دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
گولی مار پولیس اور قانون سے بڑی بندوق ۔ خالد خان
No image دنیا کے ہر معاشرے کو جرم سے نمٹنے کے لیے پولیس کی ضرورت ہے، لیکن پولیس کو یہ اختیار دینے اور پولیس کو ہر اختیار دے دینے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ریاست پولیس کے ہاتھ میں ہتھیار اس لیے دیتی ہے کہ وہ شہریوں کو قانون کے تحفظ میں رکھے، نہ کہ اس لیے کہ وہ خود قانون، تفتیش، عدالت اور سزا کے درمیان موجود تمام فاصلے ختم کر دے۔ اسی بنیادی فرق سے ایک نہایت اہم سوال جنم لیتا ہے کہ جب پولیس کا کوئی اہلکار طاقت، بالخصوص آتشیں اسلحے، کے استعمال کی طرف غیر معمولی طور پر مائل ہو جائے تو مسئلہ صرف ایک فرد کے مزاج کا رہتا ہے یا پورا معاشرہ اس کا حصہ بن جاتا ہے؟
انگریزی میں ایسے پولیس اہلکار کے لیے ایک معروف ترکیب استعمال ہوتی ہے، دی ٹرائیگر ہیپی کاپ۔ اس سے مراد ایسا پولیس اہلکار ہے جو فائرنگ یا مہلک طاقت کے استعمال کی طرف نسبتاً جلد مائل ہو۔ لیکن اس اصطلاح کو سمجھنے کے لیے یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہر پولیس فائرنگ کو اس زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ بعض حالات میں کسی شہری یا پولیس اہلکار کی جان بچانے کے لیے مہلک طاقت کا استعمال قانونی اور ناگزیر ہو سکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ طاقت کب ضروری تھی، اس کا قانونی جواز کیا تھا، کیا اس سے کم نقصان دہ راستہ موجود تھا اور استعمال ہونے والی طاقت خطرے کے مقابلے میں متناسب تھی۔ اقوام متحدہ کے اصول بھی طاقت کے استعمال کو قانونی مقصد، ضرورت اور تناسب کے بنیادی تقاضوں سے جوڑتے ہیں۔
جدید پولیس کا تصور بنیادی طور پر اس خیال سے پیدا ہوا کہ ریاستی طاقت کو شہری زندگی کے اندر ایک باقاعدہ، محدود اور قانونی ادارے کے ذریعے استعمال کیا جائے۔ مگر پولیس کی تاریخ اتنی سادہ نہیں۔ جدید دور میں شہری پولیس اور فوج کے درمیان فرق قائم کرنے کی کوشش کے باوجود مختلف ادوار میں پولیس کے عسکری انداز، عسکری تربیت، جنگی زبان اور جنگی طریقۂ کار نے شہری قانون نافذ کرنے کے عمل کو متاثر کیا۔ برطانیہ اور امریکہ کی پولیس کی تاریخ پر ہونے والی حالیہ تاریخی تحقیق بھی دکھاتی ہے کہ پولیس کی عسکریت ایک بہت پرانی بحث ہے اور نوآبادیاتی اور عسکری تجربات نے بعض معاشروں میں پولیس کے طریقۂ کار کو متاثر کیا۔
یہ مسئلہ صرف مغرب کا نہیں اور نہ ہی کسی ایک خطے کا۔ جہاں کہیں ریاستی ادارے طویل عرصے تک دہشت گردی، مسلح شورش، سیاسی تشدد، منظم جرم یا داخلی جنگ جیسے حالات سے گزرتے ہیں وہاں پولیس کے کردار میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔ پولیس کا ذہن اگر مسلسل دشمن، خطرے اور مقابلے کی زبان میں تربیت پاتا رہے تو عام شہری اور مسلح دشمن کے درمیان نفسیاتی فاصلہ کم ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ تحقیق میں پولیس کی عسکریت کے بارے میں یہی نکتہ سامنے آتا ہے کہ جب قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں کو حقوق رکھنے والے افراد کے بجائے دشمن سمجھنے کے انداز میں کام کرنے لگیں تو طاقت کے استعمال کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
لیکن یہاں ایک اور زیادہ پیچیدہ مسئلہ ہے کہ پولیس کا رویہ صرف پولیس کی نفسیات سے نہیں بنتا، عوام کی نفسیات بھی اسے تشکیل دیتی ہے۔
