دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
قائد اعظم کے کھوٹے سکے عمران خان کی جیب میں
No image خصوصی تجزیہ خالد خان ۔ قائد اعظم محمد علی جناح سے ایک قول منسوب کیا جاتا ہے کہ ان کی جیب میں کھوٹے سکے تھے۔ اس قول کی تاریخی نسبت اور اصل الفاظ پر اختلاف موجود ہے، لیکن پاکستانی سیاسی لغت میں یہ استعارہ خاصا معروف ہوچکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر اس استعارے کو حرف بہ حرف نہیں بلکہ سیاسی معنی میں دیکھا جائے تو پاکستان کی بعد کی سیاست میں اس کی ایک نئی شکل دکھائی دیتی ہے۔ قائد اعظم نے ایک منتشر سیاسی جماعت اور کمزور سیاسی ڈھانچے کو ایک بڑی سیاسی قوت میں تبدیل کیا، جبکہ عمران خان نے “نیا پاکستان” بنانے کے وعدے کے ساتھ سیاست میں قدم رکھنے والی اپنی جماعت کو ایسے انتخابی امیدواروں کے حوالے بھی کیا جن کا تعلق اسی روایتی سیاسی طبقے سے تھا جسے وہ برسوں سے “سٹیٹس کو” قرار دے کر تنقید کا نشانہ بناتے رہے تھے۔
عمران خان کی سیاست کا بنیادی وعدہ ہی تبدیلی تھا۔ وہ روایتی سیاسی خاندانوں، موروثی سیاست، کرپشن، اشرافیائی نظام اور سٹیٹس کو کے خلاف کھڑے ہوئے۔ ان کے گرد ایک نئی سیاسی نسل جمع ہوئی جس میں بڑی تعداد ایسے نوجوانوں اور متوسط طبقے کے لوگوں کی تھی جو روایتی سیاست سے بیزار تھے۔ “نیا پاکستان” محض ایک انتخابی نعرہ نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی وعدہ تھا کہ پرانے طریقۂ سیاست، پرانے چہروں اور پرانے مفادات کے مقابلے میں ایک نئی سیاسی قوت پیدا کی جائے گی۔ 2018 کے انتخابی منشور کا عنوان بھی “دی روڈ ٹو نیا پاکستان” تھا۔
لیکن اقتدار کے دروازے تک پہنچتے پہنچتے اس انقلاب کو ایک عملی مسئلے کا سامنا ہوا کہ انتخابات نعروں سے نہیں، حلقوں، امیدواروں، برادریوں، مقامی اثر و رسوخ اور انتخابی حساب کتاب سے بھی جیتے جاتے ہیں۔ چنانچہ وہی عمران خان جنہوں نے برسوں سٹیٹس کو کو چیلنج کیا تھا، 2018 میں الیکٹیبلز کی سیاست کو عملی ضرورت قرار دیتے نظر آئے۔ انہوں نے اس وقت صاف کہا کہ انتخاب جیتنے کے لیے موجود سیاسی طبقے کی حقیقتوں کے ساتھ کھیلنا پڑتا ہے۔
یہاں سے عمران خان کی سیاست کا سب سے بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر تبدیلی کا مقصد صرف حکومت حاصل کرنا تھا تو پھر یہ روایتی انتخابی قوتیں انقلاب کا حصہ کیسے بن گئیں؟ اور اگر مقصد واقعی سیاسی نظام کو بدلنا تھا تو پھر نئی قیادت پیدا کرنے، کارکنوں کو فیصلہ سازی کے قابل بنانے اور مقامی سطح پر نئی سیاسی قیادت کھڑی کرنے پر اتنی توجہ کیوں نہ دی گئی؟
خیبر پختونخوا اس سوال کے لیے شاید سب سے اہم تجربہ گاہ ہے۔ پی ٹی آئی نے 2013 میں صوبے میں حکومت بنائی، 2018 میں دوبارہ کامیابی حاصل کی اور 2024 کے انتخابات کے بعد تیسری مرتبہ صوبائی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ خود صوبائی حکومت کی دستاویز نے 2024 میں اسے صوبے کی تاریخ میں کسی جماعت کی مسلسل تیسری انتخابی کامیابی قرار دیا۔
