دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اقراء یونیورسٹی: تعلیم گاہ یا غنڈہ گردی کا مرکز؟ این ٹی این کے بغیر 26 کروڑ کا ٹھیکہ
No image (پشاور) رپورٹ خالد خان
پشاور کے حیات آباد میں قائم اقراء نیشنل یونیورسٹی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران نجی سکیورٹی گارڈز کی فائرنگ نے ایک ایسے تعلیمی ادارے کے بارے میں کئی بنیادی سوالات اٹھا دیے ہیں جو برسوں سے تعلیم کے نام پر کام کر رہا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ احتجاج کرنے والے طلبہ پر گولیاں کیوں چلائی گئیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ایک نجی یونیورسٹی میں طلبہ اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لیے احتجاج تک کیوں پہنچے، انتظامیہ نے ان کی شکایات کیسے سنیں، مسلح گارڈز کو طلبہ کے مقابل کیوں کھڑا کیا گیا اور فائرنگ کی نوبت آخر کیسے آئی؟
دستیاب اطلاعات کے مطابق طلبہ ہاسٹل میں بجلی، انٹرنیٹ، کھانے کے معیار اور دیگر سہولیات کے مسائل پر احتجاج کر رہے تھے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے انتظامیہ سے شکایات کیں لیکن ان کے مسائل حل نہیں ہوئے۔ بعد ازاں احتجاج کے دوران تین سکیورٹی گارڈز کی جانب سے ہوائی فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئیں اور پولیس نے گارڈز کو حراست میں لے کر ان کے زیر استعمال اسلحہ قبضے میں لے لیا۔
یہاں معاملہ انتہائی سنگین ہو جاتا ہے۔ طلبہ اور بعض چشم دید افراد کا الزام ہے کہ گارڈز نے یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر محسن کے حکم پر فائرنگ کی۔ اس الزام کی باقاعدہ تحقیقات ضروری ہیں۔ اگر کسی انتظامی افسر نے واقعی مسلح گارڈز کو احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف فائرنگ کا حکم دیا تو یہ محض انتظامی بدسلوکی نہیں بلکہ ایک نہایت سنگین قانونی معاملہ ہے۔ اور اگر حکم نہیں دیا گیا تو پھر یونیورسٹی انتظامیہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ واضح کرے کہ مسلح گارڈز نے کس اختیار کے تحت فائرنگ کی۔
یہ سوال بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ حیات آباد کے گنجان رہائشی علاقے میں واقع یونیورسٹی کے اندر کلاشنکوف بردار نجی گارڈز کی موجودگی اور احتجاج کے دوران ان کا استعمال کس قانونی اختیار کے تحت ہوا۔ طلبہ کے سامنے گولی چلانا کسی تعلیمی ادارے میں نظم و ضبط قائم کرنے کا معمول کا طریقہ نہیں ہوسکتا۔ اگر پولیس موقع پر موجود تھی، جیسا کہ موقع کے چشم دید افراد کا کہنا ہے، تو پھر یہ سوال مزید اہم ہوجاتا ہے کہ پولیس کی موجودگی میں نجی سکیورٹی کو فائرنگ کی ضرورت کیوں پیش آئی اور کس نے انہیں یہ اختیار دیا؟
لیکن اقراء یونیورسٹی کی کہانی آج کی فائرنگ سے شروع نہیں ہوتی۔ اس ادارے کی موجودہ عمارت اور زمین کی تاریخ بھی سوالات سے خالی نہیں۔
پشاور ہائی کورٹ کے ریکارڈ کے مطابق اقراء یونیورسٹی ابتدا میں یونیورسٹی ٹاؤن کے ایک کرائے کے بنگلے میں قائم تھی۔ عدالت نے متعلقہ مقدمے کے ریکارڈ میں درج کیا کہ رہائشی علاقے میں یونیورسٹی چلانا قانون کے خلاف قرار دیا گیا تھا۔ چنانچہ یونیورسٹی انتظامیہ نے حیات آباد میں زمین کے حصول کے لیے درخواست دی۔