جس معاشرے میں جرم کا خوف بہت زیادہ ہو، جہاں شہری قانون کے پیچیدہ اور سست عمل سے مایوس ہوں، جہاں تفتیش اور عدالت پر اعتماد کمزور ہو اور جہاں فوری نتیجے کو انصاف کا مترادف سمجھ لیا جائے، وہاں ایک ایسا پولیس اہلکار جو چند لمحوں میں فیصلہ کر دے، طاقت استعمال کرے اور مجرم کو عدالت تک پہنچانے کے بجائے موقع پر ہی ختم کر دے، بعض لوگوں کے لیے غیر معمولی مقبولیت حاصل کر سکتا ہے۔ یہاں قانون کی حکمرانی کا تصور خاموشی سے طاقت کی حکمرانی میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک خطرناک سماجی نفسیات جنم لیتی ہے۔ لوگ یہ سوال کرنا چھوڑ دیتے ہیں کہ کیا ہوا؟ اور یہ پوچھنا شروع کر دیتے ہیں کہ کتنے مارے؟ پولیس کی کارکردگی کی پیمائش تفتیش، ثبوت، گرفتاری، مقدمے اور سزا کے بجائے ہلاکتوں کی تعداد سے ہونے لگتی ہے۔ ایک ایسے ماحول میں طاقتور پولیس افسر قانون کے محافظ سے زیادہ ایک عوامی ہیرو بن سکتا ہے۔
یہ رجحان بظاہر جرم کے خلاف سخت مؤقف معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے اندر ایک بنیادی فکری غلطی چھپی ہوتی ہے کہ مجرم ہونے کا فیصلہ عدالت کا کام ہے، پولیس کا نہیں۔
پولیس کا کام شواہد جمع کرنا، تفتیش کرنا، ملزم کو قانون کے سامنے پیش کرنا اور معاشرے کو محفوظ بنانا ہے۔ عدالت کا کام یہ طے کرنا ہے کہ الزام ثابت ہوا یا نہیں۔ اگر پولیس ہی تفتیش بھی کرے، فیصلہ بھی کرے اور سزا بھی دے تو عدالتی نظام کی ضرورت ہی کہاں باقی رہ جاتی ہے؟
یہی وجہ ہے کہ بے قابو طاقت صرف انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں، عدالتی نظام کا بھی مسئلہ ہے۔ جب کسی شخص کو قانونی عمل مکمل ہونے سے پہلے ہی مجرم سمجھ کر سزا دے دی جائے تو دراصل صرف ایک فرد کا حق متاثر نہیں ہوتا، قانون کے اس بنیادی اصول کو نقصان پہنچتا ہے کہ الزام اور جرم ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
انسانی حقوق کا تصور اسی لیے ریاستی طاقت کو حدود کا پابند کرتا ہے۔ ریاست کے پاس طاقت زیادہ ہوتی ہے اور شہری نسبتاً کمزور ہوتا ہے۔ اگر پولیس کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ اپنی صوابدید سے طے کرے کہ کس کے خلاف کتنی طاقت استعمال کرنی ہے تو شہری آزادی کا تصور بہت جلد محض کاغذی حق بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے رہنما اصول واضح کرتے ہیں کہ جب طاقت کا استعمال ناگزیر ہو تو بھی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو ضبط، ضرورت اور تناسب کے اصولوں کا پابند رہنا چاہیے۔
مگر ٹرائیگر ہیپی رویے کا ایک نقصان اس سے بھی بڑا ہے جسے فوری طور پر دیکھا نہیں جا سکتا۔ یہ معاشرے میں قانون پر اعتماد کی جگہ خوف پیدا کرتا ہے۔
ایک شہری اگر یہ محسوس کرنے لگے کہ پولیس اس کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اس کے لیے خطرہ بھی بن سکتی ہے تو وہ پولیس سے تعاون کرنے کے بجائے اس سے بچنے کی کوشش کرے گا۔ نتیجتاً پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کم ہوگا، گواہ تعاون سے گریز کریں گے، متاثرہ افراد شکایات سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور جرائم کی درست تصویر سامنے آنے میں مشکلات پیدا ہوں گی۔
تحقیقی ادب میں پولیس کی قانونی حیثیت کے بارے میں ایک اہم تصور " پروسیجرل جسٹس"یعنی منصفانہ طریقۂ کار ہے۔ مطالعات نے یہ دکھایا ہے کہ لوگ پولیس کو صرف اس بنیاد پر جائز اور قابلِ قبول نہیں سمجھتے کہ پولیس جرم پکڑتی ہے؛ پولیس کا اختیار کس طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے، لوگوں کے ساتھ عزت سے برتاؤ ہوتا ہے یا نہیں، انہیں سنا جاتا ہے یا نہیں اور فیصلہ غیر جانب دارانہ محسوس ہوتا ہے یا نہیں، یہ سب پولیس کی قانونی حیثیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہاں ہمیں پولیس اہلکار کی نفسیات کی طرف واپس آنا پڑتا ہے۔
ایک مسلح اہلکار مسلسل خطرے کے ماحول میں کام کرتا ہے۔ اسے فوری فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ چند سیکنڈ کا تذبذب بعض حالات میں جان لیوا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے پولیس کی تربیت میں خطرے کی شناخت اور فوری ردعمل ضروری ہے۔ لیکن یہی صلاحیت اگر مسلسل خوف، تعصب، غصے، ادارہ جاتی دباؤ یا دشمن تصور کرنے والی ذہنیت کے ساتھ مل جائے تو خطرے کا اندازہ ضرورت سے زیادہ ہونے لگ سکتا ہے۔ پھر ایک مشتبہ حرکت بھی فوری خطرے کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے اور طاقت کا استعمال معمول بنتا جا سکتا ہے۔
