دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
صوبائی حکومت کا خاتمہ: سہیل آفریدی کی چہل قدمی سے جیل تک لانگ مارچ؟
No image (پشاور) رپورٹ خالد خان ۔ پاکستان کی سیاست میں بعض اوقات ایک واقعہ بظاہر معمولی دکھائی دیتا ہے لیکن اس کے پیچھے چلنے والی بڑی سیاسی اور ریاستی کشمکش کو سمجھنے کے لیے وہی واقعہ ایک علامت بن جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا پشاور کے سول سیکریٹریٹ میں سکیورٹی خطرے کے اعلان کے بعد پہنچنا، وہاں چہل قدمی کرنا، مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنا اور پھر یہ کہنا کہ کوئی خطرہ نہیں تھا، یہ صرف خوف و ہراس پھیلانے کے لیے من گھڑت تھریٹ الرٹ تھا، ایسا ہی ایک واقعہ ہے۔ اس واقعے کو محض ایک سیاسی بیان یا حکومت اور اپوزیشن کے معمول کے اختلاف کے طور پر دیکھنا شاید اس کے وسیع تر پس منظر کو نظرانداز کرنا ہوگا، کیونکہ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہوا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی دوبارہ مسلح تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہے، خیبر پختونخوا مسلسل دہشت گردی کی زد میں ہے، وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی اعتماد تقریباً ختم ہوچکا ہے اور پاکستان تحریک انصاف اسلام آباد کی طرف ایک لانگ مارچ کو ڈرامائی انداز میں 4 اکتوبر تک مؤخر کر چکی ہے۔
25 ستمبر کو سکیورٹی خدشات کے باعث سول سیکریٹریٹ خالی کرایا گیا اور وہاں موجود مسجد کے بارے میں بھی سکیورٹی خطرے کی اطلاع دی گئی۔ سہیل آفریدی وہاں پہنچے، نماز ادا کی اور سیکریٹریٹ میں چہل قدمی کرتے ہوئے سکیورٹی خطرے کو مسترد کیا۔ بعد میں انہوں نے اسے جعلی خطرات کے ذریعے پورا صوبائی نظام بند کرنے کے مترادف قرار دیا۔ ان کا مؤقف یہ تھا کہ اگر سول سیکریٹریٹ ایسے علاقے میں واقع ہے جو سکیورٹی اداروں کے کنٹرول میں ہے تو پھر وہاں خطرے کا جواز سمجھ میں نہیں آتا۔
یہاں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وزیراعلیٰ نے مسجد میں نماز پڑھی یا سیکریٹریٹ میں چہل قدمی کی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ریاستی سکیورٹی اداروں کے کسی خطرے کے اندازے کو ایک صوبائی چیف ایگزیکٹو نے عوامی سطح پر مسترد کردیا۔ اگر خطرہ واقعی موجود تھا تو یہ سکیورٹی اداروں کے تجزیے کو سیاسی طور پر چیلنج کرنے کا معاملہ بنتا ہے اور اگر خطرہ واقعی بے بنیاد تھا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک پورا سول سیکریٹریٹ کس بنیاد پر خالی کرایا گیا اور شہریوں کو خوف میں مبتلا کرنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ دونوں صورتوں میں معاملہ معمولی نہیں رہتا۔
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان اس وقت افغانستان کے ساتھ معمول کی سفارتی کشیدگی میں نہیں بلکہ ایک خطرناک عسکری مرحلے سے گزر رہا ہے۔ 21 ستمبر کو پاکستان نے افغانستان میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائی کی اور 28 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ 24 ستمبر کو پاکستان نے افغانستان کے اندر دس مقامات پر مزید فضائی کارروائیوں کا اعلان کیا، جنہیں پاکستانی حکام نے ڈرونز کے ذخیرہ اور لانچ کرنے کے مراکز اور دہشت گردوں کے معاون ڈھانچے قرار دیا۔ افغانستان نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔
اس کے فوراً بعد پاک افغان سرحد پر براہ راست لڑائی بھی ہوئی۔ گلستان کے علاقے میں پاکستانی اور افغان طالبان فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پاکستان نے کم از کم 13 افغان طالبان اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔ یوں موجودہ صورتحال میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلاف محض بیانات اور سفارتی احتجاج تک محدود نہیں رہا بلکہ فضائی حملوں اور سرحدی جھڑپوں تک پہنچ چکا ہے۔
