
دہشت گردی مہذب دنیا میں ختم ہو چکی۔ اس کے خاتمے میں ہمارا کردار بنیادی تھا۔ ہم خود مگر آج بھی اس آگ میں جل رہے ہیں۔ اس کا ذمہ دارکون ہے؟
دہشت گردی کیا‘ لوگ داخلی تنازعات کو بھی حل کر رہے ہیں۔ نظام مستحکم ہو رہے ہیں۔ اگر کہیں عدم استحکام ہے تو نظام میں اتنی جان ہے کہ وہ اس کا بوجھ اٹھا سکتا ہے۔ ایران میں داخلی اضطراب اتنا زیادہ تھا کہ امریکہ نے رجیم کی تبدیلی کو نوشتہ دیوار سمجھ لیا۔ ایران برے حالات میں بھی مگر داخلی طور پر مستحکم رہا۔ اس کا سبب ایک سخت گیر نظام ہے یا کچھ اور‘ ہم تو یہ نتیجہ دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ کی خواہش پوری ہو سکی نہ اسرائیل کی۔ ایران کو امریکہ کی ریاستی دہشت گردی کا سامنا ہے لیکن ملک میں کسی دہشت گرد گروہ کا سراغ نہیں ملتا۔ کوئی واقعہ ہو جائے تو دہشت گرد دنوں میں پکڑے جاتے اور سزا سے گزر جاتے ہیں۔ ترکیہ میں معاشی مسائل ضرور ہیں لیکن وہاں سیاسی استحکام ہے۔ کردوں سے ریاست نے معاملہ کر لیا اور اب اس کے استحکام کو کوئی خطرہ نہیں۔
ہمارا معاملہ عجیب ہے۔ دہشت گردی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارے جوان آئے دن اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ دوصوبے اس کی گرفت میں ہیں۔ ہم نے جتنے جوان‘ سپاہی اور عوام اس جنگ میں قربان کیے‘ دنیا کی کسی قوم نے نہیں کیے۔ ہماری ان قربانیوں کو عالمی سطح پر مانا گیا نہ داخلی طور پر ہی ہم کوئی ایسی حکمتِ عملی بنا سکے جو پاکستان کی سلامتی کی ضامن ہو۔ ریاست ہی نہیں‘ دانشوروں کی سطح پر معاملے کی سنگینی کا کسی کو احساس ہے نہ اہلِ سیاست ہی کو اس کا ادراک ہے۔ سول سوسائٹی بھی خاموش ہے۔ سیاسی جماعتوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ دھرنے ہی کو احتجاج کا واحد ماڈل سمجھ بیٹھی ہیں۔دھرنے کا اعلان ہوتا ہے تو معیشت دباؤ میں آنا شروع ہو جاتی ہے۔ آئے دن اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسلام آباد کنٹینروں سے بوجھل ہے اور حکومت روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کرائے کی مد میں ادا کر رہی ہے۔ شاہراہیں کھود ڈالی گئی ہیں۔ حکومت کے سیاسی مخالفین خوش ہیں کہ وہ اسے زچ کر رہے ہیں۔ انہیں اس کا کوئی احساس نہیں کہ اس کی قیمت اس ملک کے عوام ادا کر رہے ہیں۔ کنٹینروں کا کرایہ قومی خزانے سے دیا جاتا ہے جسے عوام کے ٹیکسوں سے بھرا جاتا ہے۔
آج ایک طرف دہشت گردی کا حملہ ہے اور دوسری طرف سیاسی جماعتوں کے لشکر دارالحکومت پر یلغار کا اعلان کر رہے ہیں۔ کوئی ریاست ان حالات میں کب تک چل سکتی ہے۔ اس لیے سنجیدگی کے ساتھ ہمیں اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ جب ساری دنیا میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے تو ہم کیوں اس سے نجات نہیں پا سکے؟ داعش جہاں کی پیداوار تھی وہاں سکون آ چکا لیکن ہمارے خطے میں‘ وہ اسی طرح موجود ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کم و بیش القاعدہ سے خالی ہو چکا مگر یہاں اس کے آثار پائے جاتے ہیں۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے مقامی گروہ اپنی جگہ سرگرم ہیں۔ اسی طرح سیاسی تنازعات بدستور حل طلب ہیں۔ ہمیں اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تیاری کرنی ہے۔
نیشنل ایکشن پلان کو بنے بارہ برس ہو گئے۔ اس کی افادیت پر ابھی تک سوال اٹھ رہے ہیں۔ اس وقت یہ قومی اتفاقِ رائے کا مظہر تھا۔ آج اس معاملے میں وہ اتفاقِ رائے موجود نہیں اور اسے پیدا کر نے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی نہیں ہو رہی۔ آج سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ سیاسی اختلافات سے ماورا‘ دہشت گردی کے خلاف ایک بیانیے پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔ سیاسی جماعتوں کو قائل کیا جائے کہ وہ حکومت سے اپنے اختلافات برقرار رکھتے ہوئے‘ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے‘ ریاست کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ اس کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں ایک قومی کانفرنس بلائی جائے۔ جو اقدام 2014ء میں اٹھایا گیا اور جس کی کوکھ سے نیشنل ایکشن پلان برآمد ہوا‘ اسے آج پھر سے دہرایا جائے۔ اگر اس کی بنیادیں افغانستان میں ہیں تو اس پر قوم کو یکسو کیا جائے۔ آج اس باب میں عوام اور ریاست کے مابین ایک بڑا خلا ہے۔ اس کو دور کر نے کی ضرورت ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر ایک مؤقف بیان کرتے ہیں تو اس پر طرح طرح کی بولیاںسننے کو ملتی ہیں۔ یہ بولیاں ان معاملات کو عوام کی نظر میں مبہم بنا دیتی ہیں۔ قومی یکسوئی کے لیے ضروری ہے کہ اس کا تدارک ہو۔ جو بات ریاست کی طرف سے کہی جاتی ہے اسے قومی بیانیہ سمجھا جانا چاہیے۔ اگر کسی کو اعتراض ہے تو اس سے مذاکرات کر کے‘ اس اعتراض کو دور کرنا چاہیے۔ بلوچستان پر بھی اسی مشق کی ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ سیاسی استحکام کی کوشش بھی کی جانی چاہیے۔ کے پی حکومت کے ساتھ مرکز کے معاملات جس نہج پر آگے بڑھ رہے ہیں اس سے عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس قضیے کو ہمیشہ کے لیے حل کیا جائے۔ صوبوں اور مرکز کے درمیان اس نوعیت کا اختلاف زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ صوبے کے عوام اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انتظامی سطح پر صوبے اور مرکز میں ہم آہنگی لازم ہے۔ تحریک انصاف کو اپنی سیاست صوبائی حکومت سے الگ کرنی چاہیے۔ اگر اس نے کوئی حکومت مخالف تحریک چلانی ہے تو اسے تنظیمی سطح پر زیرِ بحث آنا چاہیے نہ کہ حکومتی سطح پر۔ وزیراعلیٰ کا کام یہ ہے کہ وہ عوام کی بہتری کے لیے حکمتِ عملی بنائیں۔ اسے سیاسی عمل سے الگ ہونا چاہیے۔ وزیراعلیٰ مرکز کے ساتھ اس معاملے میں مذاکرات کریں کہ صوبے میں امن اور خوشحالی کیلئے کیا کیا جا سکتا ہے۔ سیاسی تنظیم اپنے طور پر فیصلہ کرے کہ اس نے عمران خان صاحب کی رہائی کے لیے کیا حکمتِ عملی اپنانی ہے۔ دھرنا تحریک انصاف کا مسئلہ ہو نہ کہ صوبائی حکومت کا۔ اگر اس بات کو بطور اصول سامنے رکھا جا ئے تو صوبے میں حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔
کوئی ملک دہشت گردی اور سیاسی خلفشار سے ایک ساتھ نہیں نمٹ سکتا۔ ایران کو امریکی حملے کا سامنا ہوا تو وہاں داخلی طور پر استحکام تھا۔ ریاست یکسو ہو کر امریکہ کے ساتھ لڑ رہی تھی۔ پاکستان کی ریاست کا معاملہ یہ نہیں ہے۔ وہ دہشت گردوں کے ساتھ یکسوئی کے ساتھ نہیں لڑ رہی۔ ایسی سیاسی قوتیں موجود ہیں جو اس کی ٹانگیں کھینچ رہی ہیں۔ اس کا مداوا کیے بغیر‘ خارجی چیلنج کا سامنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کیلئے اتفاق رائے لازم ہے۔ ایک قومی بیانیے کی تشکیل ہو جسے پوری قوم کی تائید میسر ہو۔ نیکٹا میں جنرل فیصل نصیر کے جانے سے امید کی جا سکتی ہے کہ اس باب میں پیش رفت ہو اور نیشنل ایکشن پلان کو نئے حقائق کی روشنی میں زندہ کیا جائے۔ دوسرا اس بیانیے پر قوم کی مہر ہو۔ اس کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں قومی کانفرنس کا انعقاد ضروری ہے۔ تیسرا اس پر عملدرآمد کا نقشہ ہے‘ جس کی صلاحیت قومی اداروں کے پاس موجود ہے۔ اس کے ساتھ داخلی استحکام کیلئے کے پی حکومت سے فیصلہ کن مذاکرات کئے جائیں۔
دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ یہ ہمارے لیے پولیو کی طرح ہے۔ پولیو ساری دنیا میں ختم ہو گیا۔ اب پاکستان میں ہے یا افغانستان میں۔ دہشت گردی کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ساری دنیا سے ختم ہو چکی مگر پاکستان اور افغانستان میں باقی ہے۔ یہ بات ہمارے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے۔ اس سے نجات ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ یہ انسانی جانوں کا معاملہ ہے۔
واپس کریں