دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
گورنر راج، ایمرجنسی اور آرٹیکل 234: خیبر پختونخوا کے بارے میں پھیلنے والی آئینی غلط فہمیاں
No image (پشاور) خصوصی رپورٹ خالد خان
خیبر پختونخوا میں گزشتہ چند دنوں سے گورنر راج، ایمرجنسی اور آئین کے آرٹیکل 234 کے حوالے سے سوشل میڈیا، مختلف وی لاگرز کی ویڈیوز اور سیاسی تبصروں میں ایسی بہت سی باتیں گردش کر رہی ہیں جن میں سیاسی دعوے، حکومتی مؤقف اور آئینی حقائق ایک دوسرے میں اس طرح گڈمڈ ہو گئے ہیں کہ عام آدمی کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو گیا ہے کہ اصل آئینی صورت حال کیا ہے۔
29 ستمبر کو سینئر صحافی کامران خان نے یہ دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کا فیصلہ ہو چکا ہے، تاہم وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کی قیادت تین شرائط پوری کر کے صوبائی حکومت برقرار رکھ سکتی ہے۔ ان کے مطابق پہلی شرط لانگ مارچ کی کال واپس لینا، دوسری پولیس کے نظام میں مجوزہ تبدیلی سے دستبردار ہونا اور تیسری امن و امان کے معاملات میں وفاقی ریاستی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا تھی۔
یہ ایک سیاسی دعویٰ تھا، آئینی حکم نہیں۔ اسی دوران سرکاری ذرائع کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ 30 ستمبر کو وفاقی حکومت کی طرف سے مختلف آئینی امکانات پر مشاورت کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی بات کرنا قبل از وقت ہے۔ یکم اکتوبر کی رپورٹنگ میں بھی یہی سامنے آیا کہ دونوں آپشن زیر غور رہے، مگر فوری نفاذ کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔
لہٰذا پہلی بات تو یہی واضح ہونی چاہیے کہ کسی صحافی، وی لاگر، سیاسی رہنما یا سرکاری ذریعے کا یہ کہنا کہ ’’فیصلہ ہو چکا ہے‘‘، بذاتِ خود آئینی فیصلہ نہیں بن جاتا۔ آئینی اقدام اپنے مقررہ طریقۂ کار سے وجود میں آتا ہے۔
اصل الجھن یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کو بعض اوقات ایک ہی چیز سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ آئین پاکستان میں یہ دو الگ انتظامات ہیں۔ آرٹیکل 232 ایمرجنسی سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 234 اس صورت سے متعلق ہے جب کسی صوبے میں آئینی مشینری اس حد تک ناکام ہو جائے کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہ چلائی جا سکے۔
آرٹیکل 232 کے تحت اگر صدر اس بات سے مطمئن ہوں کہ ایسی سنگین ہنگامی صورت حال موجود ہے جس میں پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسے داخلی انتشار سے خطرہ ہے جس پر قابو پانا صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہے تو ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے۔ موجودہ آئینی متن میں داخلی انتشار کی بنیاد پر ایمرجنسی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی شرط موجود ہے؛ تاہم اگر صدر اپنے طور پر اقدام کریں تو اسے دونوں ایوانوں کے سامنے مقررہ مدت میں منظوری کے لیے پیش کرنا ہوتا ہے۔ ایمرجنسی کا اعلان بھی پارلیمانی نگرانی سے باہر نہیں رہتا۔
یہاں ایک اور عام غلط فہمی بھی دور کرنا ضروری ہے۔ ایمرجنسی کا مطلب یہ نہیں کہ ایک ہی لمحے میں پورا آئین معطل، تمام بنیادی حقوق ختم اور عدالتیں بے اختیار ہو جاتی ہیں۔ آرٹیکل 233 بعض بنیادی حقوق کے حوالے سے ریاست کو اضافی اختیار دیتا ہے اور مخصوص بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا حق بھی صدر کے حکم کے ذریعے مخصوص حالات میں معطل کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ کہنا کہ ’’ایمرجنسی لگتے ہی تمام بنیادی حقوق معطل اور عدالتیں بند ہو جاتی ہیں‘‘ آئین کی درست ترجمانی نہیں۔ خود آرٹیکل 232 یہ واضح کرتا ہے کہ ہائی کورٹ کے اختیارات اس شق کے تحت وفاقی حکومت یا گورنر اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے۔