پاکستان کا بنیادی الزام یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور اس سے وابستہ مسلح عناصر افغانستان میں موجود رہ کر پاکستان کے اندر حملے کرتے ہیں اور کابل ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کرتا۔ پاکستان کی قومی سلامتی کی پالیسی اور موجودہ عسکری کارروائیوں کو سمجھنے کے لیے یہی تنازع مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ صورت حال میں اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کے لیے افغانستان، ٹی ٹی پی اور سرحد پار دہشت گردی کا مسئلہ قومی سلامتی کا بنیادی معاملہ بن چکا ہے۔
یہاں سے سہیل آفریدی کے سیاسی کردار کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ اصل سوال دہشت گردی سے نمٹنے کی ریاستی پالیسی سے اختلاف کا ہے۔ سہیل آفریدی نے افغانستان اور دہشت گردی کے بارے میں ایسی پالیسی پر سوالات اٹھائے ہیں جسے وفاق اور سکیورٹی ادارے قومی سلامتی کے تقاضوں سے جوڑتے ہیں۔ انہوں نے 20 ستمبر کو گزشتہ دو دہائیوں کی خارجہ پالیسی کو موجودہ بحران کا سبب قرار دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا۔ دوسری طرف 25 ستمبر کو انہوں نے پولیس کو غیر قانونی احکامات کی مزاحمت کرنے کی ہدایت دی اور یہ الزام عائد کیا کہ مرکز کی ترجیح دہشت گردی ختم کرنے کے بجائے پی ٹی آئی کو ختم کرنا بن چکی ہے۔
یہاں ایک اہم آئینی فرق کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان میں مسلح افواج وفاقی حکومت کے آئینی کنٹرول میں ہیں اور فوج اپنے سرکاری مؤقف کے مطابق ایک ادارے کی حیثیت سے قانون اور آئین کی پابند ہے۔ قومی سلامتی اور عسکری معاملات میں فوجی اداروں کی طرف سے حکومت کو ادارہ جاتی رائے اور سکیورٹی تجزیہ اور رائے دینا اپنی جگہ، جبکہ آئینی اور سیاسی فیصلہ سازی کی ذمہ داری وفاقی حکومت کی ہوتی ہے۔ اصل تنازع وفاقی ریاست کی قومی سلامتی کی پالیسی اور صوبائی حکومت کے اس پالیسی کے بارے میں سیاسی مؤقف کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔
اس فاصلے کو سمجھنے کے لیے عمران خان کے دور حکومت میں ٹی ٹی پی کے ساتھ اختیار کی گئی پالیسی کو بھی پس منظر میں رکھنا ہوگا۔ 2021 کے بعد ٹی ٹی پی کے بعض گروہوں کے ساتھ مذاکرات، جنگ بندی اور افغانستان سے واپس آنے والے مسلح افراد اور ان کے خاندانوں کی آبادکاری کا منصوبہ سامنے آیا۔ خود عمران خان نے بعد میں بتایا کہ افغانستان سے واپس آنے والے افراد کی تعداد تیس سے چالیس ہزار تک ہوسکتی تھی، جن میں جنگجو اور ان کے خاندان شامل تھے، جبکہ ایک موقع پر تقریباً پانچ ہزار جنگجوؤں کا ذکر بھی کیا گیا۔ بعد ازاں اس پالیسی پر پاکستان میں شدید سیاسی اور سکیورٹی بحث ہوئی۔
اصل اہمیت عدد سے زیادہ اس پالیسی کی ہے کہ پاکستان نے ایک مرحلے پر ٹی ٹی پی کے بعض عناصر کے ساتھ مفاہمت، واپسی اور آبادکاری کو مسئلے کے حل کا حصہ سمجھا تھا۔ بعد کے برسوں میں دہشت گردی میں اضافے اور افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی نے اسی پالیسی کو شدید تنقید کا موضوع بنا دیا۔
آج کی صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے اصل سوال یہ نہیں کہ ماضی میں کس نے کیا کیا تھا، بلکہ یہ ہے کہ آج ریاست کی پالیسی کیا ہے اور موجودہ صوبائی حکومت اس پالیسی کے ساتھ کہاں کھڑی ہے۔
