دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
قرضوں کاجال
No image وزارتِ خزانہ کی جاری کردہ ’سالانہ قرض پروگرام 2027ء‘ رپورٹ نے ملکی معیشت کے دیرینہ مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران پاکستان کے مجموعی قومی قرض میں 76 فیصد اضافہ ہوا ہے‘ جس کے بعد قرض کا مجموعی حجم 86 ہزار 700 ارب روپے ہو گیا ہے۔ جون 2022ء میں یہ حجم 49 ہزار 300 ارب روپے تھا۔ یہ رپورٹ اس امر کا واضح اظہار ہے کہ پاکستان اس وقت قرضوں کے جال میں جکڑا ہوا ہے ۔ اس وقت ملک کی کُل مالیاتی ضرورت 28 ہزار 650 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے‘ جو مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کا بیشتر حصہ پرانے قرضوں اور سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہو رہا ہے۔ زیادہ تلخ پہلو یہ ہے کہ اس دلدل سے نکلنے کی تمام کوششیں مزید گہرائی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ اب تک ہر حکومت نے جس معاشی حکمتِ عملی پر انحصار کیا‘ سادہ لفظوں میں وہ نیا قرض لے کر پرانا قرض اتارنا رہی ہے۔ یہ اس دائرے کے سفر کا ہی نتیجہ ہے کہ رواں مالی سال کا تقریباً 43 فیصد بجٹ (8054 ارب روپے) صرف قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کیلئے مختص کیا گیا ہے۔
جب نصف کے قریب بجٹ ترقیاتی کاموں‘ تعلیم‘ صحت اور دفاع کے بجائے صرف قرض اتارنے اور سود ادا کرنے میں خرچ ہو جائے تو حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے یا نئے ترقیاتی منصوبوں کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچتی۔ دوسری جانب یہ تلخ حقیقت بھی سامنے ہے کہ جس مدت میں قرضوں میں 76 فیصد اضافہ ہوا اسی دوران ٹیکس کا ہدف 5800 ارب روپے سے بڑھ کر 15ہزار 264 ارب روپے ہو گیا۔ یعنی ایک طرف ٹیکس کولیکشن میں 163 فیصد اضافہ ہوا مگر دوسری جانب قرضوں کا پہاڑ کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ امر اب واضح ہو چکا کہ نئے قرضوں کی عارضی پیوند کاری مزید نہیں چل سکتی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اپنی معاشی بنیادوں کو درست کیا جائے۔ اس وقت ملکی معیشت کو نئے قرضوں کے بجائے قرض سے نجات کی طویل مدتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے تین بنیادی نکات پر کام کرنا ہو گا۔سب سے پہلے حکومتی اخراجات میں کمی لاتے ہوئے حقیقی معنوں میں کفایت شعاری کو اپنا ہو گا۔
سالانہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ شاہانہ اخراجات‘ بھاری مراعات اور غیر پیداواری امور کی نذر ہو جاتا ہے‘ لہٰذا اب کفایت شعاری اعلانات کے بجائے وفاقی اور صوبائی سطح پر حقیقی بجٹ کٹوتی کی صورت میں عملاً نظر آنی چاہیے۔ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں سے بھی جان چھڑانا ہو گی۔ وزارتِ خزانہ کی ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال 26ء کی پہلی ششماہی کے دوران سرکاری ملکیتی اداروں کو 342 ارب روپے سے زائد خسارے کا سامنا رہا جبکہ حکومت نے ان اداروں کو 804 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کی۔ ٹیکس گزاروں کی محنت کی کمائی ایسے شگاف بھرنے پر نہیں خرچ کی جا سکتی جو کبھی پُر ہی نہ ہوں۔ اسی طرح ٹیکسوں بالخصوص بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ میں توسیع لانا ہو گی۔ پیداواری شعبے اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس یا جنرل سیلز ٹیکس کی بلند شرح اگرچہ ٹیکس ریونیو بڑھانے کے آسان طریقے ہیں مگر ان کے معاشی مضمرات کہیں زیادہ ہے۔
اس سے کاروباری لاگت بڑھتی‘ متوسط اور نچلے طبقے کی قوتِ خرید سکڑتی اور سرمایہ کاری ملک سے باہر چلی جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر ٹیکس شدہ شعبوں کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنا کر ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے۔ ہدف محض ٹیکس ریونیو نہیں بلکہ براہِ راست ٹیکسوں کا دائرہ وسیع کرنا ہونا چاہیے۔ قرضوں کی ایک بنیادی وجہ تجارتی خسارہ بھی رہا ہے‘ لہٰذا درآمدات میں کمی اور برآمدات میں نمایاں اضافہ بھی ناگزیر ہے۔ قرضوں سے نجات کیلئے معیشت کو جامع اصلاحات اور غیر روایتی اقدامات کی ضرورت ہے‘ اس کے بغیر اس کھائی سے نکلنا ممکن نہیں ہو گا۔
واپس کریں