دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
استاد محترم کا محبت نامہ
No image السلام علیکم جناب رضوان صاحب!
آپ کمال انسان ہیں کہ مجھ خاکسار کو چند باتیں عرض کرنے کے عوض استاد کا درجہ دے دیا۔ حالانکہ یہ نہ میرا حق ہے، نہ میں اسے اپنا کمال سمجھتا ہوں۔ اصل بات آپ کی علم دوستی، وسعتِ ظرف اور اعلیٰ ظرفی ہے۔
اکثر انسان کسی کے پاس پورا نظریہ اور وسیع علم دیکھ کر بھی اسے تسلیم کرنے میں تامل کرتا ہے، مگر آپ نے چند باتوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا اور ایک خاکسار کی معمولی سی علمی کاوش کو اس قدر عزت بخشی۔
یہ دراصل میرے لیے اعزاز سے بڑھ کر آپ کے اپنے کردار کی خوب صورتی کی مثال ہے۔
علم کی قدر کرنا بھی علم ہی کی ایک بلند صفت ہے، اور اختلاف کے باوجود علم سے محبت رکھنا اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے۔
آپ کی یہ محبت اور حوصلہ افزائی میرے لیے باعثِ تشکر بھی ہے اور باعثِ ذمہ داری بھی۔
محترم جناب رضوان صاحب،سینئر صحافی و تجزیہ نگار!
آپ کا شمار اُن اہلِ قلم میں ہوتا ہے جن کے لیے صحافت محض خبر رسانی نہیں، بلکہ شعور کی بیداری اور سماج کے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑنے کا نام ہے۔
نظام کے ستم بالائے ستم کی انتہا یہ ہے کہ جس معاشرے میں بھوک ہو، معاشی تحفظ نہ ہو اور انسان اپنی بنیادی ضرورتوں کے لیے بھی محتاج ہو، وہاں مجبور عوام کا ووٹ ہمیشہ آزاد شعور کا اظہار نہیں رہتا؛ کبھی لالچ، کبھی خوف، کبھی ضرورت اور کبھی کم علمی اس کے فیصلے پر اثر انداز ہوتی ہے۔
پھر اسی بے بس عوام سے کہا جاتا ہے: ’’جیسے عوام ہوں گے، ویسے ہی حکمران ہوں گے۔‘‘ حالاں کہ انبیائے کرامؑ کی دعوت کا رخ ہمیشہ مظلوم عوام کو الزام دینے کے بجائے وقت کے جابر اقتدار کو للکارنے کی طرف رہا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے عہد کے بادشاہوں اور حکمرانوں تک بھی حق کا پیغام پہنچایا اور انہیں جواب دہی کا احساس دلایا۔
جب انتخاب کے نام پر عوامی اختیار محدود ہو جائے، جب ووٹ کی حرمت سوال بن جائے اور پھر اسی عوام سے کہا جائے کہ ’’ووٹ تو آپ نے ہی دیا تھا‘‘، تو یہ محض سیاسی معاملہ نہیں رہتا؛ یہ شعور اور اختیار کے بنیادی سوال میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
ایسے ماحول میں، رضوان صاحب، آپ کا قلم واقعی ایک چراغِ بیداری ہے۔ آپ صفحۂ قرطاس پر صرف الفاظ نہیں بکھیرتے، بلکہ سوال جگاتے ہیں، ذہنوں کو حرکت دیتے ہیں اور معاشرے کو اپنے حالات پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
آپ کی یہ فکری کاوش اس لیے بھی قابلِ احترام ہے کہ آپ نے قلم کو محض ذریعۂ معاش نہیں بنایا، اسے شعور کی امانت سمجھا ہے۔
اور شاید یہی اہلِ قلم کی اصل ذمہ داری ہے:
کہ وہ وقت کی گرد میں دبے ہوئے سوالات کو زندہ رکھیں، مظلوم کو اس کے حقِ شعور سے آگاہ کریں، اقتدار کو جواب دہی کا احساس دلائیں اور معاشرے کو اندھی تقلید کے بجائے غور و فکر کی راہ دکھائیں۔
آپ کا قلم اسی بیداری کی ایک روشن علامت ہے۔
جناب رضوان صاحب!
آپ کو اس فکری، ادبی اور صحافتی جدوجہد پر دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین۔
اللہ آپ کے قلم کو مزید وقار، اثر اور حق گوئی عطا فرمائے۔ خاکسارسردار امتیاز خان
(نوٹ۔ ناچیز رضوان کا قلمی نام احتشام الحق شامی ہے)
واپس کریں