یہ فرق اس وقت مزید نمایاں ہوجاتا ہے جب خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مسلسل واقعات اور افغانستان کے ساتھ موجودہ عسکری کشیدگی کو سامنے رکھا جائے۔ ریاستی نقطۂ نظر سے افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی اور سرحد پار دہشت گردی اب ایک فوری قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ دوسری طرف سہیل آفریدی کا سیاسی بیانیہ بار بار اس سوال کو اٹھاتا ہے کہ دہشت گردی کے نام پر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہی اختلاف اگر سیاسی بحث تک محدود رہے تو یہ جمہوری اختلاف ہے، لیکن جب اس کے ساتھ پولیس، سکیورٹی تجزیہ، ترجیحات، حکمت عملی، حساس مقامات، سرحدی صورتحال اور وفاقی احکامات کا معاملہ جڑ جائے تو تنازع کی نوعیت تبدیل ہوجاتی ہے۔
25 ستمبر کا پولیس سے متعلق بیان اسی لیے اہم ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ پولیس کو کسی غیر قانونی حکم پر عمل نہیں کرنا چاہیے، حتیٰ کہ اگر ایسا حکم خود ان کی طرف سے آئے تب بھی اسے نہیں ماننا چاہیے۔ اصولی طور پر قانون سے بالاتر کوئی حکم نہیں ہونا چاہیے، لیکن ریاستی سطح پر اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ "غیر قانونی حکم" کی تشریح کون کرے گا اور اس اصول کو کسی شدید سیاسی تصادم کے ماحول میں کیسے نافذ کیا جائے گا، کہ جب وفاقی حکومت اور سکیورٹی اداروں کے خلاف صوبائی حکومت کھڑی ہو اور ایسے بیانات کے ذریعے انتظامی اختلاف کو ادارہ جاتی کشمکش میں بدل رہی ہو۔
لانگ مارچ نے اس کشمکش کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی، ان کے طبی علاج، عدلیہ کی آزادی، آئینی بالادستی اور سیاسی حقوق کے لیے اسلام آباد جانے کا اعلان کیا۔ ابتدا میں مارچ 27 ستمبر کو ہونا تھا، تاہم 25 ستمبر کو اسے 4 اکتوبر تک مؤخر کرنے کا اعلان کیا گیا۔ سہیل آفریدی نے اس جدوجہد کو آئینی اور پرامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ کنٹینر لگائے جائیں یا راستے بند کیے جائیں، پی ٹی آئی پیچھے نہیں ہٹے گی۔
یہاں حکومت اور پی ٹی آئی دونوں کے طرز عمل کو ایک ہی ترازو میں رکھنا ضروری ہے۔ ایک طرف سیاسی جماعت کا پرامن احتجاج آئینی حق ہے، دوسری طرف دارالحکومت کی طرف بڑے پیمانے پر مارچ، راستوں کی بندش، ممکنہ تصادم اور موجودہ دہشت گردی کے ماحول میں سکیورٹی خدشات کو بھی محض سیاسی بہانہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حکومت کی طرف سے سڑکیں بند کرنا اور سکیورٹی انتظامات کرنا شہری زندگی، کاروبار اور سیاسی آزادی کے سوالات پیدا کرتا ہے، جبکہ احتجاج کی قیادت کی طرف سے ایسی زبان استعمال کرنا جس میں ریاستی رکاوٹوں، گرفتاریوں اور حتیٰ کہ فائرنگ کے باوجود مارچ جاری رکھنے کا عزم ہو، کشیدگی کم کرنے کے بجائے اسے بڑھا سکتا ہے۔ اس پورے معاملے میں یہ فیصلہ کرنا کہ صرف ایک فریق ذمہ دار ہے، حقیقت کو ضرورت سے زیادہ آسان بنانا ہوگا۔
اس تنازع کا ایک اور پہلو خیبر پختونخوا اور باقی پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ سڑکوں پر رکاوٹیں، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان آمدورفت کے مسائل، کنٹینرز اور سکیورٹی انتظامات پہلے ہی سیاسی تقسیم کو جغرافیائی تقسیم کے رنگ میں بدلنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ خود سہیل آفریدی نے 26 ستمبر کو سڑکوں پر لگائے گئے کیلوں اور رکاوٹوں کے حوالے سے یہ سوال اٹھایا کہ کہیں خیبر پختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی کوشش تو نہیں ہورہی۔ انہوں نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ پاکستان کو تقسیم نہیں ہونے دیا جائے گا۔
