہ سوال اس لیے زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کی صحت سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پی ڈی اے کے معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے غریب مریضوں کے لیے مفت علاج کی مخصوص شرح کا ذکر سامنے آیا تھا۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے لیے تیس فیصد جبکہ نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال کے لیے پندرہ فیصد مفت علاج کی شرط زیر بحث آئی تھی۔ اسی کارروائی میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس شرط پر مؤثر عمل درآمد کی نگرانی کا کوئی واضح اور مؤثر طریقہ موجود نہیں تھا۔ بعد میں مفت علاج کے لیے ایک فنڈ، نگرانی اور باقاعدہ جانچ پڑتال جیسے اقدامات پر بھی بات ہوئی۔
یہاں سے اصل تحقیق شروع ہوتی ہے۔ اگر کسی نجی ہسپتال کو عوامی مفاد سے مشروط زمین دی گئی تھی تو یہ جاننا ضروری ہے کہ معاہدے کی پوری مدت میں کتنے مریضوں کو اس شرط کے تحت مفت علاج فراہم کیا گیا، اس کا ریکارڈ کس ادارے نے دیکھا، کتنی بار جانچ پڑتال ہوئی، پی ڈی اے کے پاس اس کی رپورٹ موجود ہے یا نہیں اور اگر شرط پوری نہیں ہوئی تو معاہدے کے تحت کیا کارروائی کی گئی۔ کسی ہسپتال کی طرف سے اپنی مرضی سے مفت طبی کیمپ لگانا یا بعض مریضوں کو رعایت دینا اپنی جگہ ایک مثبت سرگرمی ہو سکتی ہے، لیکن اسے لازماً اس معاہداتی شرط کی تکمیل نہیں کہا جا سکتا جس کے بدلے عوامی زمین فراہم کی گئی ہو۔
رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ 2002 میں قائم ہوا اور آج ایک بڑا نجی طبی ادارہ ہے۔ اس کی اپنی ویب سائٹ پر بھی مستحق افراد کے لیے امدادی اور رعایتی طبی سہولتوں کا ذکر موجود ہے۔ اس لیے معاملے کو یک طرفہ الزام کے بجائے دستاویزی جانچ کے ذریعے دیکھنا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ وقت میں معاہدے میں درج تیس فیصد کی شرط کس شکل میں نافذ ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق کون کرتا ہے۔ اسی طرح نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال بھی مفت طبی کیمپ اور رعایتی علاج کی سرگرمیوں کا اعلان کرتا رہا ہے، مگر ان سرگرمیوں اور معاہدے میں درج پندرہ فیصد مفت علاج کے درمیان تعلق کو سرکاری ریکارڈ سے واضح کرنا ضروری ہے۔
اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو لیز کی مدت ہے۔ اگر ان اداروں کی اصل لیز مدت ختم ہو چکی ہے تو پی ڈی اے کے پاس اس بات کا واضح جواب ہونا چاہیے کہ بعد میں کیا ہوا؛ لیز کی تجدید ہوئی، نئی شرائط طے ہوئیں، زمین واپس لینے کا کوئی قانونی عمل شروع ہوا یا پرانی شرائط ہی کے تحت ادارے کام کرتے رہے۔ اگر لیز ابھی برقرار ہے تو اس کی مدت، شرائط اور موجودہ قانونی حیثیت سامنے آنی چاہیے۔ یہ معلومات کسی الزام کی بنیاد نہیں بلکہ عوامی زمین کے انتظام میں بنیادی دستاویزات ہیں۔
اسی تناظر میں اقراء یونیورسٹی کا معاملہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اقراء نیشنل یونیورسٹی خیبرپختونخوا میں قانون کے تحت قائم نجی یونیورسٹی ہے اور اس کا تعلق اقراء ٹرسٹ سے ہے۔ اس کی موجودہ حیثیت قانونی اور تعلیمی ریکارڈ میں الگ سے واضح ہے۔ ماضی میں اس کی زمین کے حصول اور الاٹمنٹ پر بھی سوالات اٹھے، حتیٰ کہ احتسابی کارروائی سامنے آئی، تاہم ان الزامات کو حتمی عدالتی فیصلہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ پشاور ہائی کورٹ کے ایک مقدمے میں اقراء کے لیے زمین کی الاٹمنٹ کے پس منظر پر بھی بحث ہوئی اور عدالت نے اس چیلنج کو قبول نہیں کیا۔
