دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
لانگ مارچ کا چندہ ڈکار لیے بغیر ہضم ۔ خالد خان
No image تحریک انصاف کی سیاست میں انقلاب کی تاریخیں بدلنا کوئی نئی بات نہیں، مگر اس مرتبہ معاملہ صرف ایک تاریخ بدلنے کا نہیں۔ اصل سوال اس اعتماد کا ہے جو ملک کے اندر اور بیرون ملک بیٹھے تحریک انصاف کے کارکنوں اور حامیوں نے سہیل آفریدی پر کیا تھا اور اسے بھاری بھرکم چندہ دیا تھا۔ یہ چندہ وعدے کے ساتھ اس مقصد کے لیے جمع کیا گیا تھا کہ لانگ مارچ پر خرچ کیا جائے گا جسکے نتیجے میں خان کو رہا کیا جائے گا۔ اس وعدے پر اور خان کی رہائی کے نام پر لوگوں نے اپنی جیبیں خالی کیں۔ 27 ستمبر کو اسلام آباد جانے والا لانگ مارچ عمران خان کی رہائی کے لیے آخری اور فیصلہ کن کال کے طور پر پیش کیا گیا۔ کارکنوں کو تیار کیا گیا، ملک بھر میں سرگرمیاں شروع ہوئیں، بیرون ملک بیٹھے حامیوں سے بھی مالی تعاون کی اپیلیں ہوئیں اور چندہ مہم چلائی گئی۔ پھر اچانک وہی لانگ مارچ 27 ستمبر سے 4 اکتوبر پر منتقل ہوگیا۔
اب سوال یہ نہیں کہ مارچ ایک ہفتے کے لیے کیوں مؤخر ہوا۔ سوال یہ ہے کہ اس ایک ہفتے میں چندہ دینے والوں کو کیا جواب دیا جائے گا؟
یہ سوال کسی مخالف جماعت نے نہیں اٹھایا ہے بلکہ خود تحریک انصاف کے حلقوں میں فنڈ ریزنگ کے معاملے پر سوالات پہلے بھی اٹھتے رہے ہیں۔ موجودہ لانگ مارچ کے حوالے سے بھی فنڈ ریزنگ کی مہم چلنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایک ایسی ویب سائٹ بھی سامنے آئی جس نے خود کو لانگ مارچ کی چندہ مہم کا پلیٹ فارم ظاہر کیا اور بیرون ملک سے ڈالرز میں عطیات کی تفصیلات بھی دکھائیں۔ دوسری طرف آج وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ تحریک انصاف نے مارچ کو چندہ جمع کرنے کے لیے مؤخر کیا اور یہ امکان ظاہر کیا کہ چندہ جمع کرکے مارچ دوبارہ بھی ملتوی کیا جاسکتا ہے۔ مگر قابلِ غور بات یہ ہے کہ چندے کا سوال اب حکومت کے الزام تک محدود نہیں رہا؛ پارٹی کے اپنے کارکن بھی اس پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
یہاں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔
اگر ایک سیاسی جماعت اپنے کارکنوں سے کہتی ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے فیصلہ کن معرکہ آنے والا ہے، اگر بیرون ملک بیٹھا ہوا ایک پاکستانی اپنے گھر کے اخراجات میں سے پیسے نکال کر اس مقصد کے لیے بھیجتا ہے، اگر کسی نوجوان کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ اس کا چندہ اسی احتجاج، اسی مارچ اور اسی مقصد پر خرچ ہوگا، تو چندہ دینے والے کو یہ پوچھنے کا پورا حق ہے کہ رقم کتنی جمع ہوئی، کس اکاؤنٹ میں جمع ہوئی، کس کے اختیار میں رہی، کہاں خرچ ہوئی، کس مد میں خرچ ہوئی اور مارچ مؤخر ہونے کے بعد باقی رقم کہاں ہے۔