یہاں سے کہانی مزید دلچسپ ہوجاتی ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق پی ڈی اے نے ایک قدرتی واٹرکورس پر حفاظتی دیوار اور پشتا تعمیر کرکے تقریباً 25 کنال زمین دوبارہ حاصل کی جو باغِ ناران اور سپورٹس کمپلیکس کے درمیان واقع تھی۔ اسی میں سے 20 کنال زمین اقراء یونیورسٹی کے لیے الاٹ کی گئی۔
یعنی یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ عدالت نے موجودہ یونیورسٹی کی عمارت کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا، لیکن یہ ضرور ایک دستاویزی حقیقت ہے کہ اس زمین کی الاٹمنٹ خود ایک قانونی اور انتظامی تنازع کا موضوع بنی۔
2015 میں معاملہ مزید سنگین شکل اختیار کر گیا جب خیبرپختونخوا احتساب کمیشن نے اقراء نیشنل یونیورسٹی کے مالک اور چانسلر عبیدالرحمن کو گرفتار کیا۔ احتسابی ادارے کا الزام تھا کہ حیات آباد فیز ٹو میں 20 کنال سرکاری زمین تقریباً سات لاکھ روپے فی کنال کے حساب سے دی گئی، جبکہ اس وقت اس کی مارکیٹ قیمت تقریباً 80 لاکھ روپے فی کنال تھی، جس سے سرکاری خزانے کو تقریباً 15 کروڑ روپے نقصان پہنچنے کا الزام عائد کیا گیا۔
دوسری طرف یہی وہ مقام ہے جہاں صحافتی دیانت کا تقاضا ہے کہ مکمل تصویر سامنے رکھی جائے۔ 2013 کے عدالتی فیصلے میں 20 کنال کی الاٹمنٹ کو منسوخ کرنے کی درخواست مسترد کی گئی تھی اور عدالت کے سامنے زمین کے واٹرکورس سے حاصل کیے جانے اور الاٹمنٹ کے لیے قانونی کارروائی کا ریکارڈ موجود تھا۔ اس لیے آج یہ کہنا کہ "عدالت نے یونیورسٹی کی موجودہ زمین کو غیر قانونی قرار دیا تھا" درست نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ سرکاری زمین کی قیمت، الاٹمنٹ کا طریقہ، واٹرکورس کی حیثیت اور اس پورے عمل میں سرکاری مفاد کا تحفظ کس حد تک ہوا۔
اب دوسری طرف آئیے، یعنی تعلیم کی طرف۔
نجی یونیورسٹی طلبہ سے لاکھوں روپے کی مجموعی تعلیمی فیس وصول کرتی ہے تو اس کے بدلے طلبہ کو معیاری تعلیم، مناسب تعلیمی ماحول، محفوظ ہاسٹل، بجلی، انٹرنیٹ، صاف اور معیاری خوراک، اہل اساتذہ اور شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام ملنا چاہیے۔ اگر طلبہ ان بنیادی سہولتوں کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں تو انتظامیہ کو سب سے پہلے اپنے نظام تعلیم اور انتظامی ترجیحات کا جائزہ لینا چاہیے، نہ کہ احتجاج کو طاقت کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
طلبہ نے حالیہ احتجاج میں انہی بنیادی سہولیات کی شکایات کی ہیں۔ دوسری طرف یونیورسٹی اپنی تشہیری معلومات میں جدید سہولیات، ہاسٹل، انٹرنیٹ اور دیگر طلبہ سہولتوں کی موجودگی کے دعوے کرتی ہے۔ اس تضاد کی آزادانہ جانچ ہونی چاہیے کہ فیس کے عوض کاغذ پر جو کچھ فراہم کیا جارہا ہے اور عملی طور پر طلبہ کو جو کچھ مل رہا ہے، ان دونوں میں کتنا فرق ہے۔
