
آفریدی قبائل کی جنم بھومی وادی تیراہ کو جس نے ایک بار دیکھا ہو، وہ شاید اس وادی کو صرف ایک علاقے کے نام سے یاد نہ رکھ سکے۔ پہاڑوں کے درمیان پھیلی ہوئی اس وادی میں قدرت نے حسن کو بڑی فراخ دلی سے بانٹا ہے۔ سبز ڈھلوانیں، گھنے جنگل، چشموں کا ٹھنڈا پانی، کھلے میدان، پتھریلے راستے اور دور تک پھیلی ہوئی خاموشیاں، جن میں کبھی پرندوں کے گیت شامل ہوتے ہیں اور کبھی کسی آبادی سے آتے ہوئے انسانوں کے قہقہے۔ یہاں زندگی اپنی سادگی میں خوبصورت تھی۔ یہاں زندگی کا ہر رنگ شوخ تھا۔ لوگ اپنے گھروں میں رہتے، اپنی زمینوں پر کام کرتے، بازاروں میں کاروبار کرتے اور سرِ شام اپنوں کے درمیان لوٹ آتے۔ عید، شادی بیاہ اور دوسرے خوشی کے موقعے پورے علاقے کی مشترکہ مسرت بن جاتے۔ خاندان اکٹھے ہوتے، دوست مل بیٹھتے، بچے اپنی شرارتوں میں مست رہتے اور بڑے اپنی روزمرہ کی باتوں میں دنیا جہان کے قصے نکال لاتے۔ زندگی شاید بہت آسودہ نہ تھی، مگر سچی تھی، اپنی تھی، اور انسان کے لیے زندگی کی یہی نسبت سب سے بڑی آسودگی ہوتی ہے۔
منجیت سنگھ بھی اس زندگی کا ایک حصہ تھے۔ تیراہ ان کا آبائی وطن تھا اور باغ بازار میں ان کا کاروبار تھا۔ ان کی دکان محض روزگار کا ذریعہ نہیں تھی؛ جیسے ہر چھوٹے تاجر کی دکان اس کی زندگی کے ساتھ آہستہ آہستہ جڑ جاتی ہے، ویسے ہی ان کا کاروبار بھی ان کے روزمرہ وجود کا حصہ بن چکا تھا۔ صبح دکان کھولنا، آنے والے لوگوں سے ملنا، خرید و فروخت کرنا، کسی شناسا سے دو باتیں کرلینا، دوستوں کے ساتھ بیٹھنا اور پھر شام کو گھر لوٹ جانا، یہی وہ معمول کی مصروفیات تھیں جن سے ایک مکمل زندگی تشکیل پاتی ہے۔ تیراہ میں سکھ برادری کی ایک طویل تاریخ رہی ہے اور منجیت سنگھ ان چند لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے بدلتے ہوئے حالات کے باوجود اپنی آبائی زمین سے رشتہ برقرار رکھا۔ ان کے لیے تیراہ محض رہائش کی جگہ نہیں بلکہ اپنی زمین اور اپنے بزرگوں کی یادوں سے جڑا ہوا وطن تھا۔
اپنی مٹی سے محبت کا انداز بھی عجیب ہوتا ہے۔ آدمی اس کے بارے میں ہر وقت بات نہیں کرتا، نہ اسے ثابت کرنے کے لیے کوئی دعویٰ کرتا ہے۔ بس اس کی زندگی میں وہ مٹی شامل ہوتی ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کون سا راستہ کہاں جاتا ہے، کس موسم میں پہاڑ کا رنگ بدلتا ہے، کس چشمے کا پانی زیادہ ٹھنڈا ہے، بازار میں کس دکاندار سے کتنی دیر بات کرنی ہے، کس گھر میں کس موقع پر جانا ہے اور کس بزرگ کے سامنے بیٹھ کر خاموش رہنا بھی گفتگو سمجھا جاتا ہے۔ وطن اسی معمول کا نام ہے۔ انسان عموماً اس کی قدر اس وقت سمجھتا ہے جب وہ اس سے دور ہوجاتا ہے۔
