
صوبہ کے پی کے میں ایمرجنسی لگائیں یا گورنر راج، پوری پی ٹی آئی کو کلعدم قرار دیں یا سب لیڈران کو جیلوں میں ڈالیں،آمدہ الیکشن میں نتایج دو ہزار چوبیس سے بھی زیادہ حیران کن نکلیں گے ۔ پی ٹی آئی کی مقبولیت کا مقابلہ صرف اور صرف کارکردگی سے ہی ہو سکتا ہے۔ مہنگائی، نا اَِنصافی، بے روزگاری،بدحال معیشت اور تعلیم یافتہ نوجوانوں میں مایوسی، پی ٹی آئی کی "سپورٹ" ہے اورحکمران اشرافیہ کا پروٹوکول اور شاہانہ اندازِ حکمرانی عوام میں نفرت پیدا ہونے کی اَصل وجہ ہے۔ یہ کھلی حقیقت حکمران اتحاد کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
حکومت اور مقتدرہ کے ترجمان سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایمرجنسی، گورنر راج یا سیاسی جماعتوں پر پابندی کے تجربات متنوع رہے ہیں۔ کئی مواقع پر ایسے اقدامات عارضی طور پر سیاسی میدان تبدیل کرتے دکھائی دیے مگر طویل مدتی طور پر مقبولیت کو دبانے کے بجائے اکثر اس میں اضافہ ہوا۔ 2024 کے عام انتخابات میں خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی سے وابستہ امیدواروں نے قومی اور صوبائی اسمبلییوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی اور اس حیران کر دینے والے الیکشن نتیجے کے پیچھے عوامی ووٹ، تنظیمی ڈھانچہ اور مخصوص سیاسی بیانیہ شامل تھے۔
اگر فرض کیا جائے کہ سخت حکومتی اور انتظامی اقدامات سے سیاسی میدان خالی کر دیا جائے تو قلیل مدتی انتخابی نتائج متاثر ہو سکتے ہیں تاہم، جمہوری نظام میں مقبولیت صرف رہنماؤں کی موجودگی یا پارٹی کے سرکاری وجود پر منحصر نہیں ۔ عوامی رائے، معاشی حالات، گورنس، عدالتی انصاف اور امن و امان جیسے عوامل فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں جبکہ ریاستی دباؤ کے تحت نتائج اکثر الٹے ثابت ہوتے ہیں جیسا کہ ہم سب سے دو ہزار چوبیس کے الیکشن میں دیکھا۔
ناچیز خاکسار پہلے بھی مسلسل عرض کرتا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت کا مقابلہ صرف بہترین کارکردگی سے ہی ہو سکتا ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت کی مقبولیت، کامیابی عوامی خدمت، ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف پر منحصر ہوتی ہے۔
دوسری جانب صرف حکومتی و ریاستی پابندیوں، گرفتاریوں یا انتظامی کنٹرول پر انحصار سیاسی خلا نقصان دہ ثابت ہوتا رہا ہے۔ جمہوریت میں سیاسی مقابلہ پالیسیوں اور کارکردگی پر ہونا چاہیے نہ کہ ریاستی طاقت کے یکطرفہ استعمال پر۔
ملک کے فیصلہ سازوں کو صوبہ خیبر پختونخواہ جیسے حساس صوبے میں جہاں سیکیورٹی چیلنجز، ترقیاتی ضروریات اور عوامی توقعات زیادہ ہیں،وہاں کے حوالے سے اہم فیصلے لیتے احتیاط کا دامن کسی طور نہیں چھوڑنا چاہیے۔
ایمرجنسی، گورنر راج یا پی ٹی آئی پر پابندی جیسے اقدامات آئینی حدود، عدالتی نگرانی اور سیاسی نتائج کے پیچیدہ حساب کتاب سے مشروط ہیں۔ وہ قلیل مدتی سیاسی فوائد دے سکتے ہیں مگر جمہوری نظام، عوامی اعتماد اور طویل مدتی استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ 2024 کے نتائج نے پہلے ہی ظاہر کیا کہ مقبولیت کو محض انتظامی ذرائع سے ختم کرنا آسان نہیں۔
دوبارہ عرض کروں گا کہ حقیقی سیاسی مقابلہ کارکردگی، شفافیت اور عوامی خدمت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جو بھی پارٹی یا حکومت عوام کی زندگی بہتر بنانے، مسائل حل کرنے اور اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہوگی، وہی مستقبل کے انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔
سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات، آئینی عمل اور جمہوری مقابلے میں ہے، نہ کہ انتہائی انتظامی اقدامات میں۔
واپس کریں