دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خاکسار کی پوسٹ پر جنابِ استادِ محترم کا راہنماء جواب
No image عام انتخابات یا لوکل الیکشن میں اپنے پسند کے امیدوار کو ووٹ دینے کے بعد ایک عام شکایت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ جیتے ہوئے امیدوار صاحب ووٹرز کی امیدوں پر پورا نہیں اتر سکے۔ مذکورہ شکایات ہر الیکشن کے بعد سننے کو ملتی ہیں۔ آخر ووٹرز کے ساتھ بار بار ایسا دھوکہ کیوں ہوتا ہے جبکہ انہوں نے اپنی ہی پسند کے کامیاب امیدوار کو ووٹ دیئے ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں کیا ووٹ دینے میں ووٹرز سے کوئی غلطی سرزرد ہوتی ہے جس کی سزا وہ اگلے الیکشن تک بھگتے ہیں۔ اس حوالے سے ناچیز کی پوسٹ جو ٹائم لائن پر موجود ہے، اسے پہلے پڑھ لیں اور پھر حقائق کی روشنی میں اس سنجیدہ معاملے کا تدارک ملاحظہ فرمائیں۔
”الیکشن جمہوریت کا حصہ ضرور ہے، مگر صرف ووٹ ڈالنے سے نظام نہیں بدلتا۔جب سیاست خدمت کے بجائے سرمایہ، اقتدار اور مفاد کا کھیل بن جائے تو سوال اٹھتا ہے۔تبدیلی صرف ووٹ سے نہیں بلکہ عوامی شعور اور جوابدہ نظام سے ہی آتی ہے۔ جمہوری نظام، سرمایہ داروں کا کھیل بن چکا ہے،کروڑوں کی سرمایہ کاری کرو،اقتدار حاصل کرو پھر اربوں روپے کا منافع کماو۔ عوام ووٹ ضرور دیتی ہے مگر فائدہ کس کو ملتا ہے؟“
ناچیز کی مذکورہ پوسٹ کے حوالے سے استادِ محترم جنابِ سردار امتیاز خان صاحب نے خوب راہنمائی فرمائی ہے جس پر ناچیز ان کا مشکور ہے۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔
رائے، ووٹ یا مشورہ کے لیے ماہرین عمرانیات یہ پانچ شرائط بیان کرتے ہیں۔ علم یعنی شعور،معاشرتی مساوات،آزادیِ صحافت،آزادیِ رائے اور معاشی تحفظ۔
استاد، محترم کے مطابق اگر یہ پانچ شرائط پوری نہ ہوں اس معاشرے میں جتنے بھی خلوص سے ووٹ دیا جائے،وہ بامقصد نہیں ہو سکے گا۔ جیسے نماز ادا کی جائے پورے خلوص سے لیکن بغیر وضو کے نماز ہو گی نہیں۔
اسی طرح محض قطاروں میں کھڑے ہو کر ووٹ دینے سے مقصد نہیں پا لیا جاتا کہ جب تک شرائط پوری نہ ہوں۔
لَا تُشَاوِرْ مَنْ لَیْسَ فِی بَیْتِہِ دَقِیقٌ، فَإِنَّہُ مُوَلَّہُ الْعَقْلِ ”اس شخص سے مشورہ نہ کرو جس کے گھر میں آٹا موجود نہ ہو، کیونکہ اس کا ذہن پریشان ہوتا ہے۔“یہ قول امام شافعیؒ کی طرف مناقب الشافعی للبیہقی میں منسوب ہے اور ابن عبدالبر کی الانتقاء میں بھی سند کے ساتھ نقل ہوا ہے۔
استادِ محترم مذید راہنمائی فرماتے ہیں، جس کے گھر میں آٹا نہ ہو سے مراد، اگر وہ معاشی تنگ دست ہے تو بے شک پی ایچ ڈی ہو، شیخ القرآن ہو یا شیخ الحدیث ہو اس کا ووٹ ممکن ہو سکتا ہے فروخت ہو جائے مثلاً اس کے بیٹے کو نوکری ملنے کی لالچ ہو، گھر کے لیے قرضہ یا کوئی سڑک پکی کرنی ہو باالفاظ دیگراس کا ووٹ مفادات کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔یوں ووٹ کا مقصد ہی گویا وفات پا گیا۔
کَادَ الْفَقْرُ أَنْ یَکُونَ کُفْرًا۔ ”قریب ہے کہ غربت کفر تک پہنچا دے۔“
بھوک انسان کو کفر تک لے جاتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جو روزانہ 284 روپے روزانہ کمائے وہ غریب نہیں یعنی جو خود حالت کفر میں ہے وہ کسی دوسرے کو کیا مشورہ، کیا رائے یا کیا ووٹ دے گا؟
استاد محترم جنابِ سردار امتیاز خان صاحب کے مذکورہ بالا راہنماء جواب نے یقینا ایسے مایوس ووٹرز کو سمجھا دیا ہو گا کہ الیکشن کے بعد ان کے جیتے ہوئے امیدوار اپنے ووٹرز سے دھوکہ کیوں کرتے ہیں؟ جبکہ قصور وار خود ووٹرز ہوتے ہیں۔
واپس کریں