تیراہ کے لوگوں کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ حالات نے انہیں اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا۔ لوگ جو مختصر وقت کے لیے گئے، ان کی واپسی کا انتظار لمبا ہوتا چلا گیا۔ کچھ نے دوسرے شہروں میں نئی زندگی شروع کرنے کی کوشش کی اور کچھ اپنے دل میں یہ امید لیے بیٹھے رہے کہ حالات جلد بہتر ہونگے اور واپس جائیں گے۔ لیکن بے وطنی کی سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ آدمی جہاں رہ رہا ہوتا ہے وہاں مکمل طور پر بس نہیں پاتا اور جہاں سے آیا ہوتا ہے وہاں واپس نہیں جا پاتا۔ وہ جسمانی طور پر ایک جگہ ہوتا ہے اور روحانی طور پر اپنی آبائی گلیوں میں گھومتا ہے۔ سوتا مہاجر کیمپ میں ہوتا ہے مگر خواب اپنے گاوں کے دیکھتا ہے۔ وہ دو جگہوں کے درمیان معلق ہوجاتا ہے۔ نئے شہر میں اس کا گھر ہوتا ہے مگر گھر جیسا نہیں لگتا، پرانا گھر اس کا اپنا ہوتا ہے مگر وہ وہاں رہ نہیں سکتا۔
منجیت سنگھ بھی اسی جذباتی اور نفسیاتی بحران سے گزر رہا تھا۔ وہ بے قرار تھا۔ اس کی بے چینی دیدنی تھی۔ وہ ہر وقت اپنے گھر اور وطن واپس جانے کی باتیں کرتا تھا اور یہ سوال کرتا تھا کہ آخر وہ کب تک یہاں بیٹھے رہیں گے اور اپنے وطن واپس جانے کی اجازت کون دے گا۔ کسی بے گھر شخص کا یہ سوال بظاہر بہت سادہ ہوتا ہے، مگر اس کے پیچھے ایک پوری زندگی کھڑی ہوتی ہے۔ آدمی گھر واپس جانا چاہتا ہے تو وہ صرف ایک مکان کی طرف نہیں لوٹنا چاہتا؛ وہ اپنے معمول کی طرف، اپنے لوگوں کی طرف، اپنے کاروبار کی طرف، اپنی یادوں کی طرف اور اس احساس کی طرف لوٹنا چاہتا ہے کہ وہ جہاں کا تھا، وہیں کا ہے۔
دہشت گردی کا انسانی المیہ شاید اس مقام پر سب سے زیادہ گہرا ہوجاتا ہے۔ ہم اسے عموماً حملوں، خوف، تباہی اور نقل مکانی کے حوالے سے دیکھتے ہیں، مگر اس کے بعد جو زندگی باقی رہ جاتی ہے اس کی کیفیت پر کم بات ہوتی ہے۔ ایک خاندان گھر سے نکلتا ہے تو اس کا چند سامان نہیں رہ جاتا، اس کے ساتھ اس کی پوری معاشرتی دنیا رہ جاتی ہے۔ اس کا ماضی رہ جاتا ہے، اس کا حال بکھرتا ہے اور اس کا مستقبل بے یقینی اور مایوسی کی نظر ہوجاتا ہے۔ بچے اپنے سکول سے دور ہوجاتے ہیں، بزرگ اپنے معمولات اور ماحول سے، عورتیں اپنے پڑوس اور رشتوں سے اور مرد اپنے کاروبار اور روزگار سے۔ ایک گھر چھوڑنا دراصل زندگی کے بہت سے چھوٹے چھوٹے رشتے چھوڑنے کے برابر ہوتا ہے، اور انسان ان رشتوں کے بغیر بھی زندہ تو رہ لیتا ہے مگر پہلے جیسا نہیں رہتا۔
سب سے زیادہ نقصان شاید اس چیز کا ہوتا ہے جسے کوئی سرکاری فہرست میں درج نہیں کرسکتا جو زندگی کی بے فکری ہوتی ہے۔ ایک آدمی جو کبھی شام کو دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر ہنستا تھا، اب کسی خبر پر چونک جاتا ہے۔ جس ماں کو بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہوئے صرف ان کی تعلیم اور روزگار کی فکر ہوتی تھی، اب اس کے ذہن میں سلامتی کا سوال بھی شامل ہوجاتا ہے۔ جس تاجر کی سوچ کبھی دکان کی آمدنی، گھر کے خرچ اور اگلے موسم تک محدود تھی، وہ اب یہ بھی سوچتا ہے کہ معلوم نہیں کل یہ مہاجرت کی زندگی کیا شکل اختیار کرتی ہے۔ جس نوجوان کے سامنے زندگی کا ایک سیدھا سا راستہ ہوتا تھا، اس کے سامنے اچانک کئی چوراہے آجاتے ہیں مگر منزل کوئی نہیں۔