اب آتے ہیں آرٹیکل 234 کی طرف، جس کا نام اس وقت سب سے زیادہ لیا جا رہا ہے۔ اس آرٹیکل کا بنیادی سوال دہشت گردی، کرپشن یا لانگ مارچ نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا صوبائی حکومت آئین کے مطابق چلائی جا سکتی ہے یا نہیں۔
آئین کے مطابق صدر، صوبے کے گورنر کی رپورٹ موصول ہونے پر، اگر اس نتیجے پر پہنچیں کہ ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جس میں صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی تو آرٹیکل 234 کے تحت اعلان جاری کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں صدر خود صوبائی حکومت کے بعض یا تمام اختیارات سنبھال سکتے ہیں یا گورنر کو صدر کی طرف سے یہ اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت کر سکتے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے اختیارات کے بارے میں بھی آئین نے الگ انتظام دیا ہے اور بعض حالات میں یہ اختیارات پارلیمنٹ کے ذریعے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
یہاں ’’گورنر راج‘‘ کی عام سیاسی اصطلاح کو آئینی متن سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔ آئین کا اصل لفظ ’’گورنر راج‘‘ نہیں بلکہ ’’صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی‘‘ کے بارے میں اعلان ہے۔ اس اعلان کے نتیجے میں گورنر صدر کی جانب سے صوبائی حکومت کے اختیارات استعمال کر سکتا ہے، مگر یہ تاثر درست نہیں کہ گورنر عام حالات میں صوبائی حکومت کا سربراہ ہوتا ہے اور صرف کسی سیاسی فیصلے سے وزیراعلیٰ کی جگہ لے لیتا ہے۔
آرٹیکل 234 کے تحت بھی پارلیمانی نگرانی موجود ہے۔ ایسا اعلان مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، ابتدائی طور پر دو ماہ بعد ختم ہو جاتا ہے اگر اس سے پہلے مشترکہ اجلاس اسے منظور نہ کرے، اور آئینی طریقۂ کار کے تحت اس میں توسیع کی گنجائش ہے، تاہم مجموعی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
اب اصل سوال ان ’’تین شرائط‘‘ کا ہے جو سوشل میڈیا پر زیر بحث ہیں۔
اگر کسی سیاسی فریق یا ریاستی نمائندے نے کسی مفاہمت کے لیے یہ شرائط رکھی ہوں کہ لانگ مارچ واپس لیا جائے، پولیس کے مجوزہ قانون سے دستبرداری اختیار کی جائے یا وفاقی اداروں کے ساتھ امن و امان کی پالیسی میں ہم آہنگی پیدا کی جائے تو یہ سیاسی مذاکرات یا مفاہمت کی شرائط ہو سکتی ہیں۔ لیکن انہیں آرٹیکل 234 کی آئینی شرائط کہنا درست نہیں ہوگا۔
آئین یہ نہیں کہتا کہ اگر کوئی صوبائی حکومت لانگ مارچ واپس لے تو آرٹیکل 234 نہیں لگے گا، نہ یہ کہ پولیس کے کسی قانون سے دستبرداری گورنر راج سے بچنے کی آئینی شرط ہے، اور نہ آرٹیکل 234 میں ایسی کوئی فہرست موجود ہے جس میں وفاق کی ’’ترجیحات‘‘ سے ہم آہنگ ہونا صوبائی حکومت کے برقرار رہنے کی شرط قرار دیا گیا ہو۔ آئینی سوال اپنی جگہ ہے اور سیاسی مفاہمت کا سوال اپنی جگہ۔
اسی لیے یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ’’آرٹیکل 234 صرف دہشت گردی کی وجہ سے لگ سکتا ہے‘‘۔ دہشت گردی یا امن و امان کی خراب صورتحال سیاسی اور انتظامی پس منظر کا حصہ ضرور بن سکتی ہے، لیکن آرٹیکل 234 کا براہ راست آئینی معیار یہ ہے کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق چلائی جا سکتی ہے یا نہیں۔ اس کے برعکس آرٹیکل 232 میں داخلی انتشار، جس پر صوبائی حکومت قابو نہ پا سکے، ایمرجنسی کے آئینی جواز میں واضح طور پر موجود ہے۔
یہ فرق موجودہ بحث میں اس لیے بھی اہم ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورت حال کو سنگین قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ صوبائی حکومت وفاقی مؤقف کو مسترد کر رہی ہے۔ 30 ستمبر اور یکم اکتوبر کی رپورٹنگ میں وفاقی وزرا نے صوبائی حکومت کی امن و امان کے حوالے سے کارکردگی پر شدید اعتراضات کیے، جبکہ تحریک انصاف کی طرف سے ایمرجنسی یا گورنر راج کی مخالفت کی گئی۔