یہ کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں۔ دنیا بھر میں چندہ لینے والی تنظیموں سے مالی شفافیت کا بنیادی اصول یہی ہے کہ عطیہ دینے والے کو معلوم ہو کہ اس کی رقم کس مقصد کے لیے استعمال ہوئی۔ سیاسی جماعت کے معاملے میں یہ سوال مزید اہم ہوجاتا ہے، کیونکہ یہاں چندہ کسی کاروباری منافع کے لیے نہیں بلکہ ایک سیاسی مقصد کے نام پر لیا جاتا ہے۔
اور یہاں تحریک انصاف کی اپنی تاریخ بھی سامنے آتی ہے۔
تحریک انصاف کے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 2022 میں دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر ممنوعہ فنڈنگ سے متعلق کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کی متعلقہ درخواست خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دی، جبکہ ممنوعہ فنڈنگ کی ضبطی سے متعلق کارروائی الیکشن کمیشن میں زیرِ التوا رہی۔ الیکشن کمیشن کے اپنے ریکارڈ میں بیرون ملک سے آنے والی رقوم اور سیاسی جماعتوں کے لیے فنڈز کے ذرائع کی تفصیلات رکھنے کی قانونی اہمیت بھی واضح کی گئی ہے۔
اس پس منظر میں اگر آج تحریک انصاف کا کوئی کارکن بیرون ملک بیٹھ کر پوچھتا ہے کہ "ہم نے لانگ مارچ کے لیے پیسے دیے تھے، اب حساب کہاں ہے؟" تو اس سوال کو محض مخالفانہ پروپیگنڈا کہہ کر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اسے جواب چاہیے، اور جواب نعروں سے نہیں، حساب سے ملے گا۔
یہاں ایک اور دلچسپ پہلو ہے۔ عمران خان کے نام سے پاکستان میں سب سے بڑے عوامی چندہ نظاموں کے ذریعے شوکت خانم اور نمل جیسے ادارے قائم ہوئے۔ ان اداروں کے لیے پاکستانیوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے برسوں چندہ دیا۔ ان عطیات کا بنیادی تصور ہی یہ تھا کہ لوگوں کے اعتماد کو ادارہ جاتی نظام، حساب کتاب اور مخصوص مقصد کے ساتھ جوڑا جائے۔ 2025 میں راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ایک مقدمے کے دوران شوکت خانم میموریل ٹرسٹ اور نمل یونیورسٹی کے بینک اکاؤنٹس کھولنے کا حکم دیا تھا، جبکہ استغاثہ نے عدالت میں واضح کیا کہ ان اداروں کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کی کوئی درخواست نہیں کی گئی تھی اور یہ معاملہ غلطی سے پیدا ہوا تھا۔ عدالت نے دونوں اداروں کے اکاؤنٹس بحال کرنے کی ہدایت کی۔
یہ واقعہ خود کوئی الزام ثابت نہیں کرتا، لیکن ایک بنیادی اصول ضرور یاد دلاتا ہے: چندہ اعتماد ہے اور اعتماد کا سب سے بڑا محافظ حساب ہے۔
پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شوکت خانم کے لیے ایک عام پاکستانی کا دیا ہوا چندہ اپنی جگہ مقدس سمجھا جاتا ہے، اگر نمل کے لیے بیرون ملک پاکستانی کا دیا ہوا ڈالر ایک ذمہ داری ہے، تو تحریک انصاف کے سیاسی کارکن کا دیا ہوا چندہ حساب سے بالاتر کیسے ہوسکتا ہے؟
