دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اسرائیل، فلسطین تنازعہ: تاریخ اور حل ۔ خالد خان
No image اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ دنیا کے ان چند تنازعات میں شامل ہے جنہیں سمجھنے کے لیے صرف موجودہ نقشہ دیکھنا کافی نہیں۔ اس تنازعے کے پیچھے ہزاروں سال کی مذہبی یادداشت، قدیم قوموں کی تاریخ، جلاوطنی، ہجرت، سلطنتوں کا عروج و زوال، نوآبادیاتی سیاست، قوم پرستی، ہولوکاسٹ، عرب قوم پرستی، فلسطینی بے دخلی، جنگیں، قبضہ، دہشت گردی، سلامتی اور بین الاقوامی قانون کی کئی پرتیں ایک دوسرے میں پیوست ہیں۔ اسی لیے اس مسئلے کو صرف یہودیوں اور عربوں میں اچھے اور برے کی تقسیم سے سمجھنے کی کوشش ہمیشہ ناکام رہتی ہے۔
سب سے پہلے ایک بنیادی تاریخی حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ یہودی کوئی ایسی قوم نہیں جس کا ماضی صرف مذہبی کتابوں میں موجود ہو۔ قدیم اسرائیلی اور یہودی معاشروں کا تاریخی وجود جنوبی لیونت، یعنی اس خطے میں ثابت ہوتا ہے جسے قدیم زمانے میں کنعان کہا جاتا تھا۔ اسرائیل اور یہوداہ کی قدیم ریاستیں اسی خطے میں وجود میں آئیں۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ فلسطین کی آبادی صدیوں اور ہزاروں سال کے مختلف ادوار میں تبدیل ہوتی رہی اور عرب آبادی بھی اس خطے کی ایک حقیقی تاریخی آبادی بن چکی تھی۔ اس لیے موجودہ تنازعے کو کسی ایک قوم کے قدیم وجود کو تسلیم کرکے دوسری قوم کے تاریخی وجود سے انکار کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا۔
یہودی تاریخ میں جلاوطنی ایک مرکزی تجربہ رہی ہے۔ آشوری اور بابلی فتوحات، بعد کے رومی عہد اور مختلف سیاسی تبدیلیوں نے یہودی آبادی کو بار بار منتشر کیا۔ لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ایک دن پوری یہودی قوم کو ایک ہی حکم کے تحت فلسطین سے نکال دیا گیا اور اس کے بعد دو ہزار سال تک وہاں کوئی یہودی باقی نہیں رہا۔ مختلف ادوار میں یہودی آبادی اس خطے میں موجود رہی، جبکہ دنیا کے دوسرے علاقوں میں ایک وسیع یہودی آبادی بھی پھیل گئی۔
یہاں سے ایک اہم انسانی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر کسی قوم کو اس کے تاریخی وطن سے مختلف ادوار میں بے دخل کیا جائے تو کیا صدیوں بعد اس قوم کی اولاد کو اپنے آبائی وطن سے دوبارہ تعلق کا حق حاصل رہتا ہے؟ اس سوال کا جواب صرف اس بنیاد پر نہیں دیا جاسکتا کہ کئی صدیاں گزر چکی ہیں۔ انسانی تاریخ میں نسلوں پر محیط جلاوطنی اور وطن سے تعلق ایک حقیقی انسانی احساس ہے۔ یہودیوں کے لیے فلسطین صرف ایک جغرافیائی جگہ نہیں رہا؛ یروشلم، صہیون اور سرزمینِ اسرائیل مذہبی اور قومی حافظے کا حصہ رہے۔
لیکن اسی مقام پر دوسرا سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک قوم کا قدیم وطن سے تعلق حقیقی ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سرزمین پر صدیوں سے آباد دوسری قوم کے حقوق ختم ہوجاتے ہیں؟ جواب بھی اتنا ہی واضح ہے۔ نہیں۔
یہودی تاریخی حق اور فلسطینی موجودہ و تاریخی حق ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک ہی سرزمین پر دو قومی دعوے جدید زمانے میں ایک دوسرے کے سامنے آگئے۔