اسی طرح اساتذہ کی اہلیت کا سوال بھی کسی الزام کی بنیاد پر نہیں بلکہ ریکارڈ کی بنیاد پر حل ہونا چاہیے۔ ہر شعبے میں مستقل اور وزٹنگ اساتذہ کی تعداد، ان کی تعلیمی قابلیت، تجربہ، تحقیقی کام اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مقررہ معیار کے مطابق ان کی حیثیت سامنے آنی چاہیے۔ اگر معیار پورا ہورہا ہے تو یونیورسٹی کو اپنا ریکارڈ سامنے لانے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے، اور اگر نہیں ہورہا تو طلبہ سے وصول کی جانے والی فیس اور تعلیم کے معیار کے درمیان فرق کا جواب بھی دینا ہوگا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اقراء نیشنل یونیورسٹی آج ایک فعال اور تسلیم شدہ نجی یونیورسٹی کے طور پر موجود ہے۔ خیبرپختونخوا ہائر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی کے ریکارڈ میں اس کی حیثیت فعال درج ہے۔ مگر کسی ادارے کا رجسٹرڈ اور تسلیم شدہ ہونا اسے سوالات سے بالاتر نہیں کرتا۔ سرکاری منظوری تعلیمی معیار، انتظامی شفافیت اور طلبہ کے ساتھ حسنِ سلوک کی مستقل ضمانت نہیں ہوتی۔
یہاں اصل سوال اب اقراء یونیورسٹی سے آگے بڑھ کر پورے نجی تعلیمی نظام کا ہے۔ اگر ایک یونیورسٹی بھاری فیس وصول کرے، طلبہ بنیادی سہولیات کی شکایت کریں، انتظامیہ اور طلبہ کے درمیان مذاکرات ناکام ہوں، پھر مسلح نجی گارڈز احتجاج کے مقابل کھڑے ہوں اور فائرنگ ہوجائے تو اسے محض "طلبہ کا احتجاج" کہہ کر ختم نہیں کیا جاسکتا۔
تعلیمی ادارہ وہ جگہ ہوتا ہے جہاں اختلاف کو دلیل سے حل کیا جاتا ہے، بندوق سے نہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے پاس ضابطے ہیں، تادیبی کارروائی کے اختیارات ہیں، پولیس موجود ہے، عدالتیں موجود ہیں۔ مسلح گارڈز کے ذریعے طلبہ کو خاموش کرانا کسی بھی مہذب تعلیمی ماحول کے لیے خطرناک مثال ہے۔
اور اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ کسی ذمہ دار افسر نے واقعی فائرنگ کا حکم دیا تھا تو اس ذمہ دار شخص کا عہدہ اسے قانونی جواب دہی سے محفوظ نہیں کرسکتا۔ اسی طرح اگر گارڈز نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا تو ان کے ساتھ انہیں مسلح رکھنے اور موقع پر تعینات کرنے والے ذمہ داران سے بھی سوال ہونا چاہیے۔
اقراء یونیورسٹی کو اب ایک سادہ مگر بنیادی سوال کا جواب دینا ہوگا: یہ ادارہ طلبہ کو تعلیم دینے کے لیے ہے یا اپنے انتظامی اختیار کو منوانے کے لیے؟
فائرنگ کا واقعہ اس سوال کو محض سیاسی نعرہ نہیں رہنے دیتا۔ پولیس کی تفتیش، طلبہ کے بیانات، گارڈز کے بیانات، اسلحے کے لائسنس، فائرنگ کی ویڈیوز، سی سی ٹی وی ریکارڈ، یونیورسٹی کے اندرونی احکامات، فیس اور ہاسٹل ریکارڈ، اساتذہ کی اہلیت، زمین کی الاٹمنٹ کی فائل اور سابقہ احتسابی کارروائی—سب کچھ سامنے آنا چاہیے۔
کیونکہ مسئلہ صرف تین گارڈز کی فائرنگ کا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر تعلیم کے نام پر قائم ایک ادارے میں طالب علم اپنے جائز مسائل بیان کرنے کے بجائے بندوقوں کے سامنے کھڑے ہوں تو پھر سوال یونیورسٹی کی عمارت سے نہیں، اس کے پورے انتظامی کلچر سے پوچھنا پڑتا ہے۔
اقراء یونیورسٹی: این ٹی این کے بغیر 26 کروڑ کا ٹھیکہ، طلبہ پر فائرنگ