یہاں سہیل آفریدی کا کردار زیرِ بحث آنا بھی ناگزیر ہے، کیونکہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تاریخ کے اعلان سے لے کر اس کی تیاری اور پھر اس کے التوا تک وہ تحریک کے نمایاں چہرے رہے۔ اگست میں انہوں نے 27 ستمبر کی تاریخ کو "حتمی اور ناقابلِ گفت و شنید" قرار دیا تھا اور کارکنوں سے کہا تھا کہ وہ مارچ کی تیاری کریں۔ اس کے بعد 25 اور 26 ستمبر کو مارچ کو 4 اکتوبر تک مؤخر کرنے کا فیصلہ سامنے آگیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف نے مؤخر کرنے کی وجہ سیاسی کمیٹی کا متفقہ فیصلہ قرار دی، جبکہ پارٹی کے بعض اندرونی ذرائع نے تیاری کی کمی، ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور رکاوٹیں ہٹانے کے لیے مطلوبہ مشینری نہ ہونے جیسے عوامل کا ذکر کیا۔
اب اگر مارچ کی تیاری کے نام پر چندہ بھی جمع ہوا تھا تو ایک سیدھا سا سوال ہے: کیا اس چندے کا حساب بھی 4 اکتوبر تک ملتوی ہوگیا ہے؟
اگر رقم پوری طرح خرچ ہوچکی ہے تو تفصیل سامنے لائی جائے۔ اگر کچھ رقم باقی ہے تو بتایا جائے کہ کہاں ہے۔ اگر مارچ کی نئی تاریخ پر وہی رقم استعمال ہونی ہے تو یہ بھی بتایا جائے۔ اگر اخراجات میں کنٹینرز، گاڑیاں، تشہیر، جلسوں، کارکنوں کی آمدورفت، کھانے پینے یا دوسرے انتظامات شامل تھے تو ان کی مدات بھی سامنے آسکتی ہیں۔ اور اگر بیرون ملک سے کوئی رقم مخصوص اکاؤنٹس میں آئی تو اس کا مکمل حساب بھی دیا جاسکتا ہے۔
یہ مطالبہ کسی سیاسی دشمنی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اسی سیاسی کارکن کے حق میں ہے جسے ہر جلسے میں "اصل طاقت" کہا جاتا ہے۔
حیرت تو اس وقت ہوتی ہے جب سیاسی جماعتیں کارکن سے قربانی مانگتے ہوئے اسے سب سے زیادہ وفادار قرار دیتی ہیں، مگر حساب مانگنے پر اسے مخالف، سازشی یا پارٹی دشمن سمجھنے لگتی ہیں۔ اگر کارکن نے پارٹی کے کہنے پر چندہ دیا ہے تو وہ رسید بھی مانگ سکتا ہے اور حساب بھی۔ اس کے پیسے کا مقصد بدل گیا ہے تو اسے بتایا جائے۔ تاریخ بدل گئی ہے تو اسے بتایا جائے۔ حکمتِ عملی بدل گئی ہے تو اسے بتایا جائے۔ اور اگر چندہ کسی دوسرے مقصد پر خرچ ہوا ہے تو وہ مقصد بھی بتایا جائے۔
تحریک انصاف کی قیادت کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ آج کا کارکن پہلے والا کارکن نہیں رہا۔ بیرون ملک بیٹھا پاکستانی چندہ دیتے وقت صرف جذبات سے فیصلہ نہیں کرتا۔ وہ سوشل میڈیا دیکھتا ہے، تقاریر سنتا ہے، وعدے نوٹ کرتا ہے اور پھر پوچھتا ہے کہ جو بات کہی گئی تھی وہ پوری کیوں نہیں ہوئی۔ آج پارٹی کے اپنے متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کارکنوں کے سخت اور طنزیہ تبصرے اسی بڑھتی ہوئی بے چینی کی علامت ہیں۔ یہ تبصرے کسی عدالت کا فیصلہ نہیں، مگر سیاسی جماعت کے لیے ایک سنجیدہ اشارہ ضرور ہیں۔