انیسویں صدی میں یورپ میں جدید صہیونی تحریک ابھری۔ اس کے پس منظر میں یورپی یہود دشمنی، قومی ریاستوں کا تصور اور یہودیوں کے لیے محفوظ قومی وطن کی تلاش شامل تھی۔ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس تحریک کی شدت صرف مذہبی خواہش کا نتیجہ نہیں تھی؛ یورپ میں یہودیوں کے خلاف منظم امتیاز، تشدد اور آخرکار نازی جرمنی کے ہاتھوں ہولوکاسٹ نے یہودی قومی وطن کے مطالبے کو غیر معمولی تاریخی قوت دی۔
لیکن فلسطین میں رہنے والے عربوں کے لیے مسئلہ بالکل مختلف تھا۔ ان کی نظر میں وہ اپنی سرزمین پر ایک ایسی قومی تحریک کی آمد دیکھ رہے تھے جسے بیرونی دنیا کی سیاسی طاقتیں بھی تقویت دے رہی تھیں اور جس کے نتیجے میں مستقبل کی ریاست کے بارے میں ان کے اپنے سیاسی حقوق غیر یقینی ہورہے تھے۔
پہلی جنگ عظیم کے بعد عثمانی سلطنت ختم ہوئی اور فلسطین برطانوی انتظام میں آگیا۔ 1917 کے بالفور اعلامیے میں برطانیہ نے فلسطین میں یہودی قوم کے لیے ایک قومی وطن کے قیام کی حمایت کی، جبکہ وہاں کی عرب آبادی کی سیاسی خواہشات کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ 1922 میں لیگ آف نیشنز کے فلسطینی مینڈیٹ میں بھی یہودی قومی وطن کا تصور شامل کردیا گیا۔ اس دوران یورپ سے یہودی ہجرت میں اضافہ ہوا، خصوصاً 1930 کی دہائی میں نازی ظلم کے نتیجے میں۔ اقوام متحدہ کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق 1917 میں فلسطین کی آبادی میں یہودیوں کا حصہ دس فیصد سے کم تھا جو 1947 تک تیس فیصد سے زیادہ ہوگیا۔
یہاں دونوں فریقوں کے خوف کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہودی یورپ میں اپنی جان اور شناخت کے عدم تحفظ سے نکل کر ایک محفوظ قومی وطن چاہتے تھے؛ فلسطینی عرب اس بات سے خوف زدہ تھے کہ ایک ایسی قومی تحریک جو بیرونِ فلسطین سے بڑے پیمانے پر آبادی لا رہی ہے، بالآخر ان کے اپنے وطن میں ان کی سیاسی اکثریت اور حقِ خودارادیت ختم کردے گی۔
1930 کی دہائی میں عرب بغاوت، یہودی اور عرب مسلح تنظیموں کی کارروائیاں اور برطانوی فوجی ردعمل اس کشمکش کو مزید خونریز بناتے گئے۔ برطانیہ مختلف حل آزماتا رہا، مگر ایک ایسی ترتیب پیدا نہ ہوسکی جس میں دونوں قومی مطالبات بیک وقت مطمئن ہوسکتے۔ بالآخر برطانیہ نے 1947 میں فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ کے حوالے کردیا۔
1947 کا اقوام متحدہ کا تقسیم کا منصوبہ اس تنازعے کی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ تھا۔ قرارداد 181 نے فلسطین کو ایک یہودی ریاست، ایک عرب ریاست اور بین الاقوامی انتظام کے تحت یروشلم میں تقسیم کرنے کی تجویز دی۔ منصوبے میں دونوں ریاستوں کے درمیان معاشی اتحاد اور اقلیتوں کے حقوق کی ضمانتیں بھی شامل تھیں۔ اقوام متحدہ کے اصل منصوبے کے مطابق مجوزہ یہودی ریاست میں تقریباً 498,000 یہودیوں کے ساتھ تقریباً 407,000 عرب بھی رہتے تھے، جبکہ مجوزہ عرب ریاست میں تقریباً 725,000 عرب اور صرف تقریباً 10,000 یہودی تھے۔
یہاں ایک بنیادی اختلاف سامنے آیا۔ یہودی قیادت نے تقسیم کے منصوبے کو قبول کیا، اگرچہ اس میں اسے اپنے تاریخی دعوے کے مقابلے میں محدود ریاست مل رہی تھی۔ فلسطینی عرب قیادت اور عرب ریاستوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ ان کا اعتراض یہ تھا کہ فلسطین کی آبادی میں عرب واضح اکثریت تھے اور تقسیم کے نتیجے میں یہودی ریاست کو اس کی آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ علاقہ مل رہا تھا۔ اقوام متحدہ کے اپنے ریکارڈ میں بھی منصوبے کے تحت یہودی ریاست کو تقریباً 56 فیصد علاقہ ملنے اور وہاں ایک بڑی عرب آبادی موجود رہنے کا ذکر ہے۔