یہی مسلسل بے یقینی انسان کو اندر سے تھکا دیتی ہے۔ ابتدا میں وہ اسے حالات کا تقاضا، وقت کی بربریت اور تاریخ کا جبر سمجھ کر برداشت کرتا ہے۔ مگر کب تک؟ ایک وقت کے بعد انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ زندگی جو اسے جینے کے لیے ملی تھی اب موت سے بدتر ہوچکی ہے۔ وہ ایک دن اندر سے مرجاتا ہے مگر باہر سے زندہ رہتا ہے۔ روح سولی چڑھ جاتی ہے مگر جسم گھسٹتا رہتا ہے۔ ذہن پر ایک طویل اضطراب چھا جاتا ہے۔ وہ ہنستا بھی ہے، کام بھی کرتا ہے، بچوں کے ساتھ بیٹھتا بھی ہے، شادی بیاہ میں شریک بھی ہوتا ہے، مگر اس کے اندر کہیں ایک مستقل خوف موجود رہتا ہے۔ زندگی بظاہر اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہے مگر اس کے اندر سے وہ اطمینان نکل چکا ہوتا ہے جو اسے زندگی بناتا ہے۔
خیبر پختونخوا نے اس کیفیت کو کئی نسلوں تک منتقل کیا ہے۔ یہاں بہت سے لوگوں نے اپنے گھر بدلے، کاروبار بدلے، شہر بدلے، بچوں کے سکول بدلے اور اپنی روزمرہ زندگی کے پورے نقشے بدل ڈالے۔ کچھ لوگ واپس بھی گئے تو وہ زندگی واپس نہیں آئی جسے وہ چھوڑ کر گئے تھے۔ جن بچوں نے نقل مکانی میں بچپن گزارا، ان کے لیے آبائی گھر اکثر ایک کہانی بن گیا؛ جن بزرگوں نے اپنا وطن چھوڑا، ان کے لیے واپسی ایک خواہش سے بڑھ کر کچھ نہ رہی؛ اور جن نوجوانوں نے جوانی میں اپنا علاقہ چھوڑا، ان کے لیے نئی جگہ پر زندگی شروع کرنا ضرورت تو تھی مگر ہمیشہ انتخاب نہیں۔
اس پورے عرصے میں لوگوں نے بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ انہوں نے اپنے پیارے کھوئے، اپنے گھر چھوڑے، کاروبار گنوائے، اپنی زمینوں سے دوری جھیلی اور بار بار یہ امید باندھی کہ اب حالات بہتر ہوں گے۔ مگر امید بھی ایک عجیب چیز ہے۔ جب اسے بار بار مؤخر کیا جائے تو وہ آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگتی ہے۔ انسان انتظار کرتے کرتے تھک جاتا ہے۔ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کس دن کے لیے اپنے آپ کو سنبھالے بیٹھا ہے۔ اور ایک دن وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ایک بے روح جسم کو کب تک گھسیٹتا رہے گا؟ ہمت جواب دے جاتی ہے۔ اور وہ جسم سے جان چھڑانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اور کیوں نہ کرے۔ مرا تو وہ بہت پہلے سے ہوتا ہے، جسم کا انہدام تو بس رسمی اعلان ہوتا ہے۔ منجیت سنگھ نے غریبی الوطنی میں یہ رسم ادا کر دی۔ وہ جو پوری دنیا کو ساتھ لے کر چلتا تھا، دنیا سے اکیلا رخصت ہوا۔ الوداع کہنے کے لیے اس کے پاس صرف ایک پستول تھا اور اسی نے اسے رخصت کیا۔ زندگی کے خالی اور ویران پلیٹ فارم پر خدا حافظ کہنے کے لیے صرف ایک گولی تھی اور اس نے اسے آخری منزل کے لیے موت گاڑی کی بوگی میں سوار کیا۔
سوچنے کی بات ہے کہ ایک انسان کے لیے اپنے گھر سے دوری کا دکھ کتنا گہرا ہوسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص بار بار اپنے وطن واپس جانے کی بات کرتا رہا ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے لیے گھر صرف رہائش نہیں رہا تھا، وہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی ضرورت تھی۔