اقراء نیشنل یونیورسٹی آج ایک ایسے واقعے کے باعث خبروں میں ہے جس نے ایک تعلیمی ادارے کے اندر انتظامیہ، طلبہ کے حقوق اور سکیورٹی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ طلبہ اپنے ہاسٹل کی بنیادی سہولتوں، بجلی، انٹرنیٹ، خوراک اور فیس سے متعلق مسائل کے خلاف احتجاج کر رہے تھے کہ صورتحال کشیدہ ہوگئی اور سکیورٹی گارڈز کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔ پولیس کے مطابق کوئی طالب علم زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔ یہ یقیناً اطمینان کی بات ہے کہ کوئی انسانی جان ضائع نہیں ہوئی، لیکن سوال یہ ہے کہ ایک تعلیمی ادارے میں اپنے مسائل بیان کرنے والے طلبہ کے سامنے اسلحہ لہرانے اور فائرنگ کی نوبت آخر کیوں آئی؟
اس سوال کا جواب صرف آج کے واقعے میں تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ اقراء یونیورسٹی کے ماضی کے انتظامی اور مالی معاملات کا سرکاری ریکارڈ بھی کئی ایسے سوالات سامنے لاتا ہے جنہیں دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی رپورٹ میں شامل سرکاری آڈٹ آبزرویشن کے مطابق مالی سال 2010-11 میں سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے نے صوبے کے 24 اضلاع میں 24 ماڈل لیبارٹریاں قائم کرنے کے لیے تقریباً 25 کروڑ 99 لاکھ 20 ہزار روپے کا ٹھیکہ طلب کیا۔ آڈٹ نے اس عمل میں متعدد بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی۔
آڈٹ کے مطابق اس بولی میں حصہ لینے والی فرموں کے لیے قومی ٹیکس نمبر اور سیلز ٹیکس نمبر لازمی تھے، لیکن اقراء ٹرسٹ کے پاس نہ قومی ٹیکس نمبر تھا اور نہ سیلز ٹیکس نمبر۔ اس کے باوجود اقراء ٹرسٹ کو ٹھیکہ دینے کا معاملہ آڈٹ کے سامنے آیا۔ آڈٹ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ تقابلی بیان میں صرف دو بولی دہندگان موجود تھے جبکہ قواعد کے مطابق انتخاب کے لیے کم از کم تین بولیوں کا معیار کیوں اختیار نہیں کیا گیا۔ مزید یہ کہ بولی کھولنے کے دن کی دو الگ حاضری شیٹس ریکارڈ پر موجود تھیں؛ ایک پر 25 اکتوبر 2010 اور دوسری پر 14 دسمبر 2010 کی تاریخ درج تھی۔
یہاں رک کر ایک بات واضح کرنا ضروری ہے۔ آڈٹ آبزرویشن کسی عدالت کا حتمی فیصلہ نہیں ہوتی۔ لیکن یہ بھی معمولی کاغذی اعتراض نہیں کہ اسے نظرانداز کردیا جائے۔ سرکاری آڈٹ نے اس معاملے میں فرم کو مبینہ غیرضروری رعایت اور ملی بھگت کا حوالہ دیا تھا اور یہ بھی درج کیا کہ معاملہ ستمبر 2012 میں رپورٹ ہونے کے باوجود محکمے کی جانب سے جواب نہیں دیا گیا اور بعد کی درخواستوں کے باوجود ڈی اے سی اجلاس بھی رپورٹ مکمل ہونے تک نہیں ہوسکا۔
محکمے کا اپنا مؤقف بھی اسی رپورٹ میں موجود ہے۔ محکمہ نے جواب دیا کہ اخبارات میں وسیع تشہیر کے باوجود مقامی طور پر صرف تین غیر رجسٹرڈ فرموں نے درخواست دی، کوئی رجسٹرڈ مقامی فرم دستیاب نہیں تھی، اس لیے متعلقہ کمیٹی نے بولیوں پر کارروائی کا فیصلہ کیا۔ محکمہ کے مطابق کامیاب فرم سے حکومت کے مقررہ ٹیکس، جن میں جی ایس ٹی اور انکم ٹیکس شامل تھے، منہا کیے گئے اور فرم کے پاس متعلقہ کام کا وسیع تجربہ بھی تھا۔ یعنی دستاویز میں ایک طرف آڈٹ کا اعتراض ہے اور دوسری طرف محکمہ کا دفاع؛ اصل صحافتی سوال یہ ہے کہ آخر حتمی طور پر ذمہ داری کس پر عائد ہوئی اور اس اعتراض کا انجام کیا ہوا۔