یہاں تاریخ کا ایک تلخ سبق سامنے آتا ہے کہ 1947 میں اگر دونوں فریق اس تقسیم کو قبول کرلیتے تو ممکن تھا کہ ایک یہودی اسرائیل اور ایک عرب فلسطین اسی وقت وجود میں آجاتے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔
1948 میں اسرائیل نے آزادی کا اعلان کیا اور جنگ شروع ہوگئی۔ عرب ریاستیں بھی جنگ میں داخل ہوئیں۔ جنگ کے نتیجے میں اسرائیل نے اقوام متحدہ کے تقسیم منصوبے میں مختص علاقے سے زیادہ، یعنی فلسطین کے تقریباً 77 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کرلیا۔ فلسطینی عرب ریاست قائم نہ ہوسکی، جبکہ تقریباً سات لاکھ فلسطینی اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے؛ فلسطینی تاریخ میں اسے نکبہ کہا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق بہت سے فلسطینی فرار ہوئے اور بعض کو زبردستی بے دخل کیا گیا، جبکہ جنگ کے نتیجے میں مہاجرین کا مسئلہ مستقل بین الاقوامی مسئلہ بن گیا۔
یہاں اسرائیلی اور فلسطینی تاریخی بیانیوں میں سب سے بڑا اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ اسرائیلی نقطۂ نظر میں 1948 بنیادی طور پر ایک نئی ریاست کی بقا کی جنگ تھی جس پر متعدد عرب ریاستوں نے حملہ کیا۔ فلسطینی نقطۂ نظر میں یہی واقعہ اپنی سرزمین سے بڑے پیمانے پر بے دخلی اور قومی تباہی تھا۔ دونوں واقعات ایک دوسرے کو منسوخ نہیں کرتے۔ ایک ہی جنگ اسرائیل کے لیے بقا کی جنگ اور فلسطینیوں کے لیے نکبہ ہوسکتی ہے۔
1948 کے بعد مسئلہ ختم نہیں ہوا۔ مغربی کنارہ اردن کے کنٹرول میں چلا گیا اور غزہ مصر کے انتظام میں رہا۔ فلسطینی عرب ریاست پھر بھی قائم نہ ہوسکی۔
1967 کی جنگ نے مسئلے کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا۔ اسرائیل نے مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم اور غزہ سمیت وہ علاقے بھی اپنے قبضے میں لے لیے جو 1948 کے بعد اسرائیلی ریاست کا حصہ نہیں تھے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 242 نے جنگ کے بعد "جنگ کے ذریعے علاقہ حاصل کرنے کی عدم قبولیت" اور اسرائیلی افواج کے حالیہ جنگ میں قبضہ کیے گئے علاقوں سے انخلا، ساتھ ہی خطے کی تمام ریاستوں کے محفوظ اور تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر پرامن وجود کے اصول کو امن کی بنیاد قرار دیا۔
یہ وہ مقام ہے جہاں اسرائیل کا سلامتی کا مسئلہ اور فلسطینی ریاست کا مسئلہ ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔
اسرائیل کا بنیادی خوف یہ ہے کہ اگر اسے محفوظ سرحدیں، فوجی تحفظ اور قابلِ اعتماد امن نہ ملا تو ایک دشمنانہ ماحول میں اس کی بقا خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یہ خوف محض نظری نہیں؛ اسرائیل نے اپنی تاریخ میں جنگیں، راکٹ حملے، خودکش حملے اور مسلح تنظیموں کے حملے دیکھے ہیں۔
دوسری طرف فلسطینیوں کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اگر انہیں آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل ریاست نہیں ملتی، ان کی زمینوں پر مستقل آبادکاری جاری رہتی ہے اور ان کی سیاسی آزادی محدود رہتی ہے تو ان کے لیے امن دراصل مستقل سیاسی بے اختیاری کا نام بن جاتا ہے۔