شاید اس لیے کسی بے گھر انسان سے یہ پوچھنا کافی نہیں کہ اسے رہنے کے لیے جگہ مل گئی یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسے اپنی زندگی دوبارہ مل گئی؟ کیا وہ اپنے دوستوں کے درمیان اسی طرح بیٹھ سکتا ہے؟ کیا اس کا کاروبار دوبارہ چل سکتا ہے؟ کیا اس کے بچوں کو وہی ماحول مل سکتا ہے؟ کیا وہ شام کو بے فکری کے ساتھ اپنے گھر کی طرف جاسکتا ہے؟ کیا اسے یقین ہے کہ کل بھی وہیں ہوگا جہاں آج ہے؟
یہ سوال صرف منجیت سنگھ کا نہیں۔ یہ ان تمام لوگوں کا ہے جنہوں نے طویل بدامنی میں اپنی معمول کی زندگی کھوئی ہے۔
دہشت گردی انسان کو ایک ہی دن میں نہیں توڑتی۔ کبھی یہ ایک گھر خالی کرتی ہے، کبھی ایک بازار ویران کرتی ہے، کبھی کسی خاندان کو دوسرے شہر پہنچا دیتی ہے، کبھی کسی بچے کے ذہن میں ایسا خوف چھوڑ جاتی ہے جو برسوں اس کے ساتھ رہتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ سب چیزیں مل کر انسان کے مزاج کو بدل دیتی ہیں۔ وہ پہلے جیسا خواب نہیں دیکھتا، پہلے جیسی خوشی محسوس نہیں کرتا، پہلے جیسا پُراعتماد نہیں رہتا۔ اس کے اندر ایک مستقل احتیاط پیدا ہوجاتی ہے، جیسے زندگی ہر وقت کسی انجانے حادثے کے انتظار میں ہو۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں جسمانی موت سے پہلے ایک دوسری موت واقع ہوتی ہے۔
آدمی زندہ رہتا ہے، مگر اس کے اندر کا انسان مر چکا ہوتا ہے۔ وہ کام کرتا ہے مگر دل سے نہیں، ہنستا ہے مگر پوری طرح نہیں، خوشی میں شریک ہوتا ہے مگر دل کے کسی گوشے میں خوف موجود رہتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کو مستقبل کی باتیں بتاتا ہے مگر خود مستقبل کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہوتا ہے۔
پختونخوا کے لوگوں کے بارے میں جب ہم دہشت گردی کی بات کرتے ہیں تو ہماری گفتگو اکثر ان لوگوں تک محدود رہتی ہے جو مارے گئے۔ یہ فطری بھی ہے، کیونکہ موت سب سے واضح نقصان ہے۔ لیکن ان لوگوں کا دکھ شاید اس سے کم نہیں جو بچ گئے اور پھر برسوں اپنے اندر کچھ دفن کرتے رہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ آج بھی زندگی گزار رہے ہیں، مگر شاید وہ زندگی نہیں جو انہوں نے کبھی اپنے لیے سوچی تھی۔
منجیت سنگھ کی کہانی اس وسیع انسانی المیے کی ایک تصویر ہے۔ ایک آدمی جس کی زندگی ایک خوبصورت وادی، اپنے کاروبار، اپنے گھر، اپنے دوستوں اور اپنی زمین کے ساتھ جڑی ہوئی تھی، حالات کے ہاتھوں اپنے وطن سے دور ہوگیا۔ اس کے لیے واپسی محض ایک سفر نہیں تھی، اپنی پوری زندگی کو دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش تھی۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس واقعے کو صرف ایک فرد کے سانحے کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔
اس میں ان سب لوگوں کی بے بسی شامل ہے جو اپنے گھروں سے دور بیٹھے ہیں۔ ان بزرگوں کی خاموشی شامل ہے جو اپنے گاؤں کی طرف دیکھتے رہتے ہیں۔ ان عورتوں کی تھکن شامل ہے جنہوں نے ایک جگہ سے دوسری جگہ خاندان سنبھالا۔ ان بچوں کا بچپن شامل ہے جو معمول کی زندگی سے محروم رہے۔ ان نوجوانوں کے خواب شامل ہیں جنہیں حالات نے اپنی مرضی سے جینے کا موقع نہیں دیا۔
