
آج کل سوشل میڈیا پر ایک نیا ٹرینڈ چلا ہوا ہے جہاں لوگ اپنی تصاویر کو AI ٹولز کے ذریعے ایڈٹ کرواتے ہیں، کبھی کپڑے تبدیل کرنے کے لیے تو کبھی خود کو کسی مختلف روپ میں دیکھنے کے لیے۔ خاص طور پر ہماری بہنیں اور لڑکیاں اس چیز کا بہت شوق رکھتی ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کے پیچھے کتنی بڑی حقیقت چھپی ہے؟
ایک سچا اور آنکھیں کھول دینے والا واقعہ:
پچھلے دنوں ایک لڑکی نے اپنی تصویر اے آئی (AI) ٹول میں اپلوڈ کی اور کمانڈ دی کہ "مجھے اس تصویر میں ساڑھی پہنا دو"۔
جب تصویر بن کر سامنے آئی تو لڑکی یہ دیکھ کر ششدر رہ گئی کہ ساڑھی کے بلاؤز کی وجہ سے اس کا جو بازو ننگا تھا، اس کے کندھے پر بالکل اسی جگہ ایک "تل" (Mole) موجود تھا جو حقیقت میں اس کے جسم پر تھا۔وہ لڑکی حیران اور پریشان ہو گئی کہ
اے آئی (AI) کو کیسے پتہ چلا کہ میرے کندھے پر تل ہے؟
اس کا سیدھا اور خوفناک مطلب کیا ہے؟
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ کسی بھی اے آئی ایپ یا ٹول کو اپنی تصویر دیتے ہیں، تو وہ ٹیکنالوجی پہلے آپ کے اصل لباس کو ڈیجیٹلی ہٹاتی ہے (یعنی تصویر کو ننگا کرتی ہے) تاکہ وہ جسم کی ساخت اور جلد کے نشانات (جیسے تل، داغ یا رنگت) کو پڑھ سکے، اور پھر اس کے اوپر نیا لباس فٹ کرتی ہے۔
اپنی تصاویر سوچ سمجھ کر اپلوڈ کریں:
انٹرنیٹ پر کچھ بھی مفت نہیں ہوتا، آپ کی پرائیویسی کی قیمت پر یہ سب کیا جا رہا ہے۔
تصاویر تبدیل کرنے والے ٹرینڈز سے بچیں:
اپنی عام تصویر کو ساڑھی، لہنگے یا کسی اور لباس میں تبدیل کرنے والے ٹولز کا بائیکاٹ کریں۔
پرائیویسی سب سے پہلے: یاد رکھیں، ایک بار جو تصویر انٹرنیٹ یا ان ایپس کے سرور پر چلی گئی، وہ ہمیشہ کے لیے ان کے پاس محفوظ ہو جاتی ہے۔اپنی حیا، عزت اور پرائیویسی کی حفاظت خود کریں۔
واپس کریں