اور پھر ایک عجیب تضاد بھی سامنے آتا ہے۔
ایک طرف سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو غیر متزلزل تاریخ قرار دیا تھا، کارکنوں کو بڑے پیمانے پر اسلام آباد پہنچنے کے لیے تیار کیا گیا، "آخری کال" کا ماحول بنایا گیا اور پورے ملک میں سیاسی سرگرمی چلائی گئی۔ دوسری طرف عین مارچ سے ایک دن پہلے تاریخ تبدیل ہوگئی۔ اگر اتنا بڑا فیصلہ چند گھنٹوں میں تبدیل ہوسکتا ہے تو پھر سوال یہ بھی بنتا ہے کہ جو مالی مہم اسی فیصلے کے گرد چلائی گئی تھی، اس کا حساب کس اصول کے تحت ہوگا؟
اور یہی وہ مقام ہے جہاں "انقلاب" کا لفظ بھی اپنی پوری معنویت کھو دیتا ہے۔
انقلاب صرف کنٹینر کھڑے کرنے، موٹر وے بند کرانے، کارکنوں کو سڑکوں پر لانے اور تقریروں میں بڑے دعوے کرنے کا نام نہیں۔ انقلاب کا پہلا امتحان اپنے ہی کارکن کے سامنے ہوتا ہے۔ جو جماعت اقتدار، ریاست، عدالت، اداروں اور حکومت سے شفافیت کا مطالبہ کرتی ہے، اسے اپنے کارکن کے چندے میں بھی شفاف ہونا پڑتا ہے۔ جو دوسروں سے احتساب مانگتی ہے، اسے اپنے مالی معاملات میں بھی احتساب قبول کرنا پڑتا ہے۔
تحریک انصاف نے برسوں یہ مقدمہ پیش کیا کہ اس کی سیاست روایتی سیاسی جماعتوں سے مختلف ہے۔ اگر واقعی فرق ہے تو اس فرق کا سب سے آسان ثبوت یہی ہے کہ لانگ مارچ کے چندے کا حساب عوام کے سامنے رکھ دیا جائے۔ کتنی رقم آئی؟ کہاں سے آئی؟ کتنی پاکستان سے آئی؟ کتنی بیرون ملک سے؟ کس اکاؤنٹ میں آئی؟ کس نے وصول کی؟ کتنی خرچ ہوئی؟ کس نے منظوری دی؟ باقی کتنی ہے؟ اور مارچ مؤخر ہونے کے بعد اس رقم کا کیا ہوگا؟
یہ سوال صرف سہیل آفریدی سے نہیں، تحریک انصاف کی پوری قیادت سے ہے۔
اور اگر حساب صاف ہے تو پھر پریشانی کی کوئی وجہ نہیں۔ حساب سامنے آئے گا اور شور ختم ہوجائے گا۔ لیکن اگر حساب سامنے لانے کے بجائے کارکنوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی گئی، تو پھر شک مزید بڑھے گا۔ سیاسی جماعتیں مخالفین کے سوالوں سے نہیں، اپنے لوگوں کے سوالوں سے زیادہ محتاط رہتی ہیں، کیونکہ اپنے آدمی کا سوال اندر کی کیفیت بتاتا ہے۔
آج مسئلہ یہ نہیں کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ 4 اکتوبر کو ہوگا یا نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ 27 ستمبر کے نام پر جو اعتماد، جوش اور چندہ اکٹھا کیا گیا تھا، اس کا حساب کون دے گا؟
لانگ مارچ مؤخر ہوگیا، انقلاب کی نئی تاریخ آگئی، کارکنوں کو ایک اور ہفتے کا انتظار مل گیا۔ مگر بیرون ملک بیٹھا وہ پاکستانی جس نے عمران خان کی رہائی کی امید میں اپنی جیب سے چندہ دیا تھا، اس کا سوال ابھی مؤخر نہیں ہوا۔
وہ پوچھ رہا ہے:
میرا چندہ کہاں گیا؟
اور اس سوال کا جواب کسی تقریر، کسی نعرے، کسی کنٹینر یا کسی نئے مارچ کی تاریخ سے نہیں ملے گا۔
جواب صرف حساب سے ملے گا۔
واپس کریں