دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مارچ اور احتجاج: معیشت کا نقصان یا مطالبات منوانے کا ہتھیار؟
No image پاکستان تحریک انصاف 27 ستمبر کو اسلام آباد پہنچنے کے سلسلے میں اب تک پرعزم ہے لیکن وفاقی دارالحکومت میں نظام زندگی کئی دن پہلے سے ہی متاثر ہے۔ شاہراہوں کے کنارے ایک ہزار سے زیادہ کنٹینرز کھڑے ہیں، انٹرنیٹ سروس کمزور ہو چکی ہے۔ شہر کو صوبوں سے ملانے والی موٹرویز اور جی ٹی روڈ بند ہے، کالجوں میں کلاسیں روک دی گئی ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق ایسےاحتجاج اور سڑکوں کی بندش سے معیشت کو روزانہ 120 ارب روپے تک کا نقصان ہو سکتا ہے۔ مگر اس نقصان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر آنے والوں پر یا حکومت پر، جو راستے بند کر کے نقل و حرکت محدود کرتی ہے؟ اور کیا پاکستان میں مطالبات منوانے کے لیے سڑکیں بند کرنا اب ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جس کے بغیر حکومت کی توجہ حاصل کرنا ممکن نہیں؟
اسلام آباد پولیس کے مطابق شہر کی مختلف شاہراہوں پر ایک ہزار سے زیادہ کنٹینرز رکھے جا چکے ہیں۔ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی ویب سائٹ کے مطابق اسلام آباد-ڈی آئی خان اور اسلام آباد-پشاور موٹرویز 23 ستمبر کی شام سے تاحکمِ ثانی بند ہیں۔ پشاور سے آنے والی جی ٹی روڈ بھی اٹک خورد کے مقام پر بند کر دی گئی ہے۔
پنجاب حکومت نے امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر راولپنڈی ریجن میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز ڈاؤن گریڈ یا معطل کرنے کے لیے وفاقی وزارتِ داخلہ سے درخواست کی ہے جبکہ پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
دیگر صوبوں سے آنے والی پولیس کی اضافی نفری کو ٹھہرانے کے لیے شہر کے کئی کالجوں میں چھٹیاں دے دی گئی ہیں۔ اسلام آباد کالج فار گرلز جی ٹین ٹو کی ایک ٹیچر نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی۔
پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعتِ اسلامی کا احتجاج مؤخر ہونے کے بعد کسانوں کے ایک گروہ نے بھی اپنا احتجاج ملتوی کر دیا۔
صحافی اور تجزیہ کار احمد اعجاز کے مطابق جماعت اسلامی یا کسانوں کے بجائے حکومتی تیاریاں پی ٹی آئی کے لیے ہیں۔
انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ”کنٹینرز لگانے اور سکیورٹی سخت کرنے کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ حکومت آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا عزم رکھتی ہے۔ قیادت کے علاوہ پی ٹی آئی کارکنان کو بھی یہ پیغام دینا ہے کہ بہت سختی ہے، اس لیے گھر سے نہ نکلنے میں ہی عافیت ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ”کارکنان کی گرفتاریوں کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ‘ہارڈ اسٹیٹ‘ بالکل بھی نرمی نہیں کرے گی۔ دوسری طرف پی ٹی آئی بھی جارحانہ انداز اختیار کیے ہوئے ہے۔ دونوں فریق خود کو زیادہ طاقتور ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
یہ طاقت آزمائی صرف سیاسی دباؤ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات شہر کی معمول کی زندگی اور ملک کی معاشی سرگرمیوں پر بھی پڑتے ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ مارچ، دھرنوں، ہڑتالوں، سڑکوں کی بندش اور معاشی سرگرمیوں کے تعطل سے پاکستان کی معیشت کو روزانہ تقریباً 120 ارب روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس کا فوری بوجھ عام شہری، یومیہ مزدور، چھوٹے دکاندار اور چھوٹے کاروبار پر پڑتا ہے۔
اس کے مقابلے میں احتجاج روکنے کا سرکاری خرچ کافی کم نظر آتا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے مارچ 2025 میں قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ پچھلے پانچ برسوں میں وفاقی دارالحکومت میں احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے پر ایک ارب 35 کروڑ روپے سے زائد خرچ ہوئے۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس سے وابستہ عالم خان کے مطابق سکیورٹی پر ہونے والے اخراجات قومی خزانے پر بوجھ ضرور ہیں، لیکن اصل معاشی نقصان حکومتی خرچ سے کہیں آگے ہوتا ہے۔ اس میں اسٹاک مارکیٹ پر اثرات، سیاسی بے یقینی، شہر کے کاروبار، ٹرانسپورٹ اور روزگار کا متاثر ہونا شامل ہے۔
ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ”شہر میں جتنے کنٹینرز رکھے گئے ہیں، ان کا روزانہ کا کرایہ کروڑوں روپے بنتا ہے۔ سندھ اور پنجاب سے آنے والے پولیس اہلکاروں کی نقل و حمل، کھانے پینے اور رہائش پر بھی بھاری اخراجات ہوتے ہیں۔”
لیکن ان کے نزدیک سب سے زیادہ نقصان ان لوگوں کا ہوتا ہے جو کسی سرکاری حساب میں نظر نہیں آتے۔ وہ کہتے ہیں، ”اسلام آباد میں دوسرے علاقوں سے آئے ہوئے مزدور لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ راستوں اور نیٹ ورک کی بندش ان کا کام بند کر دیتی ہے۔ حکومتی اخراجات کسی نہ کسی طرح پورے ہو جاتے ہیں، لیکن عام آدمی کا ایک ماہ کا خسارہ کئی مہینوں کے نقصان میں بدل جاتا ہے۔‘‘
ماہرین کے مطابق، یہ معاشی دباؤ ہمارے سیاسی نظام میں حکومت کو مذاکرات کی میز پر لانے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) سے وابستہ سیاسیات کے پروفیسر ڈاکٹر محمد وسیم کے مطابق بظاہر پی ٹی آئی کے پاس سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا، یہیں سے وہ سیاسی و معاشی دباؤ ڈال سکتی ہے۔
ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ”پاکستان تحریک انصاف کا ایک خاص مزاج ہے۔ اس جماعت نے ہمیشہ اسٹریٹ پاور کا استعمال کیا، دھرنا اور نظام زندگی معطل کرنا اس کی حکمت عملی کا حصہ رہا ہے۔ اس کا مقصد حکومت پر سیاسی دباؤ کے ساتھ ساتھ معاشی دباؤ ڈالنا بھی ہوتا ہے، کیونکہ سڑکوں کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں میں خلل حکومت کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ "
وہ کہتے ہیں، ”اس وقت پی ٹی آئی کا واحد مطالبہ عمران خان کی رہائی ہے۔ احتجاج ہی کے ذریعے وہ پارٹی کو متحرک رکھ سکتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر وہ چپ کر کے بیٹھ گئے تو ان کی سیاست پس منظر میں چلی جائے گی۔”
احمد اعجاز کے بقول، ”ریاست یہ سمجھتی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی مزاحمتی صلاحیت کو پہلے ہی کمزور کر چکی ہے اور اب اسے مکمل طور پر ختم کرکے پارٹی کو بے اثر کرنا چاہتی ہے۔‘‘
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کو ہی یہ پتہ چل سکے گا کہ شہباز شریف حکومت اور سابق وزیر اعظم عمران خان میں سے کون اپنے منصوبے اور حکمت عملی میں کامیاب رہا اور کتنا کامیاب رہا۔
بشکریہ:ڈی ڈبلیو
واپس کریں