دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مستقبل سے بے خبر سہیل آفریدی اب ماضی کو سنوار رہے ہیں
No image خالد خان ۔ ہیرو گیری اور نیتا گیری اسی طرح دو الگ الگ چیزیں ہیں جس طرح زبان اور زبان سے ادا کیے گئے الفاظ ۔ سیانوں نے کیا خوب کہا ہے کہ پہلے تولو پھر بولو۔ جن لوگوں کو بولنے سے پہلے تولنا نہیں آتا، وہ پھر بولنے کے بعد بہت کچھ تولنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال سہیل آفریدی کی ہے جو 27 ستمبر کے ناکام لانگ مارچ کے بعد اب خود ساختہ سٹریٹ موومنٹ سے کئی گنا زیادہ سپیڈ کے ساتھ آفریدی ٹریولز بن چکے ہیں۔ علی امین گنڈا پور سے لے کر اب وہ ہر اس در پر جا رہے ہیں جہاں سے وزارتِ اعلیٰ بچانے کی تھوڑی سی امید بھی ہو۔ عمران خان کا ایک قول مخالفین کے حوالے سے بڑا مشہور کرایا گیا تھا کہ ’’ایک تو یہ لوگ لکھے پڑھے نہیں ہیں اور دوسرا سیکھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے‘‘، اب حالات و واقعات نے ثابت کر دیا کہ ان کا یہ فرمانا دراصل اپنی پارٹی کے ورکرز اور بزعمِ خود میں مبتلا رہنماؤں کے بارے میں تھا۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ یہ قول سہیل آفریدی پر اتنا فٹ بیٹھتا ہے کہ گویا انہی کے بارے میں کہا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ کا سیکریٹریٹ کوئی قبائلی حجرہ نہیں ہوتا اور نہ ہی صوبائی اسمبلی کوئی قبائلی جرگہ ہوتا ہے کہ جس میں جو منہ میں آئے بولا جائے۔ سہیل آفریدی کے اپنے قائد عمران خان سے محبت اور وفاداری قابلِ تحسین ہے، لیکن وفاداری بھی بشرطِ استواری کی متقاضی ہوتی ہے۔ موصوف جہاں ایک پارٹی کے رہنما ہیں، وہاں وہ اس صوبے کے وزیراعلیٰ بھی ہیں۔ ان کی اولین ترجیح انقلابی طرزِ حکمرانی ہونا چاہیے تھی اور عمران خان کی رہائی، علاج معالجے اور ان تک رسائی کے لیے آئینی، قانونی اور عدالتی راستہ اپنانا چاہیے تھا۔ انہیں اس کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت اور ریاست سے بات چیت، گفت و شنید اور افہام و تفہیم کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔ عوامی سطح پر انہیں مسلسل اور مستقل طور پر سیاسی رابطوں، معمول کے جلسوں، ورکرز کے ساتھ اجلاسوں میں اور روایتی اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی مظلومیت اور قانون کے احترام بارے عوام الناس کی ذہن سازی کرتے ہوئے اپنے موقف کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنا چاہیے تھا۔ جب ووٹرز سے عمران خان کی رہائی کے سنگل پوائنٹ انتخابی منشور پر ووٹ لیا جائے اور جب بارہا قول و فعل سے اس وعدے پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ماورائے آئین و قانون عمران خان کی رہائی کی کوششیں کی جائیں تو یقیناً حالات اس نہج پر پہنچتے ہیں جہاں آج ہیں۔ دریں اثنا صوبائی حکومت بغیر نگرانی کے سرکاری اہلکاروں کے رحم و کرم پر چلتی رہی۔ اس عرصہ میں بجائے عوامی خدمت کے صرف دیہاڑیاں لگائی گئی ہیں۔ قانون سازی صرف ذاتی مفادات کی حد تک موم کی ناک بنی رہی، جسے حسبِ منشا و ضرورت جس طرف چاہا گیا موڑا گیا۔ اس کا نتیجہ ہوا کہ آج وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی مجموعی طور پر ناک کے بغیر دکھتی ہے۔ لکھے پڑھے لوگ ناک کٹوانے کے محاورے کا تہذیبی شعور، احساس اور استعارہ خوب سمجھتے ہیں۔ سہیل آفریدی نے جب سے وزارتِ اعلیٰ کا حلف لیا، اس دن سے آج تک اگر کام والے دونوں کا حساب کیا جائے اور یہ پتہ لگایا جائے کہ کتنے دن وہ آفس میں رہے، کتنی فائلیں انہوں نے نمٹائیں اور عوامی فلاح و بہبود کے کتنے احکامات انہوں نے جاری کیے تو دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے گا۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس جو کبھی پشتون استقبال کی روایت ہوتا تھا، آج ایک قلعہ میں تبدیل ہوا ہے، جس کے باہر سپیشل برانچ کی حکمرانی ہوتی ہے اور اندر کم عمر نا تجربہ کار آفریدی نوجوانوں کی عمل داری ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ تک پی ٹی آئی سے تعلق نہ رکھنے والے کسی بھی اعلیٰ ترین سے اعلیٰ ترین شخصیت کا پہنچنا گویا انجیر کے پھول پانے کے مترادف ہے۔ کسی بھی رسمی سرکاری مکتوب یا ٹیلی فون کا جواب دینا تو جیسے توہین کے زمرے میں آتا ہو۔ وزیراعلیٰ صاحب اور پاکستان تحریک انصاف کے اکابرین کی معلوماتِ عامہ کی یہ صورتحال ہے کہ اگر ان سے پوچھا جائے کہ رحمن، خوشحال، حمید ماشوخیل، علی خان، غنی خان، حمزہ شنواری، سید ممتاز علی شاہ، گلنار بیگم، کشور سلطان، مقبول کاشمیری، یوسفی صاحب، صلاح الدین اور رحیم اللہ یوسفزئی کون ہیں تو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر بتا دیں گے کہ یہ ہمارے حلقے کے فلاں فلاں گاؤں اور محلے کے سرگرم کارکن ہیں۔ زندہ تو ویسے بھی درگور ہیں۔ انتشار، احتجاج، بے اعتنائی، ناقص کارکردگی، غیر سیاسی رویوں، قومی سلامتی پر ریاست مخالف بیانیے نے نہ صرف عمران خان کی قبل از وقت رہائی کو ناممکن بنایا بلکہ پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی مستقبل کو بھی داؤ پر لگا دیا۔ سہیل آفریدی آج وزارتِ اعلیٰ بچانے کے لیے منتوں ترلوں پر اتر آئے ہیں، مگر وہ شاید یہ نہیں جانتے کہ وزارتِ اعلیٰ تو دور کی بات، پوری صوبائی حکومت کا جانا اب ٹھہر چکا ہے۔ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چگ گئی کھیت۔ اپنا اور پی ٹی آئی کے نقصان سے قطع نظر سہیل آفریدی نے پوری سیاست کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ جمہوریت اور سیاست میں احتجاج اور لانگ مارچ کی روایت اور تصور کو ہی دفنا دیا۔ اب کسی بھی سیاسی جماعت کی مجال نہیں ہوگی کہ احتجاج اور لانگ مارچ کا سوچے بھی۔ ریاست بھی اطمینان کا سانس لے کر کہے گی، شکر ہے جان چھوٹی، لاکھوں پائے۔
واپس کریں