دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ریاست اور خیبر پختونخوا: اصل تنازعہ لانگ مارچ نہیں، قومی سلامتی ہے
No image (پشاور) رپورٹ خالد خان ۔ خیبر پختونخوا میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اسے اگر صرف تحریک انصاف کے لانگ مارچ، عمران خان کی رہائی یا وفاق اور صوبے کے سیاسی اختلاف کے تناظر میں دیکھا جائے تو اصل تصویر کا سب سے اہم حصہ نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ اس وقت بنیادی سوال یہ نہیں کہ تحریک انصاف 4 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچتی ہے یا نہیں، نہ یہ کہ لانگ مارچ کتنا بڑا ہوگا اور نہ یہ کہ وفاق اسے روکتا ہے یا راستہ دیتا ہے۔ اصل سوال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ ریاست اور خیبر پختونخوا کی حکومت کے درمیان تنازعہ اب قومی سلامتی، دہشت گردی، افغانستان، سرحدی صورتحال، پولیس کی کمان اور ریاستی پالیسی تک پہنچ چکا ہے۔ لانگ مارچ اس بڑے بحران کی ایک علامت ہے، اصل بحران نہیں۔
اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے نقطۂ آغاز کو سمجھنا اہم ہے۔ سہیل آفریدی نے 15 اکتوبر 2025 کو خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کا حلف اٹھایا۔ اس لیے ان کی حکومت کے دور میں پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال کو الگ سے دیکھنا ضروری ہے۔ اس سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ ان کے اقتدار میں آنے کے بعد صوبے میں دہشت گردی کا حجم کیا رہا، کتنے شہری اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، کتنے دہشت گرد ہلاک کیے گئے، پولیس اور سکیورٹی تنصیبات پر کتنے بڑے حملے ہوئے اور افغانستان سے جڑی ہوئی سرحدی کشیدگی کس حد تک بڑھی۔
لیکن یہاں ایک احتیاط بھی ضروری ہے۔ سہیل آفریدی کی وزارتِ اعلیٰ کا پورا عرصہ ایک مکمل شماریاتی سال نہیں ہے، اس لیے اسے سالانہ اعدادوشمار کے ساتھ براہِ راست خلط ملط کرنا درست نہیں ہوگا۔ زیادہ درست طریقہ یہ ہے کہ 15 اکتوبر 2025 سے موجودہ صورتحال کو حکومت کی مدت کے طور پر دیکھا جائے، یکم جنوری 2026 سے 24 ستمبر تک کے اعدادوشمار کو پورے موجودہ سال کی تصویر کے طور پر رکھا جائے اور 5 اگست سے شروع ہونے والے عرصے کو سیاسی بحران کے مرحلے کے طور پر الگ دیکھا جائے۔
خیبر پختونخوا کی مجموعی دہشت گردی کی صورتحال کے لیے دستیاب تازہ اعدادوشمار ریاست کے سامنے موجود مسئلے کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔ ایس اے ٹی پی کے مطابق 2026 میں 24 ستمبر تک خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے نتیجے میں 1,635 افراد شہید اور ہلاک ہوئے۔ ان میں 231 شہری، 315 سکیورٹی اہلکار اور 1,090 دہشت گرد شامل ہیں۔ اسی ماخذ کے مطابق 2025 میں صوبے میں دہشت گردی سے متعلق 2,359 شہادتیں اور ہلاکتیں ہوئیں، جن میں 268 شہری، 455 سکیورٹی اہلکار اور 1,636 دہشت گرد شامل تھے۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں بھی بڑے پیمانے پر جاری ہیں اور اسی کے ساتھ شہریوں اور ریاستی اہلکاروں کی شہادتوں کا سلسلہ بھی ختم نہیں ہوا۔
