دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سسٹم کا امتحان
No image حروف : نوید چودھری ۔ لانگ مارچ کے لیے 27 ستمبر کی تاریخ دے کر چار اکتوبر پر چلے جانا کسی شاطر کی چال بھی ہو سکتی ہے۔ حکومت کے حامی مذاق اڑا رہے ہیں کہ پی ٹی آئی بھاگ گئی، جبکہ تحریک انصاف کے ہمدرد کہہ رہے ہیں کہ نئی تاریخ دینے سے وفاقی حکومت نئے سرے سے حفاظتی اقدامات کرنا شروع کر دے گی اور بار بار ایسا کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ فرض کریں، اگر ایسا ہی ہوا تو سسٹم کتنی دیر تک برداشت کر پائے گا؟صاحبانِ اقتدار سے قربت رکھنے والے حلقے یہ خبر دے رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بدترین صورتِ حال اور افغان بارڈر پر کشیدگی کے سبب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج لگا دیا جائے۔ صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس حوالے سے بھی بھرپور احتجاج کی تیاری مکمل ہے۔یہ بات مدِنظر رکھنا ہوگی کہ موجودہ پی ٹی آئی، جس کی بنیاد 2011 میں رکھی گئی تھی، اسے ایک ایسی احتجاجی تحریک کی صورت میں متعارف کرایا گیا جو حکومتِ وقت کو مسلسل غیر یقینی اور انتشار کی حالت میں رکھے۔ یہ تجربہ توقع سے بڑھ کر کامیاب ثابت ہوا اور اب تک ہو رہا ہے۔سیاسی پس منظر رکھنے والے گنڈاپور کے بعد نوآموز سہیل آفریدی کو وزیرِاعلیٰ بنانے کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ ٹف ٹائم دینے کا سلسلہ رکنا نہیں چاہیے۔ اگرچہ اقتدار کے اپنے مزے ہوتے ہیں اور بے تحاشا ہوتے ہیں، ایک عام رکنِ اسمبلی وزیرِاعلیٰ بن جائے تو کرسی کو بچائے رکھنا خود بخود اس کی اولین ترجیح بن جاتا ہے، لیکن اگر فیصلہ کہیں یہ سوچ کر کیا گیا ہو کہ اس سے احتجاج، دھرنے، دنگوں کا کام ہی لینا ہے تو کوئی کتنی دیر تک ٹال سکتا ہے؟یہ نظر آ رہا ہے کہ پی ٹی آئی میں دھڑے بندی ہے۔ ملاقاتوں پر پابندی نہ بھی ہوتی تو کئی مرکزی عہدیدار اس کوشش میں رہتے کہ جیل جا کر عمران خان سے نت نئی ہدایات نہ ہی لینا پڑیں۔ جب رہنماؤں کی آمدورفت جاری تھی تو ایسی خبریں آئیں کہ عمران خان نے بعض کو ڈانٹا اور سرزنش کی۔ اب جبکہ رہائی تو دور کی بات، رسائی تک کا موقع بھی نہیں مل رہا تو پارٹی کے فیصلہ ساز کو سہیل آفریدی کی کتنی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ تحریک انصاف کو لانگ مارچ کا اعلان کرکے اگلی تاریخ دینے کے بعد اب فیس سیونگ کے لیے کوئی نہ کوئی ریلیف چاہیے۔ دوسری طرف حکومت کے لیے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کسی قسم کی رعایت دی تو کمزوری کا تاثر جائے گا۔ اب اگر پی ٹی آئی کچھ منوائے بغیر پیچھے ہٹتی ہے تو اسے بطورِ پارٹی بڑا دھچکا لگے گا۔ بظاہر اس وقت خاصی پیچیدہ صورتِ حال پیدا ہو چکی ہے۔مسئلے کا سیاسی حل نظر نہیں آ رہا تو کیا انتظامی طور پر کچھ کیا جائے گا؟ گورنر راج کی آپشن تو موجود ہے، لیکن الیکشن 2024 کے لیے جو نقشہ تیار کیا گیا اور اس پر عمل درآمد بھی ہوا، اس میں خیبر پختونخوا پی ٹی آئی کے حوالے تھا۔ مہذب انداز اپنانے اور 9 مئی سمیت بعض واقعات پر معافی مانگنے پر نظام ہموار طریقے سے چلنا تھا، لیکن یہ پلاننگ دھری کی دھری رہ گئی۔ کہیں ضد تھی تو کہیں یکسوئی نہیں تھی۔ کہنے والوں نے اسے ڈبل گیم بھی کہا۔ جو کچھ بھی تھا، اب بہت وقت گزر چکا ہے۔
اس حکومتی بندوبست، وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں نے جو ڈلیور کرنا تھا، اسی عرصے میں کرنا تھا۔ سب کو اپنی اپنی سیاست کو مدِنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی کاموں کے ساتھ عام آدمی کی بہتری کے اقدامات، معاشی سرگرمیوں کا فروغ، انصاف، یکساں مواقع، کرپشن کا خاتمہ اور بہت کچھ کرنا تھا، جس کا انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا گیا تھا۔اس وقت عوام حال میں ہیں وہ سب کے سامنے ہیں ، ہائبرڈ کے بعد ہائبرڈ پلس سسٹم کو آزما کر بھی مطلوبہ نتائج نہیں مل سکے۔ اب نئے صوبوں یا انتظامی یونٹوں کی تجویز اسی امر کا اعتراف ہے کہ کام نہیں چل رہا۔ وہ الگ سے ایک بحث ہے کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹ بننے کی صورت میں کچھ بہتر ہو سکتا ہے یا پھر مزید خرابی پیدا ہوگی۔اس وقت سب سے بڑا سوال پی ٹی آئی کے احتجاج کو اس انداز میں ٹالنے کا ہے کہ بہت زیادہ ریاستی قوت استعمال کیے بغیر تحریک کمزور پڑ جائے۔ یہی سسٹم کا امتحان ہے۔ رہی گورنر راج کی آپشن، تو وہ موجودہ حکومتی ماڈل میں فٹ نہیں بیٹھتی۔ اگر ماڈل بدلنا شروع ہو گیا تو کون جانے بات کہاں تک جائے گی۔لانگ مارچ والے اپنے صوبے اور ملک کے حالات کو نظر انداز کرکے دھمکیاں دینے پر لگے رہیں اور مخالفین مذاق اڑانے اور تضحیک کرنے کی روش جاری رکھیں، اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ خلیج جتنی بھی گہری ہو، بہرحال اس پل کو پار تو کرنا ہے۔بہتر یہی ہے کہ کسی نہ کسی مرحلے پر مذاکرات کا دروازہ کھلے اور کوئی مناسب حل، کوئی درمیانی راہ نکل آئے۔ ورنہ ایک مسئلے کو ٹالتے ٹالتے دوسرا مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے، اور پھر اسے ٹالنا شاید پہلے سے بھی زیادہ مشکل ہو جائے ،فریقین غور فرما لیں
عجب نہیں کہ یہ دریا نظر کا دھوکا ہو
عجب نہیں کہ کوئی راستہ نکل آئے
واپس کریں