یہ سوال آج اس لیے بھی اہم ہوگیا ہے کہ اقراء نیشنل یونیورسٹی کوئی غیر معروف یا غیر قانونی ادارہ نہیں۔ یہ خیبرپختونخوا حکومت سے چارٹرڈ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تسلیم شدہ نجی یونیورسٹی ہے۔ ہائر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی کے موجودہ ریکارڈ میں بھی یہ فعال ادارے کے طور پر درج ہے اور متعلقہ ریکارڈ میں اقراء ٹرسٹ کے نام سے وابستگی درج ہے۔
اسی لیے سوال یونیورسٹی کے وجود کا نہیں، ادارے کے اندر احتساب کے معیار کا ہے۔ اگر ایک تعلیمی ادارہ سرکاری آڈٹ میں اٹھائے گئے سوالات کا سامنا کرچکا ہو تو برسوں بعد بھی یہ جاننا عوام کا حق ہے کہ ان اعتراضات کا حتمی نتیجہ کیا نکلا۔ کیا کسی ذمہ دار کا تعین ہوا؟ کیا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے فیصلہ دیا؟ کیا معاملہ بند ہوا یا اعتراض برقرار رہا؟ اگر بند ہوا تو کس بنیاد پر؟ اور اگر ذمہ داری عائد ہوئی تو کس پر؟
آج کا واقعہ ان پرانے سوالات کو ایک نئے تناظر میں ہمارے سامنے لے آیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ ہاسٹل کی بنیادی سہولتوں اور فیس سے متعلق مسائل کے حل کے لیے انتظامیہ سے رجوع کرچکے تھے، مگر معاملہ احتجاج اور پھر فائرنگ تک پہنچ گیا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سکیورٹی گارڈز کو گرفتار کیا اور اسلحہ تحویل میں لیا؛ پولیس نے فائرنگ کو ہوائی فائرنگ قرار دیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے یہ الزام بھی سامنے آیا کہ فائرنگ انتظامیہ کی ہدایت پر ہوئی، تاہم اس الزام کی آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے اور اس کا تعین پولیس تفتیش اور دستیاب شواہد سے ہونا چاہیے۔
شکر ہے کہ آج اقراء یونیورسٹی میں کوئی طالب علم جان سے نہیں گیا۔ لیکن کسی تعلیمی ادارے میں یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ طلبہ کی شکایت کا جواب مذاکرات سے دیا جائے گا یا بندوق سے؟ اگر سکیورٹی گارڈز نے قانون کی خلاف ورزی کی تو ان کے خلاف قانون حرکت میں آنا چاہیے، اور اگر کسی انتظامی افسر نے غیرقانونی فائرنگ کا حکم دیا تو اس الزام کی بھی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ذمہ داری کسی عہدے، اثر و رسوخ یا ادارے کے نام سے بڑی نہیں ہوسکتی۔
اقراء یونیورسٹی کے خلاف کسی شخصی یا انتقامی مہم کی ضرورت نہیں؛ ضرورت دستاویزی احتساب کی ہے۔ پرانے آڈٹ اعتراضات کا انجام سامنے آنا چاہیے، آج کی فائرنگ کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں، طلبہ کی شکایات کا آزادانہ جائزہ لیا جانا چاہیے اور یونیورسٹی انتظامیہ کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ ایک ایسے ادارے میں جہاں ہزاروں نوجوان اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے آتے ہیں، ان کی آواز کو سننے کا نظام کتنا مؤثر ہے۔
تعلیمی ادارہ وہ جگہ ہوتا ہے جہاں اختلاف کو دلیل سے شکست دی جاتی ہے، طاقت کے مظاہرے سے نہیں۔ اقراء یونیورسٹی کے بارے میں آج سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ یہاں طالب علم کو سوال کرنے کا حق حاصل ہے یا صرف فیس ادا کرنے کا؟
واپس کریں