
حروف : نوید چودھری
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے آج پھر جہاز کے معاملے پر ردعمل دیا ہے، جو صفائی پیش کرنے کے مترادف ہے۔ چند روز قبل ملتان میں تقریب کے دوران وہ رسید بھی پیش کر دی جو لندن آنے جانے کے اخراجات جمع کرا کے حاصل کی تھی۔ وزیراعلی کا کہنا ہے کہ میڈیا جہاز کا ایشو ختم نہیں ہونے دے رہا۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ وہ آج خود جہاز کا ذکر نہ کرتیں تو اس ’’مہم‘‘ کا ٹمپو وقت گزرنے اور کئی دوسرے قومی مسائل کی وجہ کسی حد تک سلو ہو چکا تھا۔ جہاں تک جہاز کو سیکینڈل بنانے کی بات ہے تو جنہوں نے یہ ڈیوٹی کرنی ہے، وہ ہر صورت کریں گے۔ ن لیگ ہو یا کوئی اور پارٹی، اینکروں یا یوٹیوبرز نے صرف حکومت کی ہی ہر بات نہیں ماننا ہوتی، اس حوالے سے ان سب کی بھی حدود مقرر ہیں۔ اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ وقفے کے بعد ہی سہی، بغیر کسی امتیاز کے سارے میڈیا سے اوپن انٹرایکشن ہونا چاہیے۔
بہرحال، جو ہونا تھا وہ ہو چکا۔ اب ردعمل کا جارحانہ انداز بھی دفاعی حکمتِ عملی ہی دکھائی دے گا۔ بنیادی بات یہ ہے کہ خرابی اس وقت پیدا ہوئی جب جہاز کی خریداری کے بعد اسے صوبے کی مجوزہ ایئرلائن کے جہازوں کے فلیٹ کا حصہ قرار دیا گیا اور یہ اعلان باقاعدہ پریس کانفرنس میں سرکاری طور پر کیا گیا۔ پھر اپنی سواری بنا لیا ۔ اس کے بعد تنقید تو کسی صورت رک نہیں سکتی تھی۔البتہ اگر جہاز خریدتے وقت اعلان کر دیا جاتا کہ یہ وزیراعلی کے لیے ہے، پھر ملک اور صوبے کے مختلف حصوں میں اڑان بھرنے سے پہلے سرکاری اطلاعات میں خصوصی طیارے سے سفر کا ذکر کر دیا جاتا تو یہ روٹین کا معاملہ بن سکتا تھا۔ برطانیہ جانے سے پہلے خبر جاری کی جاتی کہ وزیراعلیٰ اپنے سپیشل جہاز پر جا رہی ہیں ، تب بھی تو تنقید کا ایک اور موقع موجود تھا، وہ تو ہونا ہی ہونا تھی، لیکن شدت اور انداز، دونوں کچھ مختلف ہوتے۔ جہاز کی خریداری سے لے کر استعمال تک کے معاملات پر شفافیت اختیار کر کے زیادہ مؤثر طریقے سے جواب دیا جا سکتا تھا۔ ایک عام آدمی بھی جانتا ہے، سیاست اور تدبر تو یہی سکھاتا ہے کہ خواہ کتنا ہی دباؤ کیوں نہ ہو، اپنے حوالے سے منسوب منفی معاملات کا ذکر ازخود اور سرِعام نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جو عام آدمی بھی جانتا ہے۔قصہ مختصر، دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ جہاز کا ایشو مس ہینڈل کیا گیا، بات کا بتنگڑ تو بننا حیران کن نہیں۔
واپس کریں