لیکن جمعہ کے روز اقراء یونیورسٹی میں پیش آنے والا فائرنگ کا واقعہ اس پورے معاملے کو ایک دوسرے زاویے سے اہم بنا دیتا ہے۔ طلبہ بنیادی سہولتوں کے حوالے سے احتجاج کر رہے تھے جب سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پولیس نے تین سکیورٹی گارڈز کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے کلاشنکوفیں برآمد کرنے کی اطلاع دی، جبکہ دستیاب اطلاعات کے مطابق فائرنگ ہوا میں کی گئی اور طلبہ میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ بعض طلبہ اور عینی شاہدین کی طرف سے رجسٹرار پر فائرنگ کا حکم دینے کا الزام بھی سامنے آیا، لیکن اس الزام کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
یہ واقعہ اس لیے اہم ہے کہ نجی تعلیمی ادارہ محض ایک عمارت اور فیس وصول کرنے کا نظام نہیں ہوتا۔ جب اس کی زمین، تعمیر، استعمال اور شہری منصوبہ بندی کسی سرکاری ادارے کے دائرۂ اختیار سے وابستہ ہو تو یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ ادارے میں طلبہ کی سلامتی، بنیادی سہولتوں اور انتظامی ذمہ داریوں کے لیے کیا نظام موجود ہے اور متعلقہ سرکاری ادارے اس کی نگرانی کس حد تک کرتے ہیں۔ شکر ہے کہ اس واقعے میں طلبہ کی جانیں ضائع نہیں ہوئیں، لیکن فائرنگ کا واقعہ خود ایک ایسا معاملہ ہے جس کی مکمل، غیر جانب دار اور دستاویزی تحقیقات ہونی چاہئیں۔
پی ڈی اے کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ صرف نقشوں، عمارتوں، نقشہ منظوری، لیز اور زمین کے استعمال کا ادارہ بن کر نہ رہے بلکہ اپنی طرف سے دی گئی عوامی زمین کے ساتھ وابستہ شرائط کی تکمیل بھی یقینی بنائے۔ اگر کسی ہسپتال کو عوامی مفاد کی شرط پر زمین دی گئی ہے تو اس شرط کا سالانہ حساب ہونا چاہیے، اگر کسی تعلیمی ادارے کو مخصوص مقصد کے لیے زمین دی گئی ہے تو اس کے استعمال کی مسلسل جانچ ہونی چاہیے اور اگر لیز کی مدت ختم ہو چکی ہے تو اس کے بعد کی قانونی حیثیت عوام کے سامنے ہونی چاہیے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ اس معاملے میں صرف پی ڈی اے کو دیکھ کر باقی ذمہ دار اداروں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ جہاں صحت کی سہولتوں کا معاملہ ہو وہاں محکمہ صحت اور متعلقہ صحت تنظیمی اداروں کا کردار بھی سامنے آتا ہے، تعلیمی اداروں کے معاملے میں متعلقہ تعلیمی حکام اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی نگرانی اہم ہے، جبکہ زمین کی ملکیت، مالی معاملات اور ٹیکس سے متعلق سوالات کے لیے متعلقہ سرکاری ریکارڈ الگ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یوں ایک مکمل تصویر ہی یہ بتا سکتی ہے کہ عوامی مفاد کے لیے رکھی گئی شرائط واقعی عوام تک پہنچیں یا کاغذوں میں محدود رہ گئیں۔
پشاور میں اصل ضرورت کسی ایک ادارے یا شخص کو مجرم قرار دینے کی نہیں بلکہ عوامی زمین کے پورے نظام کا حساب لینے کی ہے۔ پی ڈی اے کے پاس کتنی زمین نجی اداروں کو دی گئی، کس مقصد کے لیے دی گئی، کن شرائط پر دی گئی، کتنی لیزیں ختم ہو چکی ہیں، کتنی کی تجدید ہوئی، کتنے ادارے اپنی شرائط پوری کر رہے ہیں، کتنے اداروں کی نگرانی ہوئی اور کتنے کے خلاف کارروائی کی گئی؛ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے جوابات سرکاری ریکارڈ سے ملنے چاہئیں۔ اگر ریکارڈ شفاف ہے تو متعلقہ اداروں کے لیے بھی بہتر ہے کہ وہ اسے سامنے لائیں، اور اگر کہیں معاہداتی شرائط کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری طے ہونی چاہیے۔
عوامی زمین سے بننے والے نجی ادارے بذاتِ خود مسئلہ نہیں؛ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عوامی اثاثہ نجی استعمال میں دینے کے بعد عوامی مفاد سے جڑی شرائط کی نگرانی کمزور پڑ جائے۔ پشاور میں اب ضرورت اسی کمزور کڑی کو تلاش کرنے کی ہے، کیونکہ سوال صرف یہ نہیں کہ زمین کس کو ملی، سوال یہ بھی ہے کہ زمین دینے کے بدلے عوام کو کیا ملا اور اس کا حساب کس نے رکھا۔
واپس کریں