یہاں ایک خطرناک سیاسی حقیقت سامنے آتی ہے۔ اگر ایک صوبے کے عوام میں یہ احساس پیدا ہو کہ وفاق انہیں سیاسی طور پر سزا دے رہا ہے، اور باقی ملک میں یہ تصور پیدا ہو کہ ایک صوبائی حکومت ریاستی سلامتی کے اقدامات میں رکاوٹ بن رہی ہے، تو دونوں تصورات ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ نتیجہ صرف ایک سیاسی جماعت اور حکومت کے درمیان تنازع نہیں رہتا بلکہ وفاق اور صوبے کے درمیان اعتماد کا بحران بن جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کی تاریخ، جغرافیہ اور موجودہ دہشت گردی کی صورتحال کے باعث اس قسم کے بحران کو معمولی سیاسی اختلاف سمجھنا خطرناک ہوگا۔
اسی پس منظر میں سہیل آفریدی کے خلاف بننے والی ممکنہ ریاستی چارج شیٹ کو دیکھا جانا چاہیے۔ یہ کوئی ایسی سرکاری دستاویز نہیں جسے عوام کے سامنے پیش کیا جاچکا ہو، بلکہ موجودہ واقعات کو جوڑ کر دیکھا جائے تو ایک ممکنہ ریاستی مقدمے کے خدوخال ضرور دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں قومی سلامتی کی پالیسی سے اختلاف، افغانستان اور سرحد پار دہشت گردی کے بارے میں ریاستی مؤقف کو چیلنج کرنا، سکیورٹی تجزیے کو عوامی طور پر مسترد کرنا، پولیس کو غیر قانونی احکامات کے خلاف مزاحمت کی ہدایت، وفاقی اقدامات کو سیاسی انتقام قرار دینا اور ایک ایسے وقت میں لانگ مارچ کی قیادت کرنا شامل ہوسکتا ہے جب پاکستان افغانستان کے ساتھ براہ راست عسکری کشیدگی میں ہے۔
اس چارج شیٹ کا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سہیل آفریدی کا الزام یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اصل جنگ سے توجہ ہٹا کر پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر دبایا جارہا ہے، وفاقی حکومت سکیورٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے اور صوبے کے وسائل اور پولیس کو سیاسی کشمکش میں استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا یہ مؤقف بھی ریکارڈ پر ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے جارہے اور صوبے کو اپنی سکیورٹی ضروریات کے لیے وفاقی اداروں سے تعاون درکار ہے۔ اصل سوال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ کیا ایک صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے اس حد تک جاسکتی ہے کہ وہ سکیورٹی اداروں کے تجزیے کو عوامی طور پر رد کرے؟ کیا وفاقی حکومت قومی سلامتی کے نام پر صوبائی حکومت کے سیاسی اور انتظامی اختیار کو محدود کرسکتی ہے؟ پولیس کس کے احکامات کی پابند ہے؟ کسی تھریٹ الرٹ کا جائزہ لینا اور جاری کرنے کو جعلی قرار دینے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ اور جب پاکستان کی سرحد پر براہ راست لڑائی ہورہی ہو تو وفاق اور صوبے کے درمیان سکیورٹی پالیسی پر اختلاف کی آئینی اور سیاسی حدود کیا ہیں؟
یہی وہ سوالات ہیں جو سہیل آفریدی کی موجودہ سیاسی پوزیشن کو محض ایک وزیراعلیٰ اور وفاقی حکومت کے درمیان معمول کے اختلاف سے آگے لے جاتے ہیں۔
اب اس سوال کی طرف آنا ہوگا کہ کیا ریاست واقعی سہیل آفریدی کی حکومت ختم کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس بارے میں کسی حتمی فیصلے کا دعویٰ کرنا اس وقت ممکن نہیں۔ لیکن واقعات کا تسلسل نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔ وفاقی حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی اور صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے حوالے سے سنگین الزامات سامنے آرہے ہیں، سہیل آفریدی اور وفاقی حکومت کے درمیان براہ راست تصادم بڑھ رہا ہے، ان کے بعض بیانات ریاستی سکیورٹی تجزیوں کو چیلنج کرتے ہیں، لانگ مارچ سیاسی کشمکش کو دارالحکومت تک لے جانے کی کوشش ہے اور اسی دوران سہیل آفریدی کے خلاف ریڈیو پاکستان حملہ کیس سمیت قانونی مقدمات میں پیش رفت بھی سامنے آچکی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے پی ٹی آئی کو ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے ساتھ جوڑنے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں میرے نزدیک سہیل آفریدی کی "چہل قدمی سے جیل تک لانگ مارچ" کا اصل مفہوم سامنے آتا ہے۔ چہل قدمی ایک علامت ہے، جیل ایک ممکنہ انجام؛ درمیان میں اصل کہانی قومی سلامتی، صوبائی اختیار، وفاقی حکومت، پولیس، دہشت گردی، افغانستان، ٹی ٹی پی، لانگ مارچ اور باہمی چپقلش کی ہے۔