ہم نے بہت عرصے سے دہشت گردی کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ شاید یہی سب سے خوفناک بات ہے۔
ہم نے خوف کو قبول کیا، نقل مکانی کو معمول سمجھ لیا، بے یقینی کو تقدیر جان لیا، گھروں سے دوری کو حکمت جانا۔ آج ایک پوری نسل ایسی بھی ہے جس نے وہ پُرسکون زندگی دیکھی ہی نہیں جسے اس کے بزرگ یاد کرتے ہیں۔
اس لیے آج اگر ہم کہیں کہ لوگ زندہ ہیں تو ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان کی زندگی میں کتنا کچھ زندہ باقی بچا ہے۔
کیا ان کے خواب زندہ ہیں؟
کیا ان کی بے فکری زندہ ہے؟
کیا اپنے وطن میں واپس بسنے کی امید زندہ ہے؟
کیا اپنے بچوں کے مستقبل پر یقین زندہ ہے؟
کیا اپنی مٹی کے ساتھ وہی بے ساختہ تعلق زندہ ہے جو کبھی ان کی زندگی کا حصہ تھا؟
اگر ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں سمجھنا ہوگا کہ دہشت گردی کا نقصان صرف ان لوگوں تک محدود نہیں جو قبروں میں اتر گئے۔ اس نے ان لوگوں کی زندگیوں کو بھی زخمی کیا ہے جو آج ہمارے درمیان چل پھر رہے ہیں۔
شاید اسی لیے منجیت سنگھ کی کہانی پڑھتے ہوئے مجھے بار بار یہ خیال آتا ہے کہ پختونخوا میں بہت سے لوگ جسمانی طور پر زندہ ہیں، مگر ان کی جذباتی زندگی بہت پہلے ہی مر چکی ہے۔
موت جب آتی ہے تو جسم کو بےجان کرتی ہے۔
مگر مسلسل خوف، بے وطنی اور بے یقینی انسان کے اندر کی آواز کو بہت پہلے خاموش کردیتی ہے۔
منجیت سنگھ کے جانے کا دکھ صرف ایک شخص کے چلے جانے کا دکھ نہیں۔ یہ اس سوال کا دکھ بھی ہے کہ ایک انسان کو اپنے گھر، اپنی زمین، اپنے لوگوں اور اپنے مستقبل سے محروم کرکے آخر ہم اس سے کونسی زندگی کی توقع کرسکتے ہیں۔
تیراہ کی وہ خوبصورت وادی آج بھی موجود ہے۔ پہاڑ بھی وہیں ہیں، جنگل بھی، چشمے بھی اور زمین بھی۔ مگر کسی جگہ کی خوبصورتی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب اس کے لوگ وہاں اپنی زندگی بھی گزار سکیں۔
شاید ایک دن تیراہ کے بازار پھر اسی طرح آباد ہوں گے۔ لوگ اپنی دکانیں کھولیں گے، بچے شور کرتے ہوئے گلیوں میں دوڑیں گے، عید پر خاندان جمع ہوں گے، دوست بیٹھیں گے، چائے کے دور چلیں گے اور شام کو لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹیں گے۔
اور شاید اس دن وطن سے دور بیٹھے لوگوں کی سب سے بڑی خواہش پوری ہوگی۔
وہ اپنے گھر واپس جائیں گے۔
مگر تب تک ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دہشت گردی نے جن لوگوں کو زندہ چھوڑا ہے، ان میں سے بہت سوں کو زندگی بھی واپس درکار ہے۔
صرف گھر نہیں۔
صرف روزگار نہیں۔
صرف محفوظ راستہ نہیں۔
انہیں وہ اطمینان واپس چاہیے جس کے بغیر انسان برسوں زندہ رہ کر بھی اندر سے زندہ نہیں رہتا۔
شاید یہی پختونخوا کا سب سے بڑا انسانی المیہ ہے کہ
یہاں بہت سے لوگ مرے نہیں ہیں، مگر ان کے اندر کی بہت سی زندگیاں کب کی مر چکی ہیں۔
واپس کریں