وزیراعظم کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے سے متعلق بریفنگ

میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت کی طرف سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے سے متعلق مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے اعلان اور بیک ڈور رابطوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال کے تناظر میں آرٹیکل 232 اور 234 پر آراء لی گئیں۔ اس حوالے سے صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم کی ملاقات کا بھی امکان ہے جس میں آئینی اقدامات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اس وقت ملک جن حالات سے گزر رہا ہے وہ اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتے کہ سیاسی عدم استحکام کو مزید بڑھاوا دیا جائے کیونکہ اس سے صرف سیاسی عمل، جمہوریت یا سیاسی جماعتیں ہی متاثر نہیں ہوں گی بلکہ ملک اور عوام کی پریشانیوں میں بھی اضافہ ہو گا۔ وفاقی حکومت کا یہ کہنا ہے خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے وفاق سے تعاون نہیں کر رہی جبکہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اس سے مختلف مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے۔ یہ کیسی افسوس ناک بات ہے کہ بھارت اور افغانستان کی ملی بھگت سے دہشت گردی کی لہر پاکستان کے مسائل اور عدم استحکام میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے اور اس صورتحال میں مسئلے کے حل پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی بجائے سیاسی قیادت ایک دوسرے پر الزام تراشی اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں مصروف ہے۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا پاکستان کا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے لیکن وہاں موجود صوبائی حکومت کی ترجیحات سے ایسا لگتا ہے جیسے دہشت گردی اور اس سے ہونے والے نقصانات اس کے نزدیک کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتے۔ اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے صوبے کے کروڑوں عوام کو دہشت گردی کے عفریت کی نذر کر دینا دانش مندی ہرگز نہیں ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی اختلافات ایک طرف رکھ کر دہشت گردی کے معاملے پر وفاقی حکومت اور اداروں سے تعاون کرے کیونکہ ملک اور عوام کی سلامتی پر کسی بھی قسم کا سمجھوتا ہرگز قابلِ قبول نہیں ہے، اور وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ پر غور کرنے کی بجائے خیبر پختونخوا حکومت کے تحفظات کا سیاسی حل مہیا کرے۔
واپس کریں