اگر ریاست نے واقعی سہیل آفریدی کو قومی سلامتی کی اپنی پالیسی سے تصادم کے تناظر میں دیکھنا شروع کردیا ہے تو ان کے خلاف سیاسی اور قانونی کارروائی کے لیے واقعات کی ایک مکمل فہرست پہلے ہی بن سکتی ہے بلکہ ذرائع کے مطابق بن چکی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا یہ فہرست آنے والے دنوں میں باقاعدہ ریاستی چارج شیٹ کی شکل اختیار کرے گی۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو کیا اس کا ہدف صرف ایک وزیراعلیٰ ہوگا یا پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کے دوسرے افراد بھی اس دائرے میں آئیں گے، یہ ابھی وقت بتائے گا لیکن باوثوق ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر اور بعض دیگر اہم رہنما بھی ریڈار پر ہیں۔
لیکن ایک بات واضح ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ جنگی ماحول نے اس سیاسی تنازع کو معمول کی جماعتی سیاست سے کہیں زیادہ حساس بنا دیا ہے۔ 21 اور 24 ستمبر کے فضائی حملوں، 25 ستمبر کی سرحدی جھڑپوں اور افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے بارے میں پاکستان کے مسلسل قومی سلامتی کے خدشات کو ایک مرتبہ پھر سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
ایسے ماحول میں سہیل آفریدی کی ہر سیاسی حرکت کو ریاست زیادہ حساس نظر سے دیکھے گی اور ان کا ہر بیان بھی معمول کے سیاسی بیان سے زیادہ وزن رکھے گا۔ اسی طرح ریاست کا ہر اقدام بھی خیبر پختونخوا میں سیاسی دباؤ کے طور پر دیکھا جائے گا۔ یہی باہمی قیاس اس بحران کا سب سے خطرناک حصہ ہے۔
لانگ مارچ 27 ستمبر سے 4 اکتوبر تک مؤخر ہوچکا ہے، لیکن اصل تصادم مؤخر نہیں ہوا۔ ایک طرف پی ٹی آئی اسے آئینی جدوجہد قرار دے رہی ہے، دوسری طرف وفاقی حکومت اسے ریاستی نظم و نسق اور سکیورٹی کے مسئلے کے ساتھ جوڑ رہی ہے۔ درمیان میں خیبر پختونخوا کی حکومت کھڑی ہے، جس کے وزیراعلیٰ وفاقی سکیورٹی پالیسی پر سخت سوالات بھی اٹھاتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں اصل امتحان یہی ہوگا کہ یہ اختلاف سیاسی اختلاف کی حدود میں رہتا ہے یا قومی سلامتی کے تنازع کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اگر دوسری صورت پیدا ہوئی تو سہیل آفریدی کے خلاف آج بکھرے ہوئے واقعات، بیانات اور فیصلے کل ایک مربوط سیاسی و قانونی چارج شیٹ کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ کہنا کہ فیصلہ ہوچکا ہے، حکومت ختم ہونے والی ہے یا گرفتاریاں یقینی ہیں، اس مرحلے پر پیش گوئی سے آگے کی بات ہوگی۔
سیاست میں بعض اوقات انجام واقعات سے پہلے دکھائی دینے لگتا ہے، مگر صحافت کا کام انجام کا اعلان کرنا نہیں بلکہ ان واقعات کو اس ترتیب سے سامنے رکھنا ہے جن سے ممکنہ انجام کی سمت سمجھی جاسکے۔ سہیل آفریدی کے معاملے میں بھی اصل سوال یہی ہے کہ کیا ایک وزیراعلیٰ نے صرف وفاقی حکومت سے سیاسی اختلاف کیا ہے، یا وہ بتدریج ریاست کی قومی سلامتی کی پالیسی کے ساتھ ایسے تصادم میں داخل ہوگئے ہیں جہاں ان کا سیاسی مستقبل اب صرف سیاست کا معاملہ نہیں رہا۔ یہی سوال اس وقت خیبر پختونخوا، پی ٹی آئی اور وفاقی ریاست کے درمیان جاری کشمکش کو سمجھنے کی اصل کنجی ہے۔
واپس کریں