تین مسلسل انتخابی کامیابیاں کسی بھی جماعت کے لیے محض انتخابی فتح نہیں بلکہ سیاسی ادارہ سازی کا غیر معمولی موقع ہوتی ہیں۔ اس عرصے میں ایک جماعت اپنے کارکن کو امیدوار، اپنے مقامی کارکن کو رہنما اور اپنے نظریاتی کارکن کو پالیسی ساز بنا سکتی ہے۔ وہ نئی نسل کو آگے لا سکتی ہے، مقامی تنظیمیں مضبوط کرسکتی ہے اور اقتدار کو شخصیات کے بجائے اداروں کے ذریعے چلانے کی روایت ڈال سکتی ہے۔
لیکن پی ٹی آئی کے معاملے میں بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا اس طویل اقتداری تجربے نے واقعی ایک ایسی سیاسی نسل تیار کی جو عمران خان کے بغیر بھی اسی سیاسی فلسفے کو آگے بڑھا سکتی؟ یا جماعت کی سیاست بتدریج ایک شخص کے گرد اس قدر مرکوز ہوتی گئی کہ پارٹی، قیادت اور کارکن کے درمیان فاصلہ بڑھتا چلا گیا؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ جب اقتدار موجود تھا تو بہت سے لوگ عمران خان کے ساتھ کھڑے تھے، وزارتیں تھیں، عہدے تھے، حکومت تھی اور سیاسی اثر و رسوخ تھا۔ مگر جب اقتدار ختم ہوا اور عمران خان خود قانونی مقدمات اور قید کے مرحلے میں پہنچے تو سیاسی وفاداریوں کا امتحان بھی شروع ہوگیا۔ آج یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ وہ تمام چہرے کہاں ہیں جنہوں نے اقتدار کے دنوں میں اس نظام سے فائدہ اٹھایا تھا؟ کون مشکل وقت میں اسی شدت سے جماعت، کارکن اور قیادت کے ساتھ کھڑا ہے؟
یہاں کسی فرد پر بدعنوانی کا الزام لگانا مقصود نہیں۔ کسی کے اثاثوں میں اضافہ، گاڑیوں کے قافلے یا سیاسی حیثیت میں تبدیلی اپنی جگہ سوال ضرور پیدا کرسکتے ہیں، مگر جرم کا فیصلہ ثبوت، تحقیقات اور قانون ہی کرسکتا ہے۔ اصل سوال اس سے بڑا ہے کہ کیا اقتدار نے پی ٹی آئی کے ان لوگوں کو بھی بدل دیا جنہوں نے تبدیلی کا وعدہ کرکے سیاست شروع کی تھی؟
سیاست میں یہ منظر نیا نہیں۔ اقتدار کے ساتھ آنے والے بہت سے لوگ اقتدار کے ساتھ ہی چلے جاتے ہیں۔ مگر ایک نظریاتی جماعت کی اصل آزمائش اقتدار کے دنوں میں نہیں بلکہ اقتدار سے باہر آنے کے بعد ہوتی ہے۔ حکومت میں ہر شخص وفادار دکھائی دیتا ہے؛ مشکل وقت ہی بتاتا ہے کہ وفاداری منصب کے ساتھ تھی یا نظریے کے ساتھ۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں عمران خان کی سیاست کا ایک بڑا تضاد سامنے آتا ہے۔ انہوں نے سٹیٹس کو کے خلاف جنگ کا اعلان کیا، مگر انتخابات جیتنے کے لیے اسی سٹیٹس کو کے بعض حصوں کو اپنی سیاسی صفوں میں شامل کیا۔ انہوں نے پرانے سیاسی طبقے پر تنقید کی، مگر عملی سیاست میں انہی انتخابی حقیقتوں سے سمجھوتا کیا۔ انہوں نے نوجوانوں کو نئی سیاست کا خواب دکھایا، مگر ہر جگہ نئی قیادت کو فیصلہ کن مقام تک پہنچانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ پی ٹی آئی کی تمام قیادت ایک جیسی تھی یا اس کے تمام امیدوار روایتی سیاست کے نمائندے تھے۔ ایسا کہنا بھی حقیقت کو سادہ بنا دینا ہوگا۔ 2018 میں بڑی تعداد میں نئے چہرے بھی سیاست میں آئے اور پی ٹی آئی نے واقعی روایتی جماعتوں کے مقابلے میں ایک نئی سیاسی قوت کے طور پر جگہ بنائی۔ خیبر پختونخوا میں اس کی انتخابی بنیاد 2013 کے بعد مسلسل مضبوط ہوئی اور 2024 میں پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدواروں نے صوبے میں بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کیے۔
لیکن اسی لیے سوال اور زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ جب عوام نے ایک جماعت کو بار بار موقع دیا تو اس جماعت کو صرف حکومتیں نہیں بنانی تھیں، اسے اپنے بعد کی قیادت بھی تیار کرنی تھی۔
دانش مند قومیں اپنے تجربات سے سیکھتی ہیں۔ سیاست میں بھی یہی اصول ہے۔ ایک سیاسی جماعت اگر ایک مرتبہ اقتدار کے لیے روایتی امیدواروں پر انحصار کرے تو اسے انتخابی مجبوری کہا جاسکتا ہے؛ دوسری مرتبہ بھی وہی راستہ اختیار کرے تو اسے سیاسی حکمت عملی کہا جاسکتا ہے؛ لیکن اگر برسوں اقتدار میں رہنے کے باوجود نئی قیادت، مضبوط تنظیم اور نظریاتی تربیت کا متبادل نظام پیدا نہ ہوسکے تو پھر سوال صرف امیدواروں کا نہیں رہتا، پوری سیاسی حکمت عملی کا بن جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ عقل مند وہ ہے جو دوسروں کے تجربے سے سیکھتا ہے اور بے وقوف وہ جو ہر تجربہ خود کرکے دیکھتا ہے۔ مگر عمران خان کی سیاست کی ستم ظریفی شاید یہ ہے کہ تجربات کی ایک طویل فہرست کے باوجود پاکستانی سیاست ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کرپائی کہ خان صاحب نے ان تجربات سے کیا سیکھا ہے۔
اور اگر سیکھ بھی لیا ہے تو سوال اس سے بھی زیادہ تلخ ہے کہ کیا یہ سیکھا ہوا اب ان کے کسی کام آسکتا ہے؟
کیونکہ سیاست میں بعض سبق اس وقت سمجھ آتے ہیں جب ان پر عمل کرنے کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ اور اقتدار کے بعد آنے والا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہوتا ہے کہ جماعت کسی ایک شخص کے گرد جتنی بھی بڑی ہوجائے، اگر وہ شخص اس کے بعد کی قیادت، تنظیم اور سیاسی تربیت کا نظام نہیں بناسکا تو اس کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی بھی اس کی سب سے بڑی کمزوری بن سکتی ہے۔
قائد اعظم کے منسوب “سکوں” سے عمران خان کے “الیکٹیبلز” تک سفر دراصل پاکستانی سیاست کے ایک پرانے سوال کو دوبارہ سامنے لاتا ہے کہ کیا ہم واقعی نظام بدلنا چاہتے ہیں یا صرف نظام چلانے والے چہرے بدلنا چاہتے ہیں؟
شاید یہی سوال “نیا پاکستان” کے وعدے کا سب سے مشکل امتحان بھی تھا۔
واپس کریں