یہاں مسئلہ صرف فرد کا نہیں بلکہ ادارے کا بھی ہے۔ اگر کسی ادارے میں طاقت استعمال کرنے والے اہلکار کو کامیاب، بہادر یا قابل افسر سمجھا جائے اور طاقت سے گریز کرنے والے کو کمزور تصور کیا جائے تو ادارہ خود اپنے اہلکاروں کو ایک مخصوص رویے کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر قانون، تربیت، نگرانی اور اعلیٰ افسران کی ترجیحات یہ واضح کریں کہ بہترین پولیسنگ وہ ہے جس میں خطرناک صورتحال کو کم سے کم نقصان کے ساتھ قابو کیا جائے تو کامیابی کا معیار بدل جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف معاشروں میں پولیس اصلاحات صرف ہتھیار بدلنے یا نئی وردی دینے تک محدود نہیں رہیں۔ پولیس کے استعمالِ طاقت کے قواعد، تربیت، نگرانی، شکایات کے نظام، آزادانہ تحقیقات، دستاویز بندی اور ادارہ جاتی احتساب جیسے پہلو اصلاحات کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ صرف پولیس کو زیادہ طاقتور بنانا لازماً تشدد کم نہیں کرتا؛ بعض حالات میں زیادہ عسکریت پولیس کے تشدد کے رجحان کو بڑھا سکتی ہے، جبکہ مؤثر احتساب اس رجحان کو کم کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
لیکن کسی بھی اصلاح کی سب سے مشکل منزل پولیس کی عمارت نہیں، معاشرے کا ذہن ہے۔
اگر عوام خود یہ سمجھنے لگیں کہ عدالت وقت ضائع کرتی ہے، وکیل مجرموں کو بچاتے ہیں، ثبوت غیر ضروری ہیں اور پولیس کو موقع پر فیصلہ کرنے کا اختیار ہونا چاہیے تو پھر قانون کی حکمرانی کا تصور عوامی سطح پر کمزور پڑ جاتا ہے۔ ایسی صورت میں پولیس افسر کا ہیرو بننا صرف پولیس کی کامیابی نہیں بلکہ معاشرتی ترجیحات کی علامت بھی ہوتا ہے۔
یہاں ایک عجیب تضاد سامنے آتا ہے۔ لوگ اپنے لیے قانون کی حفاظت چاہتے ہیں لیکن دوسروں کے لیے قانون کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں۔ اپنے عزیز کے ساتھ ناانصافی ہو تو عدالت، وکیل، ثبوت اور قانون یاد آتا ہے؛ لیکن جب کوئی دوسرا شخص مجرم سمجھا جائے تو وہی لوگ بعض اوقات قانونی عمل کو غیر ضروری سمجھنے لگتے ہیں۔
مہذب معاشرے کی اصل پہچان یہ نہیں کہ وہاں جرم نہیں ہوتا یا پولیس کبھی طاقت استعمال نہیں کرتی۔ اصل امتحان یہ ہے کہ طاقت رکھنے والے کو بھی قانون کے اندر کیسے رکھا جاتا ہے۔
ریاست کا اختیار اسی وقت جائز رہتا ہے جب وہ محدود ہو۔ پولیس کی طاقت اسی وقت قابلِ اعتماد رہتی ہے جب اس کے استعمال کا حساب لیا جا سکے۔ عدالت اسی وقت مضبوط رہتی ہے جب پولیس بھی اس کے سامنے جواب دہ ہو۔ اور شہری آزادی اسی وقت محفوظ رہتی ہے جب ریاست یہ تسلیم کرے کہ مشتبہ شخص بھی قانون کے تحفظ سے باہر نہیں ہو جاتا۔
اسی لیے ٹرائیگر ہیپی پولیس کا مسئلہ صرف بندوق چلانے کا مسئلہ نہیں۔ یہ دراصل اس سوال کا امتحان ہے کہ ہم انصاف کو کس چیز کا نام دیتے ہیں: قانون کے مطابق فیصلہ یا طاقت کے ذریعے فوری نتیجہ؟
اگر ہمارا جواب طاقت ہے تو پھر پولیس افسر ہیرو بن سکتا ہے، مگر قانون کمزور ہوگا۔ اگر ہمارا جواب قانون ہے تو پولیس کا بہادر افسر وہ ہوگا جو طاقت رکھتے ہوئے بھی اسے ضرورت کے بغیر استعمال نہ کرے، خطرناک صورتحال کو قابو کرے، شہری کی جان بچائے، ثبوت اکٹھے کرے اور ملزم کو عدالت تک پہنچائے۔
بندوق خود نہ اچھی ہوتی ہے نہ بری۔ اصل اہمیت اس ہاتھ، اس ذہن، اس تربیت، اس قانون اور اس معاشرے کی ہوتی ہے جو فیصلہ کرتا ہے کہ بندوق کب اٹھائی جائے گی اور کب واپس رکھ دی جائے گی۔
ایک مہذب معاشرہ طاقتور پولیس نہیں، قانون کے تابع طاقتور پولیس چاہتا ہے۔
واپس کریں