اس اختلاف کو آئینی حقیقت اور سیاسی مؤقف میں تقسیم کرنا ضروری ہے۔ وفاق کا یہ کہنا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی سے نمٹنے میں ناکام ہے ایک سیاسی و انتظامی الزام ہے؛ اسے اس وقت تک آرٹیکل 234 کے نفاذ کی ثابت شدہ آئینی بنیاد نہیں کہا جا سکتا جب تک متعلقہ آئینی عمل مکمل نہ ہو۔ اسی طرح صوبائی حکومت کا یہ کہنا کہ وفاق سیاسی اختلاف کی بنیاد پر آئینی اختیارات استعمال کرنا چاہتا ہے بھی ایک سیاسی مؤقف ہے؛ اسے بھی محض بیان کی بنیاد پر ثابت شدہ حقیقت نہیں کہا جا سکتا۔
بلوچستان کا تقابل بھی اسی احتیاط کا متقاضی ہے۔ بعض سیاسی رہنماؤں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر دہشت گردی اور حکومتی رٹ کی کمزوری گورنر راج یا ایمرجنسی کا جواز بن سکتی ہے تو بلوچستان میں بھی یہی سوال کیوں نہ اٹھے۔ یہ ایک قابلِ بحث سیاسی سوال ضرور ہے، لیکن صرف اس تقابل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی ایک صوبے میں آرٹیکل 234 لازماً لاگو ہو جاتا ہے۔ ہر معاملے میں آئینی معیار، متعلقہ حالات اور مقررہ طریقۂ کار الگ سے دیکھنا پڑے گا۔
اسی طرح یہ کہنا کہ ’’گورنر راج لگ گیا تو صوبے کی تمام ذمہ داری وفاق کی ہو جائے گی اور پی ٹی آئی کا سارا بوجھ اتر جائے گا‘‘ بھی مکمل قانونی تجزیہ نہیں۔ آرٹیکل 234 کے نفاذ سے اختیارات کی آئینی ترتیب ضرور بدلتی ہے، لیکن اس اقدام کے اپنے قانونی، سیاسی اور انتظامی نتائج ہوتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ ایک غیر معمولی آئینی اقدام ہے، معمول کی حکومت چلانے کا متبادل انتظام نہیں۔
موجودہ بحث میں ایک بنیادی سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ آئین نے ان غیر معمولی اختیارات کے ساتھ مدت اور پارلیمانی نگرانی کی حدود بھی مقرر کی ہیں۔ اگر کوئی حکومت واقعی یہ سمجھتی ہے کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چل سکتی تو اسے سیاسی بیان سے آگے بڑھ کر آئینی طریقۂ کار اختیار کرنا ہوگا۔ اور اگر صوبائی حکومت سمجھتی ہے کہ وفاق اس کے خلاف محض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر غیر معمولی آئینی اقدام کرنا چاہتا ہے تو اس دعوے کا اصل امتحان بھی اسی آئینی عمل میں ہوگا۔
اس وقت دستیاب معلومات سے اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے امکانات پر وفاقی سطح پر سنجیدہ غور و مشاورت ہوئی ہے، لیکن یکم اکتوبر تک دستیاب رپورٹنگ میں کسی حتمی نفاذ کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے فوری طور پر دونوں میں سے کوئی اقدام نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اگرچہ یہ آپشن زیر بحث رہا ہے۔
اس لیے اس وقت عام شہری کے لیے سب سے ضروری بات کسی وی لاگر کی پیش گوئی، کسی سیاسی رہنما کا دعویٰ یا کسی صحافی کی خبر کو آئین کا متن سمجھنا نہیں، بلکہ تین چیزوں کو الگ الگ رکھنا ہے: سیاسی دعویٰ، حکومتی مؤقف اور آئینی حقیقت۔
آئین میں آرٹیکل 232 ایمرجنسی کا راستہ دیتا ہے، آرٹیکل 233 ایمرجنسی کے دوران بعض بنیادی حقوق کے حوالے سے مخصوص اختیارات بیان کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 234 صوبائی آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں غیر معمولی انتظام کا طریقۂ کار فراہم کرتا ہے۔ ان تینوں کو ایک ہی چیز سمجھنا قانونی کنفیوژن پیدا کرتا ہے۔
اور شاید اس وقت سب سے اہم سوال بھی یہی ہے: خیبر پختونخوا میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے سیاسی اختلاف، خراب امن و امان، انتظامی ناکامی اور آئینی مشینری کی ناکامی میں سے کس خانے میں رکھا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب نعروں، وی لاگز یا سوشل میڈیا کے تبصروں سے نہیں بلکہ آئین، حقائق اور مقررہ قانونی طریقۂ کار سے نکلنا چاہیے۔
کیونکہ آئینی اختیارات کا اصل حسن یہی ہے کہ ان کا استعمال کسی سیاسی بیانیے کی طاقت سے نہیں، آئین کی مقرر کردہ حدود سے ثابت ہوتا ہے۔
واپس کریں