لانگ مارچ مؤخر: محاذ آرائی نہیں، مذاکرات کی ضرورت

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ تحریک انصاف کا 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب جانے والا لانگ مارچ مؤخر کرکے اسے 4 اکتوبر کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں اتفاقِ رائے سے کیا گیا اور مارچ پشاور سے شروع ہوگا۔ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ احتجاج پُرامن ہوگا اور لانگ مارچ کے باوجود مذاکرات اور ڈائیلاگ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے مارچ مؤخر کرنے پر تحریک انصاف کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ احتجاج سے ’’بھاگ رہے ہیں‘‘۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ ’’ہمت ہے تو آؤ، لانگ مارچ کرو‘‘ اور کہا کہ ہمت ہے تو دھرنا دیں۔پاکستان اس وقت ایک ایسی نازک صورتحال سے گزر رہا ہے جہاں سیاسی عدم استحکام کسی ایک جماعت، حکومت یا صوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ ایک طرف معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور کاروباری طبقے کے مسائل ہیں تو دوسری جانب دہشت گردی اور امن و امان کے سنگین چیلنجز بھی موجود ہیں۔ ایسے حالات میں ملک کو سب سے زیادہ سیاسی استحکام، سنجیدگی اور قومی سطح پر مفاہمت کی ضرورت ہے، مگر بدقسمتی سے حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت بھی اس سیاسی کشمکش کا ایک اہم فریق بن چکی ہے۔لانگ مارچ اور دھرنے اپوزیشن کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہوسکتے ہیں اور پُرامن احتجاج کا حق بھی آئینی دائرے میں موجود ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ موجودہ حالات میں سیاسی جماعتوں کی پہلی ترجیح کیا ہونی چاہیے؟ اسی طرح حکومت کی ذمہ داری بھی محض اپوزیشن کے احتجاج کو روکنا یا اسے ناکام قرار دینا نہیں۔ ’’ہمت ہے تو آؤ‘‘ اور ’’ہم ہر صورت آئیں گے‘‘ جیسے بیانات سیاسی کارکنوں کا جوش تو بڑھا سکتے ہیں لیکن ملک کو درپیش مسائل کا حل فراہم نہیں کرسکتے۔ دونوں طرف سے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی ضرورت ہے۔
واپس کریں