1993 کے اوسلو معاہدے نے پہلی بار اسرائیل اور فلسطینی قیادت کے درمیان ایک باقاعدہ سیاسی راستہ کھولا۔ اس میں مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینی عبوری خود حکومت کا تصور تھا اور مستقل حل کو سلامتی کونسل کی قرارداد 242 اور 338 کی بنیاد پر مذاکرات سے حاصل کرنے کا مقصد مقرر کیا گیا۔
لیکن اوسلو مستقل امن میں تبدیل نہ ہوسکا۔ باہمی عدم اعتماد، تشدد، اسرائیلی آبادکاری، فلسطینی مسلح کارروائیاں، اسرائیلی فوجی کارروائیاں، سیاسی تبدیلیاں اور قیادتوں کے درمیان اختلافات نے عمل کو کمزور کردیا۔ 2005 میں اسرائیل نے غزہ سے اپنی مستقل فوجی اور آبادکاری موجودگی ختم کی، مگر بعد کے برسوں میں حماس اور اسرائیل کے درمیان شدید جنگیں ہوتی رہیں۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے اسرائیل پر بڑے حملے نے تنازعے کو ایک انتہائی تباہ کن مرحلے میں داخل کردیا۔ اسرائیلی شہریوں کا قتل اور یرغمال بنانا قابلِ دفاع سیاسی عمل نہیں ہوسکتا؛ اسی طرح اس حملے کے جواب میں فلسطینی شہری آبادی کی وسیع پیمانے پر تباہی اور انسانی بحران کو بھی محض سلامتی کے لفظ سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ جنگ کے بعد غزہ میں انسانی تباہی نے تنازعے کے حل کو مزید مشکل بنا دیا۔
2024 میں عالمی عدالتِ انصاف نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے بارے میں ایک مشاورتی رائے میں کہا کہ اسرائیلی آبادکاری، بعض الحاقی اقدامات اور مستقل کنٹرول کی پالیسیاں بین الاقوامی قانون کے خلاف ہیں اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ عدالت نے اسرائیل کی مقبوضہ فلسطینی علاقے میں مسلسل موجودگی کو غیر قانونی قرار دیا اور نئی آبادکاری روکنے کا بھی کہا۔ تاہم عدالت کی اس رائے کے اندر ججوں کی مختلف آراء بھی موجود تھیں، اور بعض ججوں نے سلامتی اور مذاکراتی دو ریاستی حل کے پہلوؤں پر اختلاف ظاہر کیا۔
اس قانونی بحث کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ اسرائیل کا وجود اور 1967 کے بعد مقبوضہ علاقوں میں اس کا طرزِ عمل ایک ہی قانونی سوال نہیں ہیں۔ اسرائیل ایک موجود ریاست ہے جسے اقوام متحدہ کا رکن بنے کئی دہائیاں گزر چکی ہیں؛ اس کے باوجود مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی حیثیت، آبادکاری اور فلسطینی خودارادیت الگ قانونی مسائل ہیں۔
یہ فرق حل کی تلاش میں بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
آج سب سے زیادہ زیرِ بحث حل دو ریاستی حل ہے کہ ایک خودمختار اسرائیل اور ایک خودمختار فلسطین، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ امن اور محفوظ سرحدوں میں رہیں۔ اقوام متحدہ آج بھی عمومی طور پر 1967 سے پہلے کی حدود کی بنیاد پر دو ریاستی حل کو مرکزی سیاسی راستہ قرار دیتا ہے، جس میں اسرائیل اور فلسطین دونوں کی خودمختاری اور سلامتی شامل ہو۔
لیکن دو ریاستی حل کی مشکلات بھی حقیقی ہیں۔ مغربی کنارے کی جغرافیائی تقسیم، اسرائیلی آبادکار بستیاں، یروشلم کی حیثیت، فلسطینی مہاجرین، اسرائیلی سلامتی، فلسطینی سیاسی تقسیم، غزہ کا مستقبل اور سرحدوں کا سوال ایسے مسائل ہیں جن پر محض ایک نقشہ کھینچ دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
ایک ریاستی حل بھی نظری طور پر موجود ہے، جس میں اسرائیلی اور فلسطینی ایک ہی ریاست میں مساوی شہری حقوق کے ساتھ رہیں۔ مگر اس کے سامنے بھی بنیادی سوال یہی ہے کہ یہ ریاست قومی شناخت، اقتدار کی تقسیم، سلامتی، آبادی کے تناسب اور یہودی قومی وطن کے تصور کو کیسے متوازن کرے گی۔ اگر ایک ریاست میں ایک قوم کو مستقل سیاسی بالادستی حاصل رہے اور دوسری کو مساوی حقوق نہ ملیں تو وہ حل نہیں بلکہ تنازعے کی نئی شکل ہوگا۔
اسی لیے قابلِ عمل حل کا معیار یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کون تاریخی طور پر زیادہ حق دار ہے؟ بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ کیا ایسا سیاسی بندوبست ممکن ہے جس میں کسی ایک قوم کے حق کے لیے دوسری قوم کے بنیادی حقوق ختم نہ کیے جائیں؟
ایک سنجیدہ حل کے لیے چند اصول ناگزیر دکھائی دیتے ہیں۔
اول، اسرائیل کے وجود اور اسرائیلی عوام کی سلامتی کے حق کو حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ 1948 کے بعد پیدا ہونے والی نسلوں سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اپنی ریاست کے وجود کی سزا بھگتیں۔
دوم، فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور ایک حقیقی سیاسی ریاست کے حق کو بھی حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ فلسطینیوں کو مستقل قبضے، فوجی انتظام اور غیر معینہ سیاسی بے اختیاری میں رکھنا پائیدار امن نہیں پیدا کرسکتا۔
سوم، 1967 کے بعد قبضے اور آبادکاری کے مسئلے کا سیاسی و قانونی حل ضروری ہے۔ عالمی عدالتِ انصاف کی 2024 کی رائے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 242 دونوں اس مسئلے کو نظرانداز کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔
چہارم، یروشلم کو جنگ کی ملکیت کے بجائے امن کا شہر بنانا ہوگا۔ یہودیوں، مسلمانوں اور عیسائیوں کے مقدس مقامات تک محفوظ رسائی اور مذہبی آزادی کسی بھی حل کا بنیادی حصہ ہونی چاہیے۔
پنجم، فلسطینی مہاجرین کا مسئلہ بھی حل کا حصہ ہونا چاہیے۔ ہر مہاجر کی واپسی، معاوضہ، آبادکاری یا متبادل انتظام کے بارے میں ایک قابلِ قبول اور باقاعدہ معاہدہ ضروری ہوگا۔ اسے ہمیشہ کے لیے نظرانداز کرنا تنازعے کو اگلی نسل میں منتقل کرنا ہے۔
ششم، فلسطینی ریاست کو قابلِ عمل ریاست ہونا چاہیے۔ صرف چند غیر متصل علاقوں کو فلسطین کا نام دے دینا ریاستی حل نہیں۔ مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم اور غزہ کے درمیان سیاسی و معاشی ربط، قابلِ عمل سرحدیں اور مؤثر حکومت ضروری ہوں گے۔
ہفتم، فلسطینی مسلح تنظیموں اور اسرائیلی ریاست دونوں کے لیے سلامتی کے اصول یکساں ہونے چاہئیں۔ شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا کسی فریق کے لیے جائز نہیں ہوسکتا۔ فلسطینی شہریوں کا تحفظ بھی اتنا ہی بنیادی ہے جتنا اسرائیلی شہریوں کا تحفظ۔
ہشتم، عرب اور مسلم دنیا کو بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ اسرائیل کے خلاف جنگی یا جذباتی نعروں کے بجائے اگر عرب ریاستیں فلسطینی ریاست کے قیام کے بدلے اسرائیل کو مکمل علاقائی سلامتی، معمول کے تعلقات اور اقتصادی تعاون کی قابلِ اعتماد ضمانت پیش کریں تو اس سے اسرائیلی سلامتی کے خوف اور فلسطینی ریاست کے مطالبے کو ایک ہی فریم میں لانے کا راستہ نکل سکتا ہے۔
نہم، اسرائیل کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ تاریخی سلامتی مستقل فوجی غلبے سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ اگر فلسطینیوں کو ریاست، سیاسی وقار اور مستقبل نہیں ملتا تو نئی نسلوں میں مزاحمت پیدا ہوتی رہے گی۔ اسی طرح فلسطینی قیادت کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسرائیلی شہریوں کی سلامتی کو تسلیم کیے بغیر فلسطینی ریاست کا قیام پائیدار امن نہیں لا سکتا۔
دسواں اور شاید سب سے اہم اصول کہ تاریخ کو ملکیت کا ابدی ہتھیار نہیں بنانا چاہیے۔
یہودیوں کا قدیم اسرائیل اور یہوداہ سے تعلق تاریخی حقیقت ہے۔ فلسطینی عربوں کا صدیوں سے اس سرزمین میں رہنا بھی تاریخی حقیقت ہے۔ یہودیوں کی جلاوطنی اور ظلم کی تاریخ حقیقی ہے۔ فلسطینیوں کی نکبہ اور بعد کی بے دخلی بھی حقیقی تاریخی حقیقت ہے۔ اسرائیل کی سلامتی کا خوف حقیقی ہے۔ فلسطینیوں کی آزادی اور ریاست کی خواہش بھی حقیقی ہے۔
اگر ہم ایک حقیقت کو قبول کرکے دوسری کو جھٹلا دیں گے تو ہم تاریخ نہیں لکھ رہے ہوں گے، اپنے پسندیدہ فریق کا مقدمہ لکھ رہے ہوں گے۔
اس تنازعے کا شاید سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ دونوں قوموں کے پاس اپنے اپنے دکھ، شہید، مہاجر، مقدس مقامات، تاریخی یادداشتیں اور خوف ہیں۔ دونوں اپنے آپ کو تاریخ کا مظلوم سمجھتی ہیں اور دوسری قوم کے بعض اعمال کو اپنے وجود کے لیے خطرہ تصور کرتی ہیں۔ اس ذہنی کیفیت میں کوئی بھی قوم مکمل طور پر شکست قبول نہیں کرے گی۔
اس لیے امن کا راستہ کسی ایک قوم کی مکمل فتح سے نہیں نکلے گا۔
اسرائیل کو ختم کرنا حل نہیں، اور فلسطینیوں کو مستقل بے ریاست رکھنا بھی حل نہیں۔
حل اس وقت شروع ہوگا جب یہودیوں کو یہ یقین حاصل ہو کہ فلسطینی ریاست ان کے وجود کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک معاہدے کے تحت امن کی شریک ریاست ہے، اور فلسطینیوں کو یہ یقین حاصل ہو کہ اسرائیل کی سلامتی ان کی آزادی کی قیمت نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی سمجھوتے کا دوسرا رخ ہے جس میں انہیں بھی مکمل سیاسی حقوق حاصل ہیں۔
اس تنازعے کا انصاف شاید ماضی کو دوبارہ جیتنے میں نہیں بلکہ مستقبل کو دوبارہ تباہ ہونے سے بچانے میں ہے۔
یہودیوں کو ان کا تاریخی تعلق واپس نہیں دینا پڑے گا، کیونکہ تاریخ واپس نہیں آتی؛ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے تاریخی تعلق ثابت کرنے کے لیے بھی ہزاروں سال کا مقدمہ لڑنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ موجودہ انسانی حقوق کسی قدیم سلطنت کے وجود سے مشروط نہیں۔
دونوں قوموں کو ایک دوسرے کے وجود کی حقیقت قبول کرنا ہوگی۔
اور شاید اسرائیل۔فلسطین تنازعے کا سب سے حقیقت پسندانہ حل یہی ہے کہ ایک قوم اپنی تاریخی شکست کا بدلہ دوسری قوم کے مستقبل سے نہ لے، اور دوسری قوم اپنی تاریخی مظلومیت کو پہلی قوم کے وجود کے خاتمے کا جواز نہ بنائے۔
امن اس وقت پیدا ہوگا جب وطن کا حق، ریاست کا حق، سلامتی کا حق، خودارادیت کا حق اور انسانی زندگی کا حق ایک ہی سیاسی سمجھوتے میں جمع ہوجائیں۔
یہ آسان حل نہیں ہے۔ مگر اس تنازعے کی پوری تاریخ یہی بتاتی ہے کہ آسان سمجھے جانے والے حل—جنگ، جلاوطنی، قبضہ، انتقام اور مکمل فتح—میں سے کوئی بھی مستقل حل ثابت نہیں ہوا۔
واپس کریں