یہاں دہشت گردوں کی ہلاکتوں کا ذکر خاص طور پر ضروری ہے، کیونکہ ریاست کے خلاف یہ تاثر دینا درست نہیں ہوگا کہ سکیورٹی ادارے صرف نقصان اٹھا رہے ہیں۔ 2025 میں خیبر پختونخوا میں 1,636 دہشت گرد ہلاک کیے گئے جبکہ 2026 میں 24 ستمبر تک مزید 1,090 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فوج، ایف سی، پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی صرف دفاع نہیں کر رہے بلکہ مسلسل کارروائیاں بھی کر رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں 24 ستمبر کو ایک کارروائی کے دوران مزید آٹھ دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
یہ جنگ یک طرفہ نہیں۔ اس کے ایک طرف دہشت گرد ہیں جنہیں سکیورٹی ادارے کارروائیوں میں ہلاک کر رہے ہیں اور دوسری طرف وہ فوجی افسر اور جوان، ایف سی اہلکار، پولیس اہلکار اور شہری ہیں جو ان کارروائیوں اور دہشت گرد حملوں میں شہید ہو رہے ہیں۔ اسی لیے صرف دہشت گردوں کی ہلاکتیں گننا بھی تصویر مکمل نہیں کرتا اور صرف شہادتوں کا ذکر کرنا بھی ریاستی کارروائی کا دوسرا رخ چھپا دیتا ہے۔
ٹی ٹی پی سے متعلق الگ اعدادوشمار اس بحران کی ایک اور جہت دکھاتے ہیں۔ ایس اے ٹی پی کے مطابق خیبر پختونخوا میں ٹی ٹی پی سے متعلق ہلاکتیں 2023 میں 238، 2024 میں 257، 2025 میں 1,134 اور 24 ستمبر 2026 تک 655 رہیں۔ یہ پورے صوبے کی تمام دہشت گردی کا مجموعہ نہیں بلکہ ٹی ٹی پی سے متعلق واقعات کا الگ ڈیٹا ہے۔ اس لیے اسے مجموعی دہشت گردی کے اعداد سے الگ رکھنا ضروری ہے۔
اگر 2013 سے 2026 تک کا تاریخی پس منظر دیکھا جائے تو مسئلہ مزید واضح ہو جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے ایک طویل دور سے گزر چکا ہے۔ 2013 میں صوبے میں دہشت گردی سے متعلق 946 ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں، 2014 میں 607، 2015 میں 298، 2016 میں 215 اور 2017 میں 129۔ اس کے بعد ایک عرصے تک صورتحال میں واضح کمی آئی، لیکن 2021 کے بعد دہشت گردی دوبارہ بڑھنے لگی۔ ایس اے ٹی پی کے مطابق 2021 میں 301، 2022 میں 527، 2023 میں 941، 2024 میں 1,363 اور 2025 میں 2,359 ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں۔ 2026 میں 24 ستمبر تک یہ تعداد 1,635 تک پہنچ چکی تھی۔
یہ تاریخی تسلسل ایک اہم حقیقت سامنے لاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کا مسئلہ سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے سے شروع نہیں ہوا۔ یہ ایک پرانا اور پیچیدہ مسئلہ ہے جس کی جڑیں کم از کم گزشتہ تیرہ برس کے سکیورٹی بحران میں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہی وہ عرصہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف مسلسل اقتدار میں رہی۔ لیکن اس حقیقت کا دوسرا مطلب یہ بھی نہیں کہ موجودہ حکومت اپنے دور کے حالات سے لاتعلق ہو جائے۔ ہر منتخب حکومت اپنے دور میں امن و امان، پولیس، انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے آئینی اختیارات کے استعمال کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 15 اکتوبر 2025 سے موجودہ دور کو الگ دیکھنا ضروری ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست کا مقدمہ محض سیاسی الزام نہیں رہتا بلکہ اعدادوشمار، واقعات اور پالیسی اختلافات کا ایک سوال بن جاتا ہے۔
5 اگست 2026 کو 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان ہوا۔ اس کے بعد احتجاجی سیاست تیزی سے مرکزی سیاسی موضوع بن گئی، لیکن اسی عرصے میں خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال بھی بہتر ہونے کے بجائے مسلسل تشویش کا باعث بنی رہی۔ یوں 5 اگست ایک سیاسی موڑ ضرور تھا، مگر اس کے بعد سامنے آنے والے واقعات نے لانگ مارچ اور قومی سلامتی کے دو الگ دکھائی دینے والے معاملات کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا۔
اگست میں ملک بھر میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا۔ پی آئی سی ایس ایس کے مطابق اگست میں ملک میں 199 دہشت گرد حملے ہوئے، جو جولائی کے 144 حملوں کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ تھے۔ اسی ماہ سکیورٹی فورسز کے 54 اہلکار شہید ہوئے جبکہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں 203 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ خیبر پختونخوا میں بھی اس عرصے کے دوران حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔
ستمبر نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا۔ 18 ستمبر کو کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز میں ایک خودکش حملے اور اس کے بعد مسلح دہشت گردوں کے حملے میں 23 افراد شہید ہوئے، جن میں 17 پولیس اہلکار اور چھ شہری شامل تھے۔ سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ تقریباً 21 گھنٹے جاری رہنے والے کلیئرنس آپریشن میں پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی اور سکیورٹی فورسز نے حصہ لیا اور آٹھ دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
کوہاٹ کے شہداء کے جنازے ابھی تازہ ہی تھے کہ ہنگو میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ ہوا۔ اس واقعے میں دو افسران، کیپٹن ابوزر فاروق اور لیفٹیننٹ شیراز بابر، سمیت چھ اہلکار شہید ہوئے جبکہ جوابی کارروائی میں آٹھ دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
پھر 24 ستمبر کو پشاور کے گرھی شیر داد، ورسک روڈ میں محکمہ انسداد دہشت گردی کی ایک کارروائی کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے سی ٹی ڈی کانسٹیبل محمد آفاق شہید اور تین اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ ایک دہشت گرد ہلاک کیا گیا۔ پولیس کے مطابق کارروائی معتبر انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی تھی اور وہاں موجود دہشت گرد مبینہ طور پر خودکش حملے کی تیاری کر رہے تھے۔ شہید اہلکار کی نماز جنازہ پشاور پولیس ہیڈکوارٹرز میں ادا کی گئی۔
یہ سلسلہ یہاں بھی نہیں رکا۔ 25 ستمبر کو پشاور سول سیکرٹریٹ اور بعض دوسرے سرکاری دفاتر کو ایک سکیورٹی الرٹ کے بعد خالی کرایا گیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اس الرٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا تھا۔ ان کے بقول پورے صوبے کو چلانے والا سول سیکرٹریٹ ایک جعلی الرٹ کے ذریعے بند کر دیا گیا، جبکہ پولیس کا مؤقف تھا کہ کوہاٹ حملے کے بعد عمومی سکیورٹی خطرہ موجود تھا اور ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے الرٹ زیرِ غور آیا تھا۔ آفریدی نے یہ بھی کہا کہ اگر سول سیکرٹریٹ میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کی سکیورٹی کے ذمہ دار ہوں گے کیونکہ انہیں اسی مقصد کے لیے تنخواہیں دی جاتی ہیں۔
یہ بیان بھی وفاق اور صوبے کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلاف کی نوعیت سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ ایک طرف ریاستی ادارے مسلسل سکیورٹی الرٹس جاری کر رہے ہیں، دوسری طرف صوبائی وزیراعلیٰ ایک ایسے الرٹ کو سرعام جعلی قرار دے رہے ہیں اور اسے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش بتا رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ الرٹ درست تھا یا غلط، بلکہ یہ بھی بنتا ہے کہ حساس سکیورٹی معلومات، انٹیلی جنس اور صوبائی حکومت کے درمیان اعتماد کی سطح کہاں تک باقی رہ گئی ہے۔
اور پھر 26 ستمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان کے درازندہ میں امن میلہ چیک پوسٹ پر خودکش حملے نے اسی سلسلے کی تازہ ترین کڑی جوڑ دی۔ ابتدائی اطلاعات میں 11 شہادتوں اور 30 زخمیوں کی اطلاع دی گئی، جبکہ بعد کی مقامی رپورٹنگ میں شہداء کی تعداد 12 اور زخمیوں کی تعداد 35 سے زیادہ بتائی گئی۔ حملے کے بعد زخمیوں کو منتقل کرنے والی ایمبولینس پر بھی فائرنگ ہوئی جس میں دو ریسکیو اہلکار شہید ہوئے۔ یوں دہشت گردی کا نشانہ صرف چیک پوسٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ زخمیوں اور شہداء کو منتقل کرنے والے امدادی اہلکار بھی محفوظ نہ رہ سکے۔
18 ستمبر کے کوہاٹ، 20 ستمبر کے ہنگو، 24 ستمبر کے پشاور اور 26 ستمبر کے ڈیرہ اسماعیل خان کے واقعات کو ایک ہی مسلسل سلسلے میں رکھا جائے تو چند ہی دنوں میں پولیس، فوج، سی ٹی ڈی، شہریوں اور امدادی اہلکاروں تک خطرے کا دائرہ پھیلتا دکھائی دیتا ہے۔ اسی دوران شمالی وزیرستان میں بھی سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں، جہاں ستمبر میں متعدد کارروائیوں میں دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
یہاں ریاست کے مقدمے کا ایک بنیادی پہلو سامنے آتا ہے۔ ایک طرف پولیس لائنز پر حملہ ہوتا ہے، متعدد پولیس اہلکار شہید ہوتے ہیں اور آٹھ دہشت گرد ہلاک کیے جاتے ہیں۔ چند ہی دن بعد فوجی قافلے پر حملہ ہوتا ہے، دو افسران سمیت چھ اہلکار شہید ہوتے ہیں اور آٹھ دہشت گرد ہلاک کیے جاتے ہیں۔ پھر سی ٹی ڈی کا اہلکار شہید ہوتا ہے، خودکش حملے کی کوشش ناکام بنائی جاتی ہے، اور چند ہی دن بعد ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک چیک پوسٹ خودکش حملے کا نشانہ بنتی ہے۔ اس کے باوجود سیاسی بحث کا مرکز اگر صرف لانگ مارچ بن جائے تو قومی سلامتی کے اس بحران کا اصل حجم عوام کے سامنے نہیں آتا۔
مسئلہ صرف دہشت گرد حملوں تک بھی محدود نہیں رہا۔ افغانستان اب اس بحران کا براہ راست حصہ بن چکا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ٹی ٹی پی اور دوسرے دہشت گرد گروہوں کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے سہولت مل رہی ہے۔ ستمبر میں خیبر پختونخوا میں ہونے والے بڑے حملوں کے بعد پاکستان نے افغان سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستان نے ان کارروائیوں میں 28 سے زیادہ دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا۔
اس کے بعد سرحدی کشیدگی مزید بڑھی۔ افغانستان سے ڈرون داخل ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، کرم کے علاقے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور پاکستان کی طرف سے یہ مؤقف دہرایا گیا کہ دہشت گردی کا خطرہ افغانستان سے آ رہا ہے۔
اب یہاں وہ سوال پیدا ہوتا ہے جو موجودہ وفاقی اور صوبائی کشیدگی کو سمجھنے کے لیے سب سے اہم ہے۔ اگر وفاقی ریاست افغانستان اور ٹی ٹی پی کے خطرے کو قومی سلامتی کا مرکزی مسئلہ سمجھتی ہے تو صوبائی حکومت اس پالیسی کے بارے میں کیا مؤقف رکھتی ہے؟
یہ اختلاف اب پوشیدہ نہیں رہا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے قومی سطح کی افغانستان پالیسی اور گزشتہ برسوں کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ناکام قرار دیتے ہوئے پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ صوبائی حکومت کی طرف سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے بجائے وفاقی حکومت کی توجہ تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے پر ہے۔ 25 ستمبر کو آفریدی نے پولیس کو ہدایت کی کہ وہ غیر قانونی احکامات کی مزاحمت کرے اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر توجہ دے۔ اسی موقع پر انہوں نے مرکز کی حکومت کو ’’جعلی حکومت‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کی ترجیح دہشت گردی ختم کرنے کے بجائے تحریک انصاف کو ختم کرنا ہے۔
یعنی اختلاف صرف اس بات پر نہیں کہ دہشت گردی کو کیسے روکا جائے۔ اختلاف اس بنیادی سوال پر بھی ہے کہ دہشت گردی کی اصل نوعیت کیا ہے، اس کے ذمہ دار کون ہیں، افغانستان کے ساتھ کس نوعیت کی پالیسی اختیار کی جائے اور ریاست کو اس خطرے سے نمٹنے کے لیے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
یہاں ریاست اور صوبے کے درمیان فاصلہ کھل کر سامنے آتا ہے۔ وفاقی حکومت ایک ایسی قومی سلامتی پالیسی پر عمل کر رہی ہے جس میں افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف دباؤ، سرحدی انتظامات، انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں اور ضرورت پڑنے پر فوجی طاقت کا استعمال شامل ہے۔ دوسری طرف صوبائی حکومت اسی پالیسی کے نتائج پر سوال اٹھاتی ہے، اسے ناکام قرار دیتی ہے اور عوامی سطح پر اس کے خلاف اپنا سیاسی بیانیہ پیش کرتی ہے۔ خود سہیل آفریدی نے گزشتہ برسوں کی خارجہ پالیسی کو ناکام قرار دے کر اس میں بنیادی تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کے موقف پر سخت اعتراضات اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے معاملے پر واضح طور پر ریاستی مؤقف کے ساتھ نہیں کھڑی۔ یہ دونوں بیانات اختلاف کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں، اگرچہ دونوں فریق ایک دوسرے کے الزامات کو تسلیم نہیں کرتے۔
پولیس کے معاملے میں بھی اختلاف اب انتظامی حدود سے نکل کر سکیورٹی پالیسی کا مسئلہ بن گیا ہے۔ خیبر پختونخوا کابینہ نے پولیس ایکٹ 2026 کے مسودے کی منظوری دی ہے جس کے ذریعے پولیس کی تقرریوں، تبادلوں اور پالیسی معاملات میں صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کا کردار بڑھانے کی تجویز ہے۔ وفاقی حکومت اس پر اعتراض کر رہی ہے اور اسے پولیس کی کمان، نظم و ضبط اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں پر اثرانداز ہونے والا اقدام سمجھتی ہے، جبکہ صوبائی حکومت اسے اپنے انتظامی اختیار کا معاملہ قرار دیتی ہے۔
یہ اختلاف اس وقت ہو رہا ہے جب اسی پولیس کے اہلکار دہشت گردی کے خلاف براہِ راست جنگ لڑ رہے ہیں۔ کوہاٹ پولیس لائنز میں پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ پشاور میں سی ٹی ڈی کا اہلکار محمد آفاق شہید ہوا اور اس کے ساتھی زخمی ہوئے۔ ایف سی اور فوج کے جوان سرحد اور قبائلی اضلاع میں دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہنگو میں دو افسران سمیت چھ اہلکار شہید ہوئے اور اسی کارروائی میں آٹھ دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
اس لیے پولیس کی کمان کا سوال محض یہ نہیں کہ وزیراعلیٰ کو زیادہ اختیار ملے یا آئی جی کو۔ اصل سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کے عروج کے زمانے میں پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری، کمانڈ، آپریشنل صلاحیت اور سیاسی حکومت کے درمیان توازن کیا ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس ایکٹ کا تنازع بھی قومی سلامتی کے بڑے تنازعے سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔
وفاقی سطح پر صوبائی حکومت کے طرزِ عمل پر ایک اور اعتراض بھی سامنے آیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ اور صوبائی وزرا دہشت گردی میں شہید ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے جنازوں میں باقاعدگی سے شریک نہیں ہوتے۔ وفاق کی طرف سے یہ اعتراض جس انداز میں اٹھایا گیا، وہ بھی دونوں حکومتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کے بحران کا حصہ بن چکا ہے۔
اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ 2013 سے 2026 تک صوبہ بار بار دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا ہے۔ 2021 کے بعد صورتحال دوبارہ خراب ہوئی اور 2023، 2024 اور خصوصاً 2025 اور 2026 میں ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
لیکن ریاست کا موجودہ اعتراض اس تاریخی حقیقت سے مختلف ہے۔ ریاست کا سوال یہ ہے کہ موجودہ حالات میں صوبائی حکومت قومی سلامتی کی وفاقی پالیسی کے ساتھ کتنی ہم آہنگ ہے۔ اگر صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کر رہی ہے تو اختلاف کی نوعیت کیا ہے؟ اور اگر افغانستان، ٹی ٹی پی، سرحدی کارروائیوں اور پولیس کی کمان کے معاملات میں صوبائی حکومت وفاقی پالیسی سے بنیادی اختلاف رکھتی ہے تو اس اختلاف کی عملی حدود کیا ہیں؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ وفاق اور صوبہ دونوں ایک ہی ریاستی نظام کے حصے ہیں۔ وفاق کے پاس قومی سلامتی، دفاع اور خارجہ پالیسی کی ذمہ داری ہے جبکہ صوبائی حکومت کے پاس پولیس، انتظامیہ اور صوبے کے اندر امن و امان کی بڑی ذمہ داریاں ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں کی ذمہ داریاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ اگر پالیسی الگ الگ سمتوں میں چلے تو سب سے زیادہ نقصان اسی صوبے کو ہوگا جہاں دہشت گردی کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں 5 اگست کے بعد کا سیاسی بحران 15 اکتوبر 2025 سے جاری حکومتی دور کے سکیورٹی سوال سے جڑ جاتا ہے۔
27 ستمبر کا لانگ مارچ اب 4 اکتوبر تک مؤخر ہو چکا ہے۔ اس لیے 27 ستمبر اب ایک تاریخی حوالہ ہے جبکہ 4 اکتوبر موجودہ سیاسی شیڈول۔ لیکن تاریخ تبدیل ہونے سے ریاست اور صوبے کے درمیان قومی سلامتی کا اختلاف ختم نہیں ہوا۔ اگر لانگ مارچ نہ بھی ہو، اگر تحریک انصاف اور وفاق مذاکرات پر بیٹھ بھی جائیں اور اگر احتجاج کسی اور تاریخ تک چلا بھی جائے، تب بھی افغانستان، دہشت گردی، پولیس کی کمان اور قومی سلامتی کی پالیسی کے بنیادی سوال اپنی جگہ موجود رہیں گے۔ خود سہیل آفریدی نے 26 ستمبر کو وفاق کے ساتھ مذاکرات کی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کسی ’’مہم جوئی‘‘ کے سنگین نتائج سے خبردار کیا، یعنی سیاسی دروازہ مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے مذاکرات اور تصادم دونوں کے امکانات ایک ساتھ زیرِ بحث رہے۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ بحران کو صرف ’’لانگ مارچ روکنے‘‘ یا ’’عمران خان کو رہا کرنے‘‘ کے مسئلے کے طور پر دیکھنا حقیقت کو چھوٹا کر دینا ہوگا۔ ریاست کی اصل تشویش یہ ہے کہ ایک ایسے صوبے میں جہاں 2026 میں 24 ستمبر تک 315 سکیورٹی اہلکار اور 231 شہری شہید ہو چکے ہیں، جہاں 1,090 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جہاں ستمبر میں کوہاٹ میں 23 افراد شہید ہوئے اور آٹھ دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جہاں ہنگو میں دو افسران سمیت چھ اہلکار شہید اور آٹھ دہشت گرد ہلاک ہوئے، جہاں پشاور میں سی ٹی ڈی اہلکار شہید ہوا اور پھر ڈیرہ اسماعیل خان میں امن میلہ چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں 12 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے، وہاں صوبائی اور وفاقی حکومت قومی سلامتی کے بنیادی تصور پر کہاں کھڑی ہیں۔
ریاست کا اعتراض یہی ہے کہ اسے صرف سیاسی اختلاف نہیں بلکہ پالیسی کا اختلاف درپیش ہے۔ وفاق سمجھتا ہے کہ افغانستان سے دہشت گردی کا خطرہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے اور اس کے خلاف سخت ریاستی کارروائی ضروری ہے۔ صوبائی حکومت اس پالیسی کے بعض بنیادی پہلوؤں کو کھلے عام چیلنج کرتی ہے۔ وفاق پولیس کی کمان اور صوبائی پولیس ایکٹ پر اعتراض کرتا ہے۔ صوبائی حکومت وفاقی اقدامات کو سیاسی مقاصد سے جوڑتی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات صوبائی حکومت کے بیانات اور طرزِ عمل کو ریاستی پالیسی سے متصادم قرار دیتے ہیں، جبکہ صوبائی وزیراعلیٰ وفاقی حکومت کو دہشت گردی کے بجائے تحریک انصاف کے خلاف کارروائی پر توجہ دینے کا الزام دیتے ہیں۔ دونوں طرف اعتماد کا بحران بڑھتا جا رہا ہے۔
ریاست درست ہے یا غلط، اس کا فیصلہ یہ مضمون نہیں کر رہا۔ سوال صرف یہ ہے کہ ریاست کا اعتراض کیا ہے اور اس کے پیچھے کیا اعدادوشمار اور واقعات موجود ہیں۔
اعدادوشمار کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی دوبارہ ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ واقعات کہتے ہیں کہ پولیس، فوج اور ایف سی کے اہلکار مسلسل شہید ہو رہے ہیں۔ کارروائیاں بتاتی ہیں کہ ریاستی ادارے دہشت گردوں کو مسلسل ہلاک بھی کر رہے ہیں۔ افغانستان کے واقعات بتاتے ہیں کہ مسئلہ صوبے کی حدود سے نکل کر بین الاقوامی سرحد تک پہنچ چکا ہے۔ اور سیاسی بیانات بتاتے ہیں کہ وفاق اور صوبہ اس بحران کی نوعیت اور اس سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔
اب اصل سوال لانگ مارچ نہیں ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسے وقت میں جب خیبر پختونخوا دہشت گردی، سرحدی کشیدگی اور مسلسل شہادتوں کا سامنا کر رہا ہے، وفاق اور صوبہ قومی سلامتی کی ایک مشترکہ پالیسی پر کھڑے ہو سکتے ہیں؟
اگر ہاں، تو سیاسی اختلاف اپنی جگہ رہتے ہوئے بھی ریاستی نظام چل سکتا ہے۔ اگر نہیں، تو پھر 4 اکتوبر کا لانگ مارچ اس بحران کا اصل موضوع نہیں بلکہ صرف اس بحران کی ایک علامت ہوگا۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست کا صبر، صوبائی حکومت کا سیاسی مینڈیٹ اور خیبر پختونخوا کے عوام کی سلامتی ایک ہی سوال میں تبدیل ہوجاتی ہے: حکومت کس کی ہے، اختیار کس کا ہے، مگر جب خون بہتا ہے تو ذمہ داری کس کی ہے؟
ریاست کے پاس شاید آخری جواب بامرِ مجبوری یہی رہ جاتا ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق صوبائی حکومت کا خاتمہ کرے۔ بعض آئینی ماہرین کے مطابق گورنر راج سے بہتر دستیاب قانونی سہولت ایمرجنسی کے قیام کی